کچھوﺅں کا عالمی دن


منصور مہدی
آج کچھوﺅں کا عالمی دن ہے۔ یہ دن ہر سال 23مئی کومنایا جاتا ہے ۔ اس دن کو منانے کا آغاز امریکن ٹرٹل ریسکیو نامی ایک تنظیم نے 2000میں کیا۔اس دن کا مقصد بحیثیت اشرف المخلوق بیس کروڑسال پرانی خدائی مخلوق کو ہلاکت سے بچاناہے ۔ ماہرین کے خیال میں کچھوے کی نسل آئندہ پچاس سال میں مکمل طور پر ختم ہوجائے گی۔کیونکہ کچھوﺅں کے ایک لاکھ بچوں میں سے صرف ایک ہی کچھوا اپنی بالغ عمر تک پہنچ پاتا ہے اور دوسرے سی فوڈ کی صنعت میں فروغ، پالتو جانوروں کی تجارت، سمندر میں محفوظ ٹھکانوں میں تیزی سے کمی اور سمندری آلودگی کی وجہ سے کچھوے کی نسل تیزی سے معدوم ہورہی ہے۔پاکستان میں کراچی کے ساحل کچھوﺅں کی افزائش اورخوراک کی فراہمی کے لئے دنیا میںموزوں ترین سمجھے جاتے ہیں۔ جس پر صوبہ سندھ میں کچھوﺅں کو پچانے کے لیے آج سے38 سال پہلے قانون بنایاجا چکا ہے مگر اس پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔چنانچہ یہاں ڈبلیو ڈبلیو ایف کے اشتراک سے کچھوے کی افزائش نسل کے لئے کام کیا جا رہا ہے اور کچھوﺅں کی سات میں سے دو قسمیں گرین اوراولیو ریڈلی کی نسل بڑھانے کے لیے خاص اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ساحل سمندر سے انڈوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جا تا ہے۔ انڈوں سے بچے نکلنے کا دورانیہ دوماہ ہوتا ہے جس کے بعد ان کی گنتی اور طبی معائنہ کرنے کے بعد سمندر میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔
کچھوے دیگر جانوروںسے اس لحاظ سے بھی منفرد ہیں کہ ان میں پانی اور خشکی دونوں میں زندہ رہنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ یہ کچھوے قدیم وقتوں سے آج تک مختلف ماحول میں اور حادثوں کے باوجود اپنی نسل کو زندہ رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔ ساتھ ساتھ کچھوﺅں نے ماحول کی تبدیلی کے ساتھ اپنی عادات بھی بدلی ہیں جن کی مثال چین میں پائے جانے والے بڑے سر والے کچھوے ہیں۔ جن کی خوبی یہ ہے کہ اپنے لمبے لمبے ناخنوں والے پنجوں کی مدد سے یہ کچھوے درخت پر چڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کی دمیں لمبی ہوتی ہیں۔ کسی خطرے کی بو سونگھتے ہیں تو کچھوے فوراً درخت پر چڑھ جاتے ہیں۔ جبکہ کچھوﺅں میں نر اور مادہ کی پیدائش کا عمل بھی دیگر جانوروں سے مختلف ہے۔ اس کی جنس کا دار ومدار درجہ حرارت پر ہوتا ہے۔ جب کچھوے انڈے دیتے ہیں تو ا±س کے اندر پائی جانے والی مخلوق نہ تو نر ہوتی ہے نہ ہی مادہ۔ ان کی جنس کا تعین انڈے سینے کے عمل یا ’انکیوبیشن‘ سے ہوتا ہے۔ بہت زیادہ درجہ حرارت میں مادہ جبکہ کم درجہ حرارت میں نر کچھوے پیدا ہوتے ہیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s