شمسی ائر بیس کی حقیقت


منصور مہدی
مورخہ 2دسمبر 2011کوآخری خبر آنے تک نہ صرف پاکستان کے اعلیٰ حکام کی 16رکنی ٹیم امریکی فوجیوں سے بلوچستان کے ضلع خاران میں واقع شمسی ائر بیس کو خالی کروانے کیلئے موقع پر پہنچ گئی ہے جبکہ متحدہ عرب امارات کی شاہی فضائیہ کا جہاز بھی امریکی فوجیوں کو لیجانے کے لیے آ چکا ہے۔
گذشتہ ماہ کی 26تاریخ کو امریکہ اور نیٹو کے ہیلی کاپٹروں نے پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں پاک افغان سرحد کے قریب سلالہ کے علاقے میں دو پاکستانی چوکیوں پر بلااشتعال فائرنگ کی تھی جس میں دو فوجی افسروں سمیت 22جوان شہید اور 13زخمی ہو گئے تھے۔
جس پر حکومت پاکستان نے احتجاج کے طور پر نہ صرف نیٹو کی پاکستان کے راستے رسد جانے پر پابندی لگا دی بلکہ شمسی ائر بیس کو بھی 11دسمبر تک خالی کرنے کا نوٹس بھیج دیا۔
شمسی ائر بیس بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ سے 320کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے۔ افغانستان میں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اوئل دنوں سے ہی یہ ائر بیس ذرائع ابلاغ میں زیر بحث چلا آرہا ہے۔ ان رپورٹس کے مطابق جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تو اس نے پاکستان سے افغانستان میں موجود نیٹو کی فوج کو فضائی تحفظ دینے کیلئے افغان سرحد کے قریب ہوائی اڈے مانگے تھے جس پر اس وقت کی حکومت نے امریکہ کو شمسی ائر بیس کے علاوہ جیکب آباد میں واقع شہباز ائر بیس اور پسنی میں واقع ہوائی اڈا امریکہ کے حوالے کر دیا۔ اگرچہ حکومت پاکستان نے کبھی کھل کر نہ تو اس بات کو تسلیم کیا اور نہ ہی تردید کی۔
شمسی ائر بیس اس حوالے سے پہلی مرتبہ ذرائع ابلاغ میں اس وقت آیا کہ جب 9جنوری2002کو یہاں پر امریکی میرینز کا KC-130ہوئی جہاز کریش ہوا اور جہاز کا تمام عملہ ہلاک ہو گیا۔ لیکن اس حوالے سے شدت اس وقت آئی جب فروری2009میں برطانوی اخبار نے ایک مضمون شائع کیا جس میں 2006کی گوگل ارتھ کی لی ہوئی تصاویر بھی شائع کیں جن میں امریکی ڈرون طیارے شمسی ائر بیس کے ہینکر میں کھڑے تھے جو نہ صرف افغانستان میں طالبان کے ٹھکانوں پر بلکہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں طالبان کے مراکز پر میزائل حملوں میں استعمال کیے جاتے تھے۔
شمسی ائر بیس کے حوالے اخبارات میں مختلف نوعیت کی خبریں آنے لگی، کوئی موجودہ حکومت کو الزام دینے لگا تو کوئی مشرف حکومت کو اس کا ذمہ دار ٹھہراتا لیکن پھر بھی اس حوالے سے پاکستانی قوم ایک مخمصے میں مبتلا تھی اور یہ جاننے کی خواہش رکھتی تھی کہ شمسی ائر بیس پر کب اور کیسے امریکی فوج نے کنٹرول حاصل کیا۔جبکہ امریکی حکام نے بھی تسلیم کیا کہ پاکستان کے شمسی ایر بیس پر سی آئی اے کے اہلکار اور جاسوس طیارے موجود ہیں اوروہاں سے نگرانی کیلئے ڈرون آپریشن کیا جاتا ہے۔
سلالہ میں نیٹو کی فائرنگ کے بعد حکومت پاکستان نے امریکہ کو شمسی ائر بیس خالی کروانے کا نوٹس دیا تو اس کے اگلے ہی روز متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زید النیہان اچانک اسلام آباد پہنچ گئے اور نہ صرف صدر پاکستان آصف علی زرداری سے بلکہ پاک فوج کے سپہ سالار جنرل کیانی سے ملاقات کی اورشمسی ایئربیس کو امریکی فوج سے خالی نہ کرانے کی درخواست کی جسے نہ تو صدر نے قبول کیا اور نہ ہی آرمی چیف نے۔ صدر کا کہنا تھا کہ شمسی ایئربیس خالی کرانے کی ڈیڈ لائن میں توسیع نہیں ہو سکتی ۔
متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ کی آمد کے بعد سے شمسی ایر بیس کے حوالے سے قومی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں جو رپورٹس شائع ہوئی ان کے مطابق پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے 1992میں شمسی ایر بیس یو اے ای کو لیز پر دیا تھا۔ جسے عرب شہزادے استعمال کرتے تھے۔ پاکستان میں شکار کے موسم میں تلور کے شکار کے لئے عرب حکام اور ان کی اولادیں جب یہاں آتی تھی تو ان کے جہاز براہ راست اس ہوائی اڈے پر اترتے تھے لیکن افغان جنگ شروع ہونے پر متحدہ عرب امارات نے امریکی خواہش پر یہ اڈا امریکی فوج کی تحویل میں دے دیا۔
ذرائع ابلاغ کی ان رپورٹس نےشمسی ائربیس کو ایک پراسرار اور شکوک میں لپٹا ہوا معاملہ قرار دیا ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کا کہنا ہے کہ کیا واقعی ایسا ہی ہے؟ اس مسئلے کے تین کردار ہیں۔ پاکستان، متحدہ عرب امارات اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ۔ یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ ان میں سے کوئی بھی شمسی ائر بیس کے بارے میں سچ نہیں کہے گا۔ سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنی کتاب ”ان دی لائن آف فائر،، میں نائن الیون کے بعد امریکہ سے تعاون کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے لکھا ہے ”ہم اپنے کلیدی اثاثوں کو خطرے میں ڈالے بغیر کیسے امریکہ کو اس بات کی اجازت دے سکتے تھے کہ وہ پاکستان کی فضائی حدود کو جس قدر چاہے استعمال کرے اور ا±س کے طیارے کہیں بھی اتر سکیں؟ میں نے انہیں صرف ایک قلیل فضائی راستے کے استعمال کی اجازت دی، جو ملک کی حساس دفاعی تنصیبات سے خاصے فاصلے پر تھا۔ ہم نے امریکیوں کو اس بات کی قطعی اجازت نہیں دی کہ وہ ہماری بندرگاہیں، ہوائی پٹیاں اور سرحدی علاقوں پر کلیدی مقامات کا استعمال کرے۔،، ہم نے انہیں کوئی بھی بحری اڈہ اور جنگی ہوائی اڈے کے استعمال کی اجازت بھی نہیں دی۔
پھر چند ماہ قبل پاکستان کے وزیر اعظم اور وزیر دفاع نے ایک جیسے بیانات میں کہا ہے کہ ”ہم امریکی فوجی اہلکاروں اور ا±ن کے سازوسامان کو شمسی ائر بیس سے نکال باہر نہیں کر سکتے کیونکہ یہ ائر بیس پاکستان کی ملکیت ہی نہیں ہے اور یہ 1992ء میں متحدہ عرب امارات کو لیز پر دی جا چکی ہے۔،، اس بیان کی رو سے امریکیوں کو شمسی ائر بیس کے استعمال کی اجازت پاکستان نے نہیں بلکہ متحدہ عرب امارات نے دی ہے۔ جس کے پاس اس ہوائی پٹی کو استعمال کرنے کا قانونی حق موجود تھا۔2 مئی کو ایبٹ آباد میں امریکی آپریشن کے حوالے سے ہونے والے پارلیمنٹ کے بند کمرہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ملک کیعسکری قیادت نے بھی انکشا ف کیا تھا کہ شمسی ائربیس اس وقت پاکستان کے نہیں بلکہ عرب امارات کے کنٹرول میں ہے۔
اِن بیانات کے بعد ہمارے پاس معلومات کا ایک اور ذریعہ ’امریکی حکومت کی خفیہ خط و کتابت ہے، جو وکی لیکس نامی ویب سائٹ کے ذریعے منظر عام پر آئیں۔ ایسی ہی ایک امریکی خط و کتابت ©” جو 2005ء سے متعلق تھی اور جس کے منظر عام پر آنے سے متحدہ عرب امارات کی حکومت نے ناپسندیدگی کا اظہار بھی کیا تھا” میں کہا گیا کہ ”متحدہ عرب امارات اس بات سے ناخوش ہے کہ پاکستان میں امریکیوں سے ا±س کے تعاون کے بارے میں راز افشاء ہوئے ہیں۔،،
پھریہ راز ایک امریکی فوج کے اعلیٰ اہلکار جنرل ٹومی فرانکس کی کتاب میں شامل کئے گئے تھے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ”امریکیوں نے بلوچستان میں واقع شیخ زید کی نجی فضائی پٹی کو استعمال کیا۔،، اَمریکی خط و کتابت میں کہا گیا کہ ”متحدہ عرب امارات کی حکومت چاہتی ہے کہ ا±ن کا افغانستان اور پاکستان میں امریکیوں سے تعاون کے بارے میں تفصیلات خفیہ رہیں کیونکہ اِن تفصیلات کے منظر عام پر آنے سے پاکستان میں تعینات متحدہ عرب امارات کے اہلکاروں یا متحدہ عرب امارات کو داخلی طور پر خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ان رپورٹس کے بعد اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ متحدہ عرب امارات کو دی جانے والی شمسی ائر بیس کے لیز پر دیے جانے کی تفصیلات کیا ہیں؟ کیا یہ بین الاقوامی قوانین کے تحت کسی باضابطہ معاہدے یا پھر عہد کے تحت دی گئی ہے۔ اگر یہ حکومت کی سطح پر کسی نجی گروہ سے ہونے والا معاملہ تھا تو پھر کیا پاکستانی حکومت اس معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں مداخلت کرتے ہوئے اس معاہدے کو معطل کرنے کا اختیار رکھتی تھی؟
جیسا کہ امریکہ نے کیا جب حکومت پاکستان نے ایف سولہ جنگی طیاروں کی خریداری کے لئے طیارہ ساز ادارے سے معاہدہ کیا تو امریکی حکومت نے ا±ن دنوں پاکستان پر پابندیاں عائد کرتے ہوئے ا±س معاہدے پر عمل درآمد کو بھی رکوا دیا۔چنانچہ شمسی ائر بیس کا اگر یہ معاہدہ متحدہ عرب امارات اور بلوچستان حکومت کے درمیان ہوا تھا تو اسے وفاقی حکومت معطل کر سکتی ہے کیونکہ بلوچستان وفاق کا حصہ ہے۔
پھر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے شاہی خاندان نے پاکستان کے ساتھ معاہدے میں شمسی ائر بیس کے من چاہے استعمال کا حق حاصل کیا ہے۔ اور اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ اجارے پر لی گئی ہوائی پٹی کے استعمال کی اجازت کسی دیگر گروہ کو دے؟ اور اگر ایسا کرنے کا ذکر معاہدے میں درج ہے تو ایسی صورت میں کیا حکومت پاکستان کا اس بارے میں راضی ہونا ضروری ہے۔ لیکن ا±ن حدود کے بارے میں کوئی بھی نہیں جانتا کہ وہ کون سے شرائط تھیں کہ جن کے تحت یہ شمسی ائر بیس متحدہ عرب امارات کو دیا گیا۔
ہاں اس حوالے سے اگر کوئی درست بات بتلا سکتا ہے تو وہ اس وقت کی حکومت اور حکمران ہی بتا سکتے ہیں کہ شمسی ائر بیس کن شرائط پر متحدہ عرب امارات کے حوالے کیا گیا۔
جیکب آباد میں واقع شہباز ائر بیس اور پسنی میں واقع ہوائی اڈے کے حوالے وزارت دفاع اور دیگر عسکری حکام کا کہنا ہے کہ یہ دونوں اڈے اب پاکستان کی تحویل میں ہیں اور ان کا امریکی فوج یا ان کے کسی ادارے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ایسا ہی تربیلا میں واقع فوجی اڈے کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ یہاں پر بھی کوئی امریکی موجود نہیں ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s