حیاتیاتی تنوع کا عالمی دن


منصور مہدی
آج حیاتیاتی تنوع کا عالمی دن ہے۔ یہ دن ہر سال 22 مئی کومنایا جاتا ہے۔اس دن کو منا نے کا فیصلہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس منعقدہ 20دسمبر2000کو کیا۔جبکہ اس دن کے منانے کا مقصد حیاتیاتی تنوع کے بچاو¿ کا شعور بیدار کرنا اور اِس نصب العین کے حصول کے لیے اہم اقدامات کی ضرورت پر زور دینا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ حیاتیاتی تنوع کے لیے موسمیاتی تبدیلیاں ایک بڑے چیلنج کی حیثیت رکھتی ہیں کیونکہ یہ تبدیلیاں قدرتی ماحول کو اس قدر تیزی کے ساتھ متاثر کرتی ہیں کہ بہت سے جانور اور نباتات ا±س تیزی سے خود کو نئے حالات کے مطابق نہیں ڈھال پاتے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بائیو ڈائی ورسٹی یا بائیالوجیکل ڈائی ورسٹی کا مطلب ہے کرہ ارض پر ”موجودہ زندگی میں تنوع“۔ آج کرہ ارض پر جو بھی حیاتیاتی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ حقیقت میں یہ اربوں سالوں کے ارتقاءاور قدرتی عمل کا نتیجہ ہیں اور اس میں انسان نے مزید اضافہ کررہا ہے۔ اس کرہ ارض پر موجود حیاتیات جن میں پودے، جانور اور خوردبینی جاندار شامل ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ مختلف قسم کے ماحولیاتی نظام جیسا کہ ریگستان، جنگلات، پہاڑ، جھیلیں، دریا، دلدلی علاقے اور زرعی زمینیں ہیں ان تمام کا عمل دخل شامل ہے۔ یہ سب چیزیں مل کر زندگی کو جنم دیتی ہیں اور ان کے بغیر زندگی کی بقاءممکن نہیں ہے۔ اسی ماحولیاتی نظام نے مل کر کرہ ارض کو انسانی زندگی کے قابل بنایا ہے۔یاد رہے کہ اسلام نے بھی کرہ ارض پر موجود زندگی اور اس کے عوامل کی اہمیت کا ذکر کیا ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ وآلہ وسلم نے فرمایا ”اگر کسی نے ایک پودا لگایا اس پودے کو انسان اور جانور جب تک کھاتے رہیں گے یا اس سے انسانوں کو فائدہ ( چھاﺅں کی صورت میں) ملتا رہے گا تو اس کا اجر اس شخص کو ملتا رہے گا۔
لیکن سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انسانوں کی اپنی غلطیوں کی وجہ سے ہونی والی موسمیاتی تبدیلیاں مختلف طرح کے جانوروں یا پودوں کو ہی نہیں بلکہ پورے کے پورے حیاتیاتی نظاموں کے لیے خطرہ بن رہی ہیں۔ زمینی درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے ا±ستوائی خطوں میں مونگے کی چٹانوں کو بھی خطرات درپیش ہیں جو سیلابی لہروں کو روکتی ہیں۔ یہ ماہی گیری، خوراک کی یقینی فراہمی اور سیاحت کے لیے بھی بہت اہمیت رکھتی ہیں۔
اس دن کو منانے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ حکومتوں اور عوام کو یہ یاد دہانی کرانا ضروری ہے کہ جنگلات اور دریاو¿ں جیسے دیگر ماحولیاتی نظام بھی ماحول کو تحفظ فراہم کرنے کے سلسلے میں مختلف النوع خدمات سرانجام دیتے ہیں۔ یہ پانی کو گردش میں رکھتے ہیں، ہمیں خوراک دیتے ہیں، ہمارے لیے سکون اور آرام کا بھی ذریعہ ہیں اور سب سے بڑھ کر ماحول کو ایک قاعدے اور نظم کے مطابق رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پائیدار زراعت ماحولیاتی نظام کے لیئے بہت ضروری ہے ۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s