وش بون ڈے


منصور مہدی
 آج وش بون ڈے ہے۔جو ہر سال 6مئی کو اقوام متحدہ کے زیر اہتمام منایا جاتا ہے۔ یہ دن ہڈیوں کے مرض کہ جس میں ہڈیاں کمزور ہو کر بھربھری ہو جاتی ہیں اور معمولی سے ضرب سے ہی ٹوٹ جاتی ہیں کے بارے لوگوں کو آگاہی فراہم کرنا ہے۔ ہڈیوں میں یہ کمزوری زیادہ تر اوسٹیوجینیسس ( Osteogenesis)کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اوسٹیو جینیسس یعنی سوراخ دار ہڈیاں۔ انھیں brittle bones بھی کہتے ہیں۔ اگر آپ نے کبھی جانوروں کی ہڈیاں دیکھی ہیں تومشاہدہ کیا ہوگا کہ ان میں باریک باریک سوراخ پائے جاتے ہیں اگر یہ باریک سوراخ بڑے ہو جائیں تو ہڈیاں بھربھری ہو جاتی ہیں۔ انکی دیواریں پتلی ہو جاتی ہیں اور وہ نرم پڑ جاتی ہیں۔ معمولی سی ٹھیس انہیں توڑ سکتی ہے۔ انسان زیادہ نقل و حرکت کے قابل نہیں رہتا۔ اور یہ چیز اسکی مدت زندگی میں کمی کا بڑا سبب بن جاتی ہے۔
ماہرین طب کے مطابق اس مرض میں collagen کی کمی ہوجاتی ہے جو ایک طرح کی پروٹین ہے۔ ماہرین کے مطابق انسانی جسم میں collagen کی مقدار 25فیصد تک ہوتی ہے۔ یہ دراصل قدرت کے وہ راز ہیں کہ جن کی وجہ سے انسانی جسم آپس میں جڑا ہوتا ہے۔ ہڈیاں آپس میں ٹھوس حالت اختیار کرتی ہیں۔
ماہرین طب کا کہنا ہے کہ یہ مرض زیادہ تر خاندانی سلسلے سے جڑا ہوتا ہے لیکن ماحول، غذا اور بعض دوائیں بھی اس بیماری کاباعث بن جاتی ہیں۔ ہڈیوں کی ساخت میں کیلشیم اور فاسفورس کا استعمال ہوتا ہے چنانچہ اگر کیلشیم کی کمی ہو جائے تو ہڈیاں کمزور ہو جاتی ہیں۔ ہڈیوں کی کمزوری اور مضبوطی کا پیمانہ ہڈیوں میں دھاتوں کی مقدار سے ہوتا ہے یعنی بون منرل ڈینسٹی( bone minral density)۔ اگر یہ زیادہ ہے تو ہڈی مضبوط اور اگر یہ کم ہے تو ہڈی کمزور ہو گی۔
ماہرین کے مطابق یہ مرض زیادہ تر یوروپی اور ایشیائی لوگوں میں پایا جاتا ہے۔جبکہمردوں کے مقابلے میں خواتین، موٹے لوگوں کے مقابلے میں دبلے افراد، کولڈ ڈرنکس حد سے زیادہ استعمال کرنے والے، بعض دوائیں استعمال کرنے والے مثلاً خون کو پتلا کرنے والی دوائیاں، اعصاب کی دوائیاں اور بعض سٹیرائڈز کی وجہ سے بھی یہ بیماری ہوجاتی ہے۔ اس کے علاوہ وہ لوگ جو چلنے پھرنے سے گھبراتے ہوں، سستی برتتے ہوں یا کسی بیماری کے نتیجے میں یا اسکے بعد ایک طویل عرصے تک چلنے پھرنے سے قاصر ہوں، انھیں بھی اس مرض کا خطرہ ہو سکتا ہے۔
نوجوان خواتین میںاس مرض کی اہم وجہ مستقل حمل کی یا بچوں کو دودھ پلانے کی حالت میں رہنا ہے۔ بچہ جب ماں کے جسم میں پرورش پاتا ہے تو وہ ماں کے کیلشیم کے ذخیرے کو بہت زیادہ استعمال کرتا ہے۔ اسے اس سے غرض نہیں ہوتی کہ ماں کی خوراک میں زائد کیلشیم شامل ہے یا نہیں۔ اگر ماں اپنی خوراک کے ذریعے زائد کیلشیم حاصل نہیں کرتی تو وہ یہ کیلشیم ماں کی ہڈیوں سے لینا شروع کر دیتا ہے۔ یہی قانون قدرت ہے۔ جسکے نتیجے میں ماں کی ہڈیاں گھلنا شروع ہو جاتی ہیں۔ ہڈیوں کی اس کمزوری پہ خوراک اور اضافی کیلشیم سے قابو پایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح دودھ پلانے والی مائیں اگر اپنی خوراک میں کیلشیم کی مقدار کا خیال نہ رکھیں تو ان میں کیلشیم کی مقدار کم ہوجاتی ہے اور ان کی ہڈیاں کمزور ہوجاتی ہیں۔
خواتین میں Osteogenesis کی دوسری اہم وجہ ان کے ماہانہ نظام کا بند ہونا ہے ۔ خواتین کا تولیدی نظام ایک ہارمون ایسٹروجن پہ انحصار کرتا ہے۔ یہ خواتین کے ماہانہ نظام سے لے کر حمل قرار پانے اور بچے کی تولید تک ہر مرحلے میںشامل ہوتا ہے۔ یہ خواتین کے جسم کے ہر حصے میں پایا جاتا ہے۔ یہ انکی جلد کو خوبصورتی دیتا ہے اور جسم کو تناسب۔ اسکے ساتھ ہی یہ انکے جسم میں کیلشیم کے جذب ہونے کے عمل میں بھی مدد کرتا ہے۔عمر کے ساتھ ایک مرحلے میں آکر یہ ہارمون ختم ہونا شروع ہوتا ہے تو یہ نظام بھی اپنے خاتمے پہ پہنچتا ہے۔ اس سے جہاں اور مسائل جنم لیتے ہیں وہاں کیلشیم کا کم یا نہ جذب ہونا بھی ہے جس سے ہڈیوں کی کمزوری کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ ماہرین طب کے مطابق وہ نوجوان خواتین جنکا ماہانہ نظام ہر ماہ نہیں ہوتا بلکہ کسی خامی کی وجہ سے اس میں دو دو تین مہینوں بلکہ بعض اوقات سال کا بھی وقفہ آجاتا ہے انکی ہڈیاں بھی اسی وجہ سے جلد کمزور ہو سکتی ہیں۔ خواتین کے ہارمونل نظام کی یہ خامی عام طور پہ قابل علاج ہوتی ہے۔وگرنہ مینو پاز کے بعد خواتین کی ہڈیوں کی کثافت میں دو سے چار فیصد سالانہ کے حساب سے کمی آسکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس مرض کی دیگر وجوہات میں سگریٹ نوشی، شراب نوشی، ورزش نہ کرنا، ، کیلشیم والی غذائیں کم استعمال کرنا، کم غذائیت کی حامل خوراک لینا، نظام انہضام میں خرابی کی وجہ سے غذا کا صحیح طور پہ جذب نہ ہونا، مردوں میں مردانہ ہارمون کی کمی بھی شامل ہے۔ ان کے علاوہ مختلف غدود کے افعال میں خرابی مثلاً تھائرائڈ گلینڈ کے افعال میں خرابی جسکے نتیجے میں یہ تھائرائڈ ہارمون زیادہ پیدا کرتا ہے یا کم پیدا کرتا ہے۔ ماحول میں بھاری دھاتوں کی آلودگی سے بھی ہڈیاں کمزور ہونے لگتی ہیں۔ بعض حالات میں گردوں کی خرابی، خون میں خرابیبھی اس کی وجہ ہو سکتی ہے۔اس مرض ایک اور اہم وجہ وٹامن ڈی کی کمی ہے، وٹامن ڈی، جسم میں کیلشیم کے جذب ہونے کے لئے ضروری ہے۔ وٹامن ڈی کی کمی ان سرد ممالک میں زیادہ ہوتی جہاں دھوپ کم نکلتی ہے۔
ماہرین طب کا کہنا ہے اس مرض سے بچنے کے لیے لوگوں خصوصاً بچوں اور خواتین کو اپنی خوراک میں کیلشیم کا استعمال نہویت ضروری ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s