نرسوں کا دن


منصور مہدی
آج نرسوں کا عالمی دن ہے۔ جس کا مقصد اس پیشے سے وابستہ خواتین کی حوصلہ افزائی کرنا ہے اور ساتھ ہی جنگ عظیم میں خدمات سرانجام دینے والی معروف نرس فلورنس نائٹ انگیل کی خدمات کو بھی سراہنا ہے۔یہ دن ہر سال 12مئی کو منایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں ایک کروڑ 80 لاکھ 28 ہزار 917 نرسیں خدمت انسانی کے جذبے کے تحت دنیا کے مختلف ہسپتالوں میں خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 69 لاکھ 41 ہزار 698 نرسوں کے ساتھ یورپ سرفہرست جبکہ 40 لاکھ 95 ہزار 757 کے ساتھ براعظم امریکا کا خطہ دوسرے، 34 لاکھ 66 ہزار 342 کے ساتھ مغربی بحرالکاہل تیسرے‘ 19 لاکھ 55 ہزار 190 کے ساتھ جنوب مشرقی ایشیا چوتھے‘ 7 لاکھ 92 ہزار 853 کے ساتھ افریقہ پانچویں نمبر پر ہے۔عالمی ادارہ برائے صحت کے اعداد وشمار کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ نرسیں امریکہ میں ہیں جہاں 26لاکھ 69ہزار 603 نرسیں مختلف ہسپتالوں میں موجود ہیں اکنامک سروے آف پاکستان کے اعداد وشمار کے مطابق ملک میں 62 ہزار 651 نرسیں ہیں ۔تاہمنرسنگ کا شعبہ تاحال متعدد مشکلات کا شکار ہے۔ پاکستان نرسنگ کونسل کے مطابق ملک میں نرسنگ کی بنیادی تربیت کے لیے چاروں صوبوں میں مجموعی طور پر 162 ادارے قائم ہیں۔ ان میں سے پنجاب میں 72، سندھ میں 59، بلوچستان میں 12 جبکہ صوبہ خیبر پختونخوا میں نرسنگ کے 19 ادارے قائم ہیں۔ ان اداروں سے سالانہ 1800 سے 2000 رجسٹرڈ خواتین نرسز، 1200 مڈ وائف نرسیں اور تقریباً 300 لیڈی ہیلتھ وزٹر میدان عمل میں آتی ہیں۔ جبکہ نرسنگ کے شعبے میں ڈپلومہ اور ڈگری پروگرام پیش کرنے والے اداروں کی تعداد صرف پانچ ہے۔ دوسری طرف صورت حال کچھ یوں ہے کہ ہسپتالوں میں نرسوں کی تعداد ضرورت سے کئی گنا کم ہے۔ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں 313 مریضوں کے لیے ایک نرس کام کر رہی ہے۔ جبکہ حال ہی میں ہونے والے ایک سروے کے مطابق ملک کے ہسپتالوں میں آ ٹھ بستروں پر مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے صرف ایک نرس موجود ہے۔
نرسوں کے لیے ڈاکٹروں کی طرح ڈیوٹی کی تین شفٹیں رکھی گئی ہیں جن کا دورانیہ کم و بیش سولہ گھنٹے کا ہوتا ہے اور حادثاتی صورت حال کے پیش نظر نرسوں کو اکثر و بیشتر اووَر ٹائم بھی لگانا پڑتا ہے مگر ان کو اس کی کوئی ا±جرت نہیں دی جاتی جبکہ زیادہ تر ہسپتالوں میں خواتین نرسوں کی رہائش کے لیے بھی بندوبست نہیں ہے۔ پاکستان میں نرسنگ سکولوں کی صورت حال بھی انتہائی غیر تسلی بخش ہے۔ صرف آغا خان ہسپتال کراچی میں نرسنگ کے شعبے میں اعلیٰ ڈگری کروائی جاتی ہے جبکہ ملک کے بیشتر نرسنگ سکولوں میں صرف بنیادی ٹریننگ ہی پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ نرسنگ کی تربیت کے لیے سو سے زائد اداروں میں پڑھایا جانے والا کورس جدید تقاضوں سے بھی ہم آہنگ نہیں ہے۔
ملک میں کام کرنے والی بیشتر نرسیں اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کرتیں ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں خواتین نرسوں کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کے دوران شدید ذہنی دباو کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران نرسوں کے ساتھ ہونے والے زیادتی کے واقعات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ نرسوں کے ساتھ نہ صرف مرد ڈاکٹر حضرات اور بعض اوقات مریض بدسلوکی کرتے ہیں بلکہ ساتھی خواتین نرسیں بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ گزشتہ نصف دہائی کے دوران سالانہ اوسطاً 13 نرسوں کی عصمت دری کی گئی۔ واضح رہے کہ یہ ایسے واقعات ہیں جو رپورٹ ہوئے اور ان کے حوالے سے تھوڑی بہت کارروائی بھی کی گئی جبکہ متعدد ایسے واقعات ہیں جن میں متاثرہ نرسوں کو اپنی نوکری بچانے کے لیے خاموشی اختیار کرنے پر مجبور کیا گیا۔
پاکستانی نرسوں کا کہنا ہے کہ وہ دن رات مریضوں کی خدمت کرتی ہیں لیکن ان میں سے بیشتر کی ملازمت مستقل نہیں جبکہ افادیت کے باوجود نرسنگ شعبے سے وابستہ خواتین کو وہ مقام نہیں دیا جاتا جو ان کا حق ہے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s