رقص کا عالمی دن


منصور مہدی
آج رقص کا عالمی دن ہے۔ پہلی مرتبہ رقص کا عالمی دن29اپریل 1982کو انٹر نیشنل ڈانس کمیٹی آف دی انٹرنیشنل تھیٹر انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے منایا گیا ۔اس کی بعد یونیسکو نے تائید کر دی جس کے بعد سے یہ دن دنیا کے بیشتر ممالک میں منایا جاتا ہے۔اس دن کے منانے کا مقصد نہ صرف اس فن سے متعلق لوگوں میں آگاہی اور اس کے ذریعے ایک دوسرے کو قریب لانے کا موقع فراہم کرنا ہے بلکہ رقص کی مختلف اقسام کو فروغ دینا اور مختلف قوموں کے ثقافتی سرمائے کو بچانا ہے۔ ہر ملک میں رقص کے طریقے الگ الگ اور اس ملک کی ثقافت سے مطابقت رکھتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رقص سماجی، نفسیاتی اور جسمانی ہر طرح سے مفید ہے۔رقص مختلف قسم کی بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت بڑھانے میں مدد بھی دیتا ہے۔
فنون لطیفہ میں رقص کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ رقص اعضاءکے اظہار کا آئینہ دار سمجھا جاتا ہے اسی لئے ہر رنگ ونسل کے لوگ رقص کو جذبات واحساسات کا ترجمان مانتے ہیں۔ سر کی ہلکی جنبش ہو، ہاتھ پاو¿ں کا کسی آواز وساز پر اس کے ساتھ ہلنا یہ سب انسان کے جسم میں موجود ترنم کی غمازی کرتا ہے۔ قدیم زمانے میں جب زبان عام نہ تھی اس وقت لوگ اپنے جذبات کا اظہار ناچ کرکیا کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف مذاہب اور قوموں میں الگ الگ طرز کے رقص کی مثال ملتی ہے۔ رقص کی کئی اقسام ہیں جن میں کلاسیکل ڈانس کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ جو بے اختیار انسان کو اپنی جانب متوجہ کرلیتا ہے رقص صرف خوشی کی کیفیت میں ہی جھومنے کا نام نہیں بلکہ اس کے ذریعے غم کی منظر کشی بھی ایک منفرد انداز میں کی جاتی ہے۔
کلاسیکل رقص کے ماہرین کا کہنا ہے کہ رقص تو پوری کائنات میں ہے۔”ہم چلتے ہیں، دوڑتے ہیں ، مختلف کام کرتے ہیں تو اس میں ایک ردھم ہوتا ہے، ہوائیں چلتی ہیں اور پیڑ پودے اس پر جھومتے ہیں تو یہ سب ایک طرح کا رقص ہی تو ہے۔“رقص کلاسیکی ہو یا لوک ناچ ہو،جدید ہو یا روایتی رقص یا پھر درگاہوں پر وجد میں دھمال ڈالتے ملنگ۔ ہلکی مدھر تانوں پر گول گول گھومتے درویش یہ سب رقص کے مختلف زاویے ہیں۔
پاکستانی معاشرے میں اگرچہ رقص کو اتنی پذیرائی نہیں مل سکی ۔ موجودہ گھٹن، انتہا پسندی، دہشت گردی اور ملک میں جاری مختلف نوعیت کے بحرانوں سے جہاں ہر شخص متاثر ہے وہاں پرفامنگ آرٹ بھی اس کے زیر اثر رہا ہے فنون لطیفہ کا کوئی بھی شعبہ ہو ہر ایک میں اصلاحی پہلو بھی پوشیدہ ہوتا ہے۔
دہشت گردی، بھوک، بے روزگاری اور مہنگائی کے ہاتھوں پریشان عوام آئے روز سڑکوں پر ”محو رقص“ نظر آتے ہیں اور شاید یہی وہ رقص ہے جس کے بارے میں حبیب جالب نے کہا تھا کہ
تو کہ ناواقف آداب غلامی ہے ابھی
رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے
کیونکہ ارباب اختیار تونہ جانے امن و خوشحالی کا اصل پیغام کب عوام تک پہنچائیں گے ؟

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s