دمہ سے آگاہی کا دن


منصور مہدی
آج دمہ سے آگاہی کا عالمی دن ہے۔ یہ دن ہر سال مئی کے پہلے منگل کے روز منایا جاتا ہے۔جس کی ابتدا1988 میں ہوئی تھی جب یہ صرف 35 ملکوں میں منایا گیا تھا اور اب دنیا کے ہر ملک میں منایا جاتا ہے۔ سانس کی بیماری ( دمہ) ماحولیاتی آلودگی کے شکار ممالک میں عام ہے۔ امراض سینہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ دمے کی بیماری کی وجوہات ویسے تو بہت سی ہیں لیکن اس بیماری کے اسباب میں فضائی آلودگی، فیملی میں الرجی، سگریٹ نوشی، دھواں، شاہانہ طرز زندگی، قالین اور مٹی کی دھول ،صنعتی آلودگی ، فضلے اور نامناسب خوراک شامل ہیں ۔ پاکستان میں کاٹن جننگ اور گندم کی گہائی وغیرہ سے بھی دمے کا مرض لاحق ہوتا ہے، دمہ اورسانس کی دیگر بیماریوں کے اسباب مثلا آلودگی وغیرہ کوکم کرنے کیلئے گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ڈیزل اورپیٹرول میں سلفر کی مقدارکو کم کرنے ، ایئر کوالٹی مانیٹرنگ سٹیشنوں کا قیام ، گاڑیوں کی چیکنگ کا نظام ، متعارف کروانا اور سانس کی بیماریوں کے علاج کیلئے استعمال ہونے والے انہیلرز کی کلورو فلوروکاربن فری ٹیکنالوجی متعارف کرنے کے اقدامات کرناشامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس بیماری میں سانس کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں جس کی وجہ سے سینے میں گھٹن، سانس لینے میں تکلیف اور کھانسی خصوصاً رات دیر کو یا علی الصبح شروع ہو جاتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق اگر ایسی صورت حال ہو تو مریض کو فوراً امراض سینہ کے ڈاکٹرز کو دکھانا چاہیے۔ اگر یہ علامات ظاہر ہونے کے بعد کسی مستند ڈاکٹر سے رجوع نہ کیا گیا تو دمے کی شدت بڑھ سکتی ہے جس کے بعد مریض کا چلنا پھرنا حتیٰ کہ سیڑھیاں چڑھنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ شدت مزید بڑھنے پر دم گھٹنے سے اچانک موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ دمے کے مریضوں کو چاہیے کہ گھروں سے قالین اور بھاری پردے ہٹا دیں۔ مچھر مار کوائلز استعمال نہ کریں۔ گھر میں پالتو جانور اور پرندے بھی نہ رکھیں کیونکہ ان کی وجہ سے بھی دمے کی شدت بڑھ سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق انہیلر ہی اس کا ابتدائی اور آخری علاج ہے۔
پاکستان میں ماہرین امراض سینہ کا کہنا ہے کہ ملک میں اس وقت سانس کی بیماری دمہ کے تقریباً30سے35 لاکھ مریض ہیں جن میں میں زیادہ تعداد بچوں کی ہے لیکن لوگ اس کے صحیح علاج سے آگاہ نہیں۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ آئندہ دس برسوں میں اس بیماری کے مریضوں کی تعداد میں بیس سے پچیس فیصد اضافہ ہوسکتا ہے۔ماہرین کے مطابق دنیا میں دمہ کے 2کروڑ کے قریب مریض پائے جاتے ہیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s