نیلسن منڈیلا


منصور مہدی

نیلسن منڈیلا

آج منڈیلا ڈے ہے۔یہ دن جمہوری جدوجہد کے ہیرو نیلسن منڈیلاکو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ان کی سالگرہ کے دن منایا جاتا ہے۔ نیلسن منڈیلا نے 27 سالہ قید کے دوران کبھی اصولوں پر سودے بازی نہیں کی ان کا جذبہ اور تاریخی مزاحمت مغلوب انسانوں کے لئے مشعل راہ ہے۔ نیلسن منڈیلا نے جنوبی افریقہ میں سفید فام حکومت کے خلاف افریقن نیشنل کانگریس کے عسکری ونگ کے سربرا ہ کے طور پر علم بغاوت بلند کیا۔ ان کو تباہی پھیلانے او ر بغاوت کے الزام میں قید کردیا گیا جس کے نتیجے میں انہوں نے ستائیس برس جیل میں کاٹے۔ جب ان کو 1990ءمیں جیل سے رہا کیا گیا تو وہ زندگی کی ستر بہاریں دیکھ چکے تھے۔ انہوں نے ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے مفاہمت کی سیاست پر زور دیا اور جنوبی افریقہ میں مخلوط النسل جمہوریت لانے میں مدد دی۔ ملک کے پہلے الیکشن میں فتح کے بعد وہ 1994ء میں پانچ برس کے لئے صدر منتخب ہوگئے جس کے بعد انہوں نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر کے جمہوریت کو مزید پھلنے پھولنے کا موقع دیا اور دنیا بھر کے حکمرانوں کو ایک قابل تقلید پیغام دیا۔نیلسن منڈیلا ڈے منانے کا مقصد ان کی پوری دنیا کے لیے کی گئی جمہوری کوششوں اور امن کو آگے بڑھانے کی کاوشوں اور دنیا میں آزادی کے لیے اہم کردار ادا کرنے پر خراج تحسین پیش کرنے کے لیے منایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس دن کے موقع پر کچھ وقت کے لیے کمیونٹی کے فلاح کے لیے کام کریں۔ منڈیلا نے جنوبی افریقہ میں جمہوریت کے قیام کے لیے 67 برس تک جدوجہد کی تھی۔ اس لیے اقوام متحدہ نے اپنی اپیل میں لوگوں سے کہا ہے کہ ’دنیا بھر میں لوگ نیلسن منڈیلا کی سالگر کے موقع کم از کم 67 منٹ کے لیے اپنی کمیونٹی کی فلاح کے لیے کام کریں۔
جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے عظیم عوامی لیڈر نیلسن منڈیلا کے جنہوں نے اپنی تمام عمر سیاہ فام جنوبی افریقی قوم کو شخصی آزادی دلانے میں بسرکر دی اور اپنی زندگی کا بہترین حصہ مقصد کی خاطر آواز بلند کرنے کے لیے جیلوں میں گزار دیا۔ وہ اس وقت کوئی بڑا سیاسی عہدہ نہیں رکھتے، نہ کوئی امیر کبیر انسان ہیں لیکن پوری دنیا میں ان کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اسی باعث 2009ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 192 اراکین کی متفقہ قرارداد کے ذریعے یہ فیصلہ کیا تھا کہ ہر برس نیلسن منڈیلا کی سالگرہ کے دن یعنی اٹھارہ جولائی کو منڈیلا ڈے منایا جائے گا۔ بلاشبہ یہ قرارداد ایک ایسی شخصیت کے لیے اعزاز کی بات ہے جس کو پہلے نسلی تعصب پھیلانے اور پھر حکومت کے خلاف بغاوت کے الزامات کے تحت جیل میں رکھا گیا تھا مگر اب وہی سفید فام طبقہ ان کو احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے شخصی آزادی اور برابری کا سب سے بڑا علمبردار گردانتا ہے۔ جنرل اسمبلی کے مطابق ”بین الاقوامی برادری کے لیے یہ قابل فخر بات ہے کہ وہ ایک ایسے عظیم انسان کی عظمت کا اعلان کر رہی ہے جس نے تمام لوگو ں کی برابری کے لیے تکالیف اٹھائیں۔“

 

 

 

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s