ذہنی طور پر معذور بچے


منصور مہدی
ذہنی اور جسمانی طور پر معذور بچے بھی معاشرے کا حصہ ہیں۔ مگر معاشرے کی عدم دلچسپی،معاشی اور نفسیاتی وجوہات کے سبب ایسے بچے احساس کمتری میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور معاشرے کا فعال حصہ نہیں بن پاتے۔ جبکہ ان بچوں کے والدین بھی مناسب راہنمائی نہ ملنے پرخود بھی ذہنی مریض بن جاتے ہیں۔ شہروں میں تو چند ادارے ان بچوں کی تعلیم و تربیت کیلئے کام کر رہے ہیں مگر دیہاتوں میں ان بچوں کو کوئی پرسان حال نہیں۔ایسے بچوں کیلئے قائم سکول اور اداروں اور اساتذہ کی تعداد بہت کم ہے جبکہ بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔
پاکستان میں اس وقت معذور افراد کی تعداد38لاکھ کے لگ بھگ ہے جن میں بچوں کی تعداد (اٹھارہ سال تک کی عمر)12لاکھ کے قریب ہے صرف پنجاب میں ایسے بچے6لاکھ سے زیادہ بچے ہیں۔ 1998کی قومی مردم شماری میں پہلی بار ایسے افراد کی بھی گنتی کی گئی جن کی تعداد اس وقت32,92,055تھی جو ملک کی کل آبادی کا2.49فیصد ہے۔ پنجاب میں18,26,623، سندھ میں9,29,400، خیبر پختونخوا میں3,75,448، بلوچستان میں1,46,421، فاٹا میں21,705اور آزاد کشمیر میں ایسے افراد کی تعداد80,333تھی جس میں اب یقیناً اضافہ ہو چکا ہے۔
سماجی کارکن کشور جہاں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں12لاکھ کے قریب معذور بچوں میں30فیصد ایسے بچے ہیں جو ذہنی معذور ہیں جبکہ20فیصد نابینا پن کا کا شکار ہیں، 10فیصد بہرا پن اور40فیصد بچے جسمانی معذور ی کا شکار ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ پہلے پاکستان میں ایسے بچوں کی تعلیم وتربیت کے ادارے بہت کم تھے مگر جب اقوام متحدہ نے 1981کو معذور افراد کا سال قرار دیا اور 1983سے 1992کا عشرہ معذور افراد کے نام پر منایا اور بعد ازاں1993میں 3دسمبر کو خصوصی افراد کا عالمی دن قرار دیا تو پاکستان میں بھی ان کی اہمیت کا احساس بڑھنے لگا۔ اس کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ خصوصی افراد کی بحالی کی کوششیں جاری و ساری رکھی جائیں تاکہ خصوصی افراد بھی معاشرے میں اہم مقام پاسکیں۔وقار اور انصاف تمام لوگوں کیلئے خواہ وہ نارمل ہوں یا خصوصی افراد ، اور یہی اقوام متحدہ کے چارٹر میں بھی صاف طور پر تحریر ہے۔ دنیا بھر میں کسی نہ کسی معذوری میں مبتلا افراد عمر کے فرق کے ساتھ ہر جگہ موجود ہیں‘ دنیا کی آبادی کا 10 فیصد یعنی 650 ملین افراد کسی نہ کسی معذوری کے ساتھ زندگی گزاررہے ہیں۔ 13دسمبر2006کو اقوام متحدہ نے ایک اور چارٹر پاس کیا جس پر ممبر ممالک کو عمل کرنے کو کہا کہ حکومتوں کو چاہیے کہ وہ دیگرعام انسانوں جیسے حقوق بھی معذور افراد کو دیں اور ایسے افراد کے وقار اور احترام کو قائم رکھنے اور اسے فروغ دینے کیلئے مزیداقدامات کریں۔ جبکہ ایسے بچوں کی تعلیم تربیت پر خصوصی توجہ دیں۔ معذور بچوں کا جنسی اور جسمانی استحصال نہ کیا جائے ، ان کا غلط استعمال نہ کیا جائے جیسے بھیک منگوانا، انھیں نظر انداز نہ کیا جائے اور ان کی معذوری کے حوالے سے ان سے تعصب نہ برتا جائے، ان کی کسی خوبی کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی خدمات لی جائیں اور انھیں بھی روزگار کیلئے برابر کے حقوق دیے جائیں۔ کشور جہاں کا کہنا ہے کہ جو لوگ اس میدان میں سرگرمِ عمل ہیں حکومت کو چاہئے کہ ان کے ساتھ مل کر اس عمل میں بہتری لائے اور پبلک سیکٹر میں اس شعبے کو خودمختار اور مستحکم بنانے کی جانب توجہ دے۔ حکومت اور نجی سیکٹر مل کر اس میدان میں نمایاں خدمات سرانجام دے سکتے ہیں اور معاشرے کو درپیش اس بڑے چیلنج سے نبٹ سکتے ہیں۔
سماجی کارکن فرح المومنین کا کہنا ہے کہ صرف صوبہ پنجاب میں خصوصی بچوں کی تعداد کم و بیش 6 لاکھ سے زائد ہے۔ ان میں سے چند ہزار بچوں تک تو حکومت ، نجی اداروں اور معاشرے کی سطح پر سہولیات پہنچ رہی ہیں مگر 5 لاکھ سے زائد بچوں تک یہ سہولیات پہنچنا ابھی باقی ہیں۔ انہیں زندہ رہنے کے اسباب مہیا کرنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا عام بچوں کو تعلیم ، کھیل اور دیگر حقوق دینا۔ خصوصی افراد ہمارے قومی وجود کا حصہ ہیں اور ان کی بحالی کے لئے تمام وسائل بروئے کار لا ئے جانے کی ضرورت ہے – ایسے ادارے قائم کئے جانے چاہئیں جہاں معذور افراد کی بحالی کے لئے تمام تر سہولتیں میسر ہوں – نجی و سرکاری سطح پر ہمارے ارد گرد برائے نام ہی ایسے ادارے ہیں جو اس کارخیر میں حصہ ڈالے ہوئے ہیں۔ اسلام آباد میں الفارابی سپیشل ایجوکیشن سنٹر، المختوم سپیشل ایجوکیشن سنٹر، فاطمہ جناح سپیشل ایجوکیشن سنٹر، ابن سینا سپیشل ایجوکیشن سنٹر، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف سپیشل ایجوکیشن سمیت12کے قریب ادارے کام کر رہے ہیں جبکہ لاہور میںعزیز جہاں بیگم ٹرسٹ، انسٹیٹیوٹ آف فیزیکل ہینڈی کیپ چلڈرن، سپیشل ایجوکیشن سنٹر فار چلڈرن، سپیشل ایجوکیشن سنٹر فار مینٹلی ریٹارڈڈ چلڈرن، غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ ، سعدیہ کیمپس ، امین مکتب ٹرسٹ ، پنجاب ٹرسٹ فار ڈس ایبل چلڈرن ، حمزہ فانڈیشن ، ادارہ بحالی معذوراں سمیت 40کے قریب ادارے موجود ہیں۔ جبکہ کامونکی، ساہیوال، اوکاڑہ، جھنگ، جہلم، سرگودہا، شیخوپورہ اور گجرات سمیت پنجاب کے دیگر شہروں میں ایسے ادارے قائم ہیں۔ کراچی میں سپیشل ایجوکیشن سنٹر، وکیشنل سنٹر فار سپیشل چلڈرن سمیت 20سے زائد ادارے کام کر رہے جبکہ سندھ کے دیگر شہروں میں بھی ایسے ادارے موجود ہیں۔ بلوچستان کے شہروں خضدار، سبی اور کوئٹہ کے علاوہ خیبر پختونخوا میں سوات، ڈیرہ اسماعیل خان، پشاور، مردان، ایبٹ آباد، کوہاٹ اور چار سدہ میں، گلگت بلتستان اور کشمیر میں بھی خصوصی بچوں کیلئے ایسے ادارے کام کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جو معذور افراد کی بحالی کا کام کررہے ہیں۔ ثواب کا یہ کام کرنے والے ادارے اور افراد انتہائی قابل ستائش ہیں۔
عزیز جہاں بیگم ٹرسٹ کے ڈائریکٹر محمد اخترکا کہنا ہے کہ اگرچہ کافی ادارے معذور بچوں کی فلاح و بہبود کیلئے کام کر رہے ہیں مگر ایسے بچوں کی تعداد کے حوالے سے یہ ادارے بہت کم ہیں۔ ابھی نہ صرف حکومت کو اس سلسلے میں مزید کام کرنا ہو گا بلکہ معاشرے کے مخیر افراد کو زیادہ سے زیادہ آگے آنے کی ضرورت ہے ۔ ان بچوں کو عام بچوں کے ساتھ بٹھایا جائے اور انہی کی طرح تعلیم دی جائے تاکہ ان کی احساس محرومی دور ہو اور وہ نارمل زندگی گزارنے کی طرف راغب ہوسکیں۔ان بچوں میں سے 92فیصد بچے خاندان پر ہی انحصٓر کرتے ہیں۔ ان اداروں کو چاہیے کہ وہ اپنے کام کو گاﺅں اور قصبات کی سطح پربھی ایسے بچوں کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کریں۔ بلاشبہ ایسی مشترکہ کوششوں کے ذریعے ہم ایسے بچوں کو احساس کمتری سے نکال کر انہیں معاشرے کا مفید شہری بنانے میں کردار ادا کرسکتے ہیں اور انہیں اس قابل بنا سکتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی بجائے اپنے لئے تگ و دو کرنے کے قابل ہوسکیں اور معاشرے میں اپنی شناخت اور حیثیت منوانے کا چیلنج قبول کرسکیں۔
میو ہسپتال کے سینئر ڈاکٹر غلام فرید کا کہنا ہے کہ مینٹلی ریٹارڈڈ یا ذہنی معذوری کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ذہنی طور پر معذور بچے پچپن سے ہی دیگر بچوں سے مختلف ہوتے ہیں۔ یہ صرف بیٹھنا اور لڑھکنا ہی جانتے ہیں جبکہ عام بچوں کی نسبت نہ صرف دیر سے چلنا شروع کرتے ہیں بلکہ بہت دیر سے بولنا شروع کرتے ہیں۔ ان کی یادداشت بہت کم ہوتی ہے اور اپنی مدد آپ یا اپنی حفاظت کرنے کی قدرتی صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں۔ معاشرے کے دیگر اصول و ضوابط بھی یہ نہیں سیکھ پاتے۔ ان کا کہنا ہے کہ جنیاتی حالات کی وجہ سے ان بچوں میں یہ خامیاں پیدا ہوتی ہیں جبکہ والدین میں موجود بعض جین بھی اس کا سبب بنتے ہیں۔ طبی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ زچگی کے دوران پیدا ہونے والے بعض مسائل بھی ذہنی معذوری کا سبب بن جاتے ہیں جبکہ زچگی میں الکوحل کا استعمال یا ریبیولا قسم جیسی انفیکشن بھی ایک اہم وجہ ہے۔ پیدائش کے وقت ٓکسیجن کی کمی اور اس کے دماغ پر اثرات بھی ایک وجہ ہے۔ انھوں نے بتایا کہ دوران زچگی ماں کو کالی کانسی، چیچک اور گردن توڑ بخار یا پیدائش کے بعد بچے کو ایسی بیماریاں بھی ان اسباب میں شامل ہیں۔ زچہ اور بچہ میں آئیوڈین کی کمی اور خوراک کی کمی بھی ایک اہم وجہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ طب میں ستر آئی کیو تک کے بچے ذہنی معذور بچوں میں شامل ہوتے ہیں جبکہ یہ امراض18سال کی عمر تک ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ ان بچوں کے رویوں سے بھی ان کی بیماری ظاہر ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ نہ صرف دیگر نوعیت کے معذور بچے جبکہ خصوصی طور پر ذہنی معذور بچے جو اپنی حفاظت آپ بھی نہیں کر سکتے ان کی طرف توجہ دینے کی زیادہ ضرورت ہے ۔ یہ بچے ساری عمر دوسروں پر انحصار کرتے ہیں۔ اس فیلڈ کے تجربہ کار ماہرین تعلیم ، ڈاکٹرز اور سائیکالوجسٹس کی مستند ٹیم بنا کر ان کی تمام تر توانائیوں کو بروئے کار لاتے ہوئے خصوصی بچوں کی بہترین تعلیم و تربیت کو مزید بہتربنایا جائے ۔ ان کے نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے ، اساتذہ کو بہترین تربیت مہیا کی جائے اور ان بچوں کے والدین کو بھی اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کے ضمن میں پیش آنے والی مشکلات کا حل بتایا جائے تاکہ یہ بچے بامقصد زندگی کی طرف راغب ہوسکیں اور ملک و ملت کا یہ سرمایہ محفوظ ہوکر اپنے آپ کو بھی بچا سکے اور والدین اور وطن عزیز پاکستان پر بھی بوجھ بننے کی بجائے اسے معاشی اور اقتصادی طور پر مضبوط و مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔
پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے خصوصی تعلیم کے شعبے بنا رکھے ہیں جبکہ ضلعی حکومتیں بھی معذور بچوں کیلئے کام کر رہی ہیں۔سرکاری سطح پر تقریباً ہر ڈویژن میں خصوصی تعلیمی کے ادارے قائم ہیں ۔صدر مملکت آصف علی زرداری خصوصی افراد کی فلاح و بہبود کے حوالے سے کہتے ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور ایوان صدر معذور بچوں کے کاز کو خصوصی منصوبہ کے طور پر اختیار کرے گا۔ خصوصی بچوں کی تعلیم و تربیت اور بہتری کیلئے موثر اقدامات اٹھائے جائیں گے۔صدر نے کہا کہ ہم خصوصی بچوں کی نگہداشت اور دیکھ بھال پر خصوصی توجہ مرکوز کریں گے تاکہ انہیں معاشرے کا مفید شہری بنا کر ان کی صلاحیتوں سے صحیح طور پر استفادہ کیا جا سکے۔جبکہ پنجاب کے ہر ضلع میں بھی ایسے ادارے قائم کیے جا رہے ہیں جہاں معذور بچوں کی تعلیم و تربیت کی جا سکے ۔ پنجاب حکومت کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ معذور بچوں کی بحالی اور انہیں زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی اور انہیں مقام دلانے کے لئے تمام تر کاوشیں بروئے کار لائی جائیں گی جبکہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ذہنی اور جسمانی طور پر معذور بچوں اور بچیوں کو یہ سہولت ان کی دہلیز پر پہنچائی جائے تا کہ وہ نارمل بچوں کی طرح زندگی گزاریں اور بہتر تعلیم اور تربیت کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع بھی حاصل کریں۔ حکومت پنجاب کی جانب سے منعقد کئے گئے تین روزہ ”وزےراعلی سپورٹس گالا2010“ میں دیکھنے میں پنجاب بھرکے 9 ڈویژن سے سپیشل بچوںنے ان مقابلوں میں حصہ لیا۔
سب معاشرے کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ معذور بچوں کو اس طرح سپورٹ کرے کہ یہ کسی پر بوجھ بننے کی بجائے معاشرے کے مفید اور فعال رکن بنیں اور اپنی اپنی صلاحیت کے مطابق ملک و قوم کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں اور دنیا میں معاشرتی رویوں اور تبدیلیوں کو سمجھتے ہوئے اپنے لئے خود تگ و دو کے قابل ہو سکیں۔یہ بچے معاشرے میں ایک بڑا ہی فعال کردار ادا کرسکتے ہیں۔ان میں سے بعض بچے بڑے ہی باکمال ہوتے ہیں۔ ان کو مجنون، مجذوب اور معذور سمجھ کر انھیں دھتکارنا اور ان سے تعصب برتنا بری بات ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s