عورتوں کا تذکیہ


منصور مہدی
 6فروری کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں International Day of Zero Tolerance to Female Genital Mutilation ( عورتوں کا تذکیہ(ختنہ) کے خلاف ایکشن کا عالمی دن ) منایا گیا۔ ایف جی ایم کی رسم نہ صرف افریقی ممالک بلکہ برطانیہ ، آسٹریلیا جیسے ترقی یافتہ ممالک میں آباد مخصوص کمیونٹی کے لوگوں میں بھی رائج ہے۔ اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں30 لاکھ سالانہ سے زائد لڑکیوں کے ساتھ یہ عمل کیا جاتاہے۔ لڑکیوں کے تذکیہ کا یہ عمل سوڈان، چاڈ، سیرالیون اور دجبوتی سمیت 28 افریقی ممالک میں کیا جاتاہے لیکن لڑکیوں کا تذکیہ مشرق وسطیٰ جن میں سعودی عرب او رمصر شامل ہیں وہاں بھی کئے جاتے ہیں۔ انڈونیشیا کے علاوہ یورپ اور شمالی امریکہ کے ممالک میں بھی کئے جاتے ہیں۔
اقوام متحدہ کی اور رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں10کروڑ سے زائد خواتین اور لڑکیاں Genital Mutilation یعنی آپریشن کے ذریعے تذکیہ کرانے کاشکار ہو چکی ہیں۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس دن منانے کا مقصد دنیا بھر کو بتلانا ہے کہ خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ ایف جی ایم کا عمل لڑکیوں اور خواتین کی عظمت کی نفی ہے ان اقدامات سے نہ صرف لڑکیوں میں جنسی بیماریاں کے خلاف قوت مدافعت ختم ہو نے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے بلکہ ان کی ہلاکتوں کے بھی خدشات زیادہ ہو جاتے ہیں۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایف جی ایم کا یہ عمل روکنا آسان نہیں لیکن اس کےلئے آگاہی مہم چلانے کی ضرورت ہے اور حکومتوں کو خواتین کی عظمت کا احساس دیدیا جائے تاکہ لڑکیوں کے ساتھ اس قسم کا برا سلوک نہ ہو۔
مسلمان ممالک میںمصر ایک ایسا ملک ہے کہ جہاں ایف جی ایم کی قبیح رسم تواتر کے ساتھ رائج ہے ۔یونیسف کی ایک رپورٹ کے مطابق2000 سے لے کر2010 تک کے اعداد وشمار ظاہر کرتے ہیں کہ مصر میں 15 سے 49 سال ع±مر کی 96 فیصد خواتین ایف جی ایم کے تجربے سے دوچار ہو ئی ہیں۔ گذشتہ برس کے آخری سہہ ماہی میں مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ہونے ایک کانفرس میں ایف جی ایم کے خلاف آواز اٹھائی گئی جس میں مسلم دنیا کے کئی رہنماو¿ں نے بھی شرکت کی تھی۔ کانفرنس میں جامعہ الازہر کے ایک ممتاز عالم دین نے کہا ہے کہ مذہبی طور پر خواتین کے تذکیہ کا کوئی جواز نہیں ہے۔
خواتین کا تذکیہ کرنا زمانہ جاہلیت کی ایک قدیم روایت ہے لیکن بعض علماءکا یہ موقف رہا ہے کہ مذہبی اعتبار سے یہ ایک ضروری عمل ہے۔ اگرچہ اس رسم کو ادا کرنے والے دیگر مذاہب سے بھی تعلق رکھتے ہیں۔ان کے ہاں اس رسم کا مقصد یہ بتایا جاتا ہے کہ اس طرح ان کی جنسی طلب میں کمی آ جاتی ہے اور بڑی ہو کر وہ خاندان کی ناک نہیں کٹواتی، تاہم اس کا اسلامی حوالے سے کوئی ثبوت میسر نہیں ہے۔
Zero Tolerance Day کی ابتدا 6فروری2003کو اس وقت پڑی جب نائجیریا کی خاتون اول Mrs. Stella Obasanjo نے ایک کانفرنس کے دوران نائجریا میں یہ دن منانے کا اعلان کیا اور اس حوالے سے ملک میں قوانین بنانے کا اعلان کیا ۔ اس کانفرنس میں ایتھوپیا، موریطانیہ کہ جہاں پر 72فیصد خواتین کے ساتھ یہ عمل ہوتا ہے، سوڈان، یوگنڈا، گیمبیا اور دیگر افریقی ممالک کے راہنماﺅں نے شرکت کی اور اس قبیح رسم کی حوصلہ شکنی کے لیے اپنے اپنے ممالک میں قوانین رائج کرنے اور6 فروری کو عورتوں کا تذکیہ کرنے کی رسم کے خلاف ایکشن کا عالمی دن منانے کا اعلان کیا۔ یہ رسم چونکہ افریقہ میں بہت عام ہے اور اس رسم کا شکار ہونے والی لڑکیوں کا تعلق کسی ایک مذہب سے نہیں تھا جس پر اگلے برس اقوام متحدہ نے اس دن کو عالمی دن قرار دے دیا اور ایک قراردادپاس کی گئی جس کے تحت ممبر ممالک سے لڑکیوں کے تذکیہ پر پابندی کا مطالبہ کیاگیا۔قرارداد میں ممبر ریاستوں پر زور دیاگیا کہ وہ خواتین کی حیثیت کو برقرار رکھنے کےلئے خواتین اور لڑکیوں کے تحفظ کےلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائیں اور موثر قانون سازی کے تحت خواتین کے ساتھ ہر قسم کے تشدد اور لڑکیوں کے تذکیہ کو ممنوع قرار دیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s