ہولوکاسٹ ڈے


منصور مہدی
امریکہ، یورپ اور اسرائیل میں ہر سال 27جنوری کو ہولوکاسٹ ڈے منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد دوسری جنگ عظیم میں جرمنی کے حکمران ہٹلر کے حکم پر 60لاکھ کے قریب یہودیوں کی ہلاکت کی یاد منانا ہے۔
اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ بغیر کسی وجہ کے ہٹلر نے مبینہ طور پر نیشنل سوشلسٹوں کے ساتھ ملکر دنیا بھر میں یہودیوں کی نسل کشی کا منظم اورجامع منصوبہ بنایاجس کا آغاز جرمنی کے زیر قبضہ یورپ سے کیا گیا۔اس مقصد کے حصول کیلئے بطور خاص گیس چیمبرز بنائے گئے۔جن میں6 ملین یہودی جلائے گئے۔
دوسری جنگ عظیم کے فورًا بعد اسرائیل کی ریاست کے قیام کے لئے چلائی جانے والی مہم اسی واقعہ کو بنیاد بناکر چلائی گئی۔یہ مہم اتنی شدید ترین تھی جرمن اور اس کے اتحادی یورپی ممالک دوسروں کی نظروں میں تو انتہائی ظالم اور قابل نفرت ٹھہرے ہی مگر ان کے اپنے عوام بھی خود کو مجرم سمجھنے لگے۔ہولوکاسٹ کی تشہیر سے دیگر فوائد بھی اٹھائے گئے۔آج اسرائیل کے قیام ،اس کے دفاع اور بقا کے لئے اگر یہودیوں کے پاس کوئی جواز موجود ہے تو وہ ہولوکاسٹ کا یہی واقعہ ہے۔
ہولوکاسٹ کو انگریزی میں Holocustلکھتے ہیں۔عبرانی زبان میں اس کا متبادل شوآھ یا شواح ہے۔لفظ ہولوکاسٹ یونانی لفظ ہولوکاسٹن (Holokauston)سے اخذ کیا گیاہے جس کا اصل معنی ہے”آگ میں مکمل طور پر جل کر قربانی دینا”یا ”ایسی قربانی جو آگ میں مکمل طورپر جل کر دی جائے”۔بعد میں یہ لفظ بڑے پیمانے پر قتل عام کے لئے استعمال ہونے لگا۔اس کے ساتھ ساتھ انسانی تباہی کے لئے اختیار کئے گئے مختلف طریقوں کے لئے بھی یہی لفظ ”ہولوکاسٹ”استعمال کیا جاتا رہا۔آج صورت حال یہ ہے کہ ہولوکاسٹ کا لفظ سنتے ہی ذہن سیدھا نازی دور میں داخل ہوجاتاہے جب یہودیوں کے بقول ان کا قتل عام کیا گیا۔
اسرائیلی کیلنڈر کے مطابق یہودی مہینے نسان کے 27ویں دن صبح آٹھ بجتے ہی اسرائیل میں سائرن کے بجتے ہی تمام معمولات رک جاتے ہیں۔دومنٹ کے لئے یہی لگتا ہے جیسے اسرائیل میں دن رک گیا ہو۔یہ سائرن اور پھر دومنٹ تک روز مرہ کے تمام معمولات کا ترک کردینا دراصل وارسا کے واڑڈوں میں یہودیوں کو منتقل کردینے کی یاد کو زندہ رکھنے کے لئے کیا جاتا ہے۔
امریکہ سمیت متعدد یورپی ممالک میں ہولو کاسٹ کا انکار قانوناً جرم ہے اور قابل سزا ہے۔ بعض ممالک کے قوانین میں بڑی واضح نشاندہی کی گئی ہے کہ یہودیوں کے اس مبینہ قتل عام کا انکار کرنے کا اقدام ایک مجرمانہ فعل ہے۔ یورپی یونین نے نسل پرستی اور غیر ملکیوں سے نفرت کے بارے میں باقاعدہ ہدایات جاری کر رکھی ہیں جن میں رکن ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ ایسے افراد کے خلاف فوجداری مقدمات درج کر کے انہیں سزائیں دیں جو ہولو کاسٹ کا انکار کرتے ہوں۔ اس جرم کی سزا ایک سے 20 سال تک ہو سکتی ہے۔ کونسل آف یورپ نے 2003ءمیں سائبر کرائم کا اضافی پروٹوکول جاری کیا تھا جس میں نسل پرستی اور نفرت کے جرائم پر مقدمات چلانے کا کہا گیا۔ یہ سزائیں ان لوگوں کو دی جاتی ہیں جو انٹرنیٹ اور کمپیوٹر پر ہولو کاسٹ کا انکار کرتے ہیں۔ اس قانون کو کہا گیا ہے کہ یہ ہولوکاسٹ سے انکار، اس کی شدت کم بتانے، قتل عام کی حمایت کرنے یا اسے جائز قرار دینے یا انسانیت کے خلاف جرائم کرنے پر سزا دینے کا قانون ہے۔سوئٹزرلینڈ، سپین، پولینڈ، پرتگال، رومانیہ، ہالینڈ، لکسمبرگ، فرانس، چیک ری پبلک، بوسنیا ہرذی گووینا، بلجیم،سکاٹ لینڈ، جرمنی، آسٹریلیا، ہنگری اور رومانیہ ایسے ممالک ہیں جن میں ہولوکاسٹ سے انکار ایک مکمل جرم ہے اور قانوناً ایسا کرنا منع ہے۔ یہی وہ ممالک ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ہولوکاسٹ کے ذمہ دار تھے اور انہی ممالک میں لاکھوں یہودی قتل کر دیے گئے تھے۔ ان ممالک میں نازی ازم اور اس کی علامات تک پابندی کی زَد میں آتے ہیں۔ یہ پابندیاں عمومی قانون سے ہٹ کر خصوصی قانون کے تحت لگائی گئی ہیں۔ امریکہ، آئرلینڈ اور دولت مشترکہ کے کئی ممالک میں بھی ان کا اطلاق کیا جاتا ہے۔
بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ ہولوکاسٹ سے انکار پر سزا نہیں دینی چاہیے کیونکہ یہ آزادیِ اظہار کی خلاف ورزی ہے۔ ہنگری کی آئینی عدالت نے لیزلو سولیوم کی سربراہی میں ایک قانون مسترد کر دیا تھا جو 1992ء میں ہنگری کی پارلیمنٹ نے ہولوکاسٹ سے انکار کرنے والوں کے خلاف پاس کیا۔ عدالت نے قرار دیا تھا کہ ہولوکاسٹ سے انکار کرنے والوں کو سزائیں دینا انسانی حقوق کے یورپی کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔ یہ انسانی حقوق کے عالمی چارٹر کے بھی منافی ہے۔
اس کے برعکس امریکہ اور یورپ کے متعدد مفکرین اور ماہرین تاریخ اس ہولوکاسٹ کو ایک ایسا مفروضہ قرار دیتے ہیں جو کبھی نہیں ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہودیوں نے امریکہ اور برطانیہ کے ساتھ مل کر اس پر کام کیا تاکہ یہودیوں کی ریاست قائم کرنے کا جواز بن سکے۔ ان مغربی مفکرین کے علاوہ ایران اور لبنان دو ایسے ملک ہیں جو ھکومتی سطح پر اس واقع سے انکار کرتے ہیں۔ویٹی کن کی طرف سے ہولوکاسٹ کے انکارکو خدا کے انکار کے مترادف قرار دینے پر لبنان کے عالم دین آیت اللہ سید محمد حسین فضل اللہ نے سخت تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ اس سے معلوم ہوتاہے کہ ویٹی کن صیہونی دباو میں آگیا ہے۔ جبکہ ایران کے صدر احمد نژاد بھی اس واقعہ کو ایک مفروضہ قرار دیتے ہیں۔
امریکہ اور یورپی ممالک کی طرف سے اب اس واقعہ کے انکار یا اس پر تنقید کرنے والے متعدد افراد کو سزائیں بھی ہو چکی ہیں۔ لیکن یورپ کی یہ کتنی عجیب دو رخی پالیسی ہے کہ نبیوں کی شان میں گستاخی کرنے کو آزادی رائے اور آزادی تحریر قرار دیا جاتا ہے اور ہولوکاسٹ سے انکار پر سزائیں دی جاتی ہیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s