انٹرنیٹ ،گلوبل ولیج


منصور مہدی

مواصلاتی رابطے کے تازہ ترین ذریعے انٹر نیٹ نے تمام دنیا کو گلوبل ویلیچ بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دنیا کا ہر ادارہ سرکاری ہو یا غیر سرکاری اور ہر فرد اس کا مرہون منت بن کر رہ گیا ۔ پاکستان کے 1812 شہر اب تک انٹر نیٹ سے منسلک ہو چکے ہیں جن میںپنجاب کے1091 شہر اور قصبے، سندھ کے202 ، صوبہ سرحدکے 404 اور بلوچستان کے 110 شہر اور قصبے شامل ہیں جبکہ تیس لاکھ کے قریب افرادانٹرنیٹ کا استعمال کر رہے ہیں جن میںاکثریت بچے اورکم آمدنی والے افراد شامل ہیں پاکستان میںانٹر نیٹ کے فروغ اور اس کو کنٹرول کرنے کے لیے2000 ءمیں پاک نیٹ لمٹیڈ کے نام سے ادارہ قائم ہوا ۔پاکستان میںتین طرح کے انٹر نیٹ کنکشن دستیاب ہیں ایک تو بذریعہ ٹیلی فون لائن کسی بھی آئی ایس پی (انٹرنیٹ سروسزپرووائیڈر) سے رابطہ کر کے کنکشن لیا جاتا ہے جبکہ دوسرا طریقہ بعذریعہ کیبل سسٹم بھی متعارف ہوا ہے اور بذریعہ وائرلیس (برانڈبینڈوائرلیس سسٹم) انٹر نیٹ کنکشن بھی لیا جا سکتا ہے اس وقت دنیا بھر میں روزانہ وصول ہونے والی ڈی این ایس کیوریرز کی تعداد4936057 ہیں جبکہ پاکستان میں اوسطاََ روزانہ وصول ہونے والی ڈی این ایس کیوریرز کی تعداد 164535 ہیں ۔انٹر نیٹ میں کسی بھی ویٹ سائٹ کے ایڈریس میں آخری الفاظ یعنی ٹاپ لیول ڈومین کی خاص اہمیت ہوتی ہے ٹاپ لیول ڈومین الفاظ انٹرنیشنل کارپوریشن فار نمبر اینڈ نیم (International corporation for Number & Name)الاٹ کرتی ہے جن میں com, net , org, edu, gov, mil, کے علاوہ اب اور بھی بہت سے الفاظ شامل ہیں ان میں سے edu, (تعلیم)gov, (حکومت) اور mil (ملٹری) صرف حکومتوں اور اداروں کے لیے مخصوص ہیں جبکہ دیگر ٹاپ لیول ڈومین تک ہر فرد کی رسائی ہے ملک بھر میں بعض اداروں نے انٹر نیٹ سروسز فراہم کرنے کی آڑ میں فراڈ شروع کر دیا اور کروڑوں روپے لوٹ کر غائب ہو گئے جبکہ بعض کمپنیوںنے سکریچ کارڈ بیچنے کی آڑ میں زائد المیعاد سکریچ کارڈمارکیٹ میں بھیج کر لوگوں کو لوٹنا شروع کر رکھا ہے اور اس بارے میں واضع قوانین نہ ہونے کی وجہ سے پو لیس بھی ان کے خلاف کاروائی نہیں کر پاتی۔ دنیا بھر میں جدید ٹیکنالوجی کی دوڑ اور ترقی کا جب سلسلہ شروع ہوا تو ترقی یافتہ ممالک نے اپنے فاصلوں کو کم کرنے اور فوجی مقاصد کے استعمال کے لئے انٹر نیٹ کے نظام کو متعارف کروایا اور اس سلسلے میں سب سے پہلے امریکی بحری فوج نے انٹر نیٹ کے نظام کو اپنایا تاکہ ان کے فوجی بحری جہازوں اور آبدوزوں میں موجود فوجیوں کے درمیان آپس میں رابطہ قائم رہ سکے کیونکہ پہلے سے رائج شدہ مواصلاتی سسٹم پانی میں ناکارہ ہو چکا تھا جبکہ انٹر نیٹ سسٹم ایک تو پانی میں بھی بخوبی کام کرتا تھا اوراپنے روابط کوخفیہ رکھنے میں بھی مدد گار تھا کیونکہ دیگر نظام کی اس تک پہنچ نہ تھی جب انٹر نیٹ نظام کی افادیت کا علم دوسرے ممالک کو ہوا تو سرمایہ کمانے کے لئے اس کو تجارتی بنیادوں پر بھی متعارف کروا دیا گیا جس سے یہ نظام تیزی سے دنیا کے تمام ممالک میں پھیل گیا جب انٹر نیٹ سسٹم چند سال پہلے پاکستان میں پہنچا تو یہاں کے سر مایہ کاروں نے نہ صرف ہارڈ وئیر اور سافٹ وئیر میں کروڑوں روپے کمائے بلکہ انٹر نیٹ سروسز فراہم کرنے والے ادارے بنا کر دولت کمانی شروع کر دی اسی دوران چند فراڈکمپنیاں بھی قائم ہو گیں جنہوں نے لوگوں کے ساتھ فراڈ کر کے ان کی رقوم ہڑپ کرنے کے لئے مہنگے اور غیر معیاری پیکج متعارف کرانے کے ساتھ اےسے سکریچ کارڈ بھی مارکیٹ میں لے آئیں جو کہ زائدالمدت ہونے کے علاوہ ناقص پرنٹنگ والے تھے جنہیںسکریچ کرنے سے ان کے اصل نمبر بھی مٹ جاتے جبکہ بعض ایسے بھی کارڈ ملنے شروع ہو گئے کہ جن سے انٹرنیٹ کا رابطہ قائم نہیں ہوتا تھا اور ان کارڈوں پر درج ہیلپ لائن نمبروں پر بھی رابطہ نہیں ہوتا تھااور بعض کمپنیوں کے سکریچنگ کارڈ کا وقت اگر چار گھنٹے ہوتا تو دو گھنٹے بعد ہی ان کا رابطہ منقطع ہو جاتا تقریباََ دو سال قبل چند افراد نے پاک فری ڈاٹ نیٹ کے نام سے انٹر نیٹ سروسز مہیا کرنے والی ایک کمپنی بنائی اور انٹر نیٹ کنکشن کا ایک پیکج بشکل(سی ڈی ) عوام میں متعارف کروایا جس کے مطابق کمپنی نے 2500 روپے کے عوض ہمیشہ کے لئے انٹر نیٹ کنکشن (ان لمیٹڈ ٹائم) دینے کااعلان کیا جس پر ہزاروں شہریوں نے اس پیکج کو خریدا مگر ڈیڑھ سال بعد اس کمپنی نے اپنے ادارے کو اپ گریڈ کرنے کے بہانے تمام کنکشن معطل کر دئیے اور بعد ازاں کروڑوں روپے اکھٹے کر کے غائب ہو گئے اس طرح بعض اداروں نے کروڑوں روپے کے ایسے سکریچ کارڈ مارکیٹ میں سپلائی کیے جو زائدالمعیاد ہو چکے تھے اس وقت پاکستان میںتیس لاکھ سے زائدافرادانٹر نیٹ کا استعمال کر رہے ہیں جن میں طالبعلموں کی تعداد سب سے زیادہ ہے یہ لوگ اپنی جیب خرچ کو انٹر نیٹ پر لگا دیتے ہیں اگرچہ اس سے تعلیم و تحقیق میں بھی بہت مدد لی جا سکتی ہے مگر انٹر نیٹ نظام کی وسعت کی وجہ سے معلوماتی مواد کے ساتھ فحش مواد نے نئی نسل کو بے راہ روی میں مبتلا کر دیا ہے انٹر نیٹ نظام ایک گلوبل نظام ہے جس میں سینکڑوں ملین کمپیوٹر آپس میں ایک دوسرے سے منسلک ہیں اور کسی بھی وقت یہ تمام ایک دوسرے سے رابطہ قائم کر سکتے ہیں۔
آج سے تقریباََ پانچ ہزار برس قبل ہی کمپیوٹر کی بنیاد پڑ چکی تھی جب ایشیا میں abacus نامی آلہ (کیلکولیٹر کی ابتدائی شکل) وجود میں آیا جس میں تجارت پیشہ افراد اپنا حساب کتاب رکھتے تھے جبکہ 1642 ء میں فرانسیی ٹیکس کلکٹر کے بیٹے پاسکل نامی 18 سالہ نو جوان نے ایک تین کونہ ڈبے کی شکل جیسا کیلکو لیٹر بنایا تاکہ اس کے والد کو اپنے فرائض ادا کرنے میں آسانی ہو جائے۔ پاسکل کا بنایا ہوا یہ ڈبہ چالیس برس تک استعمال ہوتا رہا اور اس ڈبے کو اس کے موجد کے نام پر پاسکو لائن کا نام دیا گیا 1864 ءمیں ایک جرمن ریاضی دان گوت فرائید نے پاسکو لائن میں بہتری پیدا کی اور موجودہ کیلکو لیٹر سے ملتا جلتا ایک آلہ بنایا یہ سائز میں بہت بڑے ہوتے تھے 1948 ءمیں جب ٹرانسسٹر ٹیکنالوجی ایجاد ہوئی تو انٹر نیٹ فیلڈ میں انقلاب برپا ہوگیا اور یہ آلے مختصر ہوتے چلے گئے جبکہ تجارتی بنیادوں پر ان کی پیداوار 1976 ءمیں شروع ہوئی جب امریکی کمپنی اُپل نے کمپیوٹر سازی شروع کی مگر 1977 ء بل گیٹس اور پال ایلن نے مائیکروسافٹ کمپنی کی بنیاد ڈال کر انٹر نیٹ کو دنیا بھر میں متعارف کروادیا۔
سمندر پار پیغام رسانی کے لئے سب سے پہلے 1858 ءمیں بحر اوقیانوس میں اٹلاننک کیبل بچھائی گئی مگر یہ چند روز بعد ہی بعض تکنیکی خامیوں کی وجہ سے خراب ہو گئی پھر 1866 ءمیں دوبارہ کیبل بچھائی گئی جو کم و بیش سو سال تک کامیابی سے کام کرتی رہی جب 14 اکتوبر 1957 کو سابقہ سویت یونین نے اپنا پہلا 184 پونڈ وزنی مصنوعی سیارہ (سپوٹنگ) نامی زمین کے مدار میں چھوڑا تو 1958 ءمیں امریکی وزرات دفاع نے ایڈوانسڈ ریسرچ پراجیکٹس ایجنسی (آرپا) بنائی جس میں شامل افراد کی شب و روز محنت سے صرف 18 ماہ میں ہی امریکہ اپنا مصنوعی سیارہ خلا میں بھیجنے کے قابل ہو گیا۔ 1962 ءکو جب آرپا کی قیادت ڈاکٹر جے آر سی کو ملی تو انہیں انٹر نیٹ کے استعمال کے بارے میں تحقیق سونپی گئی 1972 میں آرپا کی جگہ ڈراپا (ڈیفنس ایڈوانسڈریسرچ پراجیکٹ ایجنسی ) نے لے لی اور انٹر نیٹ کا تجارتی سطح پر استعمال شروع ہوا اور واشگٹن کے بلٹن ہوٹل کے بیسمنٹ میں پہلا عوامی نیٹ کیفے بنایا گیا اور آج دنیاکے تمام ممالک کے شہروں اور قصبوں میں انٹر نیٹ کیفے موجود ہیں اور انٹر نیٹ کا استعمال ہو رہا ہے۔جبکہ فائبر آپٹک کیبل نیٹ ورک SEA-ME-WE-2(جنوب مشرقی ایشیائ،مشرق وسطیٰ ،مغربی یورپ2، سب میرین کیبل پرا جیکٹ پر کام1980ءکی دہائی کے آخر میں شروع کیا گیا۔سنگا پور ٹیلی کام اور فرانس ٹیلی کام نے 1993میں ابتدائی تحقیق کے بعد کیبل استعداد کو یورپ سے ایشیاء پیسیفک ریجن تک بڑھانے کے منصوبے پر کام کا آغاز کیا۔دسمبر1994ءمیں سولہ پارٹیوں نے ہم آہنگی کی ایک یادداشت پر دستخط کیے جس کے تحت SEA-ME-WE-2پراجیکٹ کو مغربی یورپ اور سنگا پور کے درمیان بڑھانا تھا۔نومبر1996ءمیں پھر ایک اضافی ہم آہنگی کی یادداشت پر دستخط کیے گئے جس کے تحت اس سسٹم کو سنگا پور سے مشرق بعید اور آسٹریلیا تک بڑھانا تھا۔ آخر کار جنوری 1997ءمیں92بین الاقوامی کمپنیوں نے SEA-ME-WE-2کی تعمیر اور مینٹی نینس کا معاہدہ کر لیا اور2000ءکے آخر تک مکمل نیٹ ورک تیار کر لیا گیا۔
جبکہ SEA-ME-WE-3چار براعظموں کے33ممالک میں39لینڈنگ پواینٹس پر مشتمل ہے جس میں جرمنی ، برطانیہ اور فرانس بھی شامل ہیں۔یہ مغربی یورپ سے شروع ہو کر مشرق بعید سے آسٹریلیا تک پھیلا ہوا ہے ۔ان میں چین ، جاپان اور سنگا پور بھی شامل ہیں۔یہ نظام39ہزار کلو میٹر لمبا دنیا کا طویل ترین سسٹم ہے اور اس کے نیٹ ورک میں فاصلے کے ساتھ ساتھ صلاحیت بڑھانے کی گنجائش موجود ہے۔ ہائی کوالٹی ٹرانسمیشن جرمنی سے آسٹریلیا تک جا سکتی ہے۔اگست 2003ءکے بعد سسٹم کی صلاحیت کو دوبارہ اپ گریڈ کیا گیا اور اس وقت دو فائبر پیئرز آٹھ Wave Lengthفی کس کے حامل ہیںجبکہ کچھ 10 Wave Lengthپر آپریٹ ہوتے ہیں اور باقی2.5جی پر آپریٹ ہوتے ہیں۔اس منصوبے کے نافذ العمل اور اس کی بحالی کے انتظامات کا جائزہ لینے کیلئے انتظامیہ کا سالانہ اجلاس ہوتا ہے اور اس امر کا جائزہ لیا جاتا ہے کہ کسٹمر سروس میں کہیں کوئی خامی تو نہیں ہے جبکہ کسی قسم کی خامی کی صورت میں اس کے تدارک کے انتظامات کیے جاتے ہیں۔انتظامیہ ہر وقت کسی نہ کسی متبادل انتظام اور دوہرے نظام کی تلاش میں رہتی ہے۔کنسورشیم کے انجینئر اور رابطہ آفیسر ٹریفک کے انتظامات اور اس کے موثر ہونے کا جائزہ لیتے ہیں۔تاہم مجموعی طور پر اگر ضرویات کا پہلے سے اندازہ ہو جائے تو اس کے مطابق سروس مہیا کی جاتی ہے جبکہ بعض حالتوں میں انفرادی طور پر کنسوریشیم کے رابطہ آفیسر کے متعین طریقہ کار سے ہٹ کر بحالی کے انتظامات کیے جاتے ہیں۔کیبل خراب ہونے کی صورت میں کیبل کی مرمت کا کام کھلے سمندر میں کیا جاتا ہے اور جب کام حتمی طور پر مکمل ہوجاتا ہے اور کیبل سٹیشن آزامائشی تجربات کر لیتا ہے تو ٹریفک کے نظام کو کھول دیا جاتا ہے۔اس کنسورشیم کے ممبران کے درمیان انتہائی مستحکم تعاون پایا جاتا ہے اور کام کی بحالی کے امور میں اکثریت کے مفادات کو پیش نظر رکھا جاتا ہے تاکہ کسٹمرز کا بزنس تسلسل سے جاری رہ سکے۔سی اینڈ ایم اے دستخطوں کے وقت کیپسٹی کو اونر شپ کی بنیاد پر خریدا جا سکتا تھا مگر اب کیپسٹی کو صرف آئی آر یو کی بنیاد پر خریدا جا سکتا ہے۔دو لینڈنگ مقامات کے درمیان قیمت ان دو مقامات کے درمیان جغرافیائی فاصلے کے برابر ہوتی ہے جو کم از کم 550کلو میٹر اور زیادہ سے زیادہ 10000کلو میٹر ہے۔
پاکستان نے SEA-ME-WE-3کیلئے 1999ءمیں 35ملین ڈالر کی ابتدائی سرمایہ کاری کی تھی جبکہ اس کی مینٹی نینس کے لئے مزید 2.5ملین ڈالر رکھے تھے ۔لہذا 27جون 2005کو جب اس نیٹ ورک میں خرابی پیدا ہوئی تو پی ٹی سی ایل کو فوری طور پر کنسورشیم کو اس کی مرمت کے لئے کوئی ادائیگی نہیں کرنا پڑی۔اس خرابی سے پاکستان اور دوسرے ممالک کے درمیان ڈیٹا Feedsختم ہو گئی تھیں۔انٹر نیٹ اور دیگر مواصلاتی رابطے بھی ختم ہو گئے تھے ۔ یہ پاکستان کا واحد کیبل لنک ہے اور اس خرابی سے پاکستان کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی،سٹاک ٹریڈنگ اور دوسری تجارتی سرگرمیاں ختم ہو کر رہ گئیں،انٹر نیٹ اور بینک Transactionکو بھی شدید دھچکا لگا۔متعدد دفاتر میں کام بند ہو گئے ۔اس بارے میں متعدد لوگوں کو خیال تھا کہ یہ کوئی مستقل خرابی نہیں بلکہ کوئی تکنیکی خرابی ہے جو دور ہو جائے گی مگر یہ خرابی 8جولائی 2005کو دور ہوئی اور ان دو ہفتوں میں پاکستان کو تقریباً 60ملین ڈالر کا نقصان ہوا۔
بھارت نے فائبر آپٹک کیبل کے دو زیر سمندر انتظامات کر رکھے ہیں۔SEA-ME-WE-2اورSEA-ME-WE-3۔یہ دونوں ممبئی اور مدراس کو ملاتے ہوئے پوری دنیا کے گرد پھیلے ہوئے ہیں جبکہ بھارت نے براہ راست سیٹلائٹ سے کیبل فکس کا انتطام بھی کیا ہوا ہے جو کسی بھی خرابی یا قدرتی آفت کی صورت میں تیسرے متبادل کے طور پر فوری حرکت میں آسکتا ہے اور براہ راست سیٹلائٹ سے جزوی طور بھی کام لیا جا سکتا ہے۔ جبکہ پاکستان کا انحصار ابھی تک صرفSEA-ME-WE-2کیبل سسٹم پر ہی ہے۔بھارت کے ڈومیسٹک سیٹلائٹ سسٹم میں254زمینی سٹیشن ہیں۔
امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے جدید سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کی مدد سے عالم اسلام کے تمام ممالک اور دنیا بھر کی 90 فی صد انٹر نیٹ سروس اور مواصلاتی مواد کو اپنے کنٹرول میں لیا ہوا ہے۔ امریکہ ، کینیڈا، برطانیہ، آسٹریلیااور نیوزی لینڈ کی خفیہ ایجنسیوں نے ایک خصوصی مشترکہ مانیٹرنگ نظام تشکیل دیا ہوا ہے کہ جس سے امریکہ اور اسکے اتحادی ممالک نے جاسوس سیاروں کے مضبوط نیٹ ورک کے ذریعے دنیا کے 90 فی صد مواصلاتی مدار پر دسترس حاصل کی ہوئی ہے ۔اس سسٹم سے امریکہ اور اس کے اتحادی دنیا کے نوے فیصد مواصلاتی نظام کو نہ صرف واچ کر سکتے ہیں بلکہ یہ مواد فلٹر بھی کیا جا سکتا ہے جدید ریڈیائی اور دیگر حساس آلات سے لیس یہ سیٹلائٹ نظام انٹر نیٹ ٹرانسمیشن کے علاوہ زیر سمندر کیبل سے گزرنے والی ٹیلی فون کالوں کو بھی با آسانی مانیٹر کر سکتا ہے اس نظام سے امریکہ اور اس کے اتحادی روزانہ تین ارب ٹیلی فون کالز ، مواصلاتی رابطوں ، ای میل پیغامات،انٹر ڈاﺅن لوڈ اور مصنوعی سیاروں کی نشریات کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال اور ان کی روک تھام کر سکتے ہیں اس نظام کو گلوبل انٹرپشن اینڈری سسٹم کا نام دیا گیا ہے اور اسے امریکہ اور اسکے اتحادی ممالک کی خفیہ ایجنسیاں مشترکہ طور پر ایکن ون کے خفیہ کوڈ سے چلاتی ہیں۔
دنیا کے کئی ممالک کی مخالفت کے باوجود امریکہ نے انٹر نیٹ پر اپنا کنٹرول قائم کرنے کی جنگ لی ہے۔انٹر نیٹ سے متعلق اقوام متحدہ کی ایک بڑی کانفرنس سے پہلے مختلف ممالک کے نمائندوں کے درمیان جاری مذکرات میں آخری لمحات میں اس بات پر اتفاق ہو گیا ہے کہ ایک بین الاقوامی فورم بنایا جائے جو انٹر نیٹ سے متعلق معاملات پر بحث کرے گا اگرچہ اس فورم کے پاس قوانین کے نفاذ کی اتھارٹی نہیں ہو گی۔ اس بات کے طے ہو جانے کے بعد اب اقوام متحدہ کی کانفرنس میں غریب ممالک تک انٹر نیٹ کی رسائی کے معاملے پر توجہ مرکوز کی جا سکے گی ۔ تیونس میں ہونے والی اس تین روزہ کانفرنس میں کئی عالمی رہنماﺅں سمیت دس ہزار سے زائد مندوبین شرکت کی۔انٹر نیٹ پر امریکہ کے کنٹرول کے معاملے پر اختلافات کی وجہ سے خدشہ تھا کہ یہی معاملہ اس کانفرنس کا مرکز بنا رہے گا اور باقی ایشوز نظر انداز ہو جائیں گے۔چین اور ایران کا اصرار تھا کہ اقوام متحدہ کے تحت ایک ادارہ قائم کیا جانا چاہیے جو انٹر نیٹ کے معاملے کی نگرانی کرے۔امریکہ نے اس تجویز کی مخالفت کی اور اس کا اصرار تھا کہ ایسا کرنے سے ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی متاثر ہو گی اور غیر جمہوری حکومتیں سینسر شپ میں اضافہ کر سکتی ہیں۔تیونس میں ہونے والے اس اتفاق رائے کے بعد اب انٹر نیٹ کا روزمرہ کا انتظام کیلی فورنیا میں قائم انٹر نیٹ کارپوریشن فار اسائینڈ نیمز اینڈ نمبرز کے ہاتھوں میں ہے جو امریکی حکومت کو جوابدہ ہوتی ہے۔اس معاملے کے طے ہوجانے کے بعد اب کانفرنس کا فوکس غریب ممالک تک انٹر نیٹ کی رسائی پہنچانا ہو گا۔ دوسال پہلے اسی کانفرنس کے جینوا کے اجلاس میں ممالک ایک ڈیجیٹل سولیڈیریٹی فنڈ قائم کرنے میں ناکام رئے تھے جس کا مقصد 2015ءتک دنیا بھر میں انٹرنیٹ کا عام کرنا تھا۔لیکن ابھی تک دنیا کی صرف چودہ فیصد آبادی کو انٹر نیٹ کی سہولت میسر ہے جبکہ امریکہ میں باسٹھ فیصد آبادی کو یہ سہولت حاصل ہے۔

Published

23-07-2006

انٹرنیٹ ،گلوبل ولیج” پر 3 خیالات

  1. پنگ بیک: My Stories » Blog Archive »

  2. دنیا گلوبل ویلج بن گئی ۔ امریکہ کو ڈالر واپس اکٹھا کرنے کا اور پوری دنیا کی جا سوسی کرنے زبردست ذریعہ مل گیا ۔
    اربوں ڈالر صرف پاکستان سے انٹرنیٹ کی وجہ سے فوریکس ٹریڈنگ کے ذریعے لوٹا گیا ۔ بے حیائی عام ھوئی پاکستان کے ہر دیہانی علاقے میں ورلڈ کال کی ڈیوائس 300 ماھانہ بل پر کیوں مل جاتی ھی جبکی شھر میں وھی ڈیوائس 1000 روپے ماھانہ ھے UNO باقی پےمنت کیون کرتا ھے ذرا سمجھیے اور نئی نسل کو ان مسائل کا شعور بھی دی جیے ۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s