خلائی سفر کا عالمی دن


منصور مہدی
آج پاکستام سمیت دنیا بھر میں خلائی سفر کا دوسراعالمی دن منایا جا رہا ہے۔7اپریل2011کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس میں روسی سفیر و یٹیلی چرکن کی طرف سے پیش کی گئی قرارداد پر رائے شماری ہوئی جو اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک نے حصہ لیا۔قرارداد کی روشنی میں اقوام متحدہ نے ہر سال 12اپریل کو عالمی یوم خلائی سفر منانے کا فیصلہ کیا۔ روس میں پہلے سے ہی 12اپریل خلائی سفر کا دن منایا جاتا ہے۔ کیونکہ12اپریل1961کو پہلی مرتبہ انسان نے خلائی سفر کیا۔ یہ پہلے انسان روس کے یوری گیگرین تھے۔ یوری گیگرین نہ صرف خلاباز تھے بلکہ خلائی سائنس دان بھی تھے۔ انھیں دنیا بھر میں خلائی تحقیق میںایک اتھارٹی سمجھا جاتا تھا۔ یوری اور ان کی ٹیم نے کو یہ اعزاز ھاصل ہے ان لوگوں نے نہ صرف خلائی سائنس پر تحقیق کی بلکہ اسے عام کیا اور اپنے پیش کردہ مفرضوں کو عملی شکل دیکر خلا میں سفر ممکن کر دکھایا۔
اگرچہ خلائی سفر ہمیشہ سے ہی انسانی خواہش رہی ہے۔ تقریباً دو ہزار برس قبل یونانی مصنف لوشیان (LUCIAN) نے اپنی ایک کتاب میں ایک ایسے پانی کے جہاز کا ذکر کیا جو سمندر کی لہروں پر بڑھ رہا تھا کہ اچانک ایک طوفان نے اسے اچک لیا۔ یہ جہاز اڑتا اڑتا آسمان کے ایک جگمگاتے روشن جزیرہ پر اتر گیا۔ جہاز کے مسافر اسی بات پر بہت خوش تھے کہ وہ چاند کی سرزمین پر چل پھر رہے تھے۔ اس طرح خلا میں جانے کا خواب 12اپریل کو 1961کو یوری اور اس کی ٹیم نے سچ کر دکھایا۔ اس پہلے خلائی سفر کے بعد خلائی سائنس میں ترقی کی رفتار مزید تیز ہوگئی اور 16 جولائی 1969انسان چاند پر پہنچ گیا۔ اس طرح پہلی بار انسان نے اللہ کے کلام کی ان آیات کو سچ ثابت کر دکھایا جن میں کہا گیا ہے کہ ”زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے تمہارے لیے مسخر کردیا گیا ہے“۔اب تک روس، امریکہ اور چین کے باشندوں کو خلاءمیں جانے کا تجربہ حاصل ہوچکا ہے۔چاند کے پہلے سفر کے بعد اب چاند سے بھی دورستارے اور سیارے انسان کی دسترس میں ہیں۔ امریکی خلائی ادارے ناسا نے نظام شمسی کے شاید آخری سیارے پلوٹو کے لیے اپنا پہلا مشن نیو ہورائزنز روانہ کیا ہے۔ یہ خود کار خلائی مشن 10 جنوری2006کو فلوریڈا میں واقع کیپ کاناویرل سے روانہ ہوا۔ توقع ہے کہ مشن پانچ ارب کلومیٹر کا یہ سفر نو سال میں طے کرے گا اور جولائی2015میں وہاں پہنچے گا۔ انسان کا یہ سفر کب تک جاری رہے گا اور کہاں پر ختم ہو گا اس کے بارے میں سائینسدان کہتے ہیں کہ یہ اندازہ لگانا بہت ہی مشکل ہے کہ اس کائنات کی وسعت کتنی ہے مگر انسان اپنی دھن میں مست ستاروں پر نئی دنیا آباد کرنے میں لگا ہوا ہے ۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s