امریکا کے صدر کو خط


منصور مہدی

چودہ سو برس قبل پیغمبر اسلام نے غیر مسلم حکمرانوں کو خطوط روانہ کر کے اسلام کا پیغام پہچانے کا طریقہ متعارف کرایا اگرچہ اس وقت کے پیشتر حکمرانوں (ماسوائے حبشہ کے بادشاہ کے )نے ان خطوط کو کوئی اہمیت نہ دی جس کا یہ نتیجہ نکلا کہ ان حکمرانوں کی بادشاہیاں مٹ گئی اور وہ حکومتیں ختم گئی بعد ازاں دیگر مسلم حکمرانوں نے بھی اسلام کی تبلیغ خطوط کے ذریعے کی مگر موجودہ جدید دور میں تقریباً 26برس قبل ایران کے راہنما امام خمینی نے دنیا کی سپر طاقت روس کے حکمران میخائیل گورباچوف کو خط لکھ کر پیغمبر اسلام کی سنت ادا کی ۔انھوں نے اپنے خط میں قبولیت اسلام کی دعوت دینے کے علاوہ دنیا میں امن آشتی قائم کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے کو کہامگر گوربا چوف نے اس خط کو کوئی خاص اہمیت نہ دی مگر کچھ ہی وقت کے بعد نہ صرف گورباچوف کی حکومت ختم ہو گئی بلکہ روس بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو گیااب ایران کے ایک اور حکمران نے امام خمینی کی تقلید میں اور اتمام حجت کی خاطر دنیا کی مغرور سپر پاورامریکہ کے حکمران جارج بش کو ایک خط لکھا اس خط میں ایرانی صدرڈاکٹر محمود احمدی نژادنے امریکی صدر جارج بش کو نہ صرف قبولیت اسلام کی دعوت دی بلکہ دنیا میں امن قائم کرنے کو کہا انھوں نے اپنے خط میں کہا ہے کہ ان کی آزاد خیالی اور جمہوریت ناکام ہو گئی ہیں۔انھوں نے اپنے خط میں جنگ مسلط کرنے ،ملکوں کے داخلی امور میں بے جا مداخلت اور بھیانک جیلیں بنا کر انسانوں کو ان میں قید کئے جانے کو انبیاءالہی کی تعلیمات اور انسانی حقوق کے خلاف قراردیا ہے۔صدر احمدی نڑاد نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ کیا خدا کے عظیم پیغمبر حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کا پیرو ہوکر خود کو انسانی حقوق پرکاربند بتاکر اور مہلک ہتھیاروں کی مخالفت کر کے نیز دہشت گردی کے خلاف جد وجہد کا نعرہ لگاکر دیگر ملکوں پر حملہ کیا جا سکتا ہے ؟ یا دوسروں کی آبرو و حیثیت سے کھیلا جا سکتاہے اورایک گاو¿ں یا شہرمیں چند مجرموں کی موجودگی کے امکان کے پیش نظر اس گاو¿ں اورشہر کوتباہ کیا جا سکتاہے؟ صدر احمدی نڑاد نے امریکی صدر کو خط میں لکھا ہے کہ گوانتانامو جیل کے قیدیوں کے حقوق پامال کرنا انسانوں کو اغوا کرنا اوریورپ میں خفیہ جیلیں قائم کرنا دنیا کے کسی قانونی نظام حضرت مسیح علیہ السلام کی تعلیمات اورانسانی حقوق و اقدارسےمطابقت نہیں رکھتا۔صدر احمدی نڑاد نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ ساٹھ سال کاعرصہ گذرچکا ہے کہ غیر قانونی صیہونی حکومت کی تاسیس کے بعد فلسطینی عوام کا قتل عام ہورہا ہے یا وہ دربدر بھٹک رہے ہیں ان کی زرعی زمینیں اور زیتوں کے باغات شہر اور آبادیاں تباہ کی جارہی ہیں اور یہ سارے کام حضرت مسیح اورحضرت موسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات کے برخلاف ہیں۔انہوں نے لکھا ہےکہ صیہونی حکومت بچوں پر بھی رحم نہیں کرتی لوگوں کے سروں پر ان کے گھر تباہ کردیتی ہے۔ فلسطینی شخصیتوں کی ٹارگٹ کلنگ کا پہلے ہی اعلان کرتی ہے اور اس کی جیلوں میں ہزاروں فلسطینی قید ہیں ، ایسے حالات گذشتہ صدیوں میں یا نہیں دیکھے گئے یا کم دیکھے گئے ہیں۔امریکی صدر کے نام خط میں صدر مملکت احمدی نڑاد نے تاکید کی ہے کہ فلسطین کے اصل باشندوں کو حق خودارادیت حاصل ہونا چاہئے۔انہوں نے لکھا ہے کہ فلسطینی حکومت فلسطینی عوام کے ووٹوں سے بر سراقتدار آئی ہے اور اس کی توثیق غیر جانبدار مبصریں نے بھی کی ہے یہ عوام کی منتخب حکومت ہے لیکن اس پر دباو¿ ڈالا جارہا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرلےاورجد وجہد سے ہاتھ کھینچ لے۔صدر احمدی نڑاد نے امریکہ کی جانب سے مشرق وسطی کے ملکوں کی علمی پیشرفت کی مخالفت کوقوموں کےابتدائی حقوق کی خلاف ورزی قراردیا اور کہا ہے کہ اگر یہ فرض کرلیاجائے کہ سائنس کا فوجی مقاصد میں استعمال ہوتا سائنسی پیشرفت کی مخالفت کی دلیل ہے توپھر ہر طرح کی سائنس یعنی فزکس ، کمسٹری ،ریاضیات ، طبی علوم وغیرہ کی مخالفت بھی ہونی چاہئے۔ صدر احمدی نڑاد نے امریکی صدر بش کے نام خط میں لکھا ہے کہ لاطینی امریکہ کی مختلف قوموں کو یہ پوچھنے کا حق حاصل ہے کہ ان کی منتخب حکومتوں کی مخالفت کیوں ہوتی ہے اور باغیوں کی حمایت کس بنا پر کی جاتی ہے۔انہوں نے لکھاہے کہ غربت وتنگدستی کا شکار افریقی قومیں یہ پوچھنے کا حق رکھتی ہیں کہ ان کے عظیم زیر زمین ذخائیر کیوں لوٹے جارہے ہیں جبکہ وہ سب سے زیادہ اس کے محتاج اور حق دار ہیں۔صدر احمدی نزاد نے سوال کیا یہ سارے اقدامات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات اور انسانی حقوق کے مطابق ہیں ؟ صدراحمدی نڑاد نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ ملت ایران باون سال قبل اپنی قانونی حکومت کی سرنگونی اورفوجی بغاوت ،انقلاب اسلامی کے مقابلے نیز سفارتخانے کو جاسوسی کا گڑھ بنانے ،مسلط کردہ جنگ میں صدام کی حمایت ،ایرانی ایئربس کو مارگرانے ایرانی اثاثوں کو منجمد کرنے اور ایران کی سائنسی وایٹمی پیشرفت میں رکاوٹیں کھڑی کرنے اور آئے دن بڑھتی ہوئی دھمکیوں کا ذمہ دار امریکی حکومت کوسمجھتی ہے۔صدر بش کے نام اپنے خط میں صدرجناب احمدی نڑاد نے گیارہ ستمبر سنہ 2001 کے واقعات کو مشکوک اورافغانستان پر لشکر کشی کا بہانہ قراردیا۔انہوں نے عراق پرجارحیت کے بارے میں لکھا ہے کہ آخر کار یہ معلوم ہوگا کہ عراق میں مہلک ہتھیاروں کی موجودگی کا دعویٰ جھوٹا تھا اور اب یہ سوال اٹھتا ہے کہ عراق پر جارحیت میں ہرسال جو اربوں ڈالر خرچ ہورہے ہیں اس سے عوام کو کیا فائدہ پہونچا ہے۔ صدر حمدی نڑاد نے صدر بش کو لکھا ہے کہ حکمران ایک معین مدت کے لئے ہوتے ہیں اور پائیدار نہیں ہوئے لیکن ان کا نام تاریخ میں رہ جاتا ہے اور تاریخ ان کے بارے میں فیصلہ کرتی ہے۔ انہوں نے عراق پر امریکی حملے اور اسرائیل ہر معاملہ میں حمایت جیسے کئی معاملات میں امریکہ پالیسیوں پر تنقید کی ہے۔ یہ خط دونوں ممالک کے سربراہان کے درمیان تیس سالوں میں پہلا باقاعدہ رابطہ ہے۔ مغربی ممالک میں ایرانی جوہری پروگرام کے بارے میں پائے جانے والے شکوک و شبہات کے ضمن میں اس خط میں صرف یہ کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کسی سائنسی ترقی سے یہودی ریاست کو کیا خطرہ لاحق ہو سکتاہے؟اس کے علاوہ خط میں صدر بش پر گیارہ ستمبر کے واقعے کا غلط ردعمل دینے اور ذرائع ابلاغ پر عراقی جنگ کے بارے میں جھوٹ پھیلانے کا الزام لگایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ دنیا کے لوگ خدا پر یقین کے قریب ہو رہے ہیں۔خط میں کہا گیا ہے کہ ’آزاد خیالی اور مغربی جمہوریت انسانیت کی معراج حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ آج یہ دونوں تصورات ناکام ہو چکے ہیں۔ جو لوگ بصیرت رکھتے ہیں وہ ابھی سے اس جمہوری نظام کے نظریے کی ناکامی دیکھ رہے ہیں‘۔اگرچہ اس خط میں جوہری مسئلے پر کوئی خاص بات نہیں کہی گئی تاہم حکام کا کہنا ہے یہ خط ایک ایسے وقت پر لکھا گیا ہے جب مغربی طاقتیں ایران کے جوہری معاملے پر سکیورٹی کونسل کے ذریعے دباو¿ بڑھانا چاہ رہی ہیں۔جبکہ امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے اس خط کو رد کرتے ہوئے کہا کہ یہ خط اس مسئلے کا حل پیش کرنے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ خط ایسا نہیں ہے کہ جسے کوئی ایران کے جوہری مسئلے کے حل کی جانب کسی قسم کی پیش قدمی کہا جا سکے۔ یہ اس مسئلے کے بارے میں بات نہیں کر رہا جس کے لیئے ہم ٹھوس اقدامات کر رہے ہیں۔خط میں احمدی نڑاد نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں لوگوں کا بین الاقوامی اداروں پر سے اعتماد اٹھ گیا ہے۔ اس کے علاوہ خط میں یہ بھی سوال اٹھایا گیا ہے کہ آیا امریکی انتظامیہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بارے میں کوئی شہادت اکٹھی کر سکی ہے یا نہیں۔خط میں احمدی نڑاد نے بش کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے گریبان میں جھانکیں کیونکہ دنیا میں امریکہ کے خلاف نفرت بڑھ رہی ہے اور تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ ’ظالم اور جابر حکومتیں قائم نہیں رہ سکتیں‘۔خط میں امریکی صدر سے سوال کیا گیا ہے کہ ’کب تک معصوم لوگوں، عورتوں اور بچوں کا خون گلیوں میں بہایا جاتا رہے گا اور لوگوں کی چھتیں ان کے سروں پر تباہ کی جاتی رہیں گی؟ کیا آپ دنیا کے موجودہ حالات سے خوش ہیں؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ موجودہ پالیسیاں جاری رہ سکتی ہیں؟‘صدر احمدی نژاد سے ملتہ جلتی سوچ متعدد امریکیوں کے بھی دل کی آواز ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ امریکی صدر برائی کی جڑ ہیں نہ کہ چند ایشیائی ممالک برائی کا محور ہیں اور اب امریکی صدر کو چاہیے کہ وہ اپنی روش تبدیل کر دیں۔معروف امریکی تاریخ دان شیان ویلزنیٹ کےمطابق صدر بش امریکی تاریخ کے بدترین صدر ہیں۔انھوںنے اپنے ایک مضمون میں امریکی تاریخ دانوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ صدر رچرڈ نکسن اور ان کے پہلے اور بعد کے امریکی صدور کے متعلق تاریخ دانوں کے مابین کیے گئے ایک سروے میں موجودہ صدر جارج ڈبلیو بش سب سے نیچے نظر آتے ہیں۔ماضی کے امریکی صدور سے مماثلت اور موازنے پر مبنی یہ مضمون ایسے وقت شائع ہوا ہے جب صدر بش کی عوام میں حمایت صرف تیس فیصد رہ گئی ہے۔تاریخ دانوں کے اس تجزیے میں صدر بش کی تاریخ کے بارے میں فہم و فراست ظاہر کرنے کے لیے ان کے اس جواب کا بھی حوالہ دیا جو انہوں نے مشہور صحافی بوب وڈورڈ کو انٹرویو کے دوران دیا تھا۔صحافی نے جب امریکی صدر سے پوچھا کہ وہ (صدر بش) اپنے لیے تاریخ میں کیا مقام دیکھ رہے ہیں، تو ان کا جواب تھا: ’تاریخ کیا ؟ ہم نہیں جانتے کہ تاریخ میں ہماری کیا جگہ ہوگی۔ ہم تب تک مر چکے ہونگے۔‘انیسویں صدی میں صدر اینڈریو جانسن جو کہ جنوبی امریکہ میں علیحدگی پسندوں سے نبرد آزما رہا تھا۔ ’جنوبی جنگ‘ کے بعد علاقے کی تعمیر نو عراق کی حالیہ تعمیر نو سے موازنہ گیا گیا ہے۔ سنہ انیس سو تیس کے سالوں کو امریکی معشیت و سماج کا سب سے بدترین دور تصور کیا جاتا تھا۔صدر ہربرٹ ہوور نے امریکی عوام کو امریکی اسٹاک مارکیٹ کی دن دوگنی رات چوگنی ترقی کی نوید سنائی تھی لیکن انکے اس بیان کے بعد سٹاک مارکیٹ کا زوال ہوا جس سے امریکہ شدید اقتصادی ڈپریشن کا شکار ہوا تھا- اسی طرح صدر اینڈریو جانسن امریکی عوام کو جنوب میں علیحدگی کی جنگ میں فتوحات کی نوید سناتے رہے تھے۔تاریخ دانوں کے اس سروے میں تین امریکی صدور، جارج واشنگٹن، ابراہم لنکن اور فرینکلن ڈی روز ویلٹ کے ادوار صدارت کو عظیم کامیابیاں قرار دیا گیا ہے-پروفیسر شیان ویلزینٹ نے امریکی صدارتی تاریخ کےد نوں کو الٹا کر کے صدر نکسن کے فرائض منصبی کو انکے استعفیٰ کے کچھ عرصے قبل امریکی عوام کی جانب سے دی ہوئی ریٹنگ کا موازنہ صدر بش سے کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر نکسن کی ریٹنگ بھی بش کی طرح گر گئی تھی۔انھوںنے اپنے اسی مضمون میں لکھا ہے کہ امریکی تاریخ میں آج تک کسی بھی صدر کی مواخدہ نہیں ہوا ہے جبکہ نکسن واحد صدر تھے جنہیں استعفیٰ دینے پر مجبور کیا گیا تھا- لیکن صدر بش کے حالیہ تیس فی صد ریٹنگ امریکی تاریخ میں کسی بھی صدر کی نہیں رہی۔’تاریخ کا بدترین صدر‘ کے عنوان سے یہ مضمون جریدے ’رولنگ اسٹون‘ کی سرورق کہانی ہے اور اسکے سرورق پر صدر بش کی سرکس کے بندر کے طور پر تصویر کشی کی گئی ہے۔’رولنگ اسٹون‘ کے ایک اور جریدے ھفت روزہ ’نیشن‘ کے سرورق میں صدر بش کو کموڈ کے اندر بٹھایا دکھایا گیا ہے اور اس پر تحریر ہے ’صدر بش اب آرام سے نہیں بیٹھ پاتے‘۔جبکہ امریکی صدر بش خود کو امریکیوں کا دہشت گردی کے حوالے سے نجات دہندہ ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہیں جیساامریکی صدر بش نے کانگریس سے اپنے سالانہ خطاب میں عراق میں امریکی اور اتحادی افواج کی کارروائیوں اور ان کے کردار کا دفاع کیا ہے۔ لیکن ان کے ناقدین کے مطابق ان کی پالیسیوں کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر ملک کی تنہائی میں اضافہ ہوا ہے۔ کانگریس میں ڈیموکریٹک پارٹی کی اہم رہنما نینسی پیلوسی نے کا کہنا تھا کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی کی وجہ سے، جس میں دوسرے ممالک کو ساتھ شامل نہیں کیا گیا، عراق اور افغانستان کی جنگ کا کل بوجھ امریکی عوام کو برداشت کرنا پڑا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ وسائل جو تعلیم اور صحت کے شعبوں میں لگنے چاہیے تھے خارجہ پالیسی پر استعمال ہو گئے ہیں۔ جبکہ امریکی صدر کہتے ہیں کہ یہ لوگ عراق میں اتحادی افواج کے کردار پر تنقید کرتے ہیں ’لیکن کئی ممالک کی افواج کی قیادت کرنا اور لوگوں کے اعتراضات تسلیم کرلینا دو مختلف باتیں ہیں اور امریکہ کبھی بھی اپنے لوگوں کے تحفظ کے دفاع کے لئے کسی سے اجازت نہیں لے گا‘۔امریکی صدر نے امریکیوں پر زور دیا ہے کہ وہ ’دہشتگردی‘ کے خلاف نامکمل جنگ میں ان کا ساتھ دیں۔صدر بش کا کہنا تھا کہ امریکہ میں چند حلقے عراق جنگ کے خلاف تھے تاہم اگر یہ جنگ نہ ہوتی تو صدام حسین کے وسیع تباہی کے ہتھیاروں کا پروگرام آج بھی جاری ہوتا۔انہوں نے کہا کہ امریکی افواج دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی تعیینات ہیں وہ مظلوم افراد کے لئے امید کا پیغام ہیں، دہشتگردوں کو انصاف پر مبنی سلوک مہیا کررہی ہیں اور امریکہ کو مزید محفوظ بنا رہی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد بھی امریکی یہ نہیں سوچ سکتے کہ خطرہ ٹل چکا ہے۔ بلکہ یہ خطرات مزید بڑھ چکے ہیں جنہیں ختم کرنے کیلئے جس حد بھی جانا پڑے وہ امریکہ اور امریکیوں کیلئے جانے کیلئے تیار ہیں کیونکہ انھیں امریکہ کے مفادات عزیز ہیں ناکہ دیگر خطوں کی۔اسی لئے امریکہ نے ان دہشتگردوں کے خلاف جارحانہ رویہ اختیار کیا ہوا ہے جنہوں نے ہمارے جنگ شروع کی تھی۔صدر بش نے کانگریس سے کہا ہے کہ امریکی قیادت کے باعث دنیا بدل رہی ہے۔اور جب تک مشرق وسطٰی میں عامریت، استعال اور بے چینی رہے گی، یہ خطہ ایسے افراد اور تحریکیں پیدا کرے گا جو امریکیوں اور ان کے دوستوں کے لئے خطرے کا باعث ہوں گی۔ تب تک ہم بھی اپنا کام کرتے رہیں گے کیونکہ ہمیں اپنے مفادات عزیز ہیں اور ہم ان کی حفاظت اور ان کی نگرانی کرتے رہیں گے اور یہی وجہ ہے کہ ایران کے صدر کی طرف سے خط کے ذریعے امن کے پیغام کو امریکہ نے مسترد کر دیا ہے اور وائٹ ہاو¿س نے کہا ہے کہ وہ ایرانی صدر محمود احمدی نڑاد کے خط کا کوئی باضابطہ جواب نہیں دیا جائے گاکیونکہ اس خط سے ایران کے بارے میں دنیا کے خدشات ختم کرنے میں کوئی نہیں ملے گی۔وائٹ ہاو¿س کے ترجمان نے کہا کہ اس خط میں دنیا کے ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں خدشات کو دور کرنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی ہے جو اپنی جگہ برقرار ہیں۔ایرانی صدر نے یہ خط تہران میں سوئٹزرلینڈ کے سفارت خانے کے ذریعے امریکہ کو بھیجا اور یہ 1979 کے بعد کسی ایرانی صدر کی طرف سے امریکی ہم منصب کے ساتھ پہلی خط و کتابت ہے۔ایران کا خیال تھا کہ اس خط سے دنیا کے معاملات کو ٹھیک کرنے میں کسی حد تک ضرور مدد ملے گی لیکن ایران کے اس خیال کو امریکہ نے فوراً مسترد کر دیا۔وائٹ ہاو¿س کے ترجمان سے جب پوچھا گیا کہ کیا امریکی صدر نے خود ایرانی صدر کا خط پڑھا ہے یا نہیںتو انہوں نے کہا کہ وہ صرف خط موصول ہونے کی تصدیق کر سکتے ہیں مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ امریکی صدر نے خود خط پڑھا ہے یا نہیں۔ایران کے حکومتی ترجمان غلام حسن الہام کے مطابق
اس خط میں بین الاقوامی حالات کا جائزہ لیا گیا ہے اور دنیا کے موجودہ سیاسی حالات اور مسائل کے حل کی نئی تجاویز بھی دی گئی ہیں۔مگر امریکہ اور یورپ دنیا کے معاملات کو اپنی عینک سے دیکھتے ہیں اور وہی کچھ کرتے ہیں جو ان کے مفادات کے قریب ہو۔امریکہ اور اس کے حلیف یورپی ممالک کے اس رویے کے تناظر میںایرانی پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ اگر مغربی دباو¿ برقرار رہتا ہے تو حکومت ایٹمی عدم پھیلاو¿ کے معاہدے سے الگ ہو جائے۔یہ دھمکی اس وقت دی گئی ہے جب ایک روز بعد سلامتی کونسل کے ارکان ایران کے بارے میں ایک سخت قرارداد کے مسودے پر بحث شروع کرنے والے ہیں۔تہران کی اس دھمکی کے بارے مبصرین کا کہنا ہے کہ ایٹمی عدم پھیلاو¿ کے معاہدے سے علیحدگی کی دھمکی کا مطلب یہ ہے کہ ایران نے عدم تعاون کا حتمی اعلان کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کوفی عنان کے نام لکھے جانے والے ایک خط میں ایرانی پارلیمنٹ نے کہا ہے کہ اگر اس معاملے کا پرامن حل نہیں نکالا جاتا ’تو حکومت کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں رہتا کہ وہ حکومت سے معاہدے سے تعلق ختم کرنے کے لیے کہے‘۔اس کی گونج صدر احمدی نزاد کے اس بیان میں بھی سنائی دیتی ہے۔ جس میں انہوں نے کہا ہے کہ اگر عدم پھیلاو¿ کا معاہدہ قوموں کے حقوق کا تحفظ نہیں کر سکتا تو اس کیا اہمیت ہے۔عدم پھیلاو¿ کے معاہدے سے علیحدگی کے لیے تین ماہ کا نوٹس درکار ہوتا ہے اور اس کے بعد باقی دنیا کو کوئی علم نہیں ہو سکے گا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام کس مرحلے میں ہے یا ایران کیا کر رہا ہے۔چنانچہ ایسے میں امریکہ اور یورپ جو خود کو دنیا میں امن کا چیمئین کہتے ہیں وہ اس امن کے موقع کو ضائع نہ کریں مگر بعض مبصرین کے مطابق امریکہ اور اس کے ساتھی امن کی طرف جانا ہی نہیں چاہتے کہ جس میں انھیں کسی دوسرے ملک خصوصاً اسلامی ملکوں کو اپنے خود ساختہ مفادات سے بڑھ کر مراعات دینا پڑیں۔اسی تناظر میں اوآئی سی کے مبصر اور سیاسی و سفارتی امور کے ماہرفیصل محمد نے ایک غیر ملکی خبر رساںادارے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا اسرائیل امریکہ پر اپنا دباو¿ بڑھا رہا ہے تاکہ وہ ایران امریکہ کے درمیان ہونے والی ہر قسم کی بات چیت کا راستہ روک سکے ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے امریکہ پر دباو¿ بڑھانے کا مقصد امریکہ کی طرف سے ایران کے ساتھ مسئلے کے ہر قسم کے حل کا راستہ روکنا ہے کیونکہ اسرائیلی وزیر اعظم کا بھی یہی کہنا ہے کہ ایک مضبوط ایران اسرائیل کےلیئے خطرہ ثابت ہوگا۔ایرانی صدر احمدی نڑاد کے بش کو ارسال کردہ خط کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ایرانی صدر نے امریکہ کو ایران کے پر امن لائحہ عمل کے مطابق مذاکرات کرنے کی بات کی تھی ۔انھوں کا کہنا ہے کہ جیسا دینا کا خیال تھا کہ امریکہ اس خط کو مسترد کر دے گا ویسا ہی امریکہ نے کیا تاہم ایران نے یہ خط لکھ کر اپنی طرف سے اتمام حجت کر دیا ہے اب اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے وہ وقت ہی بتائے گا۔

Published

04-07-2006

امریکا کے صدر کو خط” پر ایک خیال

  1. پنگ بیک: My Stories » Blog Archive »

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s