قحط سے نمٹنے کا دن


منصور مہدی
آج قحط اور خشک سالی سے نمٹنے کا عالمی دن منایاجارہا ہے۔ اس دن کو منانے کا فیصلہ 1994میں اقوام متحدہ نے کیا۔یہ دن ہر سال 17جون کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کومنانے کا مقصد قھظ اور خشک سالی سے پیش آنے والے مسائل سے نمٹنے کی تیاری کرنا اور عوام کو اگاہی دینا ہے۔جدید دور میں بھی افریقی ممالک میں رہنے والوں کے لیے قحط کوئی نئی چیز نہیں، مگر سال 2011 کا قحط گذشتہ کئی دہائیوں کا بدترین قحط ہے۔ماحولیات کے تحفظ کی ایک تنظیم کریٹیکل ایکو سسٹم پارٹنر شپ فنڈ کے ایک ماہر جان واٹ کن کہتے ہیں کہ صومالیہ میں اس بحران کی شدت میں اضافے کی وجہ عدم استحکام کے حالات ہیں اور وہاں قحط سے ماحولیات کو بھی بہت نقصان پہنچ سکتا ہے۔ واٹ کن کا کہنا ہے کہ بارشوں کے بعد جنگلات پانی محفوظ کر لیتے ہیں۔ یہی پانی بعد میں دوبارہ بارش ہونے میں مدد دیتا ہے۔ اقوام ِ متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کے اعدادو شمار کے مطابق گذشتہ دس برسو ں میں، افریقہ میں تقریباً چھ کروڑ ایکٹررقبے پر پھیلے جنگلات ختم ہوگئے۔ جبکہ دنیا بھر میں ہر سال ایک کروڑ ایکٹر رقبے کے جنگلات زرعی اراضی میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ باب ونٹر باٹم کہتے ہیں کہ اس سب نقصان کا ذمہ دار خود انسان ہے۔
گزشتہ کچھ سالوں میں پاکستان میں ماحولیاتی تبدیلوں کے باعث شدید بارشوں اور سیلاب جیسی قدرتی آفات بڑے پیمانے پر تباہی کا باعث بنیں لیکن ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیاں آنے والے دنوں میں بھی پاکستان کے لیے مزید مشکلات کا باعث بنیں گی اور رواں سال کے دوران بھی سیلاب خشک سالی اور انتہائی گرم موسم جیسی ماحولیاتی تبدیلیوں کا سامنا کرنا ہو گا۔
موسمیات کے سرکاری ادارہ کے اعلیٰ ترین ماہر ڈاکٹر غلام رسول کا کہنا ہے کہ 2012 میں بھی ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات نمایاں رہیں گے جس کے باعث گرمیوں میں شدید گرمی، اچانک تیز بارش اور طویل عرصے تک خشک سالی جیسے غیر متوقع موسمی حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔انھوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات ابھی سے نمایاں ہو رہے ہیں اور ملک میں ایک لمبے عرصے سے جاری خشک سالی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نبرد آزما ہونے کے لیے پاکستان مکمل پر طور تیار نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ تربیلا اور منگلا ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں کمی آئی ہے جبکہ موسمی تبدیلیوں کے باعث سیلاب اور خشک سالی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے نئے آبی ذخائر بھی تعمیر نہیں کئے جا سکیں ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس صرف 30 دن کا پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہے جبکہ ہمسایہ ملک بھارت 6 ماہ تک کے لیے اور چین ایک سال تک کا پانی ذخیرہ کر سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ہر سال دو کروڑ سے زائد افراد قحط اور کشک سالی سے متاثر ہوتے ہیں جبکہ ان متاثرین میں پہلے نمبر پر افریقی اور دوسرے ایشیائی افراد شامل ہیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s