تیل کی خاطر جنگیں


منصور مہدی

دنیابھر میں تیل کی پیداوار میں کمی اور کھپت میں اضافہ کے باعث پٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں ۔گذشتہ دو برسوں میں عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمت 75ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے۔دنیا کے تیل پیدا کرنے والے خطوں میں جنگوں کے باعث امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال نے بھی سستے تیل کا حصول بہت مشکل بنا کر رکھ دیا ہے۔اقتصادی ماہرین نے ایندھن کے متبادل ذرائع کی تلاش تیز کر دی ہے اور ان حقائق کا اظہار مشہور زمانہ عالمی جریدے نیشنل جیوگرافک نے اپنی حالیہ اشاعت سستے تیل کا خاتمہ کے عنوان سے اپنی ایک رپورٹ میں کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکہ کی 48ریاستوں میں تیل کی پیداوار زبردست متاثر ہوئی ہے اور1970کے مقابلے میں خام تیل کی پیداوار نصف رہ گئی ہے۔الاسکا کی پٹی اور یورپی دریا کے شمالی حصے جو بیس سال قبل تیل کی پیداوار کے حوالے سے پہچانے جاتے تھے اب ان علاقوں کی پیداوار انتہائی کم ہو چکی ہے۔مشرقی وسطی جو ہمیشہ سے تیل کے حصول کا بڑا ذریعہ رہا ہے جنگوں اور بد امنی کے باعث نہ صرف یہ خطہ بلکہ نائیجریا ،ونزویلا، افریقہ اور یورپ بھی متاثرہ علاقوں میں شامل ہو چکے ہیں۔
دنیا کے مشہور اور تیل پیدا کرنے والے بڑے خطوں میں تیل کی پیداوار میں کمی اور اس کے نتیجے میں قیمتوں میں اضافے کا بڑا اختیار تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک (Opec)کے پاس ہے۔ اس تنظیم کی طرف سے تیل کی پیداوار میں ردوبدل کے باعث گذشتہ دو سالوں میں تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں 50فیصد کے قریب اضافہ ہو چکا ہے جو 22ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 32ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے۔
دنیا بھر میں آبادی کے بڑھنے کے ساتھ ہی تیل کی کھپت میں اضافہ ایک فطری امر ہے۔دنیا بھر میں اس وقت آٹھ کروڑ بیرل تیل روزانہ نکالا جا رہا ہے اور دوسری طرف پوری دنیا میں امریکہ اس یومیہ تیل کی پیداوار کا 25فیصد استعمال کر رہا ہے جبکہ امریکہ کی آبادی دنیا کی آبادی کا صرف5فیصدہے یاد رہے کہ امریکہ میں ہر آدمی روزانہ تین گیلن پٹرول استعمال کرتاہے ۔امریکہ میں تیل کی پیداوار میں اضافہ کے لئے ایک جامع پروگرام کے تحت 25نئے کنووں کی کھدائی کی جائے گی اس سلسلے میں پہلا کنواں میکسیکو کے سمندر میں دو ہزار فٹ گہرائی تک کھودا جائے گا۔ماہرین نے تخمینہ لگایا ہے کہ اس جگہ پر سمندر کے نیچے مجموعی طور پر ایک بیرل تیل موجود ہے جو کہ امریکہ میں گذشتہ 30سالوں کے درمیان دریافت ہونے والی سب سے بڑی آئل فیلڈ ہے جو کہ سعودی عرب میں واقع تیل کے کنووں کے برابر ہے۔ ایک پٹرولیم ماہر کا کہنا ہے کہ مذکورہ 25کنووں کی کامیاب کھودائی کے بعد ہم اس پوزیشن میں ہو گے کہ ہر کنوئیں سے دس ہزار بیرل تیل یومیہ لے سکیں۔انھوں نے کہا کہ 1970تک امریکہ اپنی ضروریات کا دو تہائی تیل خود پیدا کرتا تھا لیکن 1978کے بعد سے تیل کی پیداوار میں کمی اور کھپت میں اضافہ کے باعث اسے بیرونی دنیا پر انحصار کرنا پڑا ۔امریکہ میں تیل پیدا کرنے والی ٹیکساس ریل روڈ لیمیٹڈ نے اس وقت تیل کی پیداوار میںکمی کی تاکہ ان کی قیمتوں میں استحکام لایا جا سکے۔1970کی دہائی میں امریکہ میں تیل کا بحران شدت اختیار کر گیا جب تیل پیدا کرنے والے عرب ممالک نے تیل بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے اسرائیل کی حمایت کرنے پر 1973میں امریکہ کو تیل کی سپلائی روکنے کی دھمکی دی۔جس سے بہت سے امریکیوں کو عرب تیل کی رسد کی اہمیت کا سبق ملا۔اس وقت امریکہ نے تیل کی قلت کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنے ملک میں ایندھن کی بچت مہم کو فروغ دیتے ہوئے گاڑیوں کی حد رفتار55میل فی گھنٹہ کر دی اور چھوٹی جاپانی اور یورپین گاڑیوں کی فروخت بڑھی۔1981میں انقلاب ایران کے بعد ایران نے دنیا بھر میں اپنے تیل کی برآمدات روک دیں جس سے امریکہ سمیت دنیا کی معیشت کو شدید دھچکا لگا اس وقت تیل کی فی بیرل قیمت10ڈالر تک پہنچ گئی اور امریکہ میں تیل کی کھپت 1978کے مقابلے میں15فیصد کم ہو گئی جس کے باعث خلیج فارس ،الاسکا اور میکسیکو میں تعمیراتی منصوبوں کو زبردست دھچکا لگا ۔ امریکہ ماہر کے مطابق 1980کی دہائی میں تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کی گرفت تیل کی منڈی پر ڈھیلی پڑ گئی اور دنیا کی تیل مارکیٹ میں ان کی طرف سے تیل کی پیداوار 55فیصد سے کم ہو کر30فیصد رہ گئی جس کی وجہ سے پٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا گیا۔
تیل کی متوقع قلت کے پیش نظر ماہرین نے نئے ذخائر کی تلاش کے ساتھ متبادل ذرائع کی پیدایئش پر غور شروع کر دیا ہے تفصیلات مطابق افریقہ کے ریگستان صحارہ میں 37 ارب ڈالر کی لاگت سے ملک چاڈ میں کئی ارب بیرل کی حامل دوبا آئل فیلڈ تعمیر کی گئی ہے جس میں زیادہ تر تیل امریکہ کو برآمد کیا جا رہا ہے ماہرین کے مطابق یہ ذخائر 2003 ءمیں دریافت کئے گئے اور یہاں مجموعی تخمینے کے مطابق تیس سے پچاس ارب بےرل تیل موجود ہے انہوں نے کہا کے تیل کے یہ ذخائر کیمرون چاڈ نائیجریا انگولا اور دوسرے افریقی ملکوں تک پھیلے ہوئے ہیں روس اور دیگر آزاد ہونے والی وسطی ایشیائی ریاستوں میں بھی بے پناہ ذخائر موجود ہیں بحیرہ کیسپین کے ساتھ کاشامان کے علاقے میں ایک ارب سے لیکر 33 ارب بیرل تیل کے ذخائر موجود ہیں لیکن ان ذخائر کے سلفائید اور دیگر گیسں بھی موجود ہیں جن کو نکالنے کے لئے خصوصی ٓلات کی ضرورت ہے جبکہ وہاں کا سمندری پانی بھی شدید سرد ہے جہاں عام جہازوں کی رسائی بھی ممکن نہیں ماہرین کے مطابق تیل اورگیس کے یہ ذخائر ایک اور مشرقی وسطی ثابت ہو سکتے ہیں کیمرج انرجی ریسرچ اسیوسی ایٹس میں کام کرنے والے روسی ماہر میٹ سیگرز کا کہنا ہے کہ روس اس وقت دنیا کا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے اور اس حساب سے وہ سعودی عرب سے آگے نکل چکا ہے انہوں نے کہا کہ روس نے یہ اعزاز 2003 ءمیں حاصل کیا ہے اور ابھی تک 90 لاکھ بیرل یومیہ آگے ہے انہوں نے اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہا 1990 ءکے بعد وہاں کام کرنے والا آئل کمپنیوں نے اپنے آپ کو جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس کر لیا ہے انہوں نے کہا کہ روسی تیل کی پیداوار میں ہر سال 20 % اضافہ ہو گا اس وقت روس 90 لاکھ بیرل یومیہ کی پیداوار میں سے دو تہائی برآمد کر رہا ہے ماہرین نے روسی تیل کے ذخائر کا تخمینہ ایک کھرب بیرل لگایا ہے کینڈاکے صوبے البرٹا میں تیل کے ذخائر کا تخمینہ 1.74 کھرب بیرل لگایا گیا ہے ماہرین کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں تیل کی دستیابی کینڈا کو سعودی عرب کے ہم پلہ کھڑا کر دے گی 1911 ءمیں کیلفورنیا کے جنوب میں بیلرج آئل فیلڈ اب تک ایک ارب بیرل سے زائد تیل پیدا کر چکی ہے اس علاقے میں مجموعی طور پر دس ہزار و سو کنویں کھودے گئے ہیں ان کنویں کی مدت اگلے کئی سال ہے لیکن یہاں پیداوار بتدریج کم ہو رہی ہے ٹکساس کی حکومت پندرہ سو تیل کے کنوﺅں کی کھدائی کے لیے بارہ ملین ڈالر خرچ کر رہی ہے 2025ءتک چین تیل کھپت کے حوالے سے دنیا کا سب سے بڑا ملک بن جائے گا اس بات کا انکشاف تیل کی قلت کے حوالے سے ایک عالمی رپورٹ میں کیا گیا ہے تفصیلات کے مطابق چین آبادی کے لحاظ سے چین دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے ایک دہائی قبل چین میں موٹر گاڑیوں کی بجائے سائیکل استمعال کرنے کا رجان بہت زیادہ تھا لیکن صرف گزشتہ ایک سال کے دوران گاڑیوں کی تعداد میں 2002ءکے مقابلے میں70 فیصد اضافہ ہوا ہے اس عرصہ میں چین کی سڑکوں پر بیس لاکھ گاڑیوں کااضافہ ہوا ہے جسکی بنیادی وجہ چین میں کاروباری نشو نما ہے چین میں 1984 ءمیں پہلی نجی کار سڑک پر آئی تھی جبکہ اس وقت اسکے ارد گرد سائیکلوں کا جم غضیر ہوتا تھا لیکن اس وقت چین میں کوئی سڑک ایسی نہ تھی جہاں نئے ماڈل کی گاڑیاں رواں دواں نہ ہوں چین میں اس وقت گاڑیوں کی تعداد ایک کڑور کے قریب ہے جبکہ صرف بیجنگ میں گاڑیوں کی تعداد بارہ لاکھ ہے۔جس میں صرف ایک تہائی گاڑیاں بی ایم ڈبلیو اور رولز رائس ہیں۔سال 2002میں دستیاب اعداد و شمار کے مطابق چین اور جاپان 1935ملین بیرل تیل کی کھپت کے ساتھ دورے نمبر پر ہیں اور ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت چین تیل کے استعمال کے حوالے سے جاپان سے آگے جکل چکا ہے۔ماہرین نے تخمینہ لگایا ہے کہ 2025میں چین روزانہ ایک کروڑ بیرل تیل استعمال کر کے دنیا میں تیل استعمال کرنے والا سب سے بڑا ملک بن جائے گا ۔جس کی زیادہ مقدار بیرون دنیا سے درآمد کی جائے گی۔ دنیا بھر میں تیل کے حوالے سے سعودی عرب ابھی تک پہلے نمبر پر ہے دوسری طرف حیرت انگیز طور پر ایران دوسرے نمبر پر آگیا ہے اس سے پہلے عراق کو تیل کے ذخائر کے حوالے سے دوسرے نمبر پر سمجھا جاتا تھا یاد رہے اس وقت دنیا میں روزانہ آٹھ کڑور بیرل تیل نکالا جا رہا ہے جسکا گوشوارہ علیحہدہ دیا جا رہا ہے جس دنیا کے مختلف تیل نکالے جانے والی مقدار پوزیشن اور مجموعی ذخائر کا جائزہ پیش کیا جا رہا ہے گزشتہ تین دہایوں میں تیل کی پیداوار میں کمی کے باعث امریکہ بیرونی دنیا کا محتاج ہو کر رہ گیا ہے بین الاقوامی رپورٹ ے مطابق 1970 ءمیں امریکہ میںتیل کی پیداوار تین ارب بیرل سالانہ سے زائد تھی لیکن 2002 ءمیں یہ پیداوار 33 فی صد کم ہوکر دو ارب بیرل سالانہ ہوگئی ہے ۔ دوسری طرف 2002 ءامریکہ میں سالانہ تیل کی کھپت 7ارب 19کروڑ 10لاکھ بیرل سالانہ ہے جس کو پورا کرنے کے لئے وہ بیرونی دنیا محتاج ہے۔ماہرین نے تخمینہ لگایا ہے کہ چونکہ امریکہ میں تیل کی پیداوار میں مسلسل کمی ہو رہی ہے اور یہی رجحان جاری رہا تو 2025ءمیںپیداوار اور کھپت میں فرق 8.25رب بیرل تک پہنچ جائے گا۔امریکہ اس وقت دنیا میں تیل کی کھپت کے حوالے سے پہلے نمبر پر ہے۔تیل کی کھپت کے حوالے سے ایک عالمی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2002کے دستیاب اعدادوشمار کے مطابق امریکہ میں اس وقت مجموعی طور سات ارب انیس کروڑ دس لاکھ بیرل تیل سالانہ استعمال کیا جا رہا ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے اس کے علاوہ چین اور جاپان ایک ارب 93کروڑ 50لاکھ بیرل تیل استعمال کرتے ہیں جبکہ روس 98کروڑ 50لاکھ بیرل تیل کے استعمال سے تیسرے نمبر پر ہے اور جرمنی 94کروڑ 90لاکھ بیرل کے ساتھ چوتھے نمبر ہے۔2002ءمیں دیے گءاعدادوشمار کے مطابق روس تیل کی پیداوار کے حوالے سے سب ے آگے ہے جس کی سالانہ تیل کی پیداوار 2ارب 70کروڑ 30لاکھ بیرل ہے جبکہ دوسرے نمبر پر سعودی عرب ہے جہاں پر2ارب 50کروڑ بیرل تیل نکالا جاتا ہے اور اس حوالے سے تیسرے نمبر ہے یہاں سے 2 ارب 25کروڑ 20لاکھ بیرل سالانہ تیل نکلتا ہے اور امریکہ 2ارب 9کروڑ 70لاکھ بیرل تیل کے ساتھ چوتھے نمبر ہے جبکہ چین 1ارب 24کروڑ 30لاکھ بیرل کے ساتھ پانچویں نمبر ہے ۔اب سعودی عرب کے تیل کے ذخائر کم ہونا شروع ہو گئے ہیں اور بعض کنوﺅں سے تیل کی بجائے پانی کا نکلنا ان کی مدت کے خاتمہ کی علامتیں ہیں۔2020ءتک خلیج فارس (ایران ) عالمی منڈی میں دنیا کو دو تہائی تیل برآمد کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار پٹرولیم ماہرین نے سستے تیل کے خاتمے کے موضوع پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا ہے ۔ ہاوسٹن انرجی انوسٹمنٹ ایڈوائزری بینک سمینز انیڈ کیمپنی کے صدر میتھیو سمنز نے کہا کہ ہم سب کے ذہنوں میں یہ احساس شدت پکڑتا رہا ہے کہ سعودی عرب کے پاس تیل کے وسیع ذخائر موجود ہیں لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے کیونکہ گزشتہ کئی دہائیوں سے وہاں کوئی آئل فیلڈدریافت نہیں ہوئی ہے انہوں نے سعودی عرب کے بارے میں دستیاب ٹیکنیکل رپورٹوں کے حوالے سے بتایا کہ مشکلات بڑھ رہی ہے ۔ انہوںنے بتایا کہ جب کسی کنویں سے تیل کی بجائے پانی نکلنا شروع ہو جائے تو سمجھ لینا چاہیے کہاس کی مدت پوری ہو چکی ہے اور سعودی عرب میں بھی ایسا ہو رہا ہے دوسری طرف یونایٹیڈسٹیٹس جیالو جیکل سروے کے مطابق دنیا میں اس وقت پچاس فیصد تیل باقی رہ گیا ہے جس کا بڑا حصہ مشرقی وسطی میں موجودہے سروے کے مطابق ابھی بہت سے ذخائر مزید دریافت ہونا باقی ہیں امریکی حکومت کے ادارے انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہااگلے بیس سالوں میں خلیج فارس کا علاقہ عالمی منڈی میںدو تہائی تیل برآمد کرے گا یاد رہے کہ 1973ءسے پہلے دنیا میں تیل کی پیداوار اور برآمدات مذکورہ علاقے سے اسی تناسب سے ہوتی تھیں ۔ تیل کے ذخائر میں روز افزوں ہونیوالی کمی کے باعث تیل کی بڑھتی ہوئی قمیتوں نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے ماہرین کے مطابق اب یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ تیل کی عالمی پیداوار کب عروج پر پہنچے گئی یا تیل کی پیداوار کا نقطہ عروج گزر چکا ہے اسکے بارے میں مختلف عالمی تحقیقی اداروں نے مختلف آراءکا اظہار کیا ہے اوک رج نیشنل لیبارٹی کے ڈیوڈ گرین نے برطانوی ارضیاتی ادارے کیمپ بیل کی تحقیق کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا میںتیل کی پیداوار یورپ اور افریقہ میں 2016 ء مین عروج پر پہنچ جائے گئی جبکہ مشرقی وسطی میں تیل کی پیداوار کا یہی عروج 2006 ءمیں ہو گا دوسری طرف امریکی جیالو جیکل سروے کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے گرین نے کہا ہے کہ تیل کی پیداوار 2040 ءمیں اپنے عروج کو پہنچے گئی دنیا میںاس وقت تیل کی پیداوار کے سلسلے مشرقی وسطی پر انحصار کیے ہوئے ہیں لیکن دوسرے ماہرین نے کہا ہے گرین کے تجزیے سے صورتحال حوصلہ افزائی ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ اس سے ایک بات واضع ہوئی ہے کہ دنیا اب تیل کی قلت پر قابو پانے کے لیے کوششیں تیز کرنے پر متفق ہو چکی ہے کیونکہ وقت تھوڑا رہ گیا ہے ۔ 

Published

11-07-2006

تیل کی خاطر جنگیں” پر ایک خیال

  1. پنگ بیک: My Stories » Blog Archive »

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s