ملیریا سے بچاﺅ کا دن


منصور مہدی
آج ملیریا سے بچاﺅ کا عالمی دن ہے۔ ملیریا ایک موذی مرض ہے کہ جس میں دنیا بھر میں ہر سال بیس کروڑ افراد مبتلا ہوتے ہیں ہیں۔ورلڈ ملیریا رپورٹ کے مطابق 2011 میں ملیریا کی وجہ سے دنیا بھر میں چھ لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر حاملہ عورتیں اور بچے شامل تھے۔جن میں زیادہ تعداد افریقی صحرائی علاقوں کے بچوں کی ہے۔ دنیا بھر میں ہونے والی ملیریا کی وجہ سے ہلاک ہونے والے 90 فیصد افراد کا تعلق افریقی ممالک سے ہوتا ہے۔ ملیریا کے پھیلاو¿ کی وجوہات کو عام طور پر غربت سے جوڑا جاتا ہے اور یہ بیماری متاثر ہونے والی آبادی میں بلاشبہ غربت کی شرح میں اضافے کا باعث بھی ہے اور ترقی پذیر ممالک کی معیشت کی نمو میں بڑی رکاوٹ سمجھی جاتی ہے۔
مچھر سے پھیلنے والی یہ بیماری پاکستان میں بھی پائی جاتی ہے۔ پاکستان میں ماہرین کہتے ہیں کہ ملیریا زیادہ تر بارشوں کے موسم کے بعد پھیلتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال پانچ لاکھ سے زائد افراد ملیریے کا شکار ہوتے ہیں۔
یہ ایسا مرض ہے کہ جس کی کوئی بھی موثر دوا موجود نہیں ہے۔ تاہم حال ہی میں سائنسدان مچھروں میں اس پروٹین کی نشاندہی کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جس کے باعث مچھر ملیریا پھیلاتے ہیں۔سائنسدانوں کو امید ہے کہ اب اس تحقیق کی مدد سے وہ ملیریے کی زیادہ موثر دوا بنانے میں کامیاب ہو سکیں گے۔
ملیریا کی بیماری مچھر کی ایک قسم اینوفیلیز کی مادہ کے کاٹنے سے پھیلتی ہے۔ جب یہ مادہ مچھر کسی ملیریا سے متاثرہ شخص کو کاٹتی ہے، اس شخص کے خون سے ملیریا کے جرثومے مچھر میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ یہ جرثومے مچھر کے جسم میں ہی نمو پاتے ہیں اور تقریباً ایک ہفتے بعد جب یہ مادہ مچھر کسی تندرست شخص کو کاٹتی ہے تو پلازموڈیم یا ملیریا کے جرثومے اس شخص کے خون میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اس شخص کے جگر میں یہ جرثومے ہفتوں سے مہینوں یا سالوں تک نمو پاتے ہیں اور جب ایک خاص تعداد میں جرثومے پیدا ہو جاتے ہیں تو ملیریا کا واضع حملہ ہوتا ہے۔ ملیریا کی نشانیوں میں سردی، متلی، الٹیاں، ڈائریا، شدید کمزوری، پٹھوں کا دکھنا، پیٹ، کمر اور جوڑوں میں درد، کھانسی،گھبراہٹ،بخار اور سر درد شامل ہیں۔ شدید حملے میں اعصابی نظام بری طرح سے متاثر ہوتا ہے اور مریض بے ہوش ہونے کے بعد چند دنوں میں ہلاک ہو جاتا ہے۔
دنیا کے چند حصّوں میں ملیریا عام ہے جن میںافریقہ، ایشیا، مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور وسطی امریکہ شامل ہیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s