لاہور لاہور اے


منصور مہدی

پیار ،محبت ،خلوص،مروت ،ایثار اور قربانی کے جذبات رکھنے والا لاہوریاسینکڑوںبرس کے سفر کے ساتھ خود غرضی ،منافقت ،فریب اوردھوکہ دینے والی مشین کاایک ایسا کل پرزہ بن گیا کہ جس کے نزدیک اخلاقیات ،قانون ،اصول اور ضابطے اب کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔مستحق لوگوں کی ضروریات پوری کرنے میں سبقت لیجانے کی دوڑ کو بُھلا کر اپنے مفادات کے تحفظ اور اپنی ہی ضروریات کی تکمیل میںآج ہر شخص سرکرداں نظر آرہا ہے۔دوسروں کیلئے راستے تلاش کرنے کی بجائے اب لوگوں کی راہوں میں روڑے اٹکانا معمول بن گیا ہے۔قانون کے پاسدار قانون شکن بن گئے اور دوسروں کی مجبوریوں سے مفادات اٹھانا وطیرہ بن گیا۔تفصیلات کے مطابق ہزاروں سال قبل آباد ہونے والے لاہور شہر کی چند ہزار افراد کی آبادی وقت کے ساتھ بڑھتی ہوئی جب لاکھوں میں پہنچنے لگی تو یہاں کے لوگوں کیلئے مسائل بھی بڑھتے چلے گئے مگریہاں کے افراد میں انسانیت کے اعلیٰ اوصاف موجود رہے اور ایک دوسرے سے ہمدردی ،پیار اور محبت سے پیش آیا جاتا تھا ۔کم آبادی اور زیادہ وسائل کی بدولت ہر شخص مطمین اور مسرور رہتا اور ایک دوسرے کے کام کرنے میں خوشی محسوس کرتا تھا۔بچوں سے شفقت اور بزرگوں سے احترام سے پیش آیا جاتا،احساس اور ذمہ داری بنیادی خوبی سمجھ کر اپنائی جاتی تھی ۔لاہور میں امن و مان کی بہتر صورت حال اور آلودگی سے پاک شہرہوتا تھا۔ بقول شاعر "ہے دل کیلئے موت مشینوں کی حکومت ،احساس مروت کو کچل دیتے ہے الات” جب صنعتی ترقی کا دور دورہ شروع ہوا اورشہر میں ہر نوع کی صنعتیں اور مارکیٹیں قائم ہونی شروع ہوئی اور لاہور کو کاروبای اہمیت ملنی شروع ہوئی تو لاہور کے گرد و نواح کے علاقوں سے لوگوں کی آمد میں اضافہ بھی شروع ہو گیا اوردیکھتے دیکھتے لاہور شہر کی آبادی اتنی تیزی سے بڑھتی چلی گئی کہ وسائل کم پڑتے چلے گئے تب لوگوں میں بھی یہ ڈرامائی تبدیلی آنے لگی کہ وہ اپنے اپنے مفادات کی دیکھ بھال اور زیادہ وسائل پر قبضہ کرنے کے چکر میں پڑتے چلے گئے اور کسی ایک فرد کی موت پرپوری گلی کے افراد سوگ مناتے تھے اور اب ہمسایہ کی موت کا پتہ بھی نہیں چلتا۔ہمسایوں کی بھوک مٹانے والوں نے اپنی تجوریاں بھرنے کیلئے لوگوں کے منہ سے روٹی چھینی شروع کر دی ۔عوام کی جان و مال کے تحفظ کیلئے بنائے گئے ادارے کے افراد خود ہی لٹیرے بن گئے ،عزتوں کے محافظ عزتیں پائمال کرنے لگ گئے،ایک خدا اور ایک رسول کا سبق دینے والوں نے مذہب کی بنیاد پر لوگوں کو تقسیم کر دیا اور ہاتھ میں قلم کی جگہ بندوق تھما دی ۔قانون ،اصول و ضابطے پر عمل کرنے کی بجائے قانون شکنی کرنا فخر سمجھا جانے لگا دوسرے کی مصیبت میں کام آنے کی بجائے دوسرے کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانا تجارت بن گئی ،بیمار کو شفا دینے والے معالج بیماریاں باٹنے لگے اور حکمران لٹیرے بن گئے۔بے گھر لوگوں کو رہنے کے لئے جگہ دینے کی بجائے لوگوں کی املاک کو لوٹنا اور قبضے کرنا معمول بن گیا۔یہ سب کچھ دیکھتے ہی دیکھتے ہو گیا اور مادی دنیا کی محبت نے کسی کو اتنی مہلت ہی نہیں دی کہ وہ اس تیزی سے تبدیل ہونے والے انسانی رویوں کی روک تھما م کیلئے کوئی اقدام کر سکتا اور اب تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید یہ بے حسی ، بے ثباتی اور انسانیت کی بے توقیری ازل سے تھی اور ابد تک رہے گی ۔
لاہور کی تاریخ کتنی قدیم ہے اس کے بارے میں اگرچہ یقین سے کچھ نہیں کہا سکتا مگر ہزاروں سال قبل برصغیرپاک و ہندمیں دراوڑ ںکے بعد آریاﺅں کہ جن کا تعلق سنٹرل ایشیاءسے تھا کے زمانے میںجب یہاں کے لوگوں کی وسطی ایشیاءکی قوموں سے تجارت عام ہوئی اور نئے راستے اور سڑکیں بنائی گئیں تو متعدد راستوں پر دریاﺅں کے قریب نئی آبادیاں قائم ہونی شروع ہوئیں تو اسی دور میں دریائے راوی کے کنارے ذرا بلند مقام پر (موجودہ اچھرے کی جگہ)ایک پڑاﺅ قائم ہوا ۔جب دریا میں زیادہ پانی ہوتا تھا یا سیلاب کے دنوں میںبھارت اور سندھ کے علاقوں سے آئے ہوئے قافلے یہاں پرقیام کیا کرتے تھے۔وقت کے ساتھ یہ ایک آبادی کی شکل اختیار کر گیا اور یہاں پر تجارتی مقامات کے علاوہ مذہبی مقامات بھی تعمیر ہوتے چلے گئے۔ہزاروں سال قبل ہندو مہاراجہ اور رامائن کے ہیرو رام چندر جی کی پتنی سیتاجب لنکا کے بادشاہ راون کی قید سے رہا ہو کر آئیں تو اس وقت کے مذہبی پنڈتوں کی طرف سے ان پر تہمتیں لگائے جانے کی بعد انھیں ملک سے نکال دیا گیا تو وہ اپنے چند ہمرایوں کے ساتھ اس علاقے میں نکل آئیں اور ایک مندر میں بسیرہ کر لیا جو بعد میں بھیرستان مندر کے نام سے مشہور ہواجہاں پر ان کے دو بیٹے لو اور کثو پیدا ہوئے چنانچہ اس آبادی کو بڑے بیٹے لو کے نام پر پکارا جانے لگا اور لو پور سے ہوتے ہوئے لاہور کہلانے لگا جبکہ ایک قریبی آبادی چھوٹے بیٹے کثوکے نام پر آہستہ آہستہ قصور بن گئی۔جبکہ ایک دیگر روایت کے مطابق رام کا والد اجودھن (پاکپتن کا پرانا نام )کا بادشاہ تھا اس وقت اجودھن ایک بڑی ریاست تھی جس میں لاہور کا علاقہ بھی آتا تھا لہذا جب رام کے بیٹے لو نے جس کا اس طرف سے گزر ہوا تو دریائے راوی کے دو پاٹوں کے درمیان مٹی کا ایک وسیع ٹیلہ اسے بہت پسند آیا اور یہاں پر ایک شہر آباد کرنے کا منصوبہ بنایا جو بعد میں لاہور کہلایا ۔اس زمانے میں دریائے راوی کی ایک شاخ موجودہ جگہ شاہی قلعے کے ساتھ سے گزرتی تھی اور ایک شاخ اچھرہ کے پار سے گزرتی تھی۔ ایک دیگر روایت کے مطابق پانچ سے چھ ہزار سال قبل پانڈوں کے دور میں جب راجہ سرچیت دہلی کے تخت پر قابض ہوا تو اس زمانے میںراوی کے کنارے آباد اس پڑاﺅ نے ایک آبادی کی شکل اختیار کی مگر جلد ہی حادثات زمانہ ،قحط اور دیگر قدرتی آفات کی وجہ سے یہ آبادی ویران ہو گئی اور یہاں سے بچنے والے افراددیگر علاقوں میں شفٹ ہوگئے۔ہندو راجہ سرچیت کے سینکڑوں سال بعد جب راجہ بکر ماجیت برسراقتدار آیا تواس نے اس ازسرنو تعمیر کی۔راجہ بکر ماجیت کی وفات کے بعد جب سمند پال جوگی تخت نشین ہوا تو اس آبادی کا نام سمند پال نگری رکھا جب سمند پال کے بعدراجہ دیپ چند دہلی کے تخت پر قابض ہو اتو اس نے یہ علاقہ اپنے چھوٹے بھائی لوہار چند کی جاگیر میں دے دیا تو اس نے اپنے نام پر سمندپال نگری کا نام بدل کر لوہار پور رکھ دیا جو بکثرت استعمال لاہور ہو گیا۔وقت کے ساتھ ساتھ لاہور کی تجارتی اہمیت کی وجہ سے اور یہاں کی حفاظت کیلئے شہری آبادی اچھرے کے قریب ہی مٹی کے ایک بلند ٹیلے پر ایک قلعہ تعمیر ہوا اور وہاں پر مختلف کام کرنے والے سرداروں اور دیگر ملازمین کیلئے قلعہ سے ملحقہ چار دیواری کے اندر ایک آبادی قائم ہوئی اور اس طرح لاہور شہر آباد ہو گیا۔
وسطی ایشاءکے لوگ شروع سے ہی گرم پانیوں کی تلاش میں برصغیر کا رخ کرتے رہے۔ہزاروں سال قبل آریاﺅںنے وسطی ایشیاءسے ہجرت کر کے یہاں پر مستقل رہائشی اختیار کی اورتقریباً بارہ سو سال قبل جب مسلمان ریاست غزنی کے بادشاہ عبدالمالک کی فوجوں کے جنرل الپتگین جو ترکی النسل غلام تھا نے غزنی پر 120برس حکومت کرنے کے بعد 977 ءمیں وفات پائی تو اسکے جنرل سبکتگین نے حکومت سنبھال لی یہ بھی ترکی النسل غلام تھااوراس کی شادی الپتگین نے اپنی بیٹی سے کی ہوئی تھی اور اسکے ایک بیٹا محمود تھا۔997ءمیں اس کی وفات کے بعد محمود غزنوی برسراقتدار آیا تو اس وقت یہاں پر راجہ جے پال کی حکومت تھی ۔ہندوستان میں پہلی مرتبہ محمود غزنوی کے ساتھ مسلمانوں کی آمد شروع ہوئی ،محمود غزنوی کے بعد شہاب الدین غوری آیا اور یہاں کے ہندو راجوں کو شکست دینے کے بعد ہندوستان کے متعدد علاقوں پر قبضہ کر لیا ،غوری کے بعد خلجی خاندان اور لودھی خاندان نے بھی کئی سال حکومت کی اور امیر تیمور کے بیٹے ظہیر الدین بابرکے دہلی پر قبضے کے بعد مغلیہ دور کی ابتدا شروع ہوئی تو اس دور میںجدید طرز پر لاہور کی تعمیر و ترقی شروع ہوئی ۔اس شہر میں مختلف پیشوں سے منسلک لوگوں کیلئے علیحدہ علیحدہ محلے تعمیر کی گئے اور ہر کاروبار کی علیحدہ علیحدہ مارکیٹیں بنائی گئی اس شہر میں داخل ہونے کیلئے بارہ دروازے بنائے گئے جن میںبھاٹی گیٹ ،لوہاری گیٹ ،شاہ عالمی گیٹ،موچی گیٹ ،اکبری گیٹ ، دہلی گیٹ ، یکی گیٹ ،کشمیری گیٹ ،شیرانوالہ گیٹ ،روشنائی گیٹ ، ٹکسالی گیٹ ،موری گیٹ شامل ہیں۔
مغلیہ دور میں 558ایکڑ رقبے پر محیط چند سو مکانات پر مشتمل پرانے لاہور کی آبادی وقت کے ساتھ بڑھتی چلی گئی اور 1911مردم شماری کے مطابق شہر کی آبادی 2,28,687 ہو گئی جبکہ چار دیواری کے اندر 20,691کنبے آباد تھے۔ ضلع لاہور جو نہ صرف موجودہ لاہور بلکہ ضلع قصور اورضلع اوکاڑہ پر مشتمل تھا اور اس کی حدود میں بھارت کا متعدد رقبہ بھی آتا تھا کی 1881میں کل آبادی 9,24,106افراد پر مشتمل تھی اور1891میں 10,75,379ہوگئی جبکہ1901میں یہ بڑھ کر 11,62,109افراد پر ہو گئی ۔1905سے 1914تک جاری رہنے والی خطرناک بخار کی وبا کی وجہ سے ہزاروں افراد لقمہ اجل ہو گئے اور1911میںہونے والی مردم شماری کے مطابق ضلع لاہور کی آبادی 10,36,158افراد پررہ گئی جبکہ اس بخار کی وجہ سے ان سالوں میں اوسطً جنوری میں 1689فراد ہلاک ہوئے،فروری میں 1282،مارچ میں 1288،اپریل میں 1208،مئی میں 1493، جون میں 1593، جولائی میں 1338، اگست میں 1314، ستمبر میں 1541، اکتوبر میں 2486، نومبر میں2609اور دسمبر میں 2315افراد کی ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی ۔اور اب صرف لاہور جس میں ضلع اوکاڑہ اور قصور شامل نہیں ہیں کی آبادی75لاکھ سے بھی زائد ہو چکی ہے۔
80سالہ عبدلمجید نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی ضرورتوںجیسے تعلیم،علاج ،لباس ،جان ومال کا تحفظ دینے والوں نے اب قدرتی نعمتوں خالص پانی اور خالص ہوا کا حصول بھی مشکل کر دیا۔انھوں نے بتایا کہ 40/50برس قبل تک جب کسی گھر میں کوئی موت ہوجاتی تو تمام گلی میں سوگ کی کیفیت قائم رہتی انھوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ جب سکول سے گھر واپس آیا تو گھر پر کھانا نہین پکا تھا تو معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ گلی میں کوئی خاتون فوت گئی لہذا گھر میں چولہا نہیں جلے گا جبکہ اب ہمسایے میں موت ہوجائے تو کسی کو پتہ نہیں چلتا کہ کون کب مر گیا۔انھوں نے بتایا کہ انگریز حکومت میں امن و امان کی صورتحال دیکھنے والی تھی لوگ اپنا گھر لکھا چھوڑ کر چلے جاتے تھے اور سب کی جان و مال کو تحفظ حاصل تھا جبکہ اب پولیس میں ایسے متعدد افراد ملازمتیں کر رہے ہیں کہ جن کے خلاف چوری ، قتل ، ڈکیتی اور راہزنی کے مقدمات درج ہیں۔ہسپتال لوگوں کو شفا دینے کی بجائے بیماریاں باٹنے کی فیکڑیاں بن چکے ہیں جبکہ علاج غریب کی پہنچ سے باہر ہو چکا ہے جبکہ حکومت کی کمزوری کی وجہ سے جعلی اور عطائی داکٹر اور حکیم لوگوں میںموت باٹ رہے ہیں مگر حکومت عوام کو تحفظ دینے میں ناکام ہو چکی ہے۔ انھوں نے کہا اس مادی دنیا میں ہر کسی کو سب کچھ یہی چھوڑ کر چلے جانا ہے۔لاہور میں ہزاروں حکمران آئے اور انھوں نے اپنی من مانی اور اپنے مفادات کیلئے لوگوں کو حقوق سلب کیے اور اپنی تجوریاں بھری مگر کوئی بھی مرتے وقت اپنے ساتھ کچھ بھی نہیں لے کر گیا اور سب کچھ یہی چھوڑ گیا ۔یہی قانون فطرت ہے اور اس دور کے لوگوں نے بھی آخر کار ایک دن اس دنیا کو چھوڑ کر اپنے خدا کی بارگاہ میں پیش ہونا ہے چنانچہ وہاں پر ہونے والے امتحان کی تیاری بھی کرنی چاہیے اور وہاں پر سوالوں کے جوابات دینے کیلئے خود کو تیار رکھنا چاہیے۔

لاہور لاہور اے” پر 2 خیالات

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s