ورلڈکسٹم ڈے


منصور مہدی

آج 26جنوری کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں “ورلڈکسٹم ڈے “منایا جا رہا ہے۔ اس سال یہ دن “سرحدیں تقسیم کرتی ہیں اورکسٹم آپس میں جوڑتا ہیں “کے عنوان سے منایا جا رہا ہے۔ اس دن کے منانے کا مقصد دنیا بھر میں آباد سینکڑوں قوموں کو آپس میں ملانا ہے۔ اس وقت دنیا کے 200سے زائد ممالک میںسینکڑوں اقسام کی تجارت ہو رہی ہے اور نت نئی چیزیں ایجاد ہو رہی ہیں۔ انسانی ضروتوں کی ان اشیاءکو صرف ایک ملک یا ایک قوم تک ہی محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ ان پر تمام بنی نوع انسانوں کی دسترس ہو۔ ان کو ایک خطے سے دوسرے خطے میں جانے کے لیے سہولتیں میسر ہوں۔
یہ دن ورلڈ کسٹمز آرگنائزیشن کے زیر اہتمام 177رکن ممالک میں منایا جاتا ہے۔ تاکہ گلوبل سطح پر لوگوں کے درمیان ہر سطح پر رابطوں میں اضافہ ہو۔ موجودہ دور میں قوموں اور علاقوں کی بڑھتی ہوئی قربت، اور جغرافیائی فاصلوں کے تیزی کے ساتھ سمٹنے کے عمل نے اس دن کی اہمیت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ دنیا کی جدید ترقی اور سہولتوں سے صرف وہی افراد یا قومیں ہی استفادہ نہ اٹھائیں جو منظر عام پر ہیں بلکہ دورز دراز آباد افراد اور قومیں بھی ان سے مستفید ہو ں۔ان کی آزادانہ آمد رفت سے نہ تو دوسرے انسان فائدہ اٹھائے گے بلکہ ایک علاقے کے لوگوں کا دوسرے علاقے کے لوگوں سے رابطہ بڑھے گا جو ایک مضبوط تعاون کی بنیاد فراہم کرے گا۔
ورلڈ کسٹمز آرگنائزیشن 26جنوری 1953میں تشکیل دی گئی جس کا صدر دفتر بلجیم کے شہر برسلز میں ہے ۔ یہ تنظیم صرف کسٹم کے معاملات کو ہی زیر بحث لاتی ہے۔ جس کے سیکرٹری جنرل جاپان کے Kunio Mikuriya Dr. ہے ۔سیکرٹری جنرل کا انتخاب رکن ملک 5سال کے لیے کرتے ہیں۔ موجودہ سیکریٹری جنرل یکم جنوری2009کو منتخب ہوئے۔ اس تنظیم کے ممبر ممالک کی تعداد 177ہے۔ جو ممالک اس تنظیم کے ممبر نہیں ہیں ان میں گنی، شمالی کوریا، صومالیہ، کوسوو اور مناکو سمیت 25کے قریب ممالک شامل ہیں ۔اس تنظیم کے ممبران ایک سالانہ اجلاس ہوتا ہے جس میں اقوام کے درمیان کسٹم اور ایکسائز جیسی ڈیوٹیوں اور ٹیکس کو مزید سہل بنانے پر غور و غوض کیا جاتا ہے اور ممبر ممالک کے لیے رہنما اصول مرتب کیے جاتے ہیں۔جن پر عمل کر کے قوموں کے درمیان تجارتی بحران میں کمی لائی جا سکے۔
ورلڈ کسٹمز آرگنائزیشن اس برس 60سال کی ہو گئی ہے۔ اس عرصے میں ڈبلیو سی او دنیا کے مختلف خطوں میں تجارتی آسانیوں اور ان سے متعلق قوانین کے حوالے سے کئی کنونشن منعقد کروا چکی ہے جن میں نیروبی کنونشن 1980، ایچ ایس کنونشن 1988، کیو ٹو کنونشن1999، جونسبرگ کنونشن 2003، کولمبس پروگرام 2006، ہارمونائزڈ سسٹم 2007اہم ہیں۔ تنظیم نے 2005میں بین الاقوامی سطح پر محفوظ اور آسان تجارت کے لیے “فریم ورک آف سٹینڈرڈ” کا بھی آغاز کیا ہے۔
اس دن کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس دن کا صرف مقصد یہی نہیں ہونا چاہیے کہ سیمینار کروا کر تصویریں اتراو لی جائیں اور پھر ستیج سے اترتے ہی سب کچھ بھلا دیا جائے ۔ان کا کہنا ہے کہ اس دن کا مقصد صرف قوموں کے درمیان ہی سہولتیں مہیا کرنا نہیں ہے بلکہ ملک کے اندر بھی ایسا نظام مرتب کیا جائے کہ جس سے تمام شہریوں کو فائدہ ہو ۔ایسے قوانین بنائے جائیں کہ جس سے اندرون ملک اور بیرون ملک تجارت میں آسانیاں پیدا ہوںاور تجارتی رابطے تیز تر ہو سکیں۔
ورلڈ کسٹمز آرگنائزیشن کا ممبر ہونے کے باوجود پاکستان میں ٹیکس کا نظام ابتر حالات سے دوچار ہے۔ ورلڈ بنک نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں پاکستان کے ٹیکس وصولیوں کے نظام کو انتہائی پیچیدہ قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نظام کرپشن کے مواقع بھی فراہم کرتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کاروبار شروع کرنے کے لیے نصف سے زائد افراد اور کاروباری اداروں کو ا پنے کام نکلوانے کے لیے حکام کو رشوت دینا پڑتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان سمیت جنوبی ایشیاءکے ممالک میںکرپشن پانچ بڑی رکاوٹوں میں سے ایک ہے۔ صنعتی ادارے ٹیکس سے بچنے اور دیگر کاموں کو نکلوانے کے لیے سرکاری حکام کو رشوت دیتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیاہے کہ پاکستان ،بھارت اور بنگلہ دیش کی نصف سے زائد کمپنیاں یہ توقع رکھتی ہیں کہ ٹیکس کی ادائیگی سے بچنے کے لیے حکام کو رشوت دے دیں گی۔ ان ممالک میں ٹیکس کا نظام اتناپیچیدہ بنایا گیاہے جس سے نہ صرف ٹیکس کے معاملات عدالتوں میں چلے جاتے ہیں بلکہ یہ کرپشن کے مواقع بھی فراہم کرتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیاہے کہ انٹر پرائزز سروے کے دوران حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق کمپنیوںکو کاروبار شروع کرنے کے لیے بھی حکام کو ” تحفے” دینا پڑتے ہیں اس ضمن میں آپریٹنگ لائسنس کے حصول کے لیے 17 فیصد کمپنیوں ، تعمیراتی پرمٹ کے حصول کے لیے 22 فیصدکمپنیوں، بجلی کے کنکشن کے حصول کے لیے 72 فیصد کمپنیوں ، فون کنکشن کے لیے 31 فیصد کمپنیوں ، پانی کے کنکشن کے لیے 63 فی صد کمپنیوں ،ٹیکس حکام کے ساتھ ملاقاتوں کے لیے 59 فیصد کمپنیوں اور حکومتی اور حکومتی ٹھیکوںکے حصول کے لیے 16 فیصد کمپنیوں کا خیال تھا کہ انہوں نے حکومتی ا ہلکاروں کو رشوت دی۔ رپورٹ کے مطابق عالمی بنک کے انٹر پرائزز سروے کے دوران معلوم ہوا کہ پاکستان میں کاروبار میں توسیع کی خواہش مند کمپنیوں کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ سیاسی عدم استحکام اور کرپشن ہے اس کے بعد غیر یقینی حکومتی پالیسیوں ، ٹیکس نظام اور ان کے حکام جیسے مسائل کا سامنا ہے جبکہ اس ضمن میں بنگلہ دیش اور سری لنکا میں سب سے بڑی رکاوٹ بجلی ، افغانستان میں سیاسی عدم استحکام ، بھارت میں کرپشن ، مالدیپ میں زمین تک رسائی، نیپال میں سیاسی عدم استحکام ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان اور بھارت میں کمپنیوںکو اپنے کاروبار میں توسیع دینے کے حوالے سے اہم رکاوٹ لاگت میں بڑھتا ہوا اضافہ ہے جو بے جا حکومتی ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کے سبب ہے۔ رپورت میں کہا گیا ہے کہ جنوبی ایشیاء میں بجلی کی طلب بھی پوری نہیںہو رہی۔ بنگلہ دیش میں 13 فیصد اور بھارت میں10 فیصد بجلی کی قلت ہے۔ پاکستان میں بجلی کی قلت کے باعث 4 لاکھ افراد روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ بجلی کے شعبے میں نقصانات خطے کے تمام ممالک میں سب سے زیادہ ہیں۔ جس کی بڑی وجہ غیر حقیقت پسندانہ نرخوںکا تعین ، بجلی کی پیداواری لاگت میں بے تحاشا اضافہ ا ور بجلی کے ترسیلی نقصانات اور ان پر بے جا چارجز اور ٹیکس ہیں۔
اس دن کی اہمیت کے حوالے سے ممبر ممالک میں کسٹم ، ایکسائز اور دیگر سرکاری و غیر سرکاری ادارے سیمینار، کانفرنس اور ورکشاپس کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ہر سال کی طرح آج بھی اسلام آباد میں ایک تقریب منائی گئی۔ جس میں فیدرل بورڈ آف ریونیو، محکمہ کسٹم و ایکسائز اور دیگر اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s