فرانس کے فسادات


منصور مہدی

فرانس کی سٹراس بورگ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر محمد ابن جوادی نے1995میں "یورپ میں مسلمانوںکا مستقبل ” کے حوالے سے اپنی ایک گفتگومیں اس بات کا خطرہ ظاہر کیا تھا کہ فرانس میں جہاں برطانیہ سمیت یورپ کے دوسرے تمام ملکوں کے مقابلے میں مسلمانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے وہاںپر جلد ہی ایک بڑا آتش فشاں پھٹنے والا ہے۔ انہوں نے اس کی ایک وجہ یہ بتائی تھی کہ ایک طرف مسلم تارکین وطن کی نئی نسل اپنے مذہب اور رنگ ونسل کی بنا پر سنگین اقتصادی ، سیاسی اور سماجی تعصب اور نسل پرستی کا شکار ہے اور دوسری طرف فرانس سیکولر بنیاد پر ایک مختلف فرانسیسی اسلام کو تشکیل دینا چاہتا ہے جو ناممکن ہے اور یہی دونوں باتیں بہت جلد ایک آتش فشاں کی صورت اختیار کر جائے گی۔اُس وقت ڈاکٹر ابن جوادی کی یہ بات ایک مبالغہ سمجھی گئی اور بعض لوگوں نے انھیں تنقید کا نشانہ بنایامگر گذشتہ دنوں فرانس کے غریب مضافاتی علاقوں میں فسادات کی جو آگ بھڑکی اور جس نے نہ صرف فرانس کے دوسرے مسلم اکثریتی شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا بلکہ یورپ کے دوسرے ممالک میں بھی پھیل گئی ۔ تو اس طرح ڈاکٹر ابن جوادی کی 10سال قبل کی گئی پیشگوئی اگر مکمل طور پر صحیح نہیں تو کم از کم ایک حد تک اس طرف اشارہ کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔

فرانس میں یہ لاوا ایک طویل عرصے سے پک رہا تھا کیونکہ فرانس کی تارکین وطن پر مشتمل مسلم آبادی معاشرہ میں نہایت تیزی سے اچھوت بنتی جا رہی تھی ، ان پر ترقی اور روزگار کے دروازے بند ہیں ،بڑے اداروں ،ہوٹلوں اور کلبوں میں ان کا داخلہ بند ہے اور سکولوں میں مسلمان بچیوں کو حجاب پہننے پر پابندی ہے اور پچاس ساٹھ سال سے آباد مسلمانوں کو وہاں کی شہریت نہیں مل سکی بلکہ وہ پرمٹ پر زندگی بسر کرتے ہیں۔ فرانس میں مسلمانوں کا مسئلہ اس لحاظ سے بہت سے دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کیلئے باعث تعجب ہے کہ فرانس میں مسلمان ڈیڑھ سو سال سے زیادہ عرصے سے آباد ہیں اور اسلام سے رابطہ بھی قدیم ہے۔اس وقت فرانس کی چھ کروڑ کی آبادی میں مسلمانوں کی تعداد ساٹھ لاکھ بتائی جاتی ہے لیکن یہ محض اندازہ ہے کیونکہ فرانس میں مذہب کی بنیاد پر مردم شماری نہیں ہوتی ممکن ہے وہاں مسلمانوں کی تعداد ایک کروڑ کے قریب ہو۔ اگرچہ فرانس میں مسلمان 1830کی دہائی سے آباد چلے آ رہے ہیں جب کہ فرانس نے الجزائر پر قبضہ کیا تھا لیکن دوسری جنگ عظیم کے بعد جب فرانس کو تیز رفتار صنعتی ترقی کیلئے سستی ہنر مندافرادی قوت درکار ہوئی تو شمالی افریقہ میں فرانسیسی نو آبادیوں سے بڑے پیمانے پر مزدوروں ہنر مندوں کو فرانس لایا گیا۔ پھر 1950کے عشرے میں الجزائر کی جنگ آزادی کے دوران بے شمار الجزائریوں نے فرانس میں پناہ لی جنہوں نے فرانسیسی فوجوں کا ساتھ دیا تھا۔
فرانس کی وزارت داخلہ کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق اس وقت فرانس میں الجزائریوں کی تعداد 15,50,000لاکھ کے قریب ہے اس کے بعد مراکشیوں کا نمبر آتا ہے جو 10,00,000 لاکھ سے زائد ہیں۔تیونس سے تعلق رکھنے افراد کی تعداد3,50,000 لاکھ سے زائد ہے۔شمالی افریقہ کے دیگر ممالک کے بھی3,00,000لاکھ کے قریب مسلمان آباد ہیں ۔4,00,000لاکھ سے زائد ترک مسلمان آباد ہیں جبکہ دیگر ایشیائی ملکوں کے بھی 1,00,000لاکھ سے زائد مسلمان ہیں اور دوسری طرف اسلام قبول کرنے والے فرانسیسیوں کی تعداد بھی 50,000ہزار سے ایک لاکھ کے قریب ہیں اور ان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔فرانس میں اس وقت 1,535مساجد ہیں۔فرانس میں مسلمانوں کی آبادی کے بڑے گڑھ پیرس ،مارسے ،لیوں ،لییل اور سٹراسبورگ کے صنعتی مضافات ہیں جو عرف عام میں اسلامی مضافات کہلاتے ہیں جبکہ پیرس کے مضافات میں مسلمان کل آبادی کا ایک تہائی حصہ ہیں۔
فرانس کے موجودہ وزیر داخلہ نکولس سرکوزی کے ایماءپر2002میںفرانس کے مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم فرینچ کونسل آف دی مسلم ریلیجن(French council of the muslim religion) قائم ہوئی تھی جس کے سربراہ پیرس کی مسجد کے امام دلیل بو بکر ہیں۔سرکاری طور پر تسلیم کی جانی والی اس تنظیم کے علاوہ دو بڑی تنظیمیں اور بھی ہیں۔ ایک فیڈریشن آف فرینچ مسلمز (Fedration of french muslims) جس کی قیادت مراکشی مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے اور دوسری یونین آف مسلم آرگنائیزیشنز ( Union of muslim organizations)ہے جس پر اخوان المسلمین کا قبضہ ہے۔فرانس میں اگرچہ اکثریت عرب مسلمانوں کی ہے لیکن فرانسیسیوں میں ہر مسلمان کو عرب کہا جاتا ہے البتہ ان کے حلیے کے مطابق ان کو مختلف ناموں سے بھی پکارا جاتا ہے مثلاً حجاب پہننے والی مسلمان خواتین کو فرانسیسی "فولارڈ اسلامیک ” کے نام سے پکارتے ہیں اور کٹر مسلمانوں کو ” باربے اسلامی ” یا” داڑھی والا مسلمان ” کہا جاتا ہے ویسے مسلم شدت پسندی کو عام طور پر ” اسلام ازم” کا نام دیا جاتا ہے۔
فرانس میں مسلمانوں کا مسئلہ جو اب بحران کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے بیشتر مبصرین کے نزدیک اس کی وجہ فرانس کے کثیر النسلی معاشرے کی قبولیت سے یکسر انکار ہے ۔فرانسیسی قائدین چاہتے ہیں کہ جو بھی فرانس میں آباد ہو وہ مکمل فرانسیسی بنے اور اپنے مذہبی ، لسانی اور نسلی تشخص کو ترک کر دے۔ یہی وجہ ہے کہ برطانیہ اور یورپ کے دوسرے ملکوں کے مقابلے میں فرانس میں نسلی تعلقات کی نوعیت نہایت ابتر ہے۔جب جرمنی میں رہنے والے ترکوں سے موازنہ کیا جاتا ہے تو یہ دلیل دی جاتی ہے کہ ترک ایک ترقی یافتہ شہری معاشرے سے اٹھ کر جرمنی میں آ کر آباد ہوئے ہیں جب کہ فرانس میں اکثریت شمالی افریقہ کے پسماندہ مذہبی دیہاتوں کی ہے۔فرانس میں مسلمان اس وجہ سے بھی معاشرے سے کٹے ہوئے ہیں کہ اتنی بڑی تعداد کے باوجود ملک کے جمہوری اور پالیسی ساز اداروں میں انہیں قطعی کوئی نمائندگی حاصل نہیں ۔ فرانس کی قومی اسمبلی میں کوئی مسلم نمائندہ نہیں اور نہ ہی فرانس کے سفیروں میں کوئی مسلم نمائندگی ہے اس کے مقابلے میں برطانیہ میں جہاں مسلمانوں کی تعداد محض بیس لاکھ کے قریب ہے وہاں برطانوی پارلیمنٹ میں چھ مسلم نمائندے ہیں اور مقامی کونسلوں میں اس سے کہیں زیادہ مسلم نمائندگی ہے۔بہت سے مبصروں کا خیال ہے کہ فرانسیسی حکومت نے تارکین وطن مسلمانوں کو جان بوجھ کرشہریت نہیں دی۔انھیں فرانسیسی شہریت دینے کے بجائے بیشتر تارکین وطن کو دس دس سال کے لئے رہائشی پرمٹ جاری کیے گئے جو ہر دس سال بعد مزید دس سالوں کیلئے بڑھا دیے جاتے ہیں۔اس کا یہ نتیجہ نکلا کہ بہت سے تارکین وطن ان رہائشی پرمٹوں کی بنیاد پر چالیس چالیس ، پچاس پچاس اور ساٹھ ساٹھ سالوں سے فرانس میںآباد تو چلے آرئے ہیں مگر انہیں باقاعدہ شہریت نہیں مل سکی۔اس کی وجہ سے مبصرین کا کہنا ہے کہ ان تارکین وطن میں غیر ملکی ہونے کا ایک ایسا دائمی احساس پیدا ہو چکا ہے جو بے وطن اور بے گھر لوگوں کے دل میں فطرتی طور پر پیدا ہو جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ فرانسیسی معاشرے میںرچ بس نہیںسکے ۔بہرحال مبصرین کی اکثریت اس خیال پر متفق ہے کہ فرانس میں مسلمانوں کے مسئلہ کا جو بحران لاوے کی طرح ابلا ہے اس کے بلا شبہ یورپ کے دوسرے ملکوں میں مسلمانوں کے مستقبل پر بھی بڑے دور رس نتائج مرتب ہو نگے۔
فرانس میں مسلمانوں کی حالت کا اس بات سے بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ فرانس بھر میں کوئی بھی مسلمانوں کا اپنا ایسا تعلیمی ادارہ موجود نہیں ہے کہ جہاں مسلمان والدین اپنے بچوں کو دینی تعلیم پڑھا سکیں۔البتہ اب موجودہ فسادات کے بعد فرانس میں محکمہ تعلیم کے حکام نے شمالی شہر لیل میں ایک نجی مسلمان اسکول قائم کرنے کی منظوری دے دی ہے ۔یہ پہلا مسلمان نجی تعلیمی ادارہ ستمبر2006 میں نئے تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ ہی کام شروع کر دے گا اور ابتدائی طور پر اس میں تیس طلبا کو داخلہ دیا جائے گا۔یہ تعلیمی ادارہ بارہویں صدی کے ایک اندلس نژاد عربی فلاسفر کے نام سے منسوب ہے جس نے مذہبی رواداری کو فروغ دینے کی کوشش کی تھی۔لیل کی جامع مسجد کے سربراہ امر لسفر گذشتہ 8سال سے ایسا ادارہ قائم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ محکمہ تعلیم کے حکام نے سیکنڈری سکول قائم کرنے کیلئے دی جانے والی تین درخواستوں میں سے 2 کو مسترد کر دیا ۔ان میں سے پہلی دو درخواستوں کو سلامتی کی بنیاد پر مسترد کیا گیا لیکن تیسری درخواست کو منظور کر لیا گیا۔منظور ہونے والے ادارے کے نائب صدر مخلوف مامش نے ایک فرانسیسی ٹیلی ویژن چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اسکول میں ہر ایک کو داخلہ دیا جائے گا۔ہمارے ادارے میں مسلمان ، یہودی اور عیسائی غرض ہر مذہبی گروہ سے تعلق رکھنے والے بچوں کو خوش آمدید کہا جائے گا۔وہ لڑکیاں جو اسکارف باندھتی ہیں اور وہ جو نہیں باندھتی ہمارے دروازے سب کیلئے کھلے ہوں گے۔سکول کی صدر نشین سلویہ طالب ایک کیتھولک اسکول میں پڑھانے کا سترہ سالہ تجربہ رکھتی ہیں وہ کہتی ہیںکہ یہاں داخل ہونے والے طلباءکیلئے عربی زبان کا جاننا ضروری نہیںکیونکہ اسکول میں ذریعہ تعلیم فرانسیسی ہو گا۔اسکول کی انتظامیہ کے مطابق عربی زبان اور مسلم تہذیب صرف اضافی مضامین ہو نگے ۔اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ فرانس میں اکیسویں صدی میں جا کر فرانس نے ایک ایسے سکول چلانے کی اجازت دی کہ جس میں صرف اسلام بطور اضافی مضمون کے تو اکھا جا سکتا ہے مگر مستقل مضمون کی حیثیت سے نہیں ۔جبکہ دوسری طرف وہاں کی حکومت فرانس میں تیزی سے بڑھتے ہوئے اسلام سے خائف ہے کیونکہ تارکین وطن کی بڑھتی ہوئی نسلوں کے علاوہ فرانس کے رہائشی فرانسیسی جو عیسائی مذہب یا دیگر سے تعلق رکھتے ہیں وہ بہت تیزی سے اسلام کی تعلیمات سے متاثر ہو کر اسلام قبول کرتے چلے جا رہے ہیں چنانچہ فرانسیسی حکومت اب اپنی مرضی کا اسلام رائج کرنا چاہتی ہے جو مسلمانوں کو منظور نہیں ۔ فرانس کے شہر برگنڈی کے پہاڑی جنگلات میں بالکل اندر جہاں آپ تصور بھی نہ کر سکیں کہ ایسے حالات میں وہاں پر کوئی اسلامی مدرسہ موجود ہو سکتا ہے؟مگرایسا ہی ایک ادارہ حقیقت میںوہاں پر موجود ہے اگرچہ اس کا نام بھی ایسا ہے کہ جس سے اس کے کسی اسلامی مدرسے ہونے کا گمان تک نہیں گزر سکتا ۔یورپین انسٹیٹیوٹ فار ہیومن سائینسز(European institute for human saiences) پچھلے 13سال سے فرانس اور یورپ کے دوسرے ممالک میں موجود مسلمانوں کیلئے (مساجد کیلئے ) اماموں کی ایک ایسی نسل نو تیار کرنے میں مصروف ہے جو مقامی فرانسیسی ہوں تاکہ وہ فرانس کو اہمیت دے سکیں نا کہ مذہب کو۔اس مدرسے کے بانی اور ڈائریکٹر زہیر محمود کا کہنا ہے کہ اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کیونکہ مذہبی ادارے ہمیشہ دنیا کے ہنگاموں سے دور ایسے مقامات پر قائم کیے جاتے ہیں جہاں خاموشی اور قدرت سے قربت ہو جو حصول علم اور وجدان کیلئے ضروری ہے۔زہیر محمود عراق کے ایک سابق جوہری سائنسدان ہیں جو عراق سے بھاگ کر فرانس آگئے تھے اوربقول ان کے ان کو جب جوہری ہتھیاروں کے ممکنہ تباہ کن نتائج کا احساس ہوا تو وہ مذہب کے قریب آ گئے اور انہوں نے جلا وطنی کو ترجیح دی۔ ان کے مطابق 80کی دہائی میں یہ واضع طور پر نظر آنے لگا تھا کہ فرانس اور دیگر یورپی ممالک کے مسلمان یہاں کے معاشرتی رہن سہن کو اختیار کر رہے ہیں ۔یہاں ایک پوری ایسی نسل جوان ہو چکی تھی جس کی مادری زبان فرانسیسی تھی۔ان لوگوں کو ایسے پیش اماموں کی ضرورت تھی جو انہیں اپنے والدین کی مذہبی روایات سے روشناس کرا سکیں۔یورپ کے باہر سے آنے والے مسلمانوں(تارکین وطن) کیلئے یہ کرنا اس لئے ناممکن ہے کہ وہ یہاں کی زبان ،طور طریقوں اور عادات سے بالکل ناواقف ہوتے ہیں۔یہاں 170طالب علم پہلے دو سال عربی زبان کی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور اس کے بعد اگر وہ چاہیں تو پھر مزید 4سال کیلئے اسلامی فقہ ،قرآنی علوم ،تاریخ اور تبلیغ کی تعلیم حاصل کر سکتے ہیں ۔ یہ مسلمان اماموں کاایک ایسا مدرسہ ہے کہ اس میں لڑکیاں بھی پڑھتی ہیں جو تقریباً ستر طالب علم لڑکیاں ہیں جو حجاب بھی پہنتی ہیں لیکن مخلوط تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔مشرقی فرانس سے تعلق رکھنے والی ستراسبورگ کی عزیزہ کا کہنا ہے کہ ہم نے یہاں رواج کو قانون سے علیحدہ دیکھنا شروع کیا ہے کیونکہ ہمیں مرد یہی بتاتے ہیں کہ یہ مذہب میں ہے جیسے کہ لڑکیوں کی مرضی کے خلاف ان کی شادیاں طے کرنا جو کہ دراصل رواج کا حصہ ہے نہ کہ اسلام کا۔پچھلے ہفتے فرانس میں پہلی دفعہ مسلمانوں کو نمائندگی دینے کیلئے مسلمانوں کیلئے فرینچ کاﺅنسل کے انتخابات ہوئے جس میں خود زہیر محمود منتخب ہوئے ہیں ۔تاہم تمام مسلمان اس مدرسے اور اسے قائم کرنے والی تنظیم یونین آف اسلامک آرگنائزیشن کے بارے میں اچھے خیالات نہیں رکھتے۔ترقی پسند اسے ایک رجعت پسندانہ تحریک سمجھتے ہیں اور اسلام میں روشن خیالی کو روکنے کا ایک ہتھیار تصور کرتے ہیں۔پیرس میں واقع مڈل ایسٹرن سٹڈیز کے صدر اینتوئین سفیر کا کہنا ہے کہ یہ لوگ عرصہ دراز سے ریاست کے سہارے مسلمان اقلیت پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے متمنی رہے ہیں اور سیکولرازم کیلئے ایک حقیقی خطرہ ہیں۔
مسلمانوں کے ساتھ فرانسیسی حکومت اور وہاں کے شہریوں کے امتیازی رویے نے انھیں دل برداشتہ تو کیا ہوا ہی تھا مگر موجودہ حکومت کے مسلمانوں کے ساتھ سخت اور بے جا برتاﺅ نے انھیں اور بھی نالاں کر دیا۔خاص طور پر 9/11کے واقعے کے بعد مسلمانوں پر اور بھی سختی کر دی گئی بلکہ ایسی پالیسی اپنائی گئی کہ جس کے تحت ان تارکیں وطن کو ایک عرصہ دراز کے بعد ان کے پرانے ممالک میں زبردستی واپس بھیجنا ہے۔اور اس مقصد کیلئے پولیس ان تارکین وطن مسلمانوں کو گرفتار کر لیتی ۔ایک ایسے ہی پولیس ایکشن کے دوران پیرس کے مضافات میں اس وقت ہنگامے پھوٹ پڑے جب شمالی افریقہ سے تعلق رکھنے والے دو جوان مسلمان بچے پولیس کی گرفت سے بچنے کیلئے دوڑتے ہوئے بجلی کی تاروں میں پھنس کر کرنٹ لگنے سے ہلاک ہو گئے۔ نوجوانوں نے ہنگاموں میں کئی عمارتوں کو نقصان پہنچانے کے علاوہ دو بسوں سمیت چالیس گاڑیوں کو جلا دیا۔یہ ہنگامے ختم ہونے کی بجائے بڑھتے ہی گئے اور فرانس کے متعدد شہروں کے علاوہ یورپ کے دیگر ممالک تک پہنچ گئے ۔فرانس کی مسلم کونسل کے سربراہ نے کہا کہ تارکین وطن کیلئے ذلت آمیز رہائشی انتظامات کیے جاتے ہیں۔ ایک اور مسلم رہنما نے جن کا تعلق اس علاقے سے جہاں ہنگامے ہو رہے ہیں کہا کہ وہاں ایک چوتھائی آبادی بے روزگار نوجوانوں پر مشتمل ہے۔پیرس کے جن علاقوں میں یہ فسادات شروع ہوئے وہاں تارکین وطن آباد ہیں اور وہاں غربت اور بے روزگاری کی شکایت عام ہیں ۔ان علاقوں سے نوجوان ماسک پہن کر سڑکوں پر آ جاتے تھے اور توڑ پھوڑ کرتے تھے۔پولیس نے مظاہرین کے خلاف شروع دنوں میں ایک کاروائی کے دوران ایک مسجد پر آنسو گیس کے گرنیڈ پھینکے جس کی وجہ سے مظاہروں میں شدت آگئی۔جبکہ ان ہنگاموں میں مزید شدت اس وقت آئی کہ جب فرانس کے وزیر داخلہ نکولس سرکوزی کی طرف سے مظاہرین کو "ذلیلوں کا گروہ” کہا جس کی مذمت اگرچہ فرانس کے وزیر اعظم نے پارلیمنٹ میں اپنی ایک تقریر کے دوران بھی کی ۔
فرانس کے وزیر اعظم ڈومنک ڈی ولیپاںنے اپنے ایک اعلان میں بظاہر ملک میںہونے والے فسادات کا درست جواب دینے کی کوشش کی ان کی تجاویز فرانسیسی معاشرے میں تبدیلیوں کی جانب اشارہ کرتی ہیں ۔فرانسیسی معاشرتی نظام کے زخم سب کے سامنے آچکے ہیں اور یہ تبدیلیاں ان زخموں کا مداوا ہوں گی۔وزیراعظم نے اس ساری صورت حال کو فرانس کے شہروں میں بحران کا نام دیا ہے لیکن بعض لوگ اسے نچلے طبقے کے مشتعل افراد کی جانب سے بغاوت کا نام دے رہے ہیں۔انہوں نے ملک کی ان غلطیوں کی جانب اشارہ کیا جو فرانس سے خصوصاًافریقی تارکین وطن کے حوالے سے ہیں ان حالات میں ان کا اصل کام ملک کے صدر شیراک کی گرتی ہوئی شہرت کو سہارا دینا ہے۔اگر ڈومنک ان سخت حالات سے نکلنے میں کامیاب نہیں ہوتے تو اس صورت حال سے ان کے حریف وزیر داخلہ نکولس ساکوزی یا کسی دوسرے کو فائدہ پہنچ سکتاہے مگر وزیر اعظم ملک کے انتہائی اہم مسئلے اسلام کو ٹال گئے ہیں جبکہ فرانس کا اصل مسئلہ ہی مسلمانوں کے ساتھ غیر مساویانہ اور امتیازی سلوک ہے۔تارکین وطن اور ان کے آباﺅ اجداد کی اکثریت کا مذہب اسلام ہے۔فرانسیسی مسلمانوں نے حکومت سے زیادہ شہری حقوق کا مطالبہ کیا ہے اور حکومت کے اس قانون پر اپنی خفگی کا اظہار کیا ہے کہ جس میں مسلمان بچیوں پر سکارف پہننے پر پابندی لگائی گئی ہے۔وزیر اعظم کا یہ کہنا اب درست نہیں ہے کہ یہ صرف فرانس ہی ہے کہ جہاں تمام مذاہب قابل احترام ہیں۔فرانس میں حالیہ فسادات 1968کے بعد ہونے والے سب سے بدترین فسادات ہیں۔فرانس کی پارلیمان نے ملک میں جاری ہنگاموں سے نمٹنے کیلئے ہنگامی حالت کے قوانین کے نفاذ میں تین ماہ کے اضافے کی منظوری دے دی ہے۔فرانس کے ایوان زیریں نے منگل اور سینٹ نے بدھ کو حکومت کی تجویز کی منظوری دی ۔ہنگامی حالت کے قانون کے نفاذ کے دوران مقامی حکام کو کرفیو لگانے ،گھروں کی تلاشی لینے اور عوامی اجتماعات پر پابندی لگانے کا اختیار مل جاتا ہے۔حکومت کا کہنا تھا کہ اسے ملک کے غریب آبادی والے اور تارکین کی اکثریت والے علاقوں میں تین ہفتوں سے جاری ہنگاموں پر قابو پانے کیلئے مزید اختیارات کی ضرورت ہے۔اس عرصے میں تقریباً9,000کاروں کو آگ لگائی گئی اور 3,000افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔بیس روز سے جاری ان ہنگاموں کے دوران ایک رات میں سب سے زیادہ 14,00گاڑیوں کو جلایا گیا تھا۔فرانس کی بنیادی اقلیتوں کے کمیونٹی رہنماﺅں نے ملازمتوں میں امتیاز ،ہاﺅسنگ اور ان کے مطابق پولیس کی جانب سے تنگ کیے جانے کو ختم کرنے والے نئے قوانین کی مذمت کی ہے۔
فرانس میںافریقی نژاد فرانسیسی نوجوانوں میں پائی جانے والی بے چینی اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک کے احوال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ فسادات کے علاقوں میں اکثریتی نوجوان بے روزگار ہیں اور وہ نوکری کی تلاش میں دوڑ دوڑ کر تھک چکے ہیںاور اسی بےروزگاری کو ان پسماندہ علاقوں میں بے چینی کا باعث بتایا جاتا ہے اسی علاقے کے رہائشی ایک مسلمان صادق نامی نوجوان کا کہنا ہے کہ اس نے حال ہی میںپیرس کے نواح میں اشیاءپہنچانے کی نوکری چھوڑی ہے اس کا کہنا ہے کہ وہ بھاری تھیلے اٹھااٹھا کر اور سیرھیاں چڑھ چڑھ کر تنگ آ چکا تھا۔ اکتیس سالہ صادق ثانوی درجے تک تعلیم یافتہ ہے اور کچھ بہتر کام کرنے کا خواہشمند ہے تا ہم وہ جانتا ہے کہ اس کے پا س بہت زیادہ مواقع نہیں ہیں اس کا کہنا تھا کہ مجھے ایسے نام(مسلمان نام) کے ساتھ کسی سیلز مین کی بھی نوکری نہیں مل سکتی۔ صادق کی کہانی مسلمان تارکین وطن اور ان کے بچوں کیلئے روز گار کے مواقع کی عکاسی کرتی ہے۔کیونکہ فرانس یہ مسلمان کاغذوں پر تو ضرور فرانسیسی ہیں لیکن حقیت میں انھیں دیگر فرانسیسیوں کی طرح کوئی بنیادی حقوق میسر نہیں۔ انہیں پتہ ہے کہ فرانس میں علی یا راشد نامی فرد کی ترقی کے امکانات ایلن یا رچرڈ نامی شخص کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ فرانس میں نسلی امتیاز اگرچہ کاغذوں میں ممنوع ہے لیکن اگر دکانوں اور دفتروں میں کام کرنے والوں کو دیکھیں تو نسلی امتیاز ہر جگہ واضع طور پر دکھائی دے گا ۔ فرانس میں نسلی امتیاز کی تصدیق تو سرکاری اعداد و شمار سے بھی ہوتی ہے ۔فرانس میں جہاں بے روزگاری کی عمومی شرع 9.2فیصد ہے جبکہ غیر فرانسیسی آباﺅ اجداد رکھنے والے فرانسیسیوں میں یہ شرع 14فیصد سے زائد ہے ۔ ایس او ایس ریس ازم نامی ایک گروپ اکثر نسلی امتیاز کے ایسے واقعات کو سامنے لاتا رہتا ہے جن میں نسلی امتیاز کی بنا پر یا غیر فرانسیسی نام کی بنا پر آجر نوکری کی درخواستیں کرنے والوں کو مسترد کر دیتے ہیں اس گروپ کا کہنا ہے کہ یہ امتیاز صرف براہ راست عوامی رابطوں اور عام خریدوفروخت کے شعبوں ہی میں نہیں بلکہ ان شعبوں میں بھی ہے کہ جن لوگوں کے رابطہ کا بظاہر کوئی امکان نہیں ہوتا ۔اس گروپ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کچھ کمپنیاں سمجھتی ہیں کہ فرانس میں مارکیٹنگ کے لئے آپ کو کئی نسلوں سے فرانسیسی ہونا چاہیے تا کہ آپ فرانسیسی صارفین کے مزاج کو سمجھ سکیں ۔ایک بزنس مین کا کہنا ہے کہ اگر آپ عرب (مسلمان )ہیں تو سمجھ لیں کہ آپ پر ترقی کے سب دروازے بند ہیں ، نوجوانوں کو تو بنددروازوں کا پہلا تجربہ تو اسی دن ہو جاتا ہے کہ جب وہ پہلی بار کسی کلب میں داخل ہونا چاہتے ہیں ۔ ایک مقامی صحافی کا کہنا ہے کہ جب کوئی پہلی بار لڑکا کسی کلب جاتا ہے تو اسے دروازے پر جواب ملتا ہے کہ آپ اندر تشریف نہیں لا سکتے تو وہ سمجھ جاتا ہے کہ بات کیا ہے؟وہ مایوس ہو جاتا ہے اسکا دل ٹوٹ جاتا ہے ۔ نادر ڈینڈون کا کہنا ہے کہ جب ایسے دو تین واقعات ہونے کے بعد آپ واپس گھر جا رہے ہوں تو آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے کندھوں پر ایک بوری رکھ دی گئی ہے جو نفرت سے بوجھل ہو رہی ہے ۔ ان کا کہنا ہے ملازمت نہ ملنے سے ایسی مایوسی پیدا ہوتی ہے جو دوسروں پر اعتبار ختم کر دیتی ہے اور ہر بار مسترد ہونا ، چاہے وہ نسلی بنیاد پر نہ بھی ہو تو آپ کی خود اعتمادی کو ٹھیس پہنچاتا ہے اور آپ یہ سوچنے لگتے ہیں کہ آپ کو اب کبھی ملازمت نہیں ملے گی کیونکہ آپ عرب (مسلمان) ہےں ۔فرانس میں ایسے اداروں کی تعداد کم نہیں ہے جو تارکین وطن کو مختلف النوع امداد فراہم کرتے ہیں اس کام کیلئے کئی ڈائریکٹریٹ ہیں اور کئی کمشن بنائے گئے ہیں جو تارکین وطن کو مقامی لوگوں میں ضم ہونے یا ان سے ہم آہنگ ہونے میں مدد دیتے ہیں لیکن اس سب کے باوجود ان امور کی نگرانی کرنے والے ایک سرکاری ادرے کا کہنا ہے کہ ہم آہنگی اور انضمام کے بارے میں فرانس کی پالیسی کامیاب نہیں ہو سکی ۔ اس ادارے نے اپنے انتباہ میں اس بات کی پیش گوئی کر دی تھی کہ یہ صورت حال سنگین سماجی اور نسلی کشیدگی کا باعث بن سکتی ہے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ہم آہنگی یا انضمام کا تصور ہی ناقص ہے ۔پیرس کے نواح میں کام کرنے والی سمیعہ امارہ کا کہنا ہے کہ اس ہم آہنگی اور انضمام کو مسلمانوں کیلئے نا گریز قرار دیا جاتا ہے لیکن اکثر نوجوان خود کو فرانسیسی سمجھتے ہیں اور وہ اس ہم آہنگی کی کوئی ضروت محسوس نہیںکرتے ۔ سمیع اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ یہ ہم آہنگی بھی ایک ہوا کی طرح ہے وہ پوچھتے ہیں کہ اس کا مطلب کیا؟ کیا کچھ فرانسیسی ہم آہنگ یا ضم ہو چکے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جنہیں ابھی ہم آہنگ اور ضم ہونا ہے؟ کچھ سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ اب فرانس کو اپنی ناکامی کا اعتراف کرلینا چاہیے اور اب ہم آہنگی اور انضمام کی جگہ کسی نئی بات کی کوشش کرنی چاہیے ۔پیرس کے جنوب میں ایوری نام کے ایک علاقے جس کی نصف سے زائد آبادی ایسے ہی لوگوں پر مشتمل ہے جن کے آباﺅ اجداد ترک وطن کر کے فرانس میں آباد ہوئے تھے ۔ ایوری کے مئیر جو رکن اسمبلی بھی ہیں اس بارے میں کہتے ہیں کہ ان کے ملک میں کوئی ٹی وی پریزنٹر عرب یا سیاہ فام نہیں ہے اور فرانس کے مرکزی علاقوں سے منتخب ہونے والے رکن اسمبلی بھی فرانسیسی یا سفید فام ہی ہوتے ہیں ان کا کہنا ہےاگرچہ امتیازی سلوک ایک انتہائی غیر فرانسیسی تصور ہے لیکن اب یہ فرانس میں مقبول ہوتا جا رہا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اب فرانس برطانیہ ،امریکہ اور دنیا کے سامنے تارکین وطن اور انسانی حقوق کے معاملات پر تقریریں نہیں جھاڑ سکتا ۔

فرانس کے فسادات” پر 2 خیالات

  1. پنگ بیک: My Stories » Blog Archive »

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s