گرم پانیوں تک رسائی


HOT WATER

گرم پانیوں تک رسائی

منصور مہدی
دنیا بھر میں عہد قدیم سے لیکر آج تک انسانوں اور ممالک کی معیشت کا انحصار ان کی تجارت پر رہا ہے ۔آج دنیا میں جو ترقی نظر آرہی ہے وہ تجارت اور کاروبار ہی کی مرہون منت ہے جبکہ سب سے زیادہ آپس کی لڑائیوں اور جنگوں کے پیچھے بھی یہی عوامل کارفرما رہے ہیں۔ عہد قدیم میں چین کو ایشائے کوچک اور بحیرہ روم کے ممالک سے ملانے والی گذر گاہ شاہراہ ریشم (سلک روٹ) کہلاتی تھی ۔یہ گذرگاہ بارہ ہزار کلو میٹر کے قریب طویل ہے۔اس گذر گاہ کیلئے شاہراہ ریشم کی اصطلاح پہلی بار جرمن جغرافیہ دان فرڈیننڈ وون رچٹوفن نے 1877ءمیں استعمال کی تھی۔ اب یہ اصطلاح پاکستان اور چین کے درمیان زمینی گذر گاہ شاہراہ قراقرم کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے۔یہ قدیم سڑک چین، سنٹرل ایشیاءکے ممالک ، برصغیر(پاک و ہند)، فارس (ایران) اور روم کی قدیم تہذیبوں کی ترقی میں ایک اہم ترین عنصر تھی۔ ان ممالک اور ان سے ملحقہ علاقوں کی معیشت اور تجارت کا دارومدار سب سے زیادہ اسی گذر گاہ پر تھا۔اس تجارتی شاہراہ کا استعمال چین میں ہن شہنشاہوں کے دور میں ہوا تھا جب چین نے روم کے ساتھ تجارت شروع کی تھی۔جبکہ چین میں تنگ شہنشاہوں کے دور میں اس شاہراہ پر تجارت اپنے عروج پر تھی اور اسی دور میں اس شاہراہ کومزید وسعت دی گئی ۔برطانوی سکالر سروالٹر لارنس نے اپنی کتاب ”دی ویلی آف کشمیر“ میں بھی شاہراہ ریشم ( سلک روٹ) کے ذریعہ ان ممالک کے درمیان ہونے والی تجارت کا مفصل ذکر کرتے ہیں۔اس شاہراہ کی دیگر اہم شاخوں میں سے ایک شاخ چین کے سنکیانگ علاقہ سے گزر کر لداخ کے علاقوں سے گزرتی ہوئی کشمیر اورہندوستان میں داخل ہو جاتی ہے جبکہ دوسری اہم شاخ چین کے صوبہ سنکیانگ کو پاکستان کے شمالی علاقوں سے ملاتی ہے۔ جسے اب شاہراہ قراقرم یا شاہراہ ریشم کہا جاتا ہے جبکہ اسے این-35 بھی کہا جاتا ہے یہ پاکستان کو چین سے ملانے کا زمینی ذریعہ ہے۔یہ دنیا کے عظیم پہاڑی سلسلوں قراقرم اور ہمالیہ کو عبور کرتی ہے۔ درہ خنجراب کے مقام پر سطح سمندر سے اسکی بلندی 4693 میٹر ہے۔ یہ دنیا کی بلند ترین بین الاقوامی شاہراہوں میں شمار ہوتی ہے۔اس گذر گاہ کی اہمیت کے پیش نظر چین اور پاکستان نے اسے بیس سال کے عرصے میں 1986 میںمکمل کیا۔ اسکو تعمیر کرتے ہوئے 810 پاکستانیوں اور 82 چینیوں نے اپنی جان دی۔ اسکی لمبائی 1300 کلومیٹر ہے۔ یہ چینی شہر کاشغر سے شروع ہوتی ہے۔ پھر ہنزہ، نگر، گلگت، چلاس، داسو، بشام، مانسہرہ، ایبٹ آباد, ہری پورہزارہ سے ہوتی ہوئی حسن ابدال کے مقام پر جی ٹی روڈ سے ملتی ہے۔
آج کے دور میں اس گذر گاہ کی اہمیت مزید بڑھ چکی ہے۔ 18اکتوبر2008کو کشمیر یونیورسٹی کے وسط ایشیائی مطالعاتی مرکز کے اہتمام سے ایک چار روزہ بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوئی تھی جس میںپاکستان اور چین کے دانشوروں کے علاوہ کرغستان ،قازکستان ،ترکمانستان ،ازبکستان ،تاجکستان ،افغانستان ،بھارت ،جاپان ،ترکی ،اٹلی ،فرانس اور امریکہ کے مندوبےن کے علاوہ دیگر ماہرین نے شرکت کی۔ اس کانفرنس میں اس گذر گاہ کی مستقبل میں خصوصی اہمیت پر زور دیا گیا۔محققین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اگر ایشیا اوریورپ کے درمیان اقتصادی فروغ کو ترقی دینا ہے، تو یقینی طور اس شاہراہ کی مکمل بحالی کے بغیر اس خواب کی تعبیر ممکن نہیں۔
اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او)کا دسواں اجلاس 11مارچ 2009ءکو تہران میں منعقد ہوا۔ جس میں ای سی او کے رکن ممالک پاکستان ، ایران، افغانستان، آذربائیجان ، قازقستان ، کرغستان،تاجکستان، ترکمانستان، ازبکستان اور ترکی کے سربراہان مملکت نے شرکت کی۔ اجلاس میں پاکستان کی نمائند گی صدر مملکت آصف علی زرداری نے کی۔ اس اجلاس میں بھی اس خطے میں ریلوے اور لینڈ روٹ سے تجارت کیلئے انفرااسٹرکچر کی اہمیت پر زور دیا گیا اور جن منصوبوں کو جلد مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ان میں ترکی میں تبلسی باکو اور ایران میں قازوین رشت استرہ ریلوے کی تعمیر، آذزربائیجان استرہ ریلوے پروجیکٹ، پاکستان میں کوئٹہ۔ تفتان ریلوے کی بحالی ، قازقستان، ایران اور ترکمانستان ریلوے۔ شیرخان سے مزار شریف ،ہرات ریلوے، کوئٹہ۔ چمن۔ اسپن بولدک، قندھار ہرات ریلوے کی تعمیر، استنبول۔ الماتے روٹ پر ای سی ا±و کنٹینر اور مسافر ٹرین چلانے کے ضرورت اور اس روٹ کو چینی ریلویز ارمچی تک وسعت دینے کا منصوبہ ۔ چین اور ای سی ا±و میں ٹرانسپورٹ کے منصوبوں میں تعاون بڑھانے بالخصوص چین۔ مشرق وسطیٰ۔ یورپ کی راہداری اور سلک روٹ جیسے منصوبوں کی جلدتکمیل کیلئے زور دیا گیا۔
اس گذر گاہ یعنی شاہراہ ریشم کی اہمیت کے حوالے سے اس پر شروع سے ہی قبضے اور کنٹرول حاصل کرنے کیلئے لڑائیاں شروع ہو گئی تھی۔ اس سلسلے کی سب سے پہلی اور بھرپور جنگ 1215ءمیںشروع ہوئی جب منگولوں نے اس تجارتی گذرگاہ پر قبضہ کر لیا اورمتعدد قافلے لوٹنے شروع کر دیے۔ اسی گذرگاہ کے ذریعے بعد ازاں منگول وسطیٰ ایشیائ، مشرقی ایران، افغانستان اور برصغیر پاک و ہند میں داخل ہوئے۔ جب منگولوں نے طاقت پکڑلی تو انھوں نے اس گذرگاہ کی اہمیت کے پیش نظر اس کی تعمیر پر خصوصی توجہ دی اور جگہ جگہ راستوں میں آرام گاہیں اور چوکیاں تعمیر کیں اور تجارت میں خوب منافع کمایا۔
بیسویں صدی کے اوائل میں جب ایشیاءکے ممالک کی ٹوٹ پھوٹ اور تقسیم کا عمل شروع ہواتو وسطیٰ ایشیاءکی ریاستیں روس میں شامل ہو گئی۔ اس طرح 1956ءتک سوویت سوشلسٹ ریاستوں کی تعداد چار سے بڑھ کر پندرہ ہوگئی اور اس کا کل رقبہ 22402200کلو میٹر تک پہنچ گیا۔روس کی زیادہ تر تجارت کا دارومدار اس کی مشرقی بندرگاہوں پرہے جو شمالی بحر الکاہل کے ساحلوں پر واقع ہیں۔ اگرچہ یورپ کیلئے سینٹ پیٹرز برگ کی بندرگاہ بھی استعمال ہو تی ہے کیونکہ شمال میں واقع بحر اوقیانوس میں تجارت سال میں صرف دو ماہ کیلئے ہو سکتی ہے ۔یہ سمندر قطب شمالی کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے شدید سردی کی لپیٹ میں رہتا ہے اور یہاں برف جمی رہتی ہے۔ آبنائے ڈیوس، آبنائے ڈنمارک اور شمال مغربی اوقیانوس میں فروری سے اگست تک برفانی تودے ہوتے ہیں۔ یہ تودے جنوب کی جانب برمودا اور جزائر میڈیرا تک پھیلے ہوئے ہوتے ہیں۔ انتہائی شمالی اوقیانوس میں اکتوبر سے مئی تک بحری جہازوں کے عرشے پر برف جم جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ مئی سے ستمبر تک مسلسل رہنے والی سمندری کہر اور خط استوا کے شمال میں مئی سے دسمبر تک آنے والے سمندری طوفان ایک بڑا خطرہ ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے یہ ٹھنڈے پانیوں کے سمندر کہلاتے ہیں کہ جہاں تجارت بہت مشکل کام ہے ۔ چنانچہ روس مشرقی بندرگاہوں کو استعمال کرتا ہے۔اس کے تجارتی بحری جہاز شمالی بحر الکاہل سے ہوتے ہوئے جاپان کے سمندر سے گزرتے ہوئے ، خلیج بنگال سے ہوتے ہوئے بحر ہند میں داخل ہوتے ہیں اور یہاں سے خلیجی پانیوں سے گزرتے ہوئے یمن کے سمندر سے ہو کر نہر سویز کے ذریعے یورپی پانیوں میں داخل ہوتے ہیں یا پھر ایتھوپیا کینیا اور ساﺅتھ افریقہ کی طرف سے گزرتے ہوئے مراکش اور سپین کی جانب سے یورپ کی جانب یا امریکہ اور برازیل کی جانب جاتے ہیں۔ یہ سمندری روٹ گرم پانیوں کے روٹ کہلاتے ہیں کہ جہاں جہاز رانی بارہ مہینے ہوتی ہے اور اس میں کوئی موسمی رکاوٹ پیدانہیں ہوتی۔ بالکل اسی طرح چین کی چالیس کے قریب بندرگاہیںاس کے مشرق اور جنوب میں واقع سمندر ی ساحلوںپر واقع ہیں اور چین کا مال تجارت بھی روس کی طرح ایک لمبے سفر کے بعد خلیج ممالک، عرب ،یورپ اور امریکہ جاتا ہے ۔یہ سفر ایک تھکا دینے والا سفر ہے بحری جہاز کئی ماہ میں اپنی منزل پر پہنچتے ہیں۔ جبکہ اخراجات بھی بہت زیادہ ہوتے ہیں۔بعض اوقات کسی جہاز میں مال تجارت کی قیمت سے کئی گنا زیادہ خرچ اس کی ترسیل پر ہوجاتا ہے۔
لیکن اگر قدیم شاہراہ ریشم کو بحال کر دیا جاتا ہے تو نہ صرف ان دونوں ممالک یعنی روس اور چین بلکہ وسطیٰ ایشیاءکی دیگر ریاستوں کا سفر تجارت بہت کم ہو جائے گا اور ہزاروں کلو میٹر سینکڑوں میں بدل جائےں گے اور کئی ماہ چند یوم بن جائیں گے۔ ہزاروں ڈالر اخراجات سینکڑوں ڈالر رہ جائیں گے اور مال بھی بروقت منڈیوں میں پہنچ کر مقابلہ کی فضا قائم کر سکتا ہے۔
1989میں روس کے پاس امریکہ کے مقابلے میں لیبر فورس زیادہ ہونے کے باوجود روس کا سالانہ جی ڈی پی 2659500ملین ڈالر تھا جبکہ امریکہ کا 5233300ملین ڈالر تھا۔ روسی ماہرین امریکہ کے مقابلے میں کمی کی جو دیگر وجوہات بیان کرتے تھے ان میں سب سے اہم وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ ان کا مال تجارت ایک لمبے سفر کے بعد یورپی منڈیوں اور دیگر تجارتی مارکیٹوں میں پہنچتا ہے۔لہذا روس کی ہمیشہ سے ہی گرم پانیوں تک پہنچنے کی خواہش رہی ہے۔ جب سویت اتحاد قائم تھا اس وقت روس کے پاس گرم پانیوں تک واحد راستہ وسطیٰ ایشیاءکی ریاستوں جو پہلے روس میں شامل تھیں کے ذریعے افغانستان اور یہاں سے ایران یا پھر پاکستان کے راستے بحرہ عرب اور بحر ہند تک ممکن تھا۔
لہذا جب سویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیاتو اس کا بڑا مقصد یہی براستہ بلوچستان سمندر کے گرم پانیوں تک رسائی تھا۔اس مقصد کے حصول کے لئے وہ عظیم بلوچستان بنانا چاہتے تھے۔ جیسا کہ بعض مبصرین کہتے ہیں کہ سوویت یونین کی خفیہ ایجنسی کے۔جی۔بی نے اس وقت پاکستان کو اندر سے کھوکھلا کرنے کے لئے بلوچستان لبریشن آرمی(BLA)کی بنیاد رکھی تھی جس میں بنیادی طور پر کچھ بلوچ سٹوڈنٹ آرگنائزیشن(BSO) کے لوگ استعمال ہوئے ۔بلوچستان لبریشن آرمی سوویت یونین کے افغانستان سے نکلنے کے بعد غائب ہو گئی لیکن 11/9 کے واقعہ کے بعد جنوری 2002 میں بلوچستان میں اس کا پہلا ٹریننگ کیمپ منظر عام پر آیا۔
جبکہ بعض دیگر مبصرین کہتے رہے کہ اگر سویت یونین کے صدر برزینیف کی گرم پانیوں تک رسائی کی خواہش پوری ہو جاتی تو روس کبھی نہ ٹوٹتا اورآج امریکہ کی بجائے سویت یونین سپر پاور ہوتا۔کیونکہ روس دنیا کے ایک مخصوص خطے میں واقع ہونے کی وجہ سے دنیا کی اہم مارکیٹوں سے دور رہا اور بروقت اور سستے طریقے سے امریکہ اور یورپ کی مارکیٹوں کا مقابلہ نہ کر سکا۔
اس مقصد کے حصول کی خاطر سویت یونین نے جب افغانستان پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جو امریکہ کو منظور نہیں تھی ۔امریکہ نہیں چاہتا تھا کہ سردجنگ میں اسکا حریف اہم تجارتی راستوں تک رسائی حاصل کر سکے۔چنانچہ پاکستان جو پہلے سے ہی امریکہ کے زیر اثر تھا اور اس کے پراپیگنڈے کے نتیجے میں یہاں کی عوام سویت یونین کو لادین اور کافر سٹیٹ سمجھتے تھے حالانکہ سویت یونین ایک خدا کو ماننے والے عیسائیوں اور مسلمان ریاستوں پر مشتمل یونین تھی۔ اس پراپیگنڈے کا فاہدہ اٹھاتے ہوئے امریکہ نے سعودی عرب اور پاکستان کے تعاون سے سویت یونین کے خلاف جہاد کے نام پر جنگ شروع کر دی اور آخر کار سویت یونین کی معیشت اس جنگ کا بوجھ نہ اٹھا سکی اور اسے پسپائی اٹھانی پڑی۔
اس طرح سویت یونین اور امریکہ کی سرد جنگ ختم ہو گئی اور امریکہ ہی اس دنیا کی واحد سپر پاور بن گیا اور اپنی من مانیاں کرنی شروع کر دی کیونکہ اب اس کے مقابلے میں کوئی اور ملک نہیں تھا۔ امریکہ نے عرب اور خلیجی ممالک کی تیل کی دولت پر قبضہ کرنے کیلئے عراق کے ذریعے کویت پر چڑھائی کروائی اور بعد ازاں کویت کی مدد کے نام پر نہ صرف کویت میں اپنی فوجیں اتاری بلکہ سعودی عرب اور دیگر علاقوں میں اپنی پوزیشن مضبوط کر لی اور عراق پر بھی حملہ کر دیا۔ اس طرح عربوں کی دولت امریکی اور یورپی بنکوں میں جانے لگی۔
وقت کے ساتھ ساتھ نہ صرف بقیہ روس ترقی کرنے لگا بلکہ وسطی ایشیاءکی ریاستیں بھی اپنا مال تجارت فروخت کرنے کے قابل ہو گئی اور اس کے تمام ممالک بشمول پاکستان سے بھی اچھے روابط قائم ہونے لگے۔ مگر اس دوران چین ایک بڑی معیشیت کے طور پر ابھر کر امریکہ کے سامنے آ گیا۔جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے کہ چین کے تجارتی راستوں کے حوالے سے روس جیسی پوزیشن تھی اور اسکا مال تجارت بھی ایک لمبے راستے سے خلیجی ممالک ، یورپ اور دیگر مارکیٹوں میں جاتا ہے مگر اس کے باوجود اس کی ترقی کی رفتار بہت تیز رہی۔روس کی داخلی ملکی پیداوار کی شرح نمود 1998سے سات فیصد سالانہ کے حساب سے ترقی کر رہی ہے جبکہ اس کی سالانہ برآمدات 471.6بلین ڈالر کے قریب ہیں اور برآمدات کے حوالے سے دنیا بھر میں نویں نمبر ہے۔ چین کی سالانہ برآمدات 1.435ٹریلین ڈالر ہیں جبکہ برآمدات کے حوالے سے دنیا بھر میںتیسرے نمبر پر ہے اور امریکہ چوتھے نمبر پر ہے۔
چین بھی روس کی طرح چاہتا تھا کہ اس کی رسائی گرم پانیوں تک ہو جائے تاکہ معیشت مزید ترقی کر سکے۔ پاکستان چین کا بہت ہی اچھا ساتھی ہے اور چین کی خواہش تھی پاکستان کے راستے بحیرہ عرب تک اس کی رسائی ہو جائے۔ اس مقصد کیلئے پاکستان اور چین نے ساٹھ کی دہائی میں گوادر میں ڈیپ سی پورٹ بنانے کا منصوبہ بنایا اور ساتھ ہی قدیم شاہراہ ریشم کو مزید وسعت دینے کا پروگرام بھی بنایا۔ مگر امریکہ کے زیر اثر ہونے کی وجہ سے گوادر کا منصوبہ پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکا۔ ہر حکومت نے اسے بنانے کی کوشش کی مگر کوئی کامیابی نہ مل سکی۔ کبھی بلوچستان میں قوم پرستوں کے ذریعے اس منصوبے کو تاخیر کا شکار بنایا اور کبھی گوادر کی ملکیت پر اومان کو بھڑکایا گیا۔
گوادر کی تعمیر نہ صرف اس خطے کے ممالک بلکہ پاکستان کی معیشت کیلئے بھی اتنی ہی اہم تھی۔ جب 1999میں نواز شریف حکومت کا خاتمہ ہوا اور جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا تو فوجی حکومت نے اومان کی ملکیت کے دعوے کو مسترد کر دیا اور اپنے پہلے دورہ چین کے دوران پاکستان کی سٹرٹیجک اہمیت کی بنیاد پر چین ، روس اور وسط ایشیائی ریاستوں کو گرم پانیوں تک رسائی کی پیش کش کی اور خطے میں تجارت کی بنیاد پر پائیدار امن اور خوشحالی کے نئے دور کے آغاز کے لئے چارٹر پیش کیا ۔مزید اس ضمن میں شاہراہ ریشم کودو رویہ بنانے کے لئے چینی قیادت سے بات کی ، تاکہ یہ سڑک ” اپ گریڈ“ ہو کر چین میں تیا ر ہونے والی اشیاءکے لئے سمندر تک مختصر ترین راستہ فراہم کرسکے۔اور اس مقصد کیلئے چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں انفراسٹر کچر ، توانائی ، نئے ڈیموں ، شاہراہوں کی تعمیرکے لئے سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ اسی طرح سابقہ حکومت نے روس کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو نئی جہتوں پر استوار کرنے کے عمل کو آگے بڑھایا اور اس سلسلہ میں سابقہ صدر جنرل پرویز مشرف اور روسی سابقہ صدر اور موجودہ وزیر اعظم ولاوی میر پیوٹن کی ملاقات نے اہم کردار ادا کیا ۔ اس ضمن میں دونوں سربراہان مملکت کی ملاقات خاص اہمیت کی حامل رہی جس میں ماضی کو بھلا کر نیا دور شروع کرنے کا عندیہ دیا گیااور دو طرفہ بنیادوں پر آگے بڑھنے اور جغرافیائی قربت کو دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان قریبی رابطے میں بدلنے کی ایک سٹرٹیجک کوشش کی۔ جبکہ پاکستان نے شاہراہ ریشم کو تجارتی روٹ کے طور پر استعمال کرنے کی پیشکش کی ۔ اور کہا کہ گرم پانیوں تک ان ممالک کی رسائی میں گوادر کی بندر گاہ اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ افغانستان کے راستے بھی اس عمل کو آگے بڑھانے کی تجویز دی گئی۔
چنانچہ پاکستان کی سابقہ فوجی حکومت نے چین کے ساتھ مل کر گوادر ڈیپ سی پورٹ کی تعمیر شروع کردی ۔ چین کے ساتھ مل کرگوادر کی تعمیر امریکہ کو منظور نہیں تھی کیونکہ اس طرح چین براہ راست بحرہ عرب میں آکر بیٹھ گیا تھا لہذا امریکہ یہ کیسے برداشت کر سکتا تھا کہ روس یا چین گرم پانیوں تک رسائی حاصل کر سکے جبکہ وہ خود ان راستوں پر قبضہ کرنا چاہتا تھا۔ جیسا کہ اگر ایک نظر دنیا کے تجارتی سمندری راستوں پر ڈالی جائے تو راستے کے تقریباً بہت سے ممالک امریکہ کے زیر اثر ہیں اور جو زیر اثر نہیں وہاں فسادات اور لڑائی جھگڑے ہوتے رہتے ہیں۔ اور ان فسادات کے تانے بانے کہیں نہ کہیں سی آئی اے اور دیگر ایجنسیوں سے جا ملتے ہیں۔ چنانچہ امریکہ نے اپنے ہی بنائے ہوئے طالبان کا بہانہ بنا کر نائن الیون کے واقعہ کو بنیاد بنا کر افغانستان پر حملہ کر دیا۔ اور آج یہ لڑائی پاکستان کے اندر لڑی جارہی ہے۔ گوادر سے چین اور وسطی ایشیائی ممالک کو براستہ افغانستان جانے والے راستے جنگ کا میدان بن چکے ہیں۔
امریکہ بھارت گٹھ جوڑ اب کوئی پوشیدہ بات نہیں اور بھارت کیطرف سے چین اور پاکستان کو بھارت کی جانب سے ملنے والی دھمکیاں اور اس کے پیچھے کارفرما عوامل بھی اب سامنے کی بات ہے۔بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کو سپورٹ کی جارہی ہے تاکہ یہ منصوبہ تاخیر کا شکار رہے اور ان راستوں پر امریکہ اپنی مرضی کے فیصلے کروانے میں کامیاب ہو سکے۔ کیونکہ امریکہ یہ کسی صورت نہیں چاہتا کہ ایٹمی پاکستان کی معیشت بھی ایٹم کی طرح مضبوط ہو جائے۔ چین اور روسی ریاستوں کی معیشت بھی مزید ترقی کرے۔ کیونکہ ان ممالک کی ترقی امریکہ کی شکست ثابت ہو گی۔ اور امریکہ ابھی شکست کا مزا چکھنے کے موڈ میں نہیں بلکہ وہ شکست کھانے کی بجائے اسے شکست دینے کی سوچ رکھنے والوں کو شکست دینا چاہتا ہے۔ بد قسمتی سے پاکستان میں اس کے مقصد کیلئے بہت ہی زمین ہموار ہے۔ یہاں کے بیشترمعصوم لوگ امریکہ کے دانستہ اور غیر دانستہ طور پر ساتھی بن چکے ہیں۔امریکہ کی ان سازشوں سے نجات پانے کیلئے فوج ، حکومت اور عوام کو یکجا ہونا پڑے گا۔ پنجابی ، پختون ، بلوچی اور سندھی بننے کی بجائے پاکستانی بن کر اس کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔ جب تک ہم ایک نہیں ہو گے امریکہ پاکستان میں کبھی بھی امن قائم نہیں ہونے دیگا۔ایک رپورٹ کے مطابق سویت یونین کی افغانستان میں آمد کا بڑا مقصد براستہ بلوچستان سمندر کے گرم پانیوں تک رسائی تھا۔اس مقصد کے حصول کے لئے وہ عظیم بلوچستان بنانا چاہتے تھے۔مگراب بلوچستان لبریشن آرمی کو دوبارہ زندہ کرنے کے ذمہ دار کون ہیں ۔ پینٹاگان ، کریملین یا را ؟ اس رپورٹ میں کے جی بی کے دو افسروں سے جو اس وقت ماسکو میں ریٹائرڈ زندگی گزار رہے ہیںجن کا نام اس رپورٹ میں ظاہر نہیں کیا گیا سے جب یہ پوچھا گیا کہ روس کی تو سمجھ آتی ہے کہ وہ پاکستان سے اپنی ہار کا بدلہ چکانے کے لئے بلوچستان میں سرگرم ہے، انڈیا پاکستان کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔ لیکن امریکہ تو پاکستان کو فرنٹ لائن اتحادی کہتا ہے۔پھر وہ اپنے اتحادی کے لئے اتنے مسائل کیوں کھڑے کر رہا ہے؟۔تو ان کا جواب تھا۔“صف اول کا اتحادی؟ آپ مذاق تو نہیں کر رہے؟ امریکہ پاکستان کو صرف استعمال کر رہا ہے اور پاکستانیوں کو ابھی تک اگر یہ چیز سمجھ نہیں آئی تو جلد سمجھ آ جائے گی۔ بلوچستان کے علاوہ باقی پاکستان امریکیوں اور اس کے اتحادیوں کے لئے بے فائدہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں امریکہ کے دو مقاصد ہیں ایک وسط ایشیاءسے توانائی کا حصول اور دوسرا چین کے خلاف گھیرا تنگ کرنا۔ اس مقصد کے لئے بلوچستان اور اسکی گوادر اور پسنی کی بندرگاہیں اہمیت کی حامل ہیں۔ مگراب امریکہ کو بھی سمجھ آجانا چاہیے کہ پاکستان کو ان سب باتوں کی خبر ہے۔ صدر آصف علی زرداری کا گذشتہ دورہ چین اور چیئرمین جایئٹ چیف آف سٹاف کمیٹی جنرل طارق مجید کی چین کے ڈپٹی چیف آف پیپلز لیبریشن آرمی جنرل Ma Xiaotian سے حالیہ ملاقات اس بات غمازی کرتی ہے کہ امریکہ اب چین کا گھیرا تنگ نہ کر سکے گا اور اگر امریکہ نے اپنا رویہ اور طریقہ کار نہ بدلا تو جلد ہی پاکستان اور چین مل کر اس کا حل نکال لیں گے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s