شیشہ کیفے


منصور مہدی

نوجوان طلبا اور طالبات کی ایک بڑی اکثریت ”شیشہ گھروں“ کی حاضری کی عادی ہو رہی ہے۔ شیشہ کیفے کا پرتکلف اور رومانوی ماحول نوجوانوں کے لیے بڑا پُرکشش ہے۔کیفے کے دھواں دار اور مبینہ طور پر زہریلے ماحول میں جوہوتا ہے وہ ایک لمحہ فکریہ ہے

علامہ اقبال میڈیکل کالج کے طلبا اور پروفیسروں پر مشتمل ایک سروے ٹیم کی رپورٹ کے مطابق لاہور کے پوش علاقوں کے تعلیمی اداروں کے 16 سے 25 سال کے 450 طلبا و طالبات میں سے 70 فیصد شیشہ کیفوں میں شیشہ پیتے ہیں جن میں 30 فیصد طالبات بھی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں روزانہ تمباکو نوشی سے 274 افراد جاں بحق ہو جاتے ہیں جبکہ عوام ہر سال 35 سے 40 ارب روپے کے سگریٹ پی جاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق شیشہ سگریٹ سے 400 گنا زیادہ خطرناک ہے اور یہ نشے کی بدترین شکل ہے جس میں کاربن مونو آکسائیڈ کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔
لاہور کے پوش علاقوں میں قائم ان شیشہ کیفوں میں امیر خاندانوں کے لڑکے اور لڑکیاں نہ صرف فلیورز کے ساتھ تمباکو پیتے ہیں بلکہ چرس، افیون اور کوکین بھی استعمال کرتے ہیں۔ کوکین کا نشہ مہنگا ہونے کے ساتھ ساتھ جان لیوا بھی ہے مگر ایلیٹ کلاس سے تعلق رکھنے والے، خاص طور پر لڑکیاں اپنے آپ کو جسمانی طور پر فٹ رکھنے کے لیے، اس کا استعمال کرتی ہیں لیکن بعد ازاں جب انہیں اس کی لت پڑ جاتی ہے تو جان چھڑانا مشکل ہو جاتی ہے۔ جبکہ بڑی عمر کے لوگ اس نشہ کو طاقت کے لیے روزانہ کی بنیاد پر استعمال کرتے ہیں۔
اس نشہ کا استعمال کرنے والوں میں زیادہ تر تعداد نوجوان طلبہ و طالبات کی ہے، جو بڑے، مہنگے اور اچھے اداروں میں زیر تعلیم ہیں۔ شہر میں سب سے زیادہ شیشہ کیفے ایم ایم عالم روڈ اور اس کے گرد و نواح میں گلوریا جینز، کیفے ذوق، فیشن ورلڈ اور جوہر ٹاﺅن میں النہل، مین بلیوارڈ گلبرگ میں سپن بار جیسے کیفے پائے جاتے ہیں۔ ان شیشہ کیفے کے مالکان میں بڑی بڑی فیشن ماڈلز، سنگرز اور نامور بینڈز کے مالکان اور دیگر بااثر شخصیات شامل ہیں، جن میں خواتین کی بھی خاصی تعداد ہے۔ ان شیشہ کیفوں کے علاوہ کچھ ہوٹل و ریسٹورنٹس نے بھی شیشہ لابی بنائی ہوئی ہے جہاں چرس، افیون اور کوکین جیسے فلیورز کے ساتھ شیشہ میسر ہے۔ ان میں سب سے زیادہ مہنگا نشہ کوکین ہے جو سات ہزار روپے فی گرام ملتا ہے۔
شیشہ استعمال کرنے والی لڑکیوں کا کہنا ہے کہ چرس اور کوکین جیسا نشہ شیشہ کے ذریعے استعمال کرنے سے ایک تو بہت سکون ملتا ہے۔ دوسرا وہ موٹاپے اور جسم پر چربی چڑھنے سے بچاتا ہے۔ ہم لوگ جسمانی طور پر فٹ رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شیشہ کا فلیورز کے ساتھ استعمال کرنے کا اپنا ہی مزہ ہے۔ کیونکہ اس سے ایک تو بدبو نہیں آتی اور اس کی بو یا دھویں سے کراہت بھی محسوس نہیں ہوتی۔
جبکہ شہر کے دوسرے علاقوں ڈیفنس، ماڈل ٹاﺅن، گارڈن ٹاﺅن، فیصل ٹاﺅن، سمن آباد جیسے علاقوں میں بھی شیشہ کیفے ہیں۔ مگر یہ کیفے لاوارثوں جیسے ہیں کہ جہاں اور جب بھی پولیس اور انتظامیہ کی طرف سے سختی ہوتی ہے تو چھاپے کے دوران درمیانے طبقے سے تعلق رکھنے والے لڑکے اور لڑکیاں پکڑی جاتی ہیں۔ جیسا کہ ابھی چند روز قبل فیصل ٹاﺅن میں ایک شیشہ کیفے پر چھاپے کے دوران تین لڑکیاں اور پانچ لڑکے پکڑے گئے۔
اس کے علاوہ جب پولیس پر بہت زیادہ دباﺅ ہو کہ وہ شیشہ کیفوں کے خلاف کارروائی کریں تو بااثر شخصیات کے کیفے پر پولیس عام روٹین میں دورہ کر کے واپس آ جاتی ہے لیکن وہاں سے کسی کو گرفتار نہیں کرتی اور نہ ہی کوئی مقدمہ درج کرتی ہے۔ تاہم کیفے کی انتظامیہ کو ہوشیار رہنے کا کہہ دیتی ہے کہ بس شکایت نہیں آنی چاہیے۔ جس پر شیشہ کیفوں کے مالکان وقتی طور پر کیفے کے عقب میں واقع کھلی جگہوں، خفیہ کمروں یا چھتوں پر شیشے کو منتقل کر دیتے ہیں۔
پوش علاقوں کے تھانوں کے پولیس افسران کا کہنا ہے کہ شیشہ کیفوں میں چرس، افیون اور کوکین کا استعمال روکنا ہمارے بس کی بات نہیں ہے کیونکہ ان کے مالکان اس قدر بااثر ہیں کہ اگر کارروائی کی جائے تو ان کے بڑے بڑے سفارشی سامنے آنے پر ہم حیران رہ جاتے ہیں اور ہماری جرات نہیں ہوتی کہ ان سفارشیوں کے خلاف جا سکیں۔ اگر کوئی ہمت دکھانے کی کوشش کرے تو اسے معطل یا تبدیل ہو کر پولیس لائن میں وقت گزارنا پڑتا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ شیشہ پینا اگرچہ اب امرا کا فیشن بن چکا ہے لیکن قانون کی نظر میں یہ جرم ہے۔ شیشہ کلبوں اور شیشہ کیفے کا پرکشش ماحول نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور نوجوان اس کے تیزی سے عادی ہو رہے ہیں۔ ایک سینئر پولیس افسر کا کہنا ہے کہ شیشہ کلبوں کا ماحول اب جرم کی نرسریوں میں بدل رہا ہے جو نوجوانوںکے لیے انتہائی خطرناک ہے۔
سول سوسائٹی کا کہنا ہے کہ امتناع سگریٹ نوشی آرڈیننس 2002ءکے تحت شارع عام اور ہوٹل و کلبوں میں سگریٹ نوشی و شیشہ بار کھولنے کی سخت ممانعت ہے۔ فحاشی، عریانی اور بے راہ روی پھیلانے والے اور نوجوان نسل کے مستقبل کو تباہ کرنے والے شیشہ کیفوں کے خلاف سخت کریک ڈاون کیا جائے۔ شیشہ کیفے اور شیشہ بار ایک طرف تو انسانی صحت کی تباہی کا موجب بن رہے ہیں اور دوسری طرف بے راہ روی اور اخلاقی گراوٹ میں نوجوانوں کو مبتلا کر رہے ہیں۔ ایسے کیفوں سے نوجوانوں میں منشیات کا رجحان بڑھ رہا ہے اور وہ ذہنی طور پر مفلوج ہو رہے ہیں۔ایسے شیشہ کیفوں کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی جائے اور ایسے گھناونے کاروبار سے منسلک افراد کے خلاف مقدمات قائم کر کے شیشہ کیفوں کو فی الفوربند کیا جائے۔
شیشہ کلب لاہور کے علاوہ کراچی ، اسلام آباد اور پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں قائم ہو چکے ہیں۔ حقہ لاﺅنج یا شیشہ بار سب سے پہلے برطانیہ اور کینیڈا کے کچھ شہروں میں موجود تھے ۔ لیکن 2000ءمیں امریکہ کے شہروں لاس ویگاس، ناویڈہ، نیویارک اور دیگر میں قائم ہونا شروع ہوئے۔ اگرچہ حقہ پینے کی روایت برصغیر میں صدیوں سے موجود ہے۔ برصغیر سے حقہ ایران اور ترکی سے ہوتا ہوا مصر پہنچا ۔ لیکن اس کا شیشہ کے روپ میں استعمال نئی صدی میں پروان چڑھا۔اب یورپ کے ممالک جرمنی ، نیدر لینڈ، برطانیہ، سپین اور شمالی امریکہ کے علاوہ روس میں اس کا استعمال عام ہے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s