مذاہب کا عالمی دن


منصور مہدی

آج 15جنوری کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں world religion day منایا جارہا ہے۔ یہ ہر سال جنوری کی تیسری اتوار کومنایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد دنیا میں آباد مختلف مذاہب اور مسلک کے افراد کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔انسانی تاریخ میں لاتعداد مذاہب گزر چکے ہیں اور ہر دور میں انسان کسی نہ کسی مذہب کا پیروکار رہا ہے۔بے شمار مذاہب اب ناپید ہو چکے ہیں جبکہ اس وقت دنیا میں بیسیوں مذاہب کے لوگ آباد ہیں مگر گیارہ اہم مذاہب ہےں کہ جن کے ماننے والے لوگ دنیا کے مختلف حصوں میں موجود ہیں۔ان تمام مذاہب میں بنیادی طور پر اختلاف پائے جاتے ہیںمگر سب مذاہب میں ایک بات مشترک ہے کہ ایک اللہ ہی اس کائنات کا مالک ہے۔
ان مذاہب میں ایک اسلام ہے جس کے بانی اللہ کے آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے جو571عیسوی میں سعودی عرب کے شہر مکہ میں پیدا ہوئے۔عہد جدیدمیں اسلام دنیا کا دوسرا بڑا مذہب ہے اور اس کے ماننے والے دنیا کے ہر ملک میں پائے جاتے ہیں۔اس کی مقدس کتاب قرآن ہے۔ یہ دنیا میں دیگر مذاہب کی نسبت سب سے زیادہ تیزی سے پھیلنے والا مذہب ہے۔
دوسرے عیسائیت ہے جس کے بانی اللہ کے رسول حضرت عیسیٰ علیہ السلام تھے جو 2012 سال قبل بیت المقدس میں پیدا ہوئے۔اس کی مقدس کتاب انجیل (بائبل) ہے۔اس مذہب کے ماننے والے بھی دنیا کے ہر ملک میں پائے جاتے ہیں۔
تیسرے یہودیت بھی اللہ کا مذہب ہے اس کے بانی اللہ کے رسول حضرت یعقوب علیہ السلام تھے جبکہ حضرت یوسف علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے علاوہ اللہ کے دیگر پیامبر یہودی قوم کو ہدائت دینے کیلئے آتے رہے۔اس کی مقدس کتاب توریت ہے ۔اسلام اور عیسائیت کی نسبت قدیم مذہب ہونے کے باوجود اس کے ماننے والے بہت کم ہیں کیونکہ ان کے ہاں مذہب کی تبلیغ نہیں کی جاتی اور یہ اپنے مذہب میں ضرورت کے تحت بہت کم لوگوں کو داخل ہونے کی اجازت دیتے ہیں۔یہودی اسرائیل کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی موجود ہیں۔
چوتھے ہندومت کا آغاز تقریباً تین ہزارسال قبل مسیح میں ہوا۔یہ اپنے ابتدائی دور میں زیادہ تر جادو ٹونے کی رسوم پر مشتمل تھا۔برصغیر میں آریاﺅں نے اسے مربوط مذہب کی شکل دی۔اس کی مقدس کتاب وید ہے جو بہت سے پرانوں پر مشتمل ہے۔رامائن ، گیتا اور مہا بھارت بھی مذہبی کتابیں ہیں۔اس کا کوئی ایک بانی نہیں ہے بلکہ بہت سے اصحاب کا حصہ ہےجن میں رام کا بہت مقام ہے۔ اس مذہب میں انسانی تقسیم پائی جاتی ہے۔ہندو مت بھارت کا سب سے بڑا مذہب ہے۔
پانچویںسکھ مت ہے جو دنیا کے نئے مذاہب میں سے ایک ہے اس کا آغاز سولہویں صدی ہوا۔سکھ مت کے بانی بابا گرونانک جی1469 میں پنجابکےشہر ننکانہ صاحب میں ایک ہندو گھرانے میں پیدا ہوئے جبکہ تعلیم مسلمان استاد سے حاصل کی۔یہ بتوں کو نہیں پوجتے بلکہ ایک خدا پر یقین رکھتے ہیں۔ان کی مقدس کتاب گرنتھ صاحب ہے جس میں زیادہ ترمسلمان صوفی شاعربابا فرید اور دیگر صوفی شعرا کی کافیاں شامل ہیں۔ ہندوستان کے پنجاب میںان کی اکثریت ہے جبکہ دیگر ممالک میں بھی آباد ہیں۔
چھٹے بدھ مت ہے جوچھٹی صدی قبل مسیح میں ہندوستان میں پیدا ہونے والا مذہب ہے جس کے بانی مہاتما بدھ تھے۔بدھ مت کے آٹھ بنیادی اصول ہیںجن میں سچا یقین ، سچا مقصد ، سچا بیان ، سچا کام ، سچی زندگی ، سچی محنت ، سچی من کی حالت ، سچا دھیان شامل ہیں۔بدھ مت ایک فلسفیانہ مذہب ہے ۔ بدھ مت دنیا کے تین بڑے مذاہب میں سے ایک ہے۔ہندوستان کے بعد چین اور جاپان کے لوگ بدھ مت سے زیادہ متاثرہیں۔اب دنیا کے تمام ممالک میں یہ آباد ہیں۔
ساتویںجین مت ہے ۔یہ بھی بدھ مت کا ہم عصر مذہب ہے۔یہ ہندو مت میں پائی جانے والی ذات پات کے نظام کے خلاف ہے۔مہا ویر اس مذہب کے بانیوں میں اہم مقام رکھتا ہے۔یہ ہندوستان کا سب سے طاقتور اور قدیم مذہب ہے۔جین مت میں راست عقیدہ ، راست علم اور راست رویہ پر خصوصی زور دیا جاتا ہے۔جین مت میں سچ بولنے والے کا بہت احترام ہے۔
آٹھویںزرتشت ہے ۔یہ ایران کا قدیم مذہب ہے جس کے ماننے والے پارسی کہلاتے ہیںاور کم و بیش دنیا کے تمام علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔زرتشت تین سے چار ہزار سال پرانا مذہب ہے۔اس کا بانی زرتشت تھا۔اس کی تعلیمات میں ایک خدا کی پرستش کی تلقین ملتی ہے۔زرتشت مذہب کی کتاب کا نام اوستا ہے۔
نویںکنفیوشس مت ہے۔یہ چین کا سب سے با اثر مذہب ہے۔کنفیوشس مت کے بارے میں بھی خیال کیا جاتا ہے کہ ابتداءمیں یہ کوئی باقاعدہ مذہب نہیں تھا بلکہ اخلاقیات کا ایک ضابطہ تھا جس نے رفتہ رفتہ مذہب کی صو رت اختیار کر لی۔کنفیوشس نے کبھی بھی اپنی خود کو اللہ کا نبی یا اوتار ہونے کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔کنفیوشس چھٹی صدی قبل مسیح میں پیداہوئے تھے۔ان کی تحریری تعلیمات کا نام گلدستہ تحریر کہلاتی ہیں۔کنفیوشس کی تعلیمات کے مطابق دنیا میں واحد خدائی قانون سچ ہے اور سچ تک رسائی صرف اور صرف خدا کے ذریعے ہو سکتی ہے۔
دسویںتاﺅ مت ہے ۔ یہ بھی چین کا مذہب ہے۔اس کی ہیت بھی مذہب سے زیادہ اخلاقی فلسفہ کی ہے۔چین کے حوالے سے دوسرے ممالک کے لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ چین کے رہنے والے ایک ہی وقت میں بدھ مت ، تاﺅ مت اور کنفیوشس ازم کو اپنا مذہب قرار دیتے ہیں جبکہ دنیا کے باقی لوگ ایک وقت میں ایک ہی مذہب کو اپنا مذہب قرار دیتے ہیں۔اس مذہب کی کتاب کا نام تاوتی چنگ ہے جس کا معنی فطرت کا راستہ ہے۔ تاﺅ مت کے بانی چھ سو چار قبل مسیح میں پیدا ہوئے تھے۔انھوں نے تعلیم،دولت،طاقت ،خاندان اور شہرت وغیرہ کو زندگی کےلئے بیکار بوجھ قرار دیا جس سے چھٹکارا پانا ضروری ہے۔
گیارویںشنتو مت ہے۔یہ جاپان کا ایک اہم مذہب ہے۔شنتو چینی زبان کا لفظ ہے جس کے معانی خدائی راستہ کے ہے۔شنتو مذہب کا باقاعدہ آغاز تین سو سال قبل مسیح میں ہوا۔اس کی بنیادی تعلیمات کے مطابق انسان خدا کی مرضی سے فرار حاصل نہیں کر سکتا ۔ شنتو مت میں دوسری جنگ عظیم کے بعد بہت سے تبدیلیاں ہوئی اور اس پر بیرونی مذاہب کے بھی اثرات مرتب ہوئے۔اسے جاپان کے سرکاری مذہب کی حیثیت حاصل ہے۔
ان مذاہب کے علاوہ بھی لاطینی امریکہ اور افریقہ میںکئی مذاہب ہیں۔ world religion day ڈے منانے کی ابتدا بہائی مذہب نے1950میں شروع کی۔ جس کا مقصد عالمی سظح پر تہذیبوں کے درمیان تصادم کے امکانات و خدشات کے بجائے افہام و تفہیم اور مفاہمت و مصالحت کی فضا کو تقویت دے کر علاقائی اور عالمی امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کو کامیاب کرنا ہے۔
بین المذاہب امن اور ہم آہنگی کی ضرورت دنیا کو آج جتنی ہے شاید اس پہلے نہیں تھی۔نائن الیون کے واقعے کے بعد بعض طاقتوں نے مذاہب کے درمیان نفرت پیدا کر دی جس سے دنیا کا امن ختم ہو کر رہ گیا ہے۔
اس دن منعقد ہونے والی بین المذاہب امن کانفرنسوں کا مقصد مذاہب کے درمیان دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے مکالمے کی راہ ہموار کرنا ، باہمی اختلافات کا خاتمہ کرنا ، مذہبی رواداری کو فروغ دینا اور ایک دوسرے کے مذہب کے احترام کو ایک بین الاقوامی منشور کی شکل دینا ہے۔
سعودی عرب کے شاہ عبداللہ کی کوششوں سے مکہ سے شروع ہونے والی بین المذاہب کانفرس ، پوپ بینی ڈیکٹ ، کلیسائے انگلستان کے آرچ بشپ روون ولیمز اور اسرائیل کے سب سے بڑے ربی یونا مرگزکی اپیل پر سپین کی عالمی کانفرنس، نیو یارک کانفرنس اور دیگر ممالک میں قومی سطح پر اس نوعیت کے ہونے والے جلاس اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ گلوبل ویلیج میں رہنے والوں مختلف مذاہب کے لوگوںکے اختلافات کم سے کم کیے جائیں۔
پاکستان بھی گیارہ مذاہب کے ماننے والوں کا وطن ہے۔پاکستان کے موجودہ حالات میں بین المذاہب امن اور ہم آہنگی کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اکثریتی مذہب کے ماننے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ قرآنی احکامات کی روشنی میں دیگر مذاہب کا احترام کریں اور اسلام کے ابدی امن و سلامتی کے پیغام کو دوسری قوموں تک پہنچانے کے لیے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s