نو ٹوبیکو ڈے


منصور مہدی
آج نو ٹوبیکو ڈے( انسداد تمباکو نوشی )ہے۔ ماہرین طب کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ سے زائد اور دنیا بھر میں 54لاکھ کے قریب افراد تمباکو نوشی سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ حکومت پاکستان تمباکو کی فروخت سےسالانہ 60ارب روپے سے زیادہ کا ریونیو حاصل کر رہی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ تمباکو سے ایک سال میں اتنی بڑی تعداد میں ہونے والی ہلاکتیں خودکش حملوں سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ یہ دن ہر سال 31مئی کو منایا جاتا ہے جبکہ اس دن کے منانے کا مقصد تمباکو نوشی کے نقصانات سے آگاہی دینا ہے۔ڈبلیو ایچ او کے مطابق پاکستان میںہر روزانہ ایک ارب 20 کروڑ روپے تمباکو نوشی پر خرچ کیے جاتے ہیںجو سالانہ 432ارب روپے بنتے ہیں جبکہ سالانہ43 کروڑ روپے کے پان کھا جاتے ہیں۔ڈبلیو ایچ او کے اعداد و شمار کے مطابقگذشتہ چند سالوں میں پاکستان میں نوجوانوں میں تمباکو نوشی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے ۔جس کی وجہ نہ صرف بڑے شہروں بلکہ چھوٹے شہروں میں شیشہ کیفے کلچر کا فروغ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہپاکستان میں 8فیصد لڑکیاں اور 31فیصد لڑکے صرف حقہ کی صورت میں تمباکو استعمال کرتے ہیں اور54فیصد نوجوان تمباکو نوشی کرتے ہیں۔ماہرین صحت کے مطابق شیشہ سگریٹ سے کہیں زیادہ خطرناک ہے اور ایک گھنٹہ شیشہ پینا 100سگریٹ پینے کے مترادف ہے۔شیشے میں تمباکو کے ساتھ ساتھ نارکوٹکس بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ جو انسانی صحت کے لیے انتہائی مہلک ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق دنیا بھر میںہر سال 17ملین افراد دل کے امراض کی وجہ سے انتقال کرجاتے ہیں جس کی بڑی وجہ تمباکو نوشی ہوتی ہے۔ پاکستان چیسٹ سوسائٹی کے مطابق صرف کراچی کے اسکولوں میں لڑکیوں میں سگریٹ نوشی کی شرح 16 فیصد سے تجاوز کرچکی ہے۔ ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ خواتین کی سگریٹ نوشی نہ صرف اس لڑکی کے لیے بلکہ آنے والی نسل کے لیے بھی خطرناک ہے۔ چنانچہ خواتین کی حد تک خصوصی طور پر حوصلہ شکنی کی جانے چاہیے۔ ماہرین طب کے مطابق پاکستان اس وقت دنیا کے ان ممالک میں شامل ہوچکا ہے جہاں منہ کے کینسر کے مرض کا تناسب سب سے زیادہ ہے۔ اگرچہ حکومت تمباکو نوشی کو کنٹرول کرنے کے پہلے سے قائم قانون پر عملدرآمد کرانے میں ناکام رہی ہے جبکہ مئی 2009 میں حکومت نے بند جگہوں پر جہاں لوگ موجود ہوں مثلاً ہوٹل، ریسٹورنٹ، پبلک جگہوں وغیرہ میں سگریٹ نوشی پر پابندی کا قانون جاری کیا تھا جس پر ابھی تک کوئی عمل نہیں ہو سکا ہے۔ پاکستان میںصرف سگریٹ ہی نہیں بلکہ بیڑی، سگار، پان، نسوار اورگٹکا کی شکل میں تمباکو کا استعمال ہورہا ہے جس سے منہ، حلق اور پھیپھڑوں کا سرطان پھیلتا ہے۔ جو بالآخر موت کا سبب بن جاتا ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s