انسان کا مستقبل


منصور مہدی

کہتے ہیں کہ انسان کی اپنی ایک غلطی کی وجہ سے جب اسکاآسمانوںپر رہنا ممکن نہ رہا تو اسے زمین پر اتار دیا گیامگر اب جب انسانوں کی اپنی بے شمار غلطیوں کی وجہ سے زمین پر رہنا ممکن نہ رہا تو یہ اربوں انسان کدھر جائیں گے؟کیونکہ انسانوں کی اپنی ہی کاروائیوں کے سبب زمین پر انسانی زندگی کیلئے پائے جانے والے ضروری عناصر ختم ہوتے جا رہے ہیں اور شاید کچھ ہزار سال بعد آنے والی ہماری نسلوں کیلئے کچھ بھی میسر نہ رہے۔تو ایسے میںممکن ہے اُس دور میںمختلف بیماریوں اور آفات کے سبب انسانوں کی ایک بڑی تعداد ختم ہو جائے اور اتنے ہی انسان باقی اس دنیا میں رہ جائیں کہ جتنے کے وسائل دستیاب ہوں اورتمام وسائل کے ختم ہونے پر انسان کو شاید پھر دوبارہ چاند ،مریخ یا کسی اور سیارے کی زمین پر ہجرت کرنا پڑے گی ۔کیونکہ انسانی کاروائیوں کی وجہ سے اب مستقبل میں زمین پر انسانوں کے رہنے کیلئے ضروری وسائل ختم ہو جائیں گے۔جس طرح زمین کے وسائل کا استعمال کیا جا رہا ہے اس سے زندگی برقرار رکھنے والے عناصر کو ناقابل تلافی نقصان ہو رہا ہے اور زمین پر زندگی ممکن بنانے والا نظام ختم ہو رہا ہے۔ماحول کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی وجہ سے غربت ،بھوک اور صحت کے مسائل سے نمٹنے کے ہدف حاصل کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتے جا رہے ہیں۔انسانوں نے انتہائی کم وقت میں اپنی لاتعداد حرکتوں اور کاروائیوں کی وجہ سے زمین پر قائم حیاتیاتی نظام کو غیر معمولی حد تک بدل دیا ہے۔ صرف گذشتہ 50سالوں میں جس طرح پانی ، لکڑی ،تیل اور خوراک کے وسائل استعمال کیے ہیں اس سے ماحول انتہائی خراب ہو چکا ہے۔جنگ عظیم دوئم کے بعد آبادی میں ہونے والے اضافے سے قدرتی وسائل حاصل کرنے کیلئے جو غیر متوازن دوڑ شروع ہو ئی ہے وہی موجودہ صورتحال کی ذمہ دار ہے۔1945ءکے بعد سے اتنی زمین زراعت کے استعمال میں آچکی ہے جتنی گذشتہ چارصدیوں میں بھی نہیں آئی تھی اور اسی وجہ سے زمین پر جانوروں کی 10سے30فیصد تک اقسام کی زندگی خطرے سے دوچار ہے۔آلودگی دنیا کو درپیش سب سے بڑا ماحولیاتی مسئلہ ہے کیونکہ آلودگی اب انسانی زندگی کیلئے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ ہر سال دنیا بھر میں 30,00,000انسان موٹر گاڑیوں،صنعتی اداروں اور کاخانوں کی جانب سے پھیلائی جانے والی فضائی آلودگی کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں جبکہ تقریباً16,00,000انسان ٹھوس ایندھن کے استعمال کی وجہ سے موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان انسانوں میں زیادہ کا تعلق غریب ممالک سے ہوتا ہے۔جب کہ امیر ممالک کے انسان تو ابھی سے چاند پر رہائش ممکن بنانے کی تیاریاں کر رہے ہیں ۔ایک رپورٹ کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں ہر آٹھ سیکنڈ کے بعد ایک بچہ آلودہ پانی کے استعمال کی وجہ سے مر جاتا ہے ۔ ان ممالک میں 80فیصد بیماریاں اور اموات آلودہ پانی پینے کی وجہ سے ہوتی ہیں، ہر سال 21,00,000انسان آلودہ پانی کی وجہ سے اسہال کی بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں۔صنعتی ممالک میں کارخانوں اور بجلی گھروں کی جانب سے ترک شدہ آلودہ زمین ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اس زمین میں بھاری دھاتوں کی ایک بڑی مقدار موجود ہے۔ترقی پذیر ممالک میں کیڑے مار ادویات کی تلفی کیلئے زمین کا استعمال اسے آلودہ کر رہا ہے۔نائٹریٹ کھادوں کا استعمال اور مویشیوں کا فضلہ زمین کو آلودہ کرنے کا بنیادی سبب ہے اور یہ فضلہ جب دریاﺅں تک پہنچتا ہے تو آبی حیات کیلئے زہر کا کام کرتا ہے اور اس آلودگی کے نتیجے میں خلیج مکسیکو جیسے ڈیڈ زون تشکیل پاتے ہیں جبکہ کیمیائی مادے بھی آلودگی کا ایک مستقل ذریعہ ہیں۔لوگوں کو ابھی تک سانحہ بھوپال یاد ہے اور وہ اسے بھلا نہیں پائے جس حادثے میں یکایک چند ہی منٹوں میں ہزاروں انسان موت کی وادی میں اتر گئے تھے۔ اس وقت مارکیٹ میں 70,000 کے قریب کیمیائی مادے موجود ہیں جبکہ ان میں ہر سال تقریباً 1500نئے مادوں کو اضافہ ہو رہا ہے۔ ان میں سے 30,000ہزار کے قریب مادوں پر عام لوگوں کیلئے مضر نہ ہونے کے لحاظ سے کوئی تحقیق بھی نہیں کی جا سکی ہے۔آلودگی کا مسئلہ بہت بڑے پیمانے پر موجود ہے۔ایک تحقیق کے مطابق 7سے20فیصد کینسر کے مریض آلودہ ہوا اور گھروں اور دفاتر میں موجود آلودگی کی بنا پر اس موذی مرض کا شکار ہوتے ہیںاور اس طرح کی آلودگی کا سبب وہی کارخانے اور فیکٹریاں ہیں جو دن رات ہم انسانوں کی زندگی کو مزید سے مزید پر تعیش کرنے کیلئے طرح طرح کی اشیاءتیار کر رہے ہیں۔ عام استعمال کی جانے والی کیڑے مار دوائی ڈی ڈی ٹی(DDT)ایک طرف تو جنگلی حیات اور انسانی دماغ کیلئے خطرناک ہے تو دوسری طرف وہ ملیریا کے علاج میں مدد بھی کرتی ہے۔اب فیصلہ یہ کرنا ہے کہ کیا اس کی افادیت اس کیلئے مضر اثرات سے زیادہ ہے یا نہیںکیونکہ آلودگی سرحدوں کی پابندی نہیں کرتی لہذا تمام ممالک ہی اس کے ذمہ دار ہیں اور سب کو ہی مل کر اسکا حل سوچنا ہے اگرچہ اقوام متحدہ نے ایک اجلاس میں فضائی آلودگی کو بین الاقوامی سرحدوں میں تقسیم کرنے کی کوشش کی تھی مگر یہ کوشش ناکام رہی ۔آلودگی کے مسئلے کے بین الاقوامی ہونے کا ثبوت ماحولیاتی تبدیلی ہے۔دنیا کے ممالک ایک ماحولیاتی سسٹم کے تحت ہیںکیونکہ ممالک کی تقسیم تو ہم لوگوں نے خود کی ہوئی ہے اور لکیریں لگا کر انسانوں کو ریاستوں اور علاقوں میں محدود کر دیا ہے وگرنہ فطری طور پر تو ایسی کوئی تقسیم نہیں بلکہ ایک مکمل نظام سب انسانوں کیلئے ہے ۔لہذا ایک ملک یا ریاست کی جانب سے اٹھایا جانے والا کوئی قدم دوسرے ممالک کو براہ راست متاثر کرتا ہے۔ہمارے اباﺅ اجداد اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ فضلہ کی تلفی آلودگی سے چھٹکارا پانے کا بہترین طریقہ ہے چنانچہ انہوں نے ایٹمی فضلہ اس امید کے ساتھ سمندروں میں بہا دیا کہ سمندر کی اتھاہ گہرائیوں میں گم جائے گا مگر ہماری موجودہ نسل یہ بات جانتی ہے کہ یہ ایک خطرناک کام ہے کیونکہ اس سے کوئی اور نہیں بلکہ ہماری آنے والی نسلیں متاثر ہو گی۔ماحولیاتی حالات پر تحقیق اور اس سے متعلق پیشین گوئی کے ایک پراجیکٹ پر کام کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے درجہ حرارت میں مجموعی طور پر 11سنٹی گریڈ کا اضافہ ہو سکتا ہے۔یہ اعدادوشمار پہلے واضع کیے گئے اعدادوشمار سے تقریباً دو گنا زیادہ ہیں ۔ اس منصوبے پر کام کرنے والے سائنسدانوںکے مطابق تازہ ترین تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کاربن ڈائی اکسائیڈ کی کوئی محفوظ حد موجود نہیں ہے ۔اس تحقیق میں دنیا بھر کے کمپیوٹروں سے استفادہ کیا گیا اوریہ تحقیق بعد ازاں نیچر(Nature) نامی رسالے میں شائع ہوئی۔ اس پراجیکٹ کی روح رواں آکسفورڈ یونیورسٹی ہے جبکہ کلائمیٹ پریڈکشن ڈاٹ نیٹ اس کی ویب سائٹ ہے اور اس منصوبے میں کسی ایک سپر کمپیوٹر کے ذریعے ماحولیاتی ماڈل بنانے کی بجائے دنیا بھر سے موسمیاتی تحقیق سے متعلق افراد کے کمپیوٹروں کو استعمال کرتے ہوئے ایک سافٹ وئیر کے ذریعے تحقیق کی گئی اس تحقیق میں 150ممالک کے 95,000ہزار افراد شامل ہوئے جنہوں نے مستقبل کے ماحول کے بارے میں 60,000 کے قریب پیشین گوئیاں کیں ۔اس منصوبے میں کی جانے والی تحقیق سے حاصل شدہ نتائج کے مطابق دنیا کے درجہ حرارت میں 2ڈگری سے11ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافہ متوقع ہے۔اس اضافے کے وقت کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ہمارے ماحول میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی شرح کتنی تیزی سے بڑھتی ہے۔اس منصوبے کے سربراہ اور چیف سائنسدان ڈیوڈ سٹین فورتھ کا کہنا ہے کہ ان نتائج سے اندازہ ہوتا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے سلسلے میں انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔امریکہ کے دس سائنسدانوں نے کہا ہے کہ کلائمیٹ چینج یا آب وہوا میں تبدیلی کو روکنے یا اس کی رفتار کو کم کرنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے خبردار کیا ہے کہ عالمی سطح پر گرمی میں اضافہ کے جو اندازے لگائے گئے ہیں وہ غلط بھی ہو سکتے ہیں مگر ابھی تک تک حالات میں یہ بالکل درست ہیں اور عالمی حدت میں اضافہ بہت جلد ہو سکتا ہے۔سائنسدانوں کی اس ٹیم نے صاف ایندھن کے استعمال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ گرین ہاﺅس گیسوں کی پیداوار میں فوری کمی کرنا ضروری ہے۔سائنس میگزین کے مطابق دنیا اس وقت ایک ایسے تجربے سے گزر رہی ہے جو اس کے قابو میں نہیں ہے۔اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام UNEPکے سائنسدانوں نے خبردار کیا تھا کہ بیسویں صدی کے آخر کے دوران عالمی درجہ حرارت میں عشاریہ چھ ڈگری سینٹی گریڈ کا اضافہ ہو گا جو آنے والے وقت میں بڑھتا چلا جائے گا۔سائنسدانوں نے اعتراف کیا ہے کہ اگرچہ کلائمیٹ چینج کے نظریے کو پوری طرح سے ثابت کرنے کیلئے مطلوبہ شواہد نہیں ہیں تاہم اس بات کو بہانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
امریکہ کے سائنسدانوں کے ایک گروپ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ گلوبل وارمنگ (Warming)ایک حقیقت ہے اور انسان ہی اس کا ذمہ دار ہے۔ان سائنسدانوں نے کہا ہے کہ انہوں نے کروڑوں کی تعداد میں درجہ حرارت کے اعدادوشمار سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ سمندر گرم ہوتے جارہے ہیں جن کے عالمی اثرات بہت ہی تباہ کن ہو نگے۔پوری دنیا میں پگھلتی برف پانی کے سائیکل کو تبدیل کر رہی ہے جس کے اثرات پہلے تو بحری روﺅں پر پڑےں گے اور اس کی وجہ سے موسموں میں عالمی تبدیلی آئے گی انہوں نے سائنسی ترقی کے امریکی ادارے کو بتایا کہ اس کی وجوہات صاف طور پر گرین ہاﺅس گیسیں ہیں۔ اب تک خیال کیا جاتا رہا ہے کہ درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سورج کی شعائیں ، آتش فشاﺅں کا پھٹنا اور پیٹروکاربن ایندھن کے استعمال سے ہو سکتا ہے ۔یہ تحقیق امریکی صدر بش کے یورپ کے دورے سے کچھ پہلے سامنے آئی ہے۔ صدر بش کی ماحول کے بارے میں پالیسی یورپی ممالک کے سربراہوں سے قدرے مختلف ہے۔ امریکہ نے گرین ہاﺅس گیسوں کے اخراج میں کمی کیلئے Q2سمجھوتے پر دستخط کرنے سے اس بنیاد پر انکار کر دیا ہے کہ اس کے نتیجے میں امریکا کی ایک بڑی آبادی بے روزگار ہو جائے گی اور اربوں ڈالر کا نقصان ہو گا۔ کیونکہ اس معاہدے کی وجہ سے ایسی بے شمار فیکٹریاں اور کارخانے بند کرنا پڑے گے جہاں پر توانائی حاصل کرنے کے لئے ایندھن استعمال کرنے کے نتیجے میں کاربن ڈائی اکسائیڈ پیدا ہوتی ہے۔لہذا اس معاہدے کے امریکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہونگے۔تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ یورپ میں یہ پیغام لے کر جا رہے ہیں کہ انہیں ماحولیات اور موسم کی تبدیلی کی خاصی فکر ہے ۔یہ پروٹوکول ان گیسوں کی پیداوار کم کرنے پر زور دیتا ہے جن کی وجہ سے عالمی درجہ حرارت بڑھ رہا ہے مثلاً کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس وغیرہ۔
سائنسدانوں کے مطابق ہمالیہ کے پہاڑوں میں واقع لگ بھگ 50گلیشیئروں کے پگھلنے سے پڑوسی ممالک ہندوستان اور چین میں سیلاب کا خطرات سنگین ہو گئے ہیں ۔اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے تحت کام کرنے والے سائنسدانوں نے کہا کہ ان گلیشیئروں کے پگھلنے کا خطرہ عالمی حدت یعنی گلوبل وارمنگ (Warming)کی وجہ سے ہے۔ہزاروں میل لمبے سلسلہ ہمالیہ میں جہاں پر ہزاروں فٹ بلند چوٹیاں ہیں وہاں پر ہزاروںفٹ گہری سینکڑوں جھیلیں بھی ہیں جو برف پگھلنے کی وجہ سے آہستہ آہستہ بھرتی چلی جا رہی ہیں۔ ایسی ہی تقریباً بیس جھیلیں نیپال میں ہیں جبکہ بھوٹان میں ان کی تعداد 24ہے۔ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام میں تین سالہ تحقیق کے بعد اس قسم کے خدشات کا اظہار کیا۔یہ تحقیق جغرافیائی نقشوں ، فضائی فوٹو گرافی اور سیارچوں کے ذریعے کھینچی گئی تصاویر پر مبنی ہے۔تحقیق کے مطابق جوں جوں درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے ان جھیلوں میں تیزی سے برفانی پانی بھر رہا ہے۔نیپال میں درجہ حرارت1970کے عشرے کے مقابلے میں ایک درجہ زیادہ ہے اور ہر سال یہ درجہ حرارت 0.06 کی شرح سے بڑھ رہاہے۔اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام نے خبردار کیا ہے کہ اگر ہمالیہ کی ان جھیلوں میں طغیانی آگئی اور ان کے کنارے ٹوٹ گئے تو لاکھوں بلکہ کروڑوں کیوسک پانی ،کیچڑ اور ملبے کا سیلاب وادیوں میں آجائے گا اور کئی ملین انسان اس کی زد میں آجائیں گے اور اربوںڈالر کی مالی املاک تباہ ہو جائے گی۔ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے ڈائریکٹر کلاس ٹائفر کا کہنا ہے کہ اگر فی الفور کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دوسری گیسوں کے اخراج میں تخفیف کے ذریعے عالمی تپش کی شرح کم نہ کی گئی تو یہ سیلاب اگلی دہائی میں قیامت مچا دے گا ۔تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ہمالیہ کہ گلیشیئر موجودہ رفتار سے پگھلتے گئے تو آنے والی دہائیوں میں بہت سے دریا خشک ہو جائیں گے اور پینے کے پانی کی قلت پیدا ہو جائے گی جس سے جانوروں کے ہلاک ہونے کا بھی خطرہ ہے ۔
سلسلہ ہمالیہ میں موجود کم ازکم 50گلیشیائی جھیلیں اپنی گنجائش سے زیادہ بھر چکی ہیں اور اب چھلکنے کو ہیں اور نشیبی وادیوں میں رہنے والوں کے سر پر سیلاب کا خطرہ منڈلا رہا ہے ۔یہ بات اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام اور انٹر نیشنل سنٹر فار انٹیگریٹڈ ماﺅٹین ڈویلمپنٹ کی جھیلوں سے متعلق ایک حالیہ تحقیق میں سامنے آئی ہے ۔اقوام متحدہ کے ایشیاءپروگرام سے تعلق رکھنے والی سریندرا شرستھا کے مطابق ہمالیہ کے بلند بالا پہاڑوں میںاب تک40ایسی جھیلوں کی حتمی نشاندہی ہو چکی ہے ۔تجزیہ کیا گیا ہے کہ آئندہ5سے10برسوں میں یہ جھیلیں اپنے کناروں سے ابل پڑے گی جس کے نتیجے میں نشیبی علاقوں میں بہہ کر آنے والے پانی سے ہزاروں لوگوں کی زندگی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں ۔ نیپال کی ناشورولپا جھیل اب تک چھ گنا پھیل چکی ہے۔سائنسدانوں کے مطابق یہ کوئی نئی اور انوکھی بات نہیں ہے اور ہمالیہ میں موجود جھیلوں میں پانی بڑھنے کا سلسلہ گذشتہ کئی دہائیوں سے جاری ہے ۔چار ہزار میٹر تک کی بلندی پر واقع ان جھیلوں سے چھلکنے والا پانی جو راستے کے پتھر اور مٹی بھی ساتھ لیے ہوتا ہے اتنا تیز رفتار ہوتا ہے کہ راستے میں آنے والی ہر شے کو بہا لے جاتا ہے ۔ماضی قریب میں چالیس میٹر بلند پانی کی دیوار کے دس ہزار کیوبک میٹر فی سیکنڈ سے راستہ طے کرنے کی مثال موجود ہے۔1985میں نیپال میں ہونے والے ایک ایسے ہی حادثے میں چالیس پل تباہ ہو گئے تھے ۔ماہرین نے تجویز کیا ہے کہ ان جھیلوں کیلئے فوری طور پر خطرے سے خبردار کرنے والا نظام قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کو بچایا جا سکے۔ایک اندازے کے مطابق دو ارب سے زائد افراد ہمالیہ کے دریاﺅں پر براہ راست یا بالواسطہ انحصار کرتے ہیں جن میں بنگلہ دیش ،بھارت ،نیپال ،بھوٹان ،چین، پاکستان اور افغانستان بھی شامل ہے۔اس طرح کی ایک اور تحقیق نے جس کا اہتمام برطانیہ کی رائل جغرافیکل سوسائٹی اور انسٹی ٹیوٹ آف برٹش جیو گرافرز نے کیا تھا نے خبردار کیا ہے کہ مرکزی ایشیاءمیں گلیشیئرز اس تیزی سے پگھل رہے ہیں کہ قازقستان میں لاکھوں لوگوں کا روزگار اس سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔سائنسدانوں کے مطابق ان گلیشیئرز سے آنے والا پانی بہت سے دریاﺅں کے وجود کا سبب ہے جو کئی ریاستوں سے گزرتے ہیں اور لاکھون افراد کا روزگار زراعت اور دوسرے کئی شعبے ان سے منسلک ہیں ۔ ان کے اس تیز رفتاری سے پگھلنے کا سبب زمین کے درجہ حرارت اور موسم میںآنے والی تبدیلیاں ہیں۔ تاہم زیادہ بڑا خطرہ اس بات کا ہے کہ ان سے ملنے والا پانی کم ہونے کی صورت میں نہ صرف اقتصادی بلکہ سیاسی تضادات بھی جنم لے سکتے ہیں کیونکہ یہ پانی کئی ریاستوں کے درمیان تقسیم ہوتا ہے۔ جبکہ ماحولیات کے ماہرین نے بھی خبردار کیا ہے کہ ہمالیہ کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز علاقے کے لاکھوں لوگوں کیلئے خطرے کا باعث ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی قریب میں اس مسئلے پر توجہ نہیں گئی اور اس معاملے پر آکری رپورٹ نوے کی دہائی میں آئی تھی ۔گلیشیئر کی بھرتی ہوئی جھیلوں سے علاقے مین تباہ کن سیلاب کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔آنے والے وقتوں میں ان گلیشیئروں کے ناپید ہونے کا خدشہ ہے اور اس کے ساتھ ان لوگوں کی زندگی بھی خطرے کا شکار ہے جو اپنی بقا کیلئے ان گلیشیئروں سے نکلنے والے دریاﺅں پر انحصار کرتے ہین ۔نیپال کے محکمہ آبی وسائل و معدنیات کے ترجمان ارون بھکٹا شریستھا کا کہنا ہے کہ یہی وقت ہے کہ ہم اس معاملے پر توجہ دیں ورنہ ایک بھیانک قدرتی آفت کبھی بھی آسکتی ہے ۔نیپالی ہمالیہ کے علاقے میں3300گلیشیئر موجود ہیں اور ان میں سے 2300گلیشیئروں کی اپنی جھیلیں ہیں ۔ان جھیلوں کی تعداد میں عالمی حدت (Global warming)کی بنا پر اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ماحولیات کے ماہرین کے مطابق کوئی بھی نہیں جانتا کہ کون کون سے جھیلیں اب تک بھر چکی ہے اور کون سی بھرنے والی ہیں اور ان جھیلوں کے نزدیک آباد گاﺅں کے لوگوں کو خبردار کرنے کے لئے اقدامات بھی نہیں کیے گئے ہیں۔اگر ان جھیلوں کا پانی کناروں سے باہر آجائے تو ایک بڑا سیلاب نیپال، بھوٹان ،بنگلہ دیش اور بھارت کی آبادی اور وسائل کو ملیا میٹ کر سکتا ہے۔گذشتہ ستر برسوں کے دوران نیپال کے اردگرد ایسی تباہی کئی بار ہو چکی ہے۔1970سے1989کے دوران جاپانی تحقیق دانوں نے اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ کھمبو کے گلیشیئر تیس سے ساٹھ میٹر تک اپنی جگہ سابقہ جگہ سے کھسک چکے ہیں۔ڈاکٹر بھٹکنا شریستھا نے کہا ہے کہ ہمیں گلیشیئروں سے متعلق تازہ ترین ارضیاتی اعدادوشمار کی ضرورت ہے ورنہ ہمیں آفات کی آمد کا پتہ ہی نہیں چل سکے گا۔جبکہ برطانوی سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے انٹارکٹیکا میں قطبین پر موجود برف ہمارے اندازے سے زیادہ تیزرفتاری سے پگھل رہی ہے۔برطانوی آرکٹک سروے سے تعلق رکھنے والے سائنسدانوں کو یقین ہے کہ دنیا بھر کے سمندروں کی سطح میں برف کے پگھلاﺅ کی وجہ سے ہونے والے اضافے کی رفتار لگائے جانے والے اندازوں سے کئی گنا زیادہ ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ گذشتہ پچاس برس کے دوران انٹارکٹیکا کے جزیرہ نما میں سمندری برف کا تیرہ ہزار مربع کلو میٹر حصہ پانی بن چکا ہے ۔ان تحقیقات کا اعلان ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق منعقد ہو نے والی ایک کانفرنس میں کیا گیا ۔انٹارکٹیکا کے جزیرہ نما میں سمندری برف کے پگھلنے سے سمندری گلیشیئروں کو روکنے والی دیوار ختم ہوتی جا رہی ہے اور اس کے نتیجے میں گلیشیئر پہلے سے چھ گنا زیادہ رفتار سے سمندروں میں تیر رہے ہیں ۔براعظم انتارکٹیکا کا مغربی حصہ بھی ماحولیاتی تبدیلی کا شکار ہے اور سمندر کا گرم پانی وہاں موجود برف کی تہہ کے نچلے حصے کو نقصان پہنچا رہا ہے ۔
ماحولیات کے ماہرین کے مطابق زمین اپنی تاریخ کے ایک ایسے نئے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں اس کے ماحول پر اثر انداز ہونے والی طاقت ور ترین چیز انسان ہو گا۔ بین الاقوامی جریدے انٹرنیشنل ہیرلڈ ٹریبیون میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق زمین پر تبدیلیاں اتنی تیزی سے اور اتنے وسیع پیمانے پر ہو رہی ہیں کہ جن مثال پہلے نہیں ملتی اور جن کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔یورپ میں ماحولیات کے کمشنر مارگوٹ والسٹورم کا کہنا ہے کہ زمین پر ہونے والی ممکنہ تبدیلیوں کے بارے میں اندازہ نہ لگا سکنے کا یہ مطلب نہیں کہ ان کے بارے میں کچھ کیا نہیں جانا چاہیے۔ماہرین کے مطابق انسانیت انجانے میں وہ حدود پار کر سکتی ہے جس سے شروع ہونے والے تبدیلی کے عمل کو روکنا نا ممکن ہو گا ۔جریدے میں شائع ہونے والے مضمون کے چار مصنفین جن میں ماحولیاتی تبدیلی کے بارے میں بین الحکومتی پینل کے بانی پروفیسر برٹ بولن اور کیمسٹری کے مضمون میں نوبل انعام یافتہ پروفیسر کرٹزن اور انٹرنیشنل شہرت کے حامل ڈاکٹر ول سٹیفن شامل ہیں انہوں نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ ہمارے سیارے میں تیزی سے تبدیلیاں آرہی ہیں اور اگرچہ یہ تبدیلیاں زندگی کا حصہ ہیں لیکن گذشتہ کچھ دہائیوں میں آنے والی تبدیلیاں گذشتہ پانچ لاکھ سالوں میں رونما ہونے والی تبدیلیوں سے زیادہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ پریشانی کی بات انسانی عمل سے آنے والی تبدیلی کی رفتار اور وسعت ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی عمل کے نتیجے میں فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار میں گذشتہ پانچ لاکھ سال میں ہونے والی قدرتی تبدیلی کی رفتار سے دس گنا زیادہ ہے۔ڈاکٹر سٹیفن کا کہنا ہے کہ گرین لینڈ کی برف کو پگھلنے میں ایک ہزار سال لگ سکتے ہیں لیکن ہم آئندہ صدی میں اس نکتے پر پہنچ سکتے ہیں کہ جس کے بعد اس برف کا پگھلنا ناگزیر ہو جائے گا۔ لہذا ایسے میں ہم سب ممالک کو چاہیے کہ مل کر اس کا حل تلاش کریں وگرنہ آنے والی نسلیں موجودہ نسل کو معاف نہیں کرے گی اوردنیا کی تباہی کی ذمہ دار ٹھہرائی جائے گی۔

Published

23-07-2006

انسان کا مستقبل” پر ایک خیال

  1. پنگ بیک: My Stories » Blog Archive »

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s