چین کا نیا سال


منصور مہدی
چین میں 23جنوری سے نیا سال شروع ہو چکا ہے جس کی تقریبات 15یوم تک جاری رہیں گی۔ نئے چینی سال کی آمد کے موقع پر چین اور دیگر ہمسایہ ممالک جیسے کوریا، جاپان، نیپال، بھوٹان، ویت نام، فلپائن، سنگاپور اور انڈونیشیا میں جشن اس وقت عروج پر ہے۔مختلف شہروں میں لوگ ڈریگن کا روپ دھار کر والہانہ انداز میں نئے سال کو خوش آمدید کہہ رہے ہیں۔ روایتی نئے سال کی آمد پرچین کے تمام شہروں کی گلیاں، شاہراہیں اور اسٹیڈیم لوگوں سے کھچا کھچ بھرے ہوئے ہیں جہاں لوگ والہانہ انداز میں ڈریگن کا رقص پیش کررہے ہیں۔
چین کے دارالحکومت بیجنگ میں منعقدہ لوک ثقافت کی پریڈ میں پچاس میٹر طویل رنگ برنگے ڈریگن نے میلے کی رونق دوبالا کردی۔جس میںحکمران طبقے کے افراد کے علاوہ ڈھائی لاکھ سے زائدشہریوں نے شرکت کی۔جبکہ بجنگ کے قریب برف فیسٹویل میں نمائش کے لیے رکھے گئے اڑدھے کے مجسمے دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔پانچ لاکھ مربع میٹر رقبے پر پھیلے ہوئے اس فیسٹویل میں 300 سے زائد مجسمے نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں۔
چین میں نئے سال کی ابتدا سے ہی موسم بہار کا بھی آغاز ہو جاتا ہے۔ چین میں نیا سال کی تقریبات قومی تہوار کی حیثیت سے منائی جاتی ہیں۔ چینی تہذیب کے تہواروں میں سے یہ سب سے اہم تصور کیا جاتا ہے۔ اس لیے اسے چین سے باہر رہنے والے لوگ بھی روائتی جوش و خروش سے مناتے ہیں۔
چین دنیا کی سب سے پرانی تہذیبوں میں سے ایک ہے جو کہ آج ایک کامیاب ریاست کے روپ میں موجود ہیں اور اس کی ثقافت چھ ہزار سال پرانی ہے۔ صدیوں تک چین دنیا کی سب سے زیادہ ترقی یافتہ قوم ، مشرقی ایشیا کا تہذیبی مرکز رہا جس کے اثرات آج تک نمایاں ہیں۔
چین میں نئے سال کی سب سے بڑی تقریب شنگھائی میں ہوئی،جہاں بہت سے لوگ یو گارڈن میں جمع ہوئے،اس موقع پر آتش بازی کا مظاہرہ بھی کیا گیا۔ لاکھوں لوگوں نے اپنے گھروں میں بھی نئے سال کا جشن منایا،گھروں میں نت نئے پکوان بنائے گئے۔ اس موقع پرلوگوں نے اپنے پیاروں کو نئے سال پر سونے سے بنے ڈریگن کے تحفے دیئے اور بعض منچلے سر پرڈریگن سجائے بازاروں میں گھومتے بھی نظر آئے۔ دنیا بھرمیں چینی باشندوں نے نئے سال کا آغاز مختلف تقریبات سے کیا۔ جاپان کے جزیرے یوکو ہاما میں چائنا ٹاو¿ن میں بڑی گھنٹی بجا کرنیا سال شروع ہونے کا اعلان کیا گیا۔تقریب میں جاپانی باشندوں کی بڑی تعداد نےشرکت کی۔ سنگاپورمیں نئے چینی سال کا استقبال زبردست آتش بازی اور لالٹینیں جلا کرکیا گیا۔ دوسری جانب فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں بھی چینی نڑاد شہریوں نے نئےچینی سال کی آمد پرجشن منایا۔اس موقع پرچینی باشندوں نےمخصوص ثقافتی رقص ڈریگن اور لائن ڈانس کیا،سال نو کی ابتدا کے اعلان کے ساتھ دلفریب آتشبازی کا مظاہرہ بھی کیا گیا۔ امریکہ میں بھیہ چینی سفاتکار نے نیویارک میں واقع ایمپائرسٹیٹ بلڈنگ کو برقی قمقموں سے روشن کرکے نئے سال کی تقریبات کا افتتاح کیا۔
یہ سال ڈریگن کاسال ہے ۔چین میں ڈریگن کو خوش قسمتی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔چین میں ڈریگن کو ایک ڈراو¿نا جانور نہیں بلکہ خوش بختی اور اچھائی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ چینیوں کا خیال ہے کہ اس سال کے شروع میں پیدا ہونے والے بچے زیادہ خوش قسمت ثابت ہوتے ہیں اور ان کی بدولت خاندان پر خوش قسمتی کے دروازے کھل جاتے ہیں اور مشکلات دور رہتی ہیں۔اس لئے شادی شدہ جوڑوں نے 23 جنوری سے شروع ہونے والے ڈریگن ایئر کے آغاز میں بچوں کی پیدائش کیلئے دعائیں شروع کردی ہیں۔
نئے سال کی تقریبات میں پہلے دن زمین اور جنت کے خدا کو خوش آمدید کہا جاتا ہے۔ یہ رسومات رات کو پچھلے پہر منائی جاتی ہیںاور اس میں گوشت کھانے کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے اور اسے لمبی عمر سے منسوب کیا جاتا ہے۔ سال کے دوسرے دن شادی شدہ لڑکیاں اپنے والدین کے گھر جاتی ہیں۔ عام طور پر چینی خواتین کو اپنے والدین کے ہاں جانے کا کم موقع ملتا ہے لہذا وہ نئے سال کی آمد سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نئے سال کی رسم بھی پوری کرتی ہیں اور والدین اور پرانی سہیلیوں سے ملاقات کرتی ہیں۔ اس دن کو دولت کے دیوتا کا جنم دن بھی منایا جاتا ہے۔ نئے سال کے تیسرے دن کو چیکو بھی کہا جاتا ہے ۔ اس دن کو رشتہ داروں اور احباب کے گھر جانے کیلیے اچھا دن خیال نہیں کیا جاتا لہذا چینی لوگ اس دن اپنے گھروں میںرہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ چوتھا روز مشترکہ دعوتوں کا دن ہوتا ہے۔ پانچویں روز چین کے روایتی کھانے پکائے جاتے ہیں۔ چھٹے دن ایک بار پھر آتش بازی کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس دن کو پورے سال کا سب سے قسمت والا دن سمجھا جاتا ہے۔ ساتواں دن جو رینری کے نام سے جانا جاتا ہے ، اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس روز ہر فرد کی ایک سال عمر بڑھ جاتی ہے۔ اس روز مچھلی کا سلاد کھایا جاتا ہے جو لمبی عمر، دولت اور نیک بختی سمجھا جاتا ہے۔ آٹھویں دن کو کاروباری ادارے اور کمپنیاں اپنے ملازموں کو کا نہ صرف شکریہ ادا کرتے ہیں بلکہ خصوصی دعوت کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔ نویں دن کو جیڈ بادشاہ کے حضور دعائیں کی جاتی ہے جو جنت کا بادشاہ مانا جاتا ہے۔ دسویں روز بھی جنت کے بادشاہ کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ اسی طرح گیارواں اور بارواں دن بھی جنت کے بادشاہ کے لیے مخصوص ہے۔ تیرویں اور چودھویں دن کو لوگ سادہ سبزیاں کھاتے ہیں ۔ یہ دن جنگ کے دیوتا کے نام منسوب ہوتا ہے۔ پندرویں دن کو تمام تقریبات کا اختتام ہوتا ہے اور اس روز لالٹین میلہ منایا جاتا ہے۔ اس دن بری بڑی شمعیں ، لالٹین اور موم بتیاں روشن کی جاتی ہیںاور چینی روایتی کھانے مین چاول کے کباب تیار کیے جاتے ہیں۔ اس دن کو چینی رومانوی جوڑے ویلتائن ڈے کے طور پر بھی مناتے ہیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s