موسمیات کا عالمی دن


منصور مہدی
 پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج موسمیات کا عالمی دن منایا جا رہا ہے ۔اس دن کے منانے کا مقصد موسمیاتی پیش گوئیوں میں محکمہ موسمیات کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور میڈیا کی توجہ محکمہ موسمیات کی جانب مبذول کرواناہے۔23مارچ2012ءکو موسمیات کا عالمی دن ”موسم ، آب و ہوا اور پانی کے ساتھ ہمارا مستقبل “کے عنوان کے تحت منایا جا رہا ہے ۔اس دن کے حوالے سے محکمہ موسمیات اور وزارت ماحولیات کے زیر انتظام مختلف سیمینارز،ورکشاپس اور تقریبات کا اہتمام کیا جائے گا۔اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ہر سال دنیا بھر میں موسمیات کا عالمی دن منایا جاتا ہے موسمیات کے عالمی دن کی ابتدا23مارچ 1950 سے ہوئی تھی۔
بنی نوع انسان اور ہر جاندار کی زندگی موسم ، آب و ہوا اور پانی ہی کی مرہون منت ہے۔ لیکن جدید سائینس کی ترقی اور نئی ایجادات کے نتیجے میںزمین کا موسم مسلسل بدل رہا ہے جو ہر جاندار کے لیے نقصان دہ ہے۔
سائنسی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملکوں کے موسموں میں آنے والی حالیہ تبدیلی کی وجہ ترقی یافتہ ممالک کی طرف سے فضا میں کیا جانے والا زہریلی گیسوں کا اضافی اخراج ہے جس سے پیدا ہونے والی گلوبل وارمنگ یا عالمی حدت آہستہ آہستہ اپنے اثرات ظاہر کر رہی ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق پاکستان کی تاریخ کا سب سے تباہ کن سیلاب، چین میں زمین کا کھسکنا، روس میں لگی آگ اور سنٹرل یورپ میں مسلسل بارش جیسے واقعات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ 1980ءسے اب تک موسمی گرمی میں تین گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ موسمی تبدیلی مستقبل میں کرہ ارض پر کسی بڑی بربادی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم دوسری طرف ترقی یافتہ ممالک کے حمایتی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ گلوبل وارمنگ اپنے مخصوص مفادات کو پروان چڑھانے کے لیے انسان کا خود ساختہ پروپیگنڈاہے کیونکہ اس طرح کے واقعات گذشتہ دہائیوں میں بھی پیش آتے رہے ہیںاور انہیں صرف قدرتی آفات ہی کہا جائے تو بہتر ہو گا۔
فی الحال ان قدرتی آفات کو براہ راست موسمی تبدیلی کے ساتھ جوڑنا تو ممکن نہیں ہے لیکن جو کچھ بھی رونما ہو رہا ہے اس کے بارے میں پہلے ہی سے خبردار کیا جاتا رہا ہے اور اس حوالے سے پیش گوئیاں بھی کی جاتی رہی ہیں۔پاکستان میں ریکارڈ سیلاب ، روس میں ریکارڈ گرمی اور دنیا کے دیگر حصوں میں پیداہونے والی موسمی شدت اس بات کے واضح اشارے ہیں کہ کرہ ارض پر موسم تبدیل ہو رہا ہے اور مزید گرمی اور سیلاب متوقع ہیں۔
جنیوا میں اقوام متحدہ کے تحت کام کرنے والے عالمی موسمی ادارے(WMO) کے مطابق گرین ہاوسز سے گیسوں کے اخراج کے باعث اس برس موسمی تبدیلی میں اضافہ ہوا ہے۔ڈبلیو ایم او کے اہم رکن عمر بدور نے کہا ”ہم ہمیشہ سے موسمی تغیرات کا سامنا کرتے آئے ہیں اور کرتے رہیں گے لیکن حالیہ موسمی تبدیلی نے صورتحال کو دوگنا زیادہ تشویشناک بنا دیا ہے“۔ برطانوی محکمہ موسمیات کے پیٹر سٹوٹ نے کہا ”اب وقت ضائع نہیں کیا جا سکتا ہے کیونکہ دنیا کو موسمی حدت سے مقابلہ کرنے کے لیے تیاری کرنا ہو گی“۔ اقوامِ متحدہ کے موسمی سائنسدانوں کا نیٹ ورک (Intergovernmental Panel on Climate Change (IPCC)) عرصہ دراز سے پیش گوئی کر رہا ہے کہ دنیا میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے گرمی کی لہر اور بارشوں میں اضافہ ہو سکتا ہے اور 2007 ءمیں (IPCC ) کی رپورٹ بھی اسی مسئلے کی طرف توجہ مبذول کرواتی ہے۔
سائینس دانوں کا کہنا ہے کرہ ارض پر ہونے والی تبدیلیاں انسانی غلطیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوئی ہیں۔ ان تبدیلیوں کے نتیجے میں نہ فقط ماحول متاثر ہو رہا ہے بلکہ موسم بھی ان تبدیلیوں کی زد پر ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلیاں موسمیاتی تبدیلیوں کو جنم دے رہی ہیں اور ان موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بہار کا موسم بھی اب انسانوں سے رخصت ہو رہا ہے۔دنیا کے اکثر ممالک میں دیکھا گیا ہے کہ بہار کا موسم ناپید ہوتا جارہا ہے یا مکمل طور پر غائب ہو گیا ہے۔ ہمارے ملک میں بھی گئے وقتوں میں بہار کا موسم اپنے پورے جوبن کے ساتھ آتا تھا لیکن گزشتہ کئی سال سے بہار کا موسم سمٹتا جارہا ہے۔ ایک زمانے میں ہمارے ملک میں موسم بہار کی مدت ڈھائی سے تین ماہ تھی جو اب سمٹتے سمٹتے چند ہفتوں تک رہ گئی ہے۔ بہار کے موسم کی ناپیدگی کے سبب بہار سے وابستہ فصلیں، پھول اور پودے بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ کسی خطے یا علاقے میں موسم کی تبدیلی اس خطے میں موجود حیاتیات کے لئے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان سے بھی مخصوص قسم کی حیاتیات ختم ہوتی جارہی ہے۔
بہار ایک موسم کا نام نہیں، موسم بہار نئی زندگی کے آغاز کا نام ہے۔ یہ نئی زندگی حیاتیاتی نظام کے بقاءکی ضامن ہے۔ ایک ایسا نظام جس کو ہم عام فہم زبان میں بائیو ڈائیورسٹی کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ بہار کے خاتمے سے بائیوڈائیورسٹی کا یہ نظام متاثر ہو رہا ہے جس کے سبب اکثر جانوروں اور پودوں کی آبادی میں تیزی سے کمی آرہی ہے۔
قدرت کا نظام نہ فقط ایک مکمل نظام ہے بلکہ اس کا مقصد انسان کی فلاح ہے لیکن انسان خود ہی اس نظام میں مداخلت کر کے اپنے لئے تباہی حاصل کر رہا ہے۔ نظام قدرت کو بحال رکھنے کی ذمہ داری کسی ایک حکومت یا کسی ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ یہ ہر شخص کا انفرادی فریضہ ہے کہ وہ نظام قدرت کو قائم و دائم رکھنے میں اپنا کردار ادا کرے۔
لہذا ہم سب کو چاہیئے کہ ہم موسموں کو بچانے کے لئے آگے آئیں اور حکومت کو چاہیئے کہ وہ انفرادی کوششوں کو اجتماعی شکل میں ڈھال کر جامع منصوبہ بندی کرے تاکہ ماحولیاتی تبدیلیوں پر قابو پایا جاسکے اور ہماری آنے والی نسلیں بہار کو صرف ادبی سطح پر نہ جانیں بلکہ بذات خود اس سے لطف انداز ہو سکیں اور بہار سے وابستہ حیاتیاتی نظام کو بھی تحفظ حاصل ہو جائے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s