صحت کا عالمی دن


منصور مہدی
آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں صحت کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ اس سال اس دن کا موضوع ہے ” اچھی صحت عمر میں اضافے کا باعث ہوتی ہے” اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے قیام کے بعد 7 اپریل 1948 کو صحت کا پہلا عالمی دن منایا گیا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دیہی آبادی کی شہروں کی جانب تیزی سے نقل مکانی نے بڑے شہروں میں صحت کے اجتماعی اور انفرادی مسائل میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔پاکستان میں دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگ بہتر روزگار اور طرز زندگی کی تلاش میں تیزی سے شہروں کا رخ کر رہے ہیں۔ گاﺅں سے شہر تک کے اس سفر میں ان کے ہمراہ ہیپاٹائٹس اور ٹی بی سمیت لاتعداد بیماریاں بھی منتقل ہو جاتی ہیں اور نتیجے کے طور پر بڑے شہروں کے اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد میں بے پناءاضافہ اور سہولیات کم پڑ جاتی ہیں۔
سماجی شعبے خصوصا صحت کے لئے مناسب فنڈز دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات درپیش ہیں۔ علاج معالجے کے لئے ادویات کا حصول اور ڈاکٹرز کی فیس عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہے۔ اس سال اچھی صحت زیادہ عمر کے تحت عوام کو شعور دیا جا رہا ہے کہ اچھی صحت اچھے ماحول سے ہی ممکن ہے جو شہروں کی نسبت دیہات میں زیادہ میسر ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں جہاں صحت عامہ کی صورت حال تسلی بخش نہیں ہے وہیں طب کی تعلیم فراہم کرنے والے اداروں کا معیار بھی تشویش کا باعث ہے۔ جبکہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) نے صحت عامہ کی مجموعی صورت حال سے متعلق اپنی سالانہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ ملک میں لگ بھگ 118 میڈیکل کالجز ہیں جن میں سے بمشکل 10 ادارے معیاری تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔ پاکستان میں طب کی تعلیم حاصل کرنے والوں میں 80 فیصد تعداد خواتین کی ہوتی ہے، جن میں سے بیشتر تعلیم مکمل ہونے کے فوری بعد اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی شروع نہیں کرتیں۔تنظیم کا ماننا ہے کہ یہ ملک میں ڈاکٹروں کی قلت کا ایک اہم سبب ہے اور صحت عامہ سے متعلق کئی مسائل کی وجہ بھی۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں لوگوں کو طبی سہولتوں تک عدم رسائی اور ڈاکٹرز کی کمی کی وجہ سے 80 فیصد زچگیاں گھروں پر غیر تربیت یافتہ دائیوں کے ہاتھوں ہوتی ہیں جس کی وجہ سے ہزاروں نوزائیدہ بچے اور مائیں زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں ہر 1,200 کے قریب افراد کے لیے ایک ڈاکٹر، لگ بھگ 1,700 افراد کے لیے ایک ڈینٹسٹ اور 1,700 مریضوں کے لیے اسپتال کا ایک بستر ہے۔
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ ملک میں طبی سہولتوں کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ صحت کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے جو اس وقت مجموعی قومی پیداوار کا محض 0.23 فیصد ہے۔ جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں صحت عامہ کی صورت حال کو بہتر بنانے کی مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں اور اٹھارویں آئینی ترمیم کے تحت صحت کے شعبے کی وفاق سے صوبوں کو منتقلی اسی عمل کی ایک کڑی ہے۔
اس کے علاوہ حکومت نے حال ہی میں دوا سازی کی صنعت کی نگرانی کے لیے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کے سلسلے میں آرڈینینس بھی جاری کیا ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s