انسان کا سفر


منصور مہدی

انسان کے سفر کی داستان بڑی دلچسپ اور حیرت زدہ ہے۔جب لاکھوں کروڑوں سال قبل پہلا انسان اس روئے زمین پر آیا تو زمین اس کیلئے اجنبی تھی ۔یہاں پر پہاڑ، سمندر، گہری کھائیاں ،دریا ، ندی نالے تھے اور کہیں پر خشک زمین اور کہیں دور دور تک صحرا تھے۔گھنے جنگلوں میں مختلف قسم کے جانور اور باغات میں پھل اور پرندے تھے۔ زمین پر بارشیں بھی ہوتی اور شدید نوعیت کے طوفان بھی آتے ۔لیکن یہ انسان اس زمین کو دیکھنے اور اپنی منزل کی تلاش میں اجنبی راہوں پر چل نکلتا ہے۔جب زمین پر موجود تمام دنیا وہ گھوم لیتا ہے ۔گہرے سمندروں کی تہوں اور بلند پہاڑوں کی چوٹیوںپر بھی اپنی منزل نظر نہیں آتی تو زمین سے باہر فضاﺅں اور خلاﺅں کے اجنبی راستوں پر چل نکلتا ہے۔ساٹھ کی دہائی میں جب پہلی بار چاند پر انسان پہنچا تو تمام دنیا میں ایک حیرت سے اس عمل کو سراہا گیا۔یہ جگہ بھی انسان کیلئے اجنبی تھی مگر اب چاند اور اس سے بھی دور واقع ستارے اور سیارے اس کی دسترس میں ہیں۔اب تو چاند پر جانا بھی ایک ایسا ہی سفر بن جائے گا کہ جیسے دنیا میں ایک خطے سے دوسرے خطے تک۔سپیس ایڈونچرز نامی ایک کمپنی نے پہلی بار اکتوبر 2005میںایک امریکی شہری ڈینس ٹیٹو کو خلا میں بھیجا تھا جبکہ اب مزید دو سیاحوں کو چاند کی سیر کروانے کے انتظام کر رہی ہے ۔ اس کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ 2008 میں دو سیاحوں کو چاند کے سفر پر بھیجے گی۔ یہ سفر دس سے بارہ دن کا ہوگا اور اس کا خرچ صرف دس کروڑ ڈالر ہوں گے۔ کمپنی اپنے اس منصوبہ پر روسی خلائی ادارے کے ساتھ مل کر کام کرے گی اور روسی خلائی جہاز سویوز پر سفر کرائے گی۔یہ خلائی جہاز راستے میں انٹرنیشنل سپیس سٹیشن پر بھی کچھ دیر ٹھہرے گا اور ریفرشمنٹ کے یہ چاند کی جانب اپنی پرواز شروع کرے گا ۔خلائی جہاز چاند پر پہنچ کر وہاں اترے گا نہیں بلکہ مسافر جہاز سے ہی چاند کی سطح دیکھ سکیں گے۔کمپنی کا کہنا ہے کہ کئی افراد نے اس منصوبے میں ابھی سے اپنی دلچسپی ظاہر کر دی ہے جبکہ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو ایرِک اینڈرسن کا کہنا ہے کہ ایسے لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے جو اس قسم کے سفر پر اتنی رقم خرچ کرنا چاہتے ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے کم سے کم ایک ہزارایسے افراد موجود ہیں جو اس چاند کے سفر کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ چار سال پہلے خلا کے سفر پر جانے والے شخص ڈینس ٹیٹو البتہ ان چاند کے مسافروں میں شامل نہیں کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ وہ دوبارہ اس سفر پر اس لیے نہیں جائیں گے کہ اب ان کی عمر زیادہ ہو چکی ہے اور وہ پینسٹھ سال کے ہو گئے ہیں۔ابھی چند ماہ قبل بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر رہائش پذیر دو خلابازوں نے اپنے مشن کے دوران خلا میں پہلی بار چہل قدمی کی ہے۔لیرائی چیاو¿ اور سلیزان شری پوو نامی خلاباز خلائی سٹیشن کے بیرونی حصے پر نئے ہارڈوئیر کی تنصیب کے لیے باہر نکلے تھے ۔ان خلا بازوں نے اس دوران بین الاقوامی خلائی سٹیشن کے نظامِ اخراج میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کو دور کیا۔خلاباز بدھ کو برطانوی وقت کے مطابق صبح سات بج کر چالیس منٹ پر سٹیشن سے باہر آئے اور وہ ساڑھے پانچ گھنٹے تک خلا میں موجود رہے۔اس بارے میں روسی خلائی مشن کے ترجمان ولیری لنڈن کا کہنا ہے کہ خلائی لباس پہننے میں ہونے والی تاخیر کی بنا پر خلابازوں کی چہل قدمی انیس منٹ کی تاخیر سے شروع ہوئی تھی جبکہ روسی خلائی مشن کا دیگر عملہ خلائی سٹیشن کے سٹبلائزر کی کارکردگی جانچتے رہے تاکہ اس بات کا پتہ چلایا جا سکے کہ خلا بازوں کی حرکت سے کہیں سٹیشن کے نظام پر زیادہ دباو¿ تو نہیں پڑ رہا۔کیونکہ اگست 2004 میں خلا بازوں کی ایک ایسی ہی چہل قدمی کے دوران خلائی سٹیشن کے کچھ پرزوں نے زیادہ دباو¿ پڑنے کے بعد کام کرنا بند کر دیا تھا۔اس بندش کے نتیجے میں بیس منٹ تک خلائی سٹیشن کی کارکردگی متاثر ہوئی تھی۔جبکہ دسمبر 2004 میں بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر خوراک کی کمی کے نتیجے میں ہنگامی طور پر ایک روسی خلائی جہاز کے ذریعے 24دسمبر 2004کو خوراک روانہ کی گئی جو دو روز بعد 26دسمبر 2004کو خلائی سٹیشن پر پہنچ گئی ۔ چاند پر تحقیقات کا عمل ابھی جاری ہے امریکہ اور روس کے بعد یورپی یونین اور چین بھی اپنے اپنے خلائی مشن پر کام کر رہے ہیں جبکہ بھارت اور پاکستان بھی خلائی سفر کیلئے اپنے ابتدائی کام کا آغاز کر چکے ہیں۔بھارت تو امریکہ کے ساتھ مل کر ایک منصوبے پر کام کر رہا ہے جس کے تحت امریکہ اور بھارت چاند پر مشترکہ تحقیق کریں گے اور اس سلسلے میں دونوں ملکوں کی خلائی ایجنسیوں کے مابین مئی 2006میں ہونے والے ایک معاہدے کے تحت بغیر خلابازوں کے جانے والے اس بھارتی مشن میں امریکی ادارہ چند آلات بھی نصب کرے گا۔ اس مشن کا نام چندریان ون ہے جسے دو سال کے عرصے میں اپنی منزل کی جانب روانہ ہونا ہے۔ بھارتی حکام اسے ایک اہم سنگ میل قرار دیتے ہیں۔امریکی ادارے ناسا کی جانب سے لگائے جانے والے آلات چاند پر برف اور معدنیات پر تحقیق کریں گے۔ ناسا کے سربراہ مائیکل گرفن نے بھارت کے اس منصوبے کو بہت متاثر کن کامیابی قرار دیا اس خلائی مشن میں یورپی خلائی ایجنسی اور بلغاریہ کی ایجنسی بھی دلچسپی لے رہی اور وہ بھی اس جہاز پر آلات نصب کرنا چاہتے ہیں۔
بھارتی خلائی تحقیقاتی ادارے اسرو کے سربراہ مدھاون نیر نے ناسا کے سربراہ مائیکل گرفن کے ساتھ بنگلور میں اس معاہدے پر دستخط کئے تھے۔ مائیکل گرفن نے کہا کہ ’یہ چاند کی تحقیق کے لیئے ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس سے چاند کی تاریخ اور ارتقاءکے متعلق معلومات میں اضافہ ہو گا ور چاند کی مٹی سے حاصل ہونے والی معلومات کی روشنی میں مزید تحقیق کے بارے میں فیصلے کئے جائیں گے۔
دوسری طرف امریکی خلائی ادارے ناسا نے ہماری نظام شمسی کے شاید آخری سیارے پلوٹو کے لیے اپنا پہلا مشن نیو ہورائزنز روانہ کیا ہے۔ یہ خود کار خلائی مشن 10 جنوری2006کو فلوریڈا میں واقع کیپ کاناویرل سے روانہ ہوا۔ توقع ہے کہ مشن پانچ ارب کلومیٹر کا یہ سفر نو سال میں طے کرے گا اور وہاں پہنچ کر یہ اس سیارے کے بارے میں اہم معلومات حاصل کرے گا۔اس سے پہلے ریاست فلوریڈا اور اس کے گرد و نواح میں خراب موسم اور طوفانی ہواو¿ں کی وجہ سے مشن کی روانگی میں دو بار تاخیر بھی ہوئی لیکن بالآخر جمعرات کو اسے فلوریڈا سے روانہ کر دیا گیا۔مشن کی روانگی کے لیے تین فروری2006 تک کا وقت مقرر کیا تھا کیونکہ اس کے بعد مشن کے شروع کیے جانے کی صورت میں سفر کے مدت میں پانچ سال کا اضافہ ہوجاتا جس سے مشن کے ناکام ہونے کے امکانات بھی بڑھ جاتے۔کیونکہ3فروری کے بعد سیاروں کی گردش کی وجہ سے زمین اور پلوٹو کے درمیان فاصلہ بڑھنا شروع ہو جاتا اور کئی دیگر ستارے اور سیارے اس مشن کی راہ میں آتے جن سے بچ نکلنے کیلئے مزید5سال لگ جاتے۔پلوٹو نظام شمسی کے سیاروں میں وہ واحد سیارہ ہے جس پر ابھی تک کوئی خلائی جہاز نہیں گیا تھا۔ خلائی جہاز یا شٹل کو ایک راکٹ کے ساتھ بھیجا گیا جس کے راکٹ سے علیحدہ ہونے کے بعد شٹل کو میری لینڈ میں موجود لیبارٹری سے کنٹرول کیا جا رہا ہے۔ستر کروڑ ڈالر کی لاگت سے کی جانے والی اس تحقیق کا مقصد پلوٹو اور اس کے چاندوں کے متعلق معلومات اکٹھی کرنا ہے تاکہ اس کے بعد نظام شمسی میں موجود دیگر اجسام کے بارے میں بھی تحقیق کی جاسکے۔اس سلسلے میں ناسا کے منتظم ڈاکٹر مائیک گرفن کا کہنا ہے کہ اس مشن کے ساتھ ہم ا س سیارے کی نشاط ثانیہ کی طرف چل پڑے ہیں جو خلائی تحقیق کے دور میں داخل ہونے کے بعد سے آخری سیارے کے طور پر جانا جاتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس کے بعد بھی یعنی بہت دور ہم نے دیگر بڑے خلائی اجسام بھی دریافت کیے ہیں اور اب اس بات پر بحث ہو رہی ہے کہ آیا پلوٹو واقعی ایک سیارہ ہے اور اگر ہے تو کیا یہ نظام شمسی کا آخری سیارہ ہے؟کیونکہ کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ پلوٹو برف کا ایک بڑا ٹکڑا ہے جو ’کیوپر بیلٹ‘ کے خطے میں واقع ہے۔ نیپچون سیارے کے بعد کا یہ خطہ برف کے لاکھوں بڑے بڑے ٹکڑوں کا مجموعہ ہے اور اس علاقے کا رقبہ زمین اور سورج کے درمیانی فاصلے سے پچاس فیصد زیادہ ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ پلوٹو جڑواں سیاروں کا ایک حصہ ہے جس کا دوسرا حصہ چیرن ہے۔ چیرن پلوٹو کے چاند کا نام ہے۔
یہ خلائی جہاز پلوٹو کی جانب اپنے سفر کے دوران مشتری کے پاس سے بھی گزرے گا چنانچہ مشتری کی کشش ثقل کو استعمال میں لا کر اس خلائی جہاز کی رفتار کو سورج کی مخالف سمت میں چار کلومیٹر فی سیکنڈ مزید بڑھایا جائے گا جس سے مشن کی کامیابی کے مزیدامکانات بڑھ جائیں گے۔خلائی جہاز نیو ہورائزنز جولائی 2015 میں پلوٹو اور اس کے چاند چیرن کے پاس ایک ہی دن پہنچے گا۔ اس خلائی جہاز میں سات ایسے آلات ہیں جن سے پلوٹو کی سطح، آب و ہوا اور ساخت کے بارے میں معلومات حاصل کی جائیں گی۔مشن کے پلوٹو پہنچنے کے بعد سائنسدان اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ آیا اسے کسی اور جانب روانہ کیا جائے یا نہیں۔ ممکن ہے کہ اسے کیوپر بیلٹ کے علاقے میں مختلف اجسام کے بارے میں تحقیق کرنے کے لیے بھیجا جائے گا کیونکہ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ان کے ذریعے نظام شمسی کے ارتقا کے بارے میں مفید معلومات مل سکیں گی کیونکہ اس علاقے میں نظام شمسی کے بننے کے عمل کے ذرات اور گرد اب بھی موجود ہے۔
امریکہ اور اٹلی کے خلائی اداروں کے اشتراک سے ایک مشن سیارہ زحل کے چاند پر کام کر رہا ہے ۔اس سلسلے میں2.7 میٹر چوڑائی والی روبوٹ تجربہ گاہ/ خلائی گاڑی ہیگنس پروگرام کے مطابق سات سال سے کیسینی نامی خلائی گاڑی پر سفر کر کے جولائی 2003میں دائروں والے سیارے ز±حل پر پہنچی تھی جبکہ مزید 1.5سال کا سفر طے کر کے4دسمبر2004کو زحل کے چاند ٹائٹن پر پہنچی۔ ہیگنس کا خلائی گاڑی سے الگ ہونا اور پھر ٹائٹن کی بھاری فضا میں داخل ہونا اس مشن کا ایک اہم مرحلہ تھا۔کیسینی سے الگ ہونے کے بعد ہیگنس کو ٹائٹن کی سطح پر اترنے میں مزیدبیس دن لگے۔ اس دوران اس کے تمام آلات بند کر دیے گئے تاکہ اس کی بیٹری کی توانائی بچائی جا سکے جس کی چاند پر اترنے کے بعد تحقیق کے لیے ضرورت پڑنا تھی۔ ٹائٹن نظام شمسی کا ایک انوکھا سیارچہ ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق ٹائٹن کی فضا انتہائی قابل غور ہے کیونکہ زمین کی فضا بھی کسی لحاظ سے کبھی ایسی ہی رہی ہوگی۔ لیکن ٹائٹن کا ابھی درجہ حرارت منفی 180 سنٹی گریڈ سے بھی کم ہے اور وہاں زندگی کے آثار ممکن تصور نہیں کیے جا رہے۔ ہیگنس ٹائٹن کے موسم کی مکمل تفصیل حاصل کرے گا۔ اس کے کیمرے سے ایک ہزار تصاویر اتاری جاچکی ہیں مگر یہ ابھی کوئی بھی وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ ہیگنس کو ٹائٹن کی سطح پر کیا ملے گا۔ اب تک اس یورپی خلائی روبوٹ ہیگنس نے زحل کے چاند ٹائٹن سے جو تصاویر بھیجی ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں موجود دریاو¿ں، جھیلوں اور ندیوں میں بہنے والا مائع اصل میں میتھین ہے۔سائینسدان ہیگنس سے ایسی بہت سی معلومات بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں جن کے بارے میں پہلے خیال کیا جارہا تھا کہ وہ ہیگنس سے رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ شائد حاصل نہیں ہو پائیں گی۔
ہیگنس جب زحل کے چاند ٹائیٹن کی فضا میں داخل ہوا تھا تب سے ہی اس نے وہاں کی نہایت خوبصورت تصاویر اور ڈیٹا بھیجنا شروع کردیا تھا۔ ہیگنس کی کنٹرول کرنے والی سائینسدانوں کی ٹیم نے پیرس میں ایک اخباری کانفرنس میں ہیگنس سے ملنے والی مزید معلومات کے بارے میں بتایا۔ سائینسدانوں کا کہنا تھا کہ ان کے پاس اب اس بات کے ثبوت تو موجود ہیں کہ ٹائیٹن پر بھی زمین کی طرح بارش جیسے قدرتی مظاہر ہوتے ہیں لیکن ان مظاہر میں زمین کے برعکس مختلف قسم کے عناصر شامل ہوتے ہیں مثلاً وہاں بارش پانی کی بجائے میتھین کی ہوتی ہے۔اور یہ بھی خیال کیا جارہا ہے کہ میتھین کی یہ بارش ٹائیٹن کی سطح پر موجود کسی اور مادے کی وجہ سے وقوع پذیر ہوتی ہے۔ سائینسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ ان کی خوش قسمتی تھی کہ ہیگنس ٹائیٹن پر ایسی جگہ پر اترا جہاں سے بہتر تصاویر مل سکیں۔ ہیگنس کے مشن کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اب وہ یہ چاہیں گے کہ ٹائیٹن پر ویسا ہی روبوٹ بھیجا جائے جیسا مریخ پر ناسا نے بھیجا تھا۔اگرچہ یہ روبوٹ کچھ عرصہ تک کامیابی کے ساتھ اپنا کام کرتا رہا مگر بعد ازاں مریخ پر ریت کے ایک ٹیلے میں پھنس گیا سائنسدان اسے وہاں سے نکالنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔اس سلسلے میںامریکی خلائی ایجنسی ناسا ایک ایسا منصوبہ بنا رہی ہے جس کے تحت مریخ کی ریت میں پھنسے ہوئے اس کے روبوٹ اوپرچیونیٹی کو وہاں سے نکالا جاسکے ۔ناسا کے انجینئر ز نے زمین پر مریخ جیسی صورتحال پیدا کرکے تجربات کر رہے ہیں کہ کس طرح وہاں پھنسے ہوئے روبوٹ کو اچھال کر باہر نکالا جاسکے۔ناسا کا روبوٹ اوپرچیونیٹی16 اپریل 2004سے مریخ میں ریت کے ایک ٹیلے میں پھنسا ہوا ہے۔لیکن اب باہر سے اوپرچیونیٹی کے تصویری جائزے کے بعد ناسا اسے ایسی کمانڈز بھیجے گی کہ جن کے بدولت اوپرچیونیٹی ریت کے اس ٹیلے سے باہر نکلنے کی کوشش کرے گا۔کیلی فورنیا میں ناسا کے انجینئرز نے ایک لیبارٹری میں ریت کے ایک ٹیلے پر اوپرچیونیٹی جیسے روبوٹ کے ساتھ کئی کامیاب تجربات کئے ہیں لیکن فرق صرف یہ ہے کہ مریخ کی ریت زمینی ریت کے مقابلے میں زیادہ باریک ہوتی ہے۔اوپرچیونیٹی جب مریخ کے سرخ سیارے پر اترا تھا اور اس کے بعد سے اس نے ساڑھے پانچ کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا ہے۔جبکہ یورپی خلائی ایجنسی بھی امریکہ کے بعد مریخ پر ایک اپنا خلائی جہاز بھیجنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ وہاں ماضی یا حال میں زندگی کی موجودگی کے بارے میں شواہد کی موجودگی کا پتہ چلایا جا سکے۔یورپی خلائی ایجنسی کے تیار کردہ مشن میں حرکت کرنے والا ایک روبوٹ بھی شامل ہو گا۔یہ مشن زمین سے جون2011 کو روانہ ہو گا اور جون 2013 کو سرخ سیارے کی زمین پر اترے گا۔پچاس کروڑ یورو کی لاگت سے تیار کی جانے والی یہ متحرک لیبارٹری مریخ کی فضا اور زمینی ساخت کا معائنہ کرے گی تاکہ وہاں موجود کسی حیاتیاتی مادے یا زیرِ زمین زلزلے کے شواہد تلاش کیے جا سکیں۔یورپی خلائی ایجنسی نے 2003 میں آخری مرتبہ مریخ کی سرزمین پر بیگل ٹو اتارنے کی کوشش کی تھی جو لاپتہ ہو گیا تھا۔
جبکہ ایک اور مشن کے تحت خلائی گاڑی کاسینی ہائجنز کے کیمرہ نے زحل کی انتہائی خوبصورت تصویریں زمین پر قائم خلائی مرکز کو بھیجنا شروع کر دی ہیں۔ امریکہ اور یورپ کے اشتراک سے تیار ہونے والی یہ خلائی گاڑی جولائی2009 میں ز±حل پر پہنچے گی۔ لیکن ابھی اس نے چھ کروڑ نوّے لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے سیارے کی خوبصورت تصویر بھیجی ہے۔ خلائی گاڑی زحل پر پہنچنے کے بعد چار سال تک سیارے کا مطالعہ کرے گی جبکہ اس کا ایک حصہ سیارے کے چاند ٹائٹن پر ا±ترے گا۔ماہرِ فلکیات ڈاکٹر کیرولن پارکو کا کہنا ہے کہ جوں جوں خلائی گاڑی سیارے کے قریب جائے گی تصویریں بڑی اور خوبصورت ہوتی جائیں گی۔ دنیا کے سترہ ممالک کے دوسو ساٹھ سائنسدان اس خلائی گاڑی سے حاصل ہونے والی معلومات کے ذریعے دائروں والے سیارے ز±حل کو بہتر طور پر سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ ماہر فلکیات ڈاکٹر آندرے براہیک کے مطابق خلائی گاڑی کاسینی کا مِشن خلائی تحقیق کی تاریخ کا سب س دلیرانہ مِشن ہے جو ایک بین الاقوامی کوشش کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ مِشن انسان کی طرف سے اپنے گردو نواح کو سمجھنے کی کوششوں کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔
پھر انسان کائنات میں ٹائٹینک دھماکوں کے راز بھی جاننے کیلئے کوشاں ہے اور اس بارے میں معلومات حاصل کرنے والی خلائی رصدگاہ سوِئفٹ(Swift)بھی6اپریل 2005 سے آن لائن ہو چکی ہے۔یہ رصدگاہ خلا میں بھیجی گئی تھی اور اس کے بعد سے اس پر تجربات ہو رہے تھے۔ اب پچیس کروڑ ڈالر سے تیار ہونے والی یہ رصدگاہ اپنا کام کر رہی ہے اور اس سے حاصل ہونے والی سائنسی معلومات ویب سائٹ کے ذریعے بھی لوگوں کو فراہم کیے جا نے کی تیاری جاری ہے۔ ویب سائٹ پر ماہرین حاصل ہونے والی معلومات سے واضح کریں گے کہ دور دراز ستاروں کے ٹکرانے یا پھٹنے سے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔سوِئفٹ امریکی خلائی ادارے ناسا کا منصوبہ تھا جس میں اسے برطانوی اور اطالوی اشتراک بھی حاصل ہو گیا۔
جبکہ ایک امریکی ماہرین فلکیات 9فروری2005میں پہلی بار ایک ایسے ستارے کی نشاندہی کی جو ہماری کہکشاں مِلکی وے کو چھوڑ رہا ہے۔ہارورڈ سمِتھ سونین سینٹر فار ایسٹروفزکس کے سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ ستارہ کسی بلیک ہول کے قریب سے گزرتے وقت ا±س کی کشش کے زیر اثر ہماری کہکشاں سے الگ ہوگیا۔ان کا کہنا ہے کہ یہ ستارہ اب بیس لاکھ کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ کی رفتار سے خلا میں موجود خالی پن کی طرف بڑھ رہا ہے۔سائنسی نظریہ کے مطابق خلا میں موجود بلیک ہول ایک ایسی حالت ہے کہ ا±س میں جو چیز داخل ہوجائے وہ وہاں سے کبھی نہیں نکل سکتی۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس سے قبل کسی ستارے کو اس قدر تیز رفتاری سے کہکشاں چھوڑ تے ہوئے نہیں دیکھا ۔
خلا کے سفر روس امریکہ اور یورپ کے بعد چین بھی داخل ہو چکا ہے ۔15اکتوبر2003کو چین کا پہلا خلا باز زمین کے گرد خلا میں چودہ چکر لگانے کے بعد بحفاظت واپس زمین پر اتر گیا ہے۔خلائی کیپسول اکیس گھنٹے کے خلائی مشن کے بعد شمالی چین کے مقام اندرونی منگولیا میں اترا۔چین کے وزیرِ اعظم وین جیاباو¿ نے خلا باز کو کامیابی کے ساتھ مشن مکمل کرنے پر مبارکباد دی جبکہ چین کے صدر ہو جین تاﺅ نے چین کے پہلے انسان بردار خلائی مشن کو چینی قوم کے لئے ایک تاریخی قدم کہا ہے۔۔ چین امریکہ اور روس کے بعد دنیا کا تیسرا ملک بن گیا ہے کہ جس نے انسان بردار خلائی مشن کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ اگرچہ اسے روس اور امریکہ کی خلائی برابری کرنے میں چالیس سال لگے۔خلائی مشن مکمل کرنے والے خلا باز اڑتیس سالہ لیفٹیننٹ یانگ لیوی ہیں جو چین کے شمال مشرقی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں۔جنہیں اب چین میں قومی ہیرو کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔امریکی خلائی ادارے ناسا نے اس مشن کوخلائی تحقیقات کی تاریخ میں ایک اہم کارنامہ کہا ہے۔امریکہ اور روس کے بعد چین دنیا کا پہلا ملک ہے کہ جس کے باشندوں کو خلاءمیں جانے کا تجربہ حاصل ہوچکا۔اگرچہ زمین کے مدار میں آدمی بھیجنا کوئی بہت بڑا کارنامہ نہیں ہے اور روس نے یہ کام آج سے چالیس برس پہلے کر دکھایا تھا لیکن چین کا مقصد غالباً بڑی طاقتوں کو یہ باور کرانا ہے کہ چین نہ صرف سائنس اور ٹکنالوجی میں ترقّی کر چکا ہے بلکہ مالی طور پر بھی اتنا مستحکم ہو چکا ہے کہ اس طرح کے خلائی پروگرام کا خرچ برداشت کر سکتا ہے۔روس اگرچہ اس میدان کا پہلا شہسوار تھا اور آج سے پینتالیس برس پہلے اس نے ننھا منّا ’سپوتِنک‘ نامی اولّین سیّارچہ زمین کے مدار میں پہنچا کر امریکی ماہرین کی نیندیں حرام کردی تھیں لیکن بعد میں امریکہ اس سے بہت آگے نکل گیا اور آج اگر کوئی ملک خلاءپر حکمرانی کا دعوے دار ہو سکتا ہے تو وہ امریکہ ہی ہے۔ لیکن ماضی کی سرد جنگ کے اثرات آج بھی امریکی سیاست پر نمایاں ہیں اور چین کے خلائی مشن پر امریکی صدر سے لے کر ناسا کے عہدے داروں تک سب لوگ تشویش میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں۔
اب یورپی سائنسدان نے روسیٹا نامی خلائی گاڑی کو ایک دم دار ستارے کی طرف 26فروری 2004 کو فرنچ گیانا کے بیس سے روانہ کیا۔اس مِشن پر بارہ سال لگیں گے اور اس پر چھ سو ملین پاو¿نڈ خرچہ آئے گا۔ یہ خلائی گاڑی آریان فاﺅ جی ساخت کے راکٹ پر خلا میں بھیجی گئی ہے۔ برطانیہ میں سائنس کے وزیر لارڈ سینزبری نے ایک اخباری کانفرنس کے دوران بتایا تھاکہ مشن کی کامیابی کی صورت میں کسی بھی دم دار ستارے پر اترنے والی یہ پہلی خلائی گاڑی ہوگی۔مِشن کا مقصد دم دار ستارے کے اجزا کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ہے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان میں نظام شمسی کی تخلیق کے بعد سے تبدیلی نہیں آئی۔مِشن کے منتظم ڈاکٹر گیرہارڈ شویم کا کہنا ہے کہ لینڈر کے دم دار ستارے پر اترنے کا مطلب ہوگا کہ ہم عملاً 4.6 ارب سال ماضی میں چلے جائیں گے جب نظام شمسی تخلیق کے ابتدائی مراحل میں تھا اور دھویں اور گیس کے بادلوں سے سیارے پیدا ہو رہے تھے ۔ روسیٹا 2014 تک مذکورہ دم دار ستارے کے قریب پہنچ کر اس کا نقشے تیار کرے گی جس کی مدد سے زمین پر بیٹھے ہوئے سائنسدان اس کے لینڈر ’فِلے‘ کے وہاں اترنے کے لئے مناسب جگہ کا تعین کریں گے۔ جگہ کا تعین ہونے کے بعد دم دار ستارے سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر لینڈر ’روسیٹا‘ سے الگ ہوگا اور ایک میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے دم ستار ستارے کے مرکز کی طرف بڑھے گا۔فِلے کا سائز ایک واشنگ مشین جتنا ہے اور دم ستارے پر اترنے والی جگہ کا رقبہ ہیتھرو کے ہوائی اڈے کے برابر ہو گا۔ یورپی خلائی ایجنسی میں کام کرنے والے ایک اور سائنسدان پروفیسر ساو¿تھ و±ڈ کا کہنا ہے کہ دم دار ستارے کے قریب پہنچے تک خلائی گاڑی روسیٹا کو مسافت کرتے ہوئے تقریبا12 سال کا عرصہ گزر چکا ہو گا اور وہ زمین سے کئی سو لاکھ سال دور پہنچ چکی ہوگی، یہ یقیناً ایک بہت بڑا مِشن ہے۔
خلائی تاریخ میں امریکی خلائی جہازگلیلیوکی بھی بہت اہمیت ہے اگرچہ اب یہ موجود نہیں اور 21ستمبر2003کوامریکی خلائی ادارے ناسا نے اسے سیارہ مشتری سے ٹکراکر تباہ کر دیا جس کے بعد اس تحقیقی جہاز کا چودہ برس سے جاری رہنے والا سفر اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔مگر موت کے اس مشن پرمشتری کے راستے میں گلیلیو نے پہلی مرتبہ شہابیوں کی بہت قریب سے بنائی گئی تصاویر بھی زمین پر بھیجی تھیں۔مشتری کے مدار میں پہنچنے کے بعد سے گلیلیو نے اس سیارے کی فضا اور اس کے گرد قائم مقناطیسی حصار کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ مشتری کے گرد گردش کرنے والے چاندوں کا بھی مشاہدہ کیا ۔اس مشاہدے سے معلوم ہوا ہے کہ ان چاندوں میں سے کم از کم ایک چاند، جس کا نام یوروپا ہے، اس کی سطح کے نیچے برف کا ایک پورا سمندر موجود ہے جو زندگی کے لیے سازگار ہو سکتا ہے۔گلیلیو اپنے سفر کے دوران اب تک تین ارب میل سے زائد کا سفر طے کر چکا تھا۔خلائی تحقیق سے وابستہ محققین اور سائنسدانوں کے گلیلیو مشن کے اختتام پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔
ماہرین فلکیات کی ایک عالمی ٹیم نے نظام شمسی سے باہر زمین سے ملتا جلتا بھی ایک سیارہ دریافت کیا ہے۔ اس نوعیت کا اب تک دریافت ہونے والا یہ سب سے چھوٹا سیارہ ہے۔ماہرین کے مطابق اپنے ستارے سے فاصلے اور وزن کے اعتبار سے یہ اب تک دریافت ہونے والے سیاروں میں زمین سے سب سے زیادہ ملتا جلتا ہے۔ نیا دریافت ہونے والا سیّارہ زمین سے پانچ گنا بڑا ہے اور یہ زمین سے پچیس ہزار نوری سال کے فاصلے پر ہے۔ نئے سیارے پر انتہائی کم درجہ حرارت کی وجہ سے زندگی کا امکان بہت کم ہے۔ نئے سیارے کا نام OGLE-2005- BLG-390Lb ہے اور یہ دس سال میں اپنے ستارے کے گرد چکر لگاتا ہے۔ مذکورہ سیارہ زمین کے ستارے سورج کے مقابلے میں چھوٹا اور سرد ہے۔ نیا سیّارہ زمین کی کہکشا ں ملکی وے کا حِصّہ ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس سیارے کی سطح پر درجہ حرارت منفی دو سو بیس ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ سیارے کی دریافت میں بارہ ممالک سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے حصہ لیا۔ یہ سیارہ مائیکرو لینزنگ تکنیک کی مدد سے دیکھا گیا۔ اب تک نظام شمسی سے باہر ایک سو ساٹھ سیارے دریافت کیے جا چکے ہیں۔ ان میں سے صرف تین سیارے مائیکورلینزنگ سے دریافت کیے گئے۔
2005کے نومبر میںروسی مال بردار خلائی جہاز بین الاقوامی خلائی سٹیشن پہنچا تھا۔یہ خلائی جہاز جس پر کوئی انسان سوار نہیں تھا خلائی سٹیشن میں کام کرنے والے خلا بازوں کے لیے خوراک لے کر گیا تھا۔ اس خلائی جہاز پر خلائی سٹیشن پر موجود عملے کے لیے ڈھائی ٹن خوراک، پانی، ایندھن اور آکسیجن کے علاوہ کرسمس کے تحائف بھی بھیجے گئے تھے۔اگر خوراک کی فراہمی کا یہ مشن ناکام رہتا تو خلائی سٹیشن پر موجود دونوں خلابازوں کو اسٹیشن چھوڑنا پڑتا۔ان خلابازوں کے پاس جنوری کے وسط تک کی خوراک باقی رہ گئی تھی۔ بین الاقوامی خلائی سٹیشن دنیاکے سولہ ممالک چلاتے ہیں۔ لیکن سن دو ہزار تین میں امریکی خلائی شٹل کولمبیا کے حادثے کے بعد اب اس سٹیشن تک خلا بازوں اور دوسرے سامان کو لانے کا کام روسیوں نے سنبھالا ہوا ہے۔ روس چاہتا ہے کہ خلا باز اس سٹیشن پر اپنا قیام چھ ماہ کی بجائے ایک سال تک کا بڑھا دیں۔اب بین الاقوامی خلائی سٹیشن کو ایک امریکی اور ایک روسی خلاباز جو وہاں اکیس اپریل کو پہنچے تھے چلائیں گے۔ ان دونوں کو خلائی سٹیشن پر دو ماہ ہونے والے ہیں۔ ضوابط کے مطابق اگر خلائی سٹیشن پر خوراک، پانی اور آکسیجن کا ذخیرہ اگلے پینتالیس دن کی ضروریات سے کم رہ جائے تو خلا بازوں کو سٹیشن چھوڑ نا پڑتا ہے۔خلائی سٹیشن پر طویل مشن کے لیے زمین سے ضروری اشیا کی مستقل فراہمی ضروری ہے چنانچہ پراگریس نامی خلائی گاڑی اسی مسئلے کے حل کے لیے تیار کی گئی ہے۔
خلا کے لیے پہلی نجی پرواز سپیس شپ ون مغربی امریکی ریاست کیلیفورنیا کے صحرائے موجیو سے21جون2004کو روانہ ہوئی اور 100 کلو میٹر جا کر یہ خلائی جہاز زمین پر واپس لوٹ آیا۔اس مشن کے کنٹرول روم نے بتایا کہ سپیس شِپ ون نامی یہ پہلا نجی ہوائی جہاز زمین سے ایک سو کلومیٹر بلندی پر گردش کرکے واپس زمین پر اتر گیا جب کہ خلا کی اب تک مقررہ حدود 80 کلو میٹر تھی۔سپیس شِپ ون میں راکٹ کے انجن لگائے گئے ہیں اور اسے ہوا بازی کے بانی برٹ روٹن نے تیار کیا ہے۔اس سے پہلے کسی بھی نجی ہوائی جہاز نے اس قدر بلندی پر پرواز نہیں کی ہے۔ مئی میں کیے گئے تجربے میں اس ہوائی جہاز نے زمین سے چونسٹھ کلومیٹر بلندی پر پرواز کی تھی۔اس پرواز کے لیے مائیکرو سافٹ اور ارب پتی پال ایلن نے مشترکہ سرمایہ فراہم کیا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ اس سے سیاحت کا نیا باب کھلے گا۔
انسان کا یہ سفر کب تک جاری رہے گا اور کہاں پر ختم ہو گا اس کے بارے میں سائینسدان کہتے ہیں کہ یہ اندازہ لگانا بہت ہی مشکل ہے کہ اس کائنات کی وسعت کتنی ہے مگر انسان اپنی دھن میں مست اپنی منزل کی تلاش میں سرکرداں ہے اور رہے گا اور شاید لاکھوں یا کروڑوں سال بعد اپنی منزل کو ڈھونڈ لے اور پھر شاید یہ انسان کا آخری سفر ثابت ہو۔

Published

25-06-2006

انسان کا سفر” پر ایک خیال

  1. پنگ بیک: My Stories » Blog Archive »

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s