لاولد بچے


منصور مہدی
پشاور کے نواحی علاقے کرک کی 17سالہ عظمیٰ ایوب نے اجتماعی زیادتی کے نتیجے میں ایک بچی کو جنم دیا ہے۔عظمیٰ ایوب جو تحصیل تخت نصرتی کے علاقہ مروتان بانڈہ کے دورافتادہ علاقہ سے تعلق رکھتی ہے کو ایک سال قبل مبینہ طور پر اغواءکرلیاگیا تھا۔عظمیٰ کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے والوں میں پولیس افسران بھی ملزم ہیں۔ان میں ایس ایچ او محسن شاہ‘ ایس آئی حکیم خان‘ اے ایس آئی امیرخان شامل ہیں۔عظمیٰ کے ملزمان اتنے بااثرہیں کہ انھوں نے عظمیٰ کے بھائی عالم زیب کو جو اس مقدمہ میں گواہ بھی ہیں کو عدالت کے احاطے میں اندھا دھند فائرنگ کرکے قتل کردیا۔یہ کیس ابھی تک عدالت میں زیر سماعت ہے کہ عظمیٰ ایوب نے پشاور کمپلیکس ہسپتال میں ایک بچی کو جنم دیا ہے۔ اس بچی کو تاحال ایک مقامی این جی او کے شیلٹر ہوم میں منتقل کردیا گیا ہے۔
پاکستان میں لڑکیوں کے ساتھ اجتماعی زیادتی ، زیادتی اور پیار ومحبت کے نتیجے میں قائم ہونے والے تعلقات سے پیدا ہونے والوں بچوں کی تعداد میں روزبروز اضافہ ہو رہا ہے۔ لیکن ایسے بچوں کی پرورش کیے جانے کی بجائے ان بچوں کو سڑکوں پر پھینک دیا جاتا ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں جاتا کہ جب 3سے 4بچوں کو مرنے کیلئے کوڑے دانوں، کھلے میدانوں اور ندی نالوں میں نہیںپھینک دیا جاتا لیکن زندہ بچ جانے والے بچوں کی تعداد ان کے علاوہ ہے۔ ان بچوں کی عمریں ایک دن سے 5دن کی ہوتی ہیں۔ پاکستان میں جہاں پر ناجائز بچوں کو جان سے مارنے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے وہی ایسے بچوں کو گود لینے کیلئے بے اولاد جوڑوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
ایدھی فاونڈیشن کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ برس1000 سے زائد نومولود بچوں کو یا تو قتل کر دیا گیا یا پھر انہیں کوڑے کرکٹ کے ڈھیروں پر پھینک دیا گیا۔ ان ہلاک ہونے والے بچوں میں زیادہ تر نومولود بچیاںں تھیں۔ ایدھی فاوڈیشن کے مطابق یہ اعداد و شمار صرف پاکستان کے اہم شہروں سے جمع کیے گئے ہیں۔ حالانکہ دیہی علاقوں میں اس سے بھی زیادہ ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں، جن کے بارے میں معلومات حاصل کرنا بہت مشکل ہے۔ 2009 میں ایدھی فاﺅنڈیشن کو مجموعی طور پر 999 نومولود بچوں کی لاشیں ملیں جبکہ سال 2008 میں یہ تعداد 890 رہی تھی۔
ایدھی فاونڈیشن کے عہدیدار انور کاظمی کا کہنا ہے کہتنظیم کے مردہ خانوں میں ہر روزدرجنوں ایسے نومولود بچوں کو غسل دیا جاتا ہے جو پاکستان کے بڑے شہروں میں کوڑے دانوں یا دیگر مقامات سے مردہ حالت میں ملتے ہیں۔ ان میں بیشتر لڑکیاں ہوتی ہیں اور اکثر بچوں کی عمر زیادہ سے زیادہ پانچ دن ہوتی ہے۔تنظیم کے محتاط اندازوں کے مطابق صرف گذشتہ سال پاکستان میں لگ بھگ 11 سو نومولود بچوں کو قتل کیا گیا یا پھر مرنے کے لیے سرِ راہ چھوڑدیا گیا جبکہ اس عرصے میں خاموشی سے دفن کیے جانے والے بچوں کی تعداد الگ ہے۔
انور کاظمی کا کہنا ہے کہ معصوم بچوں کو موت کے منہ میں دھکیلنے کے ان واقعات کی حوصلہ شکنی کے لیے ایدھی فاﺅنڈیشن نے اپنے ہر مرکز کے باہر جھولا رکھا ہوا ہے ۔ ملک بھر میں ان کے 365 مراکز میں ہر سال اوسطاً 235 کے قریب بچوں کو جھولوں میں چھوڑدیا جاتا ہے جنھیں اپنانے کے لیے ہزاروں بے اولاد جوڑوں کی درخواستیں ہمارے پاس پہلے سے موجود ہوتی ہیں۔ انور کاظمی کے مطابق اب تک ان کی تنظیم سے 20 ہزار بچوں کو بے اولاد جوڑوں نے گود لیا ہے اور وہ آج ایک بہتر زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف کراچی اور پنجاب کے کچھ علاقوں میں لوگ اپنے بچے زندہ ان کے مراکز پر موجود جھولوں میں چھوڑ جاتے ہیں جبکہ باقی معاشرتی خوف کی وجہ سے یہ ہمت نہیں کر پاتے۔ بالخصوص اندرونِ سندھ ، بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں لوگ ایسے بچوں کو خود ہی دفن کردیتے ہیں تاکہ کسی کو کان وکان خبر ہی نہ ہو۔
انور کاظمی کا کہنا ہے کہ ایسے بچوں کی المناک کہانیاں موجود ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ چند واقعات وہ زندگی بھر نہیں بھول سکتے۔ ایک بچے کی عمرصرف چھ دن تھی جسے جلا کر پھینک دیا گیا تھا۔ اسی طرح ایک امام مسجد کے کہنے پر ایک نومولود بچے کو پتھر مار مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ وہ کہتے ہیں، ”بچوں کو قتل مت کریں۔ ان کو ہمارے پاس لے آئیں۔ ہم ان کو رکھیں گے۔ بچے مجرم نہیں ہوتے۔ وہ انسان ہیں اور ان کو بھی جینے کا حق حاصل ہے۔“
سبحانی ویلفیئر ایسوسی ایشن کے ایک رضاکار نذیر احمد نے نومولود بچو ں کو قتل کرنے کے رجحان میں تیزی کی وجوہات مذہبی اقدار، خاندانی روایات اور معاشرتی خوف کے علاوہ غربت کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بغیر شادی کے بچوں کی پیدائش نا صرف ایک قابل مذمت اور غیر قانونی فعل ہے بلکہ معاشرہ اسے حرامی کہہ کر پکارتا ہے ۔ جبکہ ایسی بن بیاہی مائیں خاندان اور علاقے میں نہ صرف بدنام ہوجاتی ہیں بلکہ انہیں قتل بھی کر دیا جاتا ہے اور اگر کیس پولیس تک پہنچ گیا تو سزا بھی ہوتی ہیں۔ چنانچہ ناجائز تعلقات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے کو یا تو مار دیا جاتا ہے یا مرنے کیلئے اسے کسی جگہ پر پھینک دیا جاتا ہے یا پھر ہسپتال یا کلینک میں پیدائش ہونے کی صورت میں اسے وہی چھوڑ دیا جاتا ہے اس کے علاوہ غربت میں اضافہ بھی ایسے واقعات کے محرکات ہیں۔ پاکستان میں غربت اور تنگ نظری کے سبب عمومی طور پر لڑکوں کو گھر کا کفیل اور لڑکیوں کو بوجھ سمجھا جاتا ہے اس لیے مار دیے جانے والے بچوں میں لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہیں۔ ایسے غریب والدین اپنے بچوں کو کسی جگہ چھوڑ دیتے ہیں ۔بروقت پتہ چل جانے کی صورت میں بچے کو زندہ بچا لیا جاتا ہے ورنہ وہ کتے بلے یا کسی جانور کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے جو بچے ہسپتالوں اور کلینک میں چھوڑ دیے جاتے ہیں ، وہاں پر موجود بچہ چور مافیا کے ارکان ان میں سے اکثر بچے بھکاریوں کو فروخت کر دیتے ہیں جبکہ بیشتر بچیوں کو قحبہ خانوں کی خواتین لے لیتی ہیں۔
بچوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے قائم غیر سرکاری ادارے سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف دی رائٹس آف دی چائلڈپاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق نومولود بچوں اور خصوصاََ بچیوں کے حوالے سے مکمل معلومات کسی ادارے کے پاس موجود نہیں ہیں۔ اس کی وجہ مذہبی رویے بھی ہیں۔ عموماََ ان بچوں کو مذہبی سطح پر ناجائز تصور کیا جاتا ہے۔ اس لیے گفتگو کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا جاتا جبکہ ان میں سے اکثر بچیوں کے ماں باپ کا تعلق قانونی اور مذہبی طور پر درست ہوتا ہے لیکن معاشی اور روایتی قدروں کے باعث وہ یہ قدم اٹھاتے ہیں۔بڑے شہروں میں کسی حد تک لوگوں کو آگاہی ہے تو وہ ایدھی کے حوالے کردیتے ہیں۔ لیکن 80 فیصد سے زاید آبادی اس سے واقف نہیں۔ بچیوں کو اب بھی بوجھ تصور کیا جاتا ہے اور بچپن میں ہی جان چھڑانے کی کوشش کی جاتی ہے۔“
جبکہ حکومتی سطح پر ابھی کوئی ایسا ادارہ نہیں کہ جن کے پاس ایسے بچوںکے اعداد وشمار رکھتا ہوںکہ یہ بچے ایدھی فاﺅنڈیشن اور دیگر ایسی تنظیموں کے علاوہ اور کہاں کہاں یہ نومولود بچیاں پہنچتی ہیں۔جائز اور ناجائز کی بحث کے باعث کوئی مذہبی حلقہ انہیں قبول نہیں کرتا البتہ بعض اطلاعات کے مطابق ’ریڈ لائٹ ایریا‘ کی خواتین انہیں ہاتھوں ہاتھ لیتی ہیں۔ کراچی کے ریڈ لائٹ ایریاکی ایک خاتون کا کہنا ہے کہ بہت سی بچیاں ہمیں ملتی ہیں لیکن ہم ان میں سے چن چن کر اپنے پاس رکھ لیتے ہیں۔ اور باقی بھکاریوں کے حوالے کردی جاتی ہیں۔
لاہور ہائیکورٹ کے وکیل اور پیپلز لائرز فورم کے صدر شاہد حسن ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ پاکستان مسلم اکثریتی آبادی والا ملک ہے، جہاں شادی سے پہلے بچوں کی پیدائش کی مذمت کی جاتی ہے۔ اسلامی قوانین کے تحت بدکاری کے جرم میںقید کی سزا کے علاوہ کوڑوں کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسقاط حمل کی اجازت ملنے سے نومولود بچوں کی شرح اموات میں کمی ہو سکتی ہے لیکن چونکہ پاکستان میں اسقاط حمل قانونی طور پر منع ہے۔ لہذا پاکستانی قانون کے مطابق دوران حمل بچہ ضائع کرنے پر سات سال اور خفیہ طور پر تدفین کے جرم میں دو سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے جبکہ قتل کے جرم میں عمر قید بھی سنائی جا سکتی ہے۔ لیکن نومولود بچوں کے قتل کا مقدمہ کبھی کبھار ہی چلایا جاتا ہے۔ انھوں نے اسقاط حمل کے قانون کے حوالے سے مزید بتایا کہ اسقاط حمل کی اجازت صرف اسی صورت میں دی جاتی ہے، جب ماں کی زندگی خطرے میں ہو۔
لاہور پولیس کے ایک افسر کا کہنا ہے کہ اکثر پولیس اسٹیشنوں پر نومولود بچوں کی لاشیں ملنے کے واقعات کے مقدمات درج ہی نہیں کیے جاتے کیونکہ ان مقدمات کی کوئی پیروی نہیں کرتا۔ چنانچہ اگر کوئی تھانہ رپورٹ درج بھی کر لے تو وہ بالآخر داخل دفتر ہو جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ البتہ ایسے بچوں کی لاشیں ملنے پر پولیس انھیں دفنانے کیلئے ایدھی فاﺅ نڈیشن اور دیگر ایسی تنظیموںکے حوالے کردیتی ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ نہ صرف لاہور بلکہ پنجاب بھر میں نومولود بچوں کی لاشیں ملنے کے واقعات ہوتے رہتے ہیں جنکا روزنامچوں میں اندراج کر لیا جاتا ہے۔ لیکن ان واقعات کا باقاعدہ کوئی ڈیٹا پولیس کے پاس موجود نہیں ہے۔
میو ہسپتال لاہور کے ڈاکٹر غلام فرید کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں میں اکثر ایسے واقعات ہوتے ہیں کہ جب لوگ اپنے نوزائدہ بچوں کو چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ ان بچوں کو بعد ازاں ہسپتال انتظامیہ ایدھی سنٹر یا کسی لاولد جوڑے کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔
پاکستان میں ابھی تک اس حوالے سے کوئی قانون بھی موجود نہیں کہ جس میں سڑکوں پر پھینکے گئے ان بچوں کے حقوق کا تعین کیا گیا ہو۔ یہ بچے تو بے گناہ اور بے قصور ہوتے ہیں۔ یہ اپنی مرضی سے تو اس دنیا میں آتے نہیں۔ اگر قصور ہے تو ان کے والدین کا یا پھر ایسے افراد کا کہ جو عظمیٰ ایوب اور اس جیسی لڑکیوں کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بناتے ہیںیا لڑکی کو پیار و محبت کے چنگل میں پھنسا کر اس کی عزت لوٹتے ہیں اور حاملہ ہونے پر اس کو بے یارومدگار چھوڑ جاتے ہیں۔ یا پھر اس لڑکی کا اپنا قصور ہے جو خود اپنی مرضی سے اس حد تک چلی جاتی ہے۔
…………………………………………………………………………………………………………………………………………………………………………………….
شادی کیے بغیر بچوں کی پیدائش میں اضافہ صرف پاکستان کا ہی مسئلہ نہیں ہے بلکہ دنیا کے ہر ملک میں ایسے بچوں کی پیدائس کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل میںشائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ میںگزشتہ دو سال میں پہلی مرتبہ شادی کے بغیر بچوں کی پیدائش کی شرح انتہائی بڑھ گئی ہے۔ اخبار نے اس کی اہم وجہ برطانیہ کے روایتی خاندانی نظام کی ٹوٹ پھوٹ اور کئی صدیوں سے چلی آ رہی تہذیب کی تباہی کو قرار دیا ہے۔اخبار لکھتا ہے کہ 16 سال کی عمر تک پہنچنے والے تقریباً نصف بچوں کے والدین ایک دوسرے سے الگ ہو چکے ہوتے ہیںجبکہ اب 10 میں سے 9 جوڑے شادی کے بغیر ہی ایک دوسرے کے ساتھ رہنا پسند کرتے ہیں۔30 سال پہلے تک شادی کے بغیر بچے پیدا کرنا باعث شرم بات ہوا کرتی تھی مگر اب اس پر کوئی شرم محسوس نہیں کرتا۔
ڈیلی میل ایک برطانوی تنظیم سنٹر فار سوشل جسٹس کی ایک ریسرچ کے حوالے سے لکھتا ہے کہ آئس لینڈ کے بعدبرطانیہ دوسرا ملک ہے کہ جہاں اس وقت 48 فیصد بچے غیر شادی شدہ والدین سے پیدا ہو رہے ہیں۔ 10 سال پہلے تک یہ تعداد 40 فیصد تھی جبکہ آئس لینڈ میں ایسے بچوں کی شرح 66فیصد ہے۔
یورپی محقق نورمین ویلزے جو برباد ہو جانے والے خاندانوں کے اسباب کی تحقیق کرتا ہے کا کہنا ہے کہ یورپ میں یہ صورتحال بڑی افسوناک ہے یہ اس معاشرے کی تصویر ہے جو وقتی جنسی تعلقات کے پیچھے پڑا ہے اور مستقل خاندانی زندگی پر یقین نہیں رکھتا۔ ان کا کہنا ہے یہ سکولوں میں سیکس ایجوکیشن کا نتیجہ ہے کہ برطانیہ میں48فیصد بچے شادی کے بغیر پیدا ہوتے ہیں۔ برطانیہ میں ہر سال د س ہزار لوگ طلاق لیتے ہیں۔ کمسن لڑکیوں کے ماں بننے کی شرح فرانس سے دوگنی ہے۔ بھارت میں بھی ایسے بچوں کی کمی نہیں کہ جنہیں بن بیاہی مائیں دھرم شالوں میں چھوڑ جاتی ہیں۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s