حقوق ملکیت دانش کا دن


منصور مہدی
آج حقوق ملکیت دانش (Intellectual Property Day) کا عالمی دن ہے۔ یہ دن ورلڈ انٹیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن ( وایپو) کے زیر اہتما م ہر سال 26اپریل کو منایا جاتا ہے۔ 9اگست1999کو چین کے وفد نے اس دن کو منانے کی قرارداد پیش کی جو وایپو کی جنرل اسمبلی کے اجلاس نے منظور کر لی۔ اس دن کے منانے کا مقصد دنیا بھر میںحقوق ملکیت دانش کی خلاف ورزی کو روکنا ہے۔ پاکستان میں بھی اس مقصد کے لیے ادارہ تحفظ حقوق ملکیت دانش پاکستان موجود ہے۔جبکہ حال ہی میں ادارہ مذکور نے ملک میں آئی پی رائٹس کی خلاف ورزی کو روکنے کیلئے تمام شراکت داروں کی باہمی مشاورت سے نیشنل پلان آف ایکشن تیار کیا ہے اور آئی پی رائٹس کی اہمیت کے پیش نظر مختلف اداروں میں روابط کو فعال بنایا جا رہا ہے اور باہمی اشتراک سے ایسے منصوبوں پر کام جاری ہے جن سے تحقیق اور ایجادات میں مصروف عمل افراد کی تخلیقات کو قانونی تحفظ فراہم ہو سکے گا۔ ادارہ و تحفظ حقوق ملکیت دانش پاکستان میں جامع اصلاحات اور انفورسمنٹ اداروں کی تربیت کے ذریعے نقلی برانڈز اور چربہ سازی کی حوصلہ شکنی کی جا سکے ۔
اس دن کی مناسبت سے ملک بھر میں مختلف تقریبات کا اہتمام کیا جا رہا ہے جن کے ذریعے عالمی برادری کو یہ پیغام دیا جائے گا کہ پا کستان میں قومی عزم کے ساتھ آئی پی رائٹس کے تحفظ کیلئے سازگار ماحول قائم کیا جا رہا ہے اور ان عناصر کیخلاف سخت قانونی کارروائی یقینی بنائی جائے گی جو چربہ سازی کے ذریعے ملک کے قومی تشخص کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔جبکہ پاکستان میں آئی پی رائٹس کے تحفظ اور شعوری بیداری کیلئے ملک گیر آگاہی مہم شروع کر دی گئی ہے۔جس سے عوام کو حقوق املاک دانش کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے گا۔
پاکستان نے حال ہی میں آئی پی رائٹس کی رجسٹریشن کے عمل کو سہل اور جلد نمٹانے کیلئے ورلڈ انٹیلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن (ڈبلیو آئی پی او) اور یورپی یونین سمیت دیگر عالمی اداروں کے تعاون سے جدید ٹیکنالوجی بھی حاصل کی ہے اور ایسے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں جن کی بدولت آئی پی او پاکستان ملک میں سرمایہ کاری، صنعتی ترقی اور عوامی خوشحالی میں فعال کردار ادا کر سکے۔
لیکن ایک طرف جہاں حکومت اس مقصد کے لیے کروڑوں روپے خرچ کر رہی ہے وہاں ہمارے رائج الوقت کلچر میں چربہ سازی اور کسی چیز کی دو نمبر نقل تیار کرنا عام شامل ہے۔ہمارے ہاں ایسی مشینری اور انتظامیہ کی ابھی بہت کمی ہے جو چربہ سازی کو ختم کر سکے۔لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ چربہ سازی کو روکنے کے لیے انتظامیہ کو فعال کیا جائے ۔اور ایسے اقدامات کیے جائے کہ جس پر عمل کر کےمستقبل چربہ سازی کا قلع قمع ممکن ہو سکے ۔ عوامی سطح پر بھی ایسی مصنوعات تیار کرنے والوں اور ان کے استعمال کی حوصلہ شکنی کی بہت ضرورت ہے کیونکہ یہ جعل ساز لوگ رجسٹرڈ برانڈز کی نقل کر کے ملکی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s