غلامی کے خاتمے کا دن


منصور مہدی
آج 25مارچ کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں غلامی کے خاتمے کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ جس کا مقصد بنی نوع انسان میں غلامی کے تصور کو ختم کرنا ہے۔ اگرچہ غلامی شروع سے ہی بنی نوع انسان میں موجود رہی ہے۔ ہر دور میں طاقت ور نے اپنے سے کمزوروں کو اپنی غلامی میں رکھا۔ غلامی کا یہ سلسلہ اب بھی دیگر صورتوں میں موجود ہے۔ موجودہ جدید دور میں جبری مشقت غلامی کی ہی ایک صورت ہے۔
Anti-Slavery International کے مطابق اس وقت دنیا میں 3کروڑ سے زائد افراد غلامانہ زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ ان میں مردوں کے علاوہ عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔ جبکہ کم آمدنی والے ممالک میں غربت کے باعث شہری ان غلامانہ زندگی گزارنے والوں سے بھی بدتر حالت میں رہ رہے ہیں۔
یونیسکو کے اعداد و شمار کے مطابق صرف جنوبی ایشیاءکے ممالک میں ڈیڑھ کروڑ سے زائد افراد جبری مشقت کرتے ہیں۔جبکہ جنسی مقاصد کے لیے ہر سال خواتین اور بچوں محبوس کیا جاتا ہے۔ ہر سال دنیا میں سالانہ70لاکھ سے زائد خواتین اور بچوں کی سمگلنگ کی جاتی ہے۔ خواتین کی قیمت کا تعین کرتے وقت ان کی عمر، حسن، قدکاٹھ اور جسم کو پرکھا جاتا ہے۔ خواتین کو خرید کر ہوٹلوں اور نائٹ کلبوں کی زینت بنایا جاتا ہے۔ انسانی سمگلنگ کے بڑے مراکز ایشیا اور یورپ ہیں جہاں سمگلنگ شدہ خواتین اور بچوں کو جنسی ہوس کے علاوہ گھریلو کام کاج اور فیکٹری کی مزدوری کروائی جاتی ہے۔ چین میں2011میں 24ہزار عورتوں اور بچوں کو بازیاب کرایا گیا جنہیں زبردستی جسم فروشی کی غرض سے اغوا کر لیا گیا تھا۔
جبکہ اچھی ملازمتوں کا لالچ دیکر ہر سال افریقہ اور ایشیائی ممالک سے ہزاروں لڑکیوں اور نوعمر لڑکوں کو یورپ میں سمگل کیا جاتا ہے۔لندن کے اخبار دی ٹائمز کے مطابق برطانیہ میں اچھی تنخواہوں کا لالچ دے کر برطانیہ سمگل کیے جانے والوںزدوکوب کیا جاتا ہے، جنسی زیادتی کانشانہ بنایاجاتا ہے اور انھیں راہداری یا کچن میں سونے پرمجبور کیاجاتاہے۔
یورپ میں یہ کام بین الاقوامی جرائم پیشہ گروہوں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ انسانی سمگلنگ کےلئے مختلف آپریٹرز مختلف مارکیٹوں کو کنٹرول کرتے ہیں۔ چینی، جاپانی اور ویت نامی جرائم پیشہ نیٹ ورکس، روس اور البانیہ کے گینگ اور اٹلی مافیا ان آپریٹرز میں نمایاں ہے۔ انسانی سمگلنگ میں انفرادی افراد کا کردار انتہائی کم ہے جبکہ بین الاقوامی نیٹ ورک کے ذریعے اسے ایک انتہائی منظم ”انڈسٹری“ کا روپ دے دیا گیا ہے اور اس کام میں سمگلرز کو مختلف ممالک کے کرپٹ اور بے ضمیر سیاستدانوں کی آشیر باد بھی حاصل ہوتی ہے۔ خواتین کی سمگلنگ مختلف بین الاقوامی جرائم پیشہ گروہوں کےلئے آمدنی کاایک بڑا ذریعہ بن چکی ہے۔ انسانی سمگلنگ میں ملوث گروپ سمگلنگ کےلئے بعض اوقات قابل ذکر ایمپلائمنٹ اداروں سمیت مختلف تفریحی پروگرام اور ٹورز فراہم کرنے والے اداروں اور ٹریول ایجنسیز کو بھی استعمال کرتے ہیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s