جنگلات کی حفاظت


منصور مہدی
 پاکستان سمیت دنیا بھر کل 21مارچ کو جنگلات کا عالمی دن منایا گیا۔ اس دن کا آغاز اقوام متحدہ نے2007میں کیا۔جنگلات کسی بھی ملک کی معیشت کا ایک لازمی حصہ ہیں۔ملک کی متوازن معیشت کے لئے ضروری ہے کہ اس کے بیس فیصد رقبے پر جنگلات ہوں۔لیکن سرکاری اعداد وشمار کے مطابق پاکستان کے کل رقبے کا صرف لگ بھگ پانچ فیصد جنگلات پر مشتمل ہے۔ جبکہ غیر سرکاری حلقوں کے مطابق پاکستان کے پاس صرف تین فیصد جنگلات باقی ہیں۔ ان میں سے بھی ہر سال قریباً اکتالیس ہزار ہیکٹر جنگل غائب ہو رہا ہے۔ اس میں آگ، کیڑے مکوڑوں اور نباتاتی بیماریوں کا قصور صرف چھ فیصد ہے۔ بقیہ94 فیصد جنگل کی صفائی کے ذمہ دار کمرشل اور نان کمرشل، قانونی و غیر قانونی انسانی ہاتھ ہیں۔ جو جنگل بچ گیا ہے وہ کتنی تیزی سے غائب ہو رہا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخواہ کے محکمہ جنگلات کے خلاف ایک شکایت موصول ہونے پر ڈائریکٹر جنرل قومی احتساب بیورنے انکوائری کا حکم دیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ محکمہ جنگلات کے ریکارڈکے مطابق 1992میں شیشم کے 80064درخت تھے جن کی پیمائش 2,432,863مکعب فٹ تھی ۔ریکارڈ کے مطابق 18064شیشم کے درخت قانون کے مطابق نیلامی اور دوسرے طریقے سے محکمہ جنگلات مردان ڈویڑن نے فروخت کئے جب انکوائری ٹیم نے درختوں کی گنتی اور پیمائش کی تو پتہ چلا کہ 35000شیشم کے مزید درخت جن کی مالیت کروڑوں میں ہے غائب ہیں۔ اور ایسا ہی حال ملک کے دیگر جنگلات میں بھی ہو رہا ہے اگرچہ حکومت اپنے اعداد و شمار کے ذریعے یہ ثابت کرنے پر مصر ہے کہ گذشتہ دس برسوں میں جنگلات پر مبنی کل رقبہ چار اعشاریہ آٹھ سے بڑھ کر پانچ اعشاریہ صفر ایک فیصد ہوگیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اضافے کی بڑی وجہ فارموں میں کاشت کردہ درختوں کی تعداد میں اضافہ ہے۔
ایشائی ترقیاتی بینک نے اب سے کوئی15 سال پہلے بر اعظم ایشیا پر عالمی درجہ حرات میں اضافے اور اس کے ساتھ ساتھ آب و ہوا میں رونما ہو نے والی تبدیلیوں کے اثرات کے بارے میں ایک مفصّل رپورٹ جاری کی تھی۔اس رپورٹ میں آب و ہوا میں تبدیلیوں کے با عث پاکستان میں متاثر ہونے والے جن شعبوں کی خاص طور پرنشاندہی کی تھی ان میں اگر چہ سرِ فہرست زراعت تھی لیکن اسی کے ساتھ ساتھ ماہرین نے پاکستان میں جنگلات کی صورتِِ حال پر خاص طور سے تشویش کا اظہار کیا گیا تھااور پاکستان کو کچھ مشورے بھی دیے تھے کہ اسے اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے کیا کرنا چاہئیے۔پاکستان میں جنگلات کا رقبہ ملک کے پورے رقبے کے پانچ فیصد سے بھی کم ہے۔ جبکہ موجود ان جنگلات کی حالت بھی کسی طور قابلِ اطمنان نہیں ہے۔اس سے زیادہ اہم اور تشویش کی بات یہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور ماحول کے دوسرے کئی مسائل کی صورت میں جنگلات کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔اس لیے کہ اگر جنگلات کا رقبہ، ملک کی آبادی اور رقبے کے تناسب سے موزوں ہوتو یہی جنگلات، ماحول کو درپیش کئی مسائل کا حل فراہم کرتے ہیں۔مثلاً جنگلات ، فضا میں کاربن ڈائی آکسائڈ کی بڑھی ہوئی مقدار کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ جنگلات بہت زیاد ہ یا بہت کم بارش کے اثرات میں اعتدال پیدا کرتے ہیں۔اور پھر یہ جنگلات ہی ہیں جو قدرتی آبی راستوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ جو توا نائی کے حصول کا بھی ایک ذریعہ ہیں اور زمیں بردگی کو کنٹرول کرتے ہیں۔لیکن جیسا کہ ایشیائی بینک نے اپنی رپورٹ میں نشاندہی کی تھی کہ پاکستان میں جنگلات کی شدید کمی اور جنگلات کے قدرتی وسائل پر آبادی کے بہت زیادہ دباو کی وجہ سے ملک ان فائدوں سے یا تو محروم ہوچکا ہے یا مستقبل میں محروم ہوجائے گا۔لہذا جنگلات کی حفاظت اور ان کے رقبے میں اضافہ کرنا پاکستان کی اب ضرورت بن چکا ہے۔ درجہ حرارت اور بارش کی مقدار اور اوقات میں جو ممکنہ تبدیلیاں آئیں گی .ان کے نقصان دہ اثرات کو زائل کرنے کے لیے جنگلات کا موجودہ رقبہ کافی نہیں ہو گا اور جیسا کہ اب وہ وقت آچکا ہے اور پاکستان کے موسموں میں تبدیلی آچکی ہے۔
ایسے حالات میں جنگلات کی ضرورت اور بڑھ جاتی ہے۔ اگرچہ حکومت پنجاب نے بھی گذشتہ برس اینگرو پولی مر اینڈ کیمیکلز لمیٹیڈ نامی کمپنی سے میمورنڈم آف اندرسٹینڈنگ پر چھانگا مانگا کے جنگل میںدستخط کیے تھے جس کے مطابق اینگرو پولی مر کمپنی نئے جنگل لگانے میں حکومت پنجاب کی مالی معاونت کرے گی جبکہ اس پروگرام کی مانیٹرنگ اقوام متحدہ کا ادارہ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کرے گا۔ پنجاب کے محکمہ جنگلات کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان کے ویژن 2030کے حصول کیلئے 2015تک 6فیصد تک جنگلات بڑھانے کیلئے نجی مدد ضروری ہے ۔ محکمہ کا کہنا ہے کہ حکومت اس حوالے سے تمام ایسے غیر سرکاری اداروں اور تنظیموں کی حوصلہ افزائی کرے گی جو جنگلات کو بڑھانے اور ان کی نگہداشت میں معاون بننا چاہتے ہیں۔
محکمہ جنگلات پنجاب کے ایک ریٹائرڈ فارسٹ آفیسر کا کہنا ہے کہ پنجاب میں نہروں اور سڑکوں پر لگائے گئے شیشم اور کیکر کے درخت محکمہ انہار اور دیگر محکموں کی ملی بھگت سے یا تو چوری کر لئے گئے ہیں یا اونے پونے داموں میں فروخت کر دیئے گئے ہیں۔ اب پنجاب کی بیشتر نہروں پر کوئی درخت نظر نہیں آتاجبکہ سڑکوں پر بھی نہ ہونے کے برابر درخت ہیں اور اس میں نہ صرف محکمہ انہار بلکہ دیگر محکمہ جات مثلاً محکمہ جنگلات، محکمہ شاہرات، محکمہ مال وغیرہ تمام قصور وار ہیں اور اس سلسلے میں حکومت کی کوئی پلاننگ نظر نہیںآتی ۔حکومت کوہنگامی بنیادوں پر نہروں اور سڑکوںپر ازسر نوشجر کاری کی پلاننگ کرنی چاہیے جبکہ کسانوں اور دیہی عوام میں شعور اجاگر کیا جائے کہ جہاں تک ممکن ہو سکے درخت لگائیں اور ان درختوں کا سرکاری ریکارڈ بھی رکھا جائے اور کوشش کی جائے کہ ایسے درخت لگائے جائیں جو زیادہ تر فرنیچر میں استعمال ہوتے ہیں مثلاً شیشم، کیکر وغیرہ کیونکہ ان ایماندارانہ فروخت حکومت کو بہت آمدن ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارے ملک لکڑی کی سالانہ کھپت تقریباً 43 ملین کیوبک میٹر ہے جبکہ جنگلات کی سالانہ افزائش 14.4ملین کیوبک میٹر ہے۔ اس طرح پاکستان کو سالانہ تقریباً 29ملین کیوبک میٹر کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ 1990 سے 2000 تک پاکستان میں جنگلات کا اوسطاً 41100 ہیکٹرز رقبہ سالانہ کم ہوا ہے۔ 2000سے 2005 کے دوران کٹائی کی شرح میں مزید اضافہ ہوا۔ اس طرح 1990 سے 2005 تک پاکستان میں تقریباً 24.7فیصدمزیدجنگلات کا رقبہ ختم ہو گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگرچہ حکومت پاکستان اور دیگر صوبوں نے جنگلات کی ترقی کیلئے نجی شعبے کے تعاون سے جو پروگرام شروع کیے ہیں ۔ اس کا ایک فاہدہ تو یہ ہوگا کہ محکمہ جنگلات کے افسران اب اپنی من مانیاں نہیں کر سکے گے کم از کم غیر سرکاری ادارے اور تنظیمیں ان پروگراموں کو مانیٹر کرے گی جس سے بد عنوانیوں میں کمی واقعہ ہو گی ۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s