قید جانوروں کا دن


منصور مہدی
آج تجربہ گاہوں میں قید جانوروں کا عالمی دن ہے۔ یہ دن ہر سال 24اپریل کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کے منانے کا مقصد ان جانوروں کے بارے میں آگاہی دینا ہے جو انسانی زندگیوں کو بچانے کے لیے تجربہ گاہوں کی بھینٹ چڑھتے ہیں۔ جانوروں کی حفاظت سے متعلق ایک برطانوی تنظیم ” انیمل ایڈ “کا کہنا ہے کہ ہر سال 150ملین سے زائد جانور تجربہ گاہوں میں تجربات کے دوران ہلاک ہو جاتے ہیں۔ جبکہ صرف برطانیہ میں ہر سال 4ملین جانور وں پر مختلف تجربات کیے جاتے ہیں۔ ان جانوروں میں بلیاں، کتے،گھوڑے، بندر، خرگوش، چوہے، کبوتر، چڑیاں ، مینڈک اور دیگر جانور شامل ہیں۔
ان جانوروں پر انسانی زندگیوں کو لاحق بیماریوں کا علاج دریافت کرنے کی غرض سے تجربات کیے جاتے ہیں۔ تجربہ گاہوں میں قید جانوروں کا عالمی دن پہلی بار 24اپریل1979کو منایا گیا۔ اس دن کی بنیاد ایک برطانوی تنظیم نے رکھی جو تجربہ گاہوں میں قید جانوروں کے بارے میں دنیا کی پہلی تنظیم ہے جو دسمبر1875کو قائم ہوئی۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ ان تجربہ گاہوں میں پالتو جانوروں کا استعمال ایک دن ان جانوروں کی نسلوں کو ختم کرنے کا باعث بنے گا۔تنظیم کا کہنا بحیثیت انسان یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم دوسری چھوٹی، کمزور اور بے بس مخلوقات کی فطری اصولوں کے مطابق حفاظت کریں نہ کہ انہیں اپنے فائدے کی خاطر تجربوں کے بھینٹ چڑھا دیں۔ تنظیم کا کہنا کہ اگر آج ہم نے دنیا میں بسنے والی دیگر مخلوقات کی حفاظت نہ کی تو یہ فطری اصولوں سے روگردانی کے مترادف ہوگا۔
جبکہ امریکہ دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں ابھی تک چمپنزیوں پر وفاقی فنڈز کی مدد سے طبی تجربات کی اجازت ہے۔ جن میں ایسی نئی ویکسینوں اور ادویات کی تیاری اور تجربات شامل ہیں، جن سے امکانی طور پر مہلک انسانی بیماریوں کی روک تھام یا علاج میں مدد مل سکے۔ حالانکہ بندروں کی اس نسل پر کسی بھی قسم کے تجربات کی دنیا بھر میں پابندی ہے۔
دوسری طرف ان جانوروں پر تجربات کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان طبی تجربات سے دنیا بھر میں لاکھوں زندگیاں بچانے میں مدد ملتی ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s