خون کا عطیہ


منصور مہدی
آج خون کا عطیہ دینے والوں کے عالمی دن ہے۔اس دن کا آغاز 2005میں کیا گیا جبکہ اس سال یہ دن” ہر خون کا عطیہ دینے والا ہیرو ہے”کے عنوان سے منایا جا رہا ہے۔اس دن کے منانے کا مقصدمختلف حادثوں اور امراض کی وجہ سے خون کی کمی کا شکار ہونے والے افراد کی زندگیوں کو بچانے کا شعور اجاگر کرنا ہے۔کیونکہ دنیا کے ہر حصے میں ہنگامی حالات میں خون کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں خون عطیہ کرنے والے رضاکاروں کی ضرورت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس وقت دنیا کے 57 ممالک میں 100 فیصد خون رضاکارانہ طورپر دیا جاتا ہے جبکہ بقیہ ممالک میں رضا کارانہ طورپر عطیہ کردہ خون کی شرح2سے20فیصد تک ہے ۔ پاکستان بھی انہی ممالک میں شمار ہوتا ہے کہ جہاں 25 فیصد سے کم ہے ان میں پاکستان بھی شامل ہے کہ جہاں 20فیصد خون عطیہ کیا جاتا ہے جو سالانہ 15لاکھ کے قرین یونٹ ہوتے ہیں۔ جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں94فیصد خون عطیہ کیا جاتا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں 80ملین یونٹ سے زیادہ خون عطیہ کیا جاتا ہے جن میں 39فیصد ترقی پذیر ممالک میں جمع ہوتا ہے کہ جہاں کل دنیا کے82فیصد انسان آباد ہیں۔ ہلال احمر پاکستان کے مطابق ملک میں جمع ہونے والے خون کا 70فیصد تھیلسیمیا کے بچوں کو لگایا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق کسی ملک کی خون کی ضرورت پوری کرنے کے لئے ایک سے 3 فیصد آبادی کو خون عطیہ کرنا ضروری ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s