انفارمیشن سوسائٹی ڈے


منصور مہدی
آج ورلڈ انفارمیشن سوسائٹی ڈے ہے۔ پہلے اس دن کو ورلڈ کمیونیکیشن ڈے کہا جاتا تھا جس کا آغاز 17مئی1865کو انٹرنیشنل کمیونیکیشن یونین نے کیا۔بعد ازاں نومبر 2005میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ورلڈ انفارمیشن سوسائٹی کا تیونس میں اجلاس ہوا جس میں اس دن کا نام بدل کر ورلڈ انفارمیشن سوسائٹی ڈے رکھا گیا۔جسے اردو میںمواصلات کا عالمی دن بھی کہا جاتا ہے۔ موجودہ دور میں انفارمیشن ٹیکنالوجی انسانی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔انفارمیشن ٹیکنالوجی نے تمام دنیا کو ایک گلوبل ولیج میں بدل دیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی نے ترقی پذیر ممالک کے لیے سائنسی بنیادوں پر تیز تر ترقی کی نئی راہیں استوار کرنے کے لیے بہترین مواقع فراہم کئے ہیں۔پاکستان میں اس ٹیکنالوجی نے صحیح معنوں میں2000 میں اپنے قدم جمائے۔ جنوری 2001 تک پاکستان میں صرف 225,000 موبائل فون استعمال کرنے والے تھے۔ آئندہ آنے والے 18مہینوں میں ہی 500%اضافے کے ساتھ اگست 2002 تک موبائل فون رکھنے والوں کی تعداد 1.2ملین ہو گئی۔اور اب رواں سال کے دوران یہ تعداد مزید بڑھ کر 100ملین سے تجاوز کر چکی ہے۔اس بنا پر انفارمیشن ٹیکنالوجی کا شعبہ نہ صرف ملکی معیشت میں سب سے زیادہ کامیاب اور ترقی کرنے والے شعبے کی حیثیت حاصل کر چکا ہے۔ 2003 میں پاکستان کا پہلامواصلاتی سیارہ-1 PAKSAT خلا میں بھیجا گیا۔ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا بھر میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے افراد کی تعداد تین ارب سے زائدہے۔جبکہ پاکستان میں انٹرنیٹ صارفین کی تعدادتین کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے اور پاکستان ایشیائی ممالک میں انٹرنیٹ استعمال کرنے کے حوالے سے آٹھویں نمبر پر آچکا ہے۔ اب تک پاکستان کے ایک ہزار آٹھ سو بارہ شہر، قصبے اور دیہات انٹرنیٹ سے منسلک ہو چکے ہیں اور ان میں روزانہ اضافہ ہو رہا ہے۔
انٹرنیت صرف پیغامات بھیجنے یا وصول کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک معلومات کا خزانہ ہے۔ ہم انٹرنیٹ کی ہی بدولت یہ جان پاتے ہیں کہ دنیا میںکیا ہو رہا ہے۔ کیسی ہی معلومات ہوں انٹرنیٹ پر صرف ایک بٹن دبا کر حاصل کی جا سکتی ہیں۔انٹرنیٹ کی بدولت بننے والے سوشل میڈیا نے گلوبل ویلج کے تصور کو اور بھی فروغ دیا ہے۔ فیس بک، ٹوئٹر، مائی اسپیس، گوگل پلس، ڈگ وغیرہ پر دنیا بھر کے لوگ ہر وقت ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے ذریعے معلومات کا ذخیرہ آپ تک خود بخود بذریعہ ای میل اور انٹرنیٹ بلاگ پوسٹس کے ذریعے پہنچ جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا تجارتی، پیشہ وارانہ اور ذاتی برینڈسازی کیلئے زبردست امکانات رکھتا ہے۔ اگر مواد کے معیار کو بہتر بنایا جائے اور سوشل میڈیا کو بہتر سمجھ کے ذریعہ آگے بڑھایا جائے تو انٹرنیٹ عوام کے لئے زیادہ حوصلہ بخش ماحولیاتی نظام بن سکتا ہے اور یہ مواصلات، تعلیم اور نظام حکمرانی کے وسیلے کے طور پر بھی استعمال ہوسکتا ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s