لال مسجد


  منصور مہدی

معصوم بچوں اور لڑکیوں کو جہاد کا سبق دینے ، حکومت سے لڑتے ہوئے شہادت کا درجہ حاصل کرنے کی ترغیب دینے اور میدان جنگ سے نہ بھاگنے کا درس دینے والے لال مسجد کے خطیب غازی عبدالعزیز جامعہ حفضہ اور لال مسجد میں ہزاروں بچوں اور بچیوں کو اکیلا چھوڑ کر اپنی بیوی کا برقعہ پہن کر فرار ہوتے ہوئے گرفتار ہو گئے۔جس کے ساتھ ہی حکومت کی طرف سے جاری ان انتہا پسندوں کے خلاف جاری آپریشن کا ایک مرحلہ کامیاب ہو گیا۔لال مسجد کے مسلح لڑاکا جوانوں کے چیف کمانڈر کے میدان جنگ سے عورتوں کی طرح بھاگنے سے نہ صرف ان لڑکوں کا مورال ڈاﺅن ہوا کہ جنہوں نے ان مولانا کی باتوں میں آکر نہ صرف حکومت سے ٹکر لی بلکہ پوری قوم، بین الاقوامی برادری اور قریبی دوستوں کی مخالفت بھی مول لی۔ اسلام آبادکے اعلیٰ حکام کا اس بارے میںکہنا ہے کہ مولانا عبدالعزیز برقعہ پہن کر جامعہ حفضہ کی ان طالبات کی لائن میں لگ کر لال مسجد سے باہر آئے کہ جنہوں نے حکومت کی طرف سے عام معافی کے اعلان کے بعد خود کو حکام کے حوالے کر دیا تھا ۔ جب مدرسے سے چھ خواتین برقعے میں ملبوس باہر آئیں تو وہاں پر موجود لیڈی پولیس کی ممبران نے ان کی تلاشی لی اور مولانا کی طرف بڑھی تو ان خواتین میں سے کچھ نے لیڈی پولیس سے کہا کہ یہ ہماری آنٹی ہیں اور بیمار ہیں ان کی تلاشی نہ لیں اور بضد رہیں کہ ہماری آنٹی کو نہ چھوا جائے جس پر لیڈی پولیس کو شک ہوا اور انھوں نے زبردستی جب اس آنٹی کی تلاشی لی تو انھیں محسوس ہوا کہ یہ عورت نہیں بلکہ کوئی مرد ہے جس پر لیڈی پولیس نے شور مچا دیا اور ان کا برقعہ اتارا تو اندر سے مولانا عبدالعزیز برآمد ہوئے جس پر انھیں گرفتار کر لیا گیا۔ان کے ساتھ ان کی بیوی اور جامعہ حفضہ کی پرنسپل ام حسان بھی گرفتار ہو گئیں۔
لال مسجد کے بانی مولانا عبداللہ جو مولانا عبدالعزیز اور عبدالرشید کے والد تھے جنوبی پنجاب کے ضلع راجن پور کے گاو¿ں روجھان میں پیدا ہوئے۔ خاندان کی کفالت کے ناکافی ذرائع اور والد کے مذہبی رجحانات انہیں رحیم یار خان کے مدرسہ خدام العلوم لے گئے جہاں سے ابتدائی دینی تعلیم کے بعد انہیں ملک کی مشہور مذہبی سیاسی شخصیت مولانا مفتی محمود کے ملتان میں قائم مدرسہ قاسم العلوم میں داخل کروا دیا گیا۔ اس کے بعد عالم فاضل کی تعلیم کے لیے وہ کراچی چلے گئے جہاں سے مدرسہ بنوری ٹاو¿ن سے انہوں نے 1957 میں یہ اعلیٰ ترین مذہبی ڈگری حاصل کی۔ تعلیم سے فراغت کے بعد مولانا عبداللہ 9 سال تک کراچی کی مختلف مساجد میں امامت کرتے رہے۔
جب دارالخلافہ اسلام آباد منتقل ہوا تو یہاں کی پہلی مرکزی جامع مسجد کے لیے صدر ایوب خان نے اس وقت کے مولانا محمد یوسف بنوری کی سفارش پر مولانا عبداللہ کو جی سکس فور میں بننے والی اس جامع مسجد کا خطیب مقرر کر دیا۔ اس وقت اسلام آباد کی کل آبادی اسی مسجد کے قرب و جوار میں مقیم تھی۔ شہر کے اکابرین اسی مسجد میں آتے جاتے تھے۔ وقت گزرنے ک ساتھ مولانا عبداللہ نے اپنے مدّاحوں کا ایک حلقہ بنا لیا جن میں افسر شاہی کے ارکان بھی تھے اور سیاست دان بھی۔
سیاسی افق پر مولانا عبداللہ اور ان کی لال مسجد تحریک ختم نبوت کے وقت نمودار ہوئے جب یہ مسجد اسلام آباد میں ہونے والی ختم نبوت تحریک کے جلسوں اور جلوسوں کا مرکز بن گئی۔ تحریک کے روح رواں مفتی محمود مولانا کے استاد تھے۔ اس تحریک کے دوران یہ تعلق سیاسی نوعیت اختیار کر گیا اور آنے والے دنوں میں وزیر اعظم ذولفقار علی بھٹو کے خلاف سیاسی تحریک میں بھی لال مسجد نے اہم کردار ادا کیا۔ ضیا الحق جب برسر اقتدار آئے تو دیگر بہت سوں کی طرح مولانا عبداللہ کی بھی ان سے خاصی قربت رہی۔ وہ مرتے دم تک رویت ہلال کمیٹی کے سربراہ رہے۔
مولانا عبداللہ نے 80 کی دہائی میں باقاعدہ ایک تحریک کے ذریعے اسلام آباد میں نئی مساجد اور مدارس کی تعمیر کا سلسلہ شروع کیا۔ اس دوران بیسیوں مساجدکی بنیاد رکھی گئی لیکن بعض افراد کے مطابق ان میں سے بیشتر سرکاری زمینوں پر غیر قانونی قبضے کر کے تعمیر کی گئیں۔ انہوں نے جامعہ فریدیہ کے نام سے بچوں اور جامعہ حفصہ کے نام سے بچیوں کے لیے مدارس بھی تعمیر کیے۔
1998 میں جب وہ اسلام آباد میں ایک نامعلوم گولی کا نشانہ بنے تو ان کے ورثا میں بیوہ کے علاوہ دو بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں۔ وصیت کے مطابق ان کے بڑے بیٹے مولانا عبدالعزیز کو ان کا جانشین اور لال مسجد کا خطیب مقرر کیا گیا۔اس طرح والد کی وفات کے بعد مولانا عبدالعزیز خطیب لال مسجد اور جامعہ فریدیہ اور ان کی زوجہ جامعہ حفصہ کی مہتمم قرار پائیں۔
مولانا عبدالعزیز ایک فرمانبردار فرزند کے طور پر ایک غیر متنازعہ فرد سمجھے جاتے تھے۔ لیکن ان کے چھوٹے بھائی، جن کا نام ان کے دادا کی مناسبت سے عبدالرشید غازی رکھا گیا تھا، ذرا مختلف طور طریقوں کے ساتھ سامنے آئے۔ سب سے پہلے تو عبدالرشید نے کسی قسم کی دینی تعلیم حاصل کرنے سے انکار کر دیا۔ والد کے دباو¿ پر فیصل مسجد سے ملحق مدرسے میں داخلہ تو لے لیا لیکن تعلیم ادھوری چھوڑ کر راہ فرار اختیار کی اور اپنی دنیا آپ پیدا کرنے کا اعلان کر دیا۔ حافظ عبدالرشید غازی نے داڑھی نہ رکھنے کا فیصلہ کیا اور مسجد و مدرسے کو خیر باد کہہ کر قائد اعظم یونیورسٹی میں انٹر نیشنل ریلیشنز میں ایم اے کرنے کے لیے داخلہ لے لیا۔اس دوران مولانا نے ملک میں زور پکڑتی فرقہ واریت میں بھی سرگرم کردار ادا کیا۔ وہ پینٹ شرٹ پہنتے اور مخلوط محفلوں میں شرکت کرتے۔ اس دوران رواج کے برعکس حافظ کا لفظ اپنے نام کے ساتھ لگانے سے احتراز کرتے رہے۔ والد ان کی غیر شرعی طرز زندگی سے اتنے نالاں ہوئے کہ وصیت نامے میں اپنے مدارس اور مساجد پر مبنی جائیداد کا بلا شرکت غیر مالک اپنے بڑے بیٹے مولانا عبدالعزیز کو بنا ڈالا۔عبدالرشید غازی کچھ اور ہی چاہتے تھے۔ امتیازی نمبروں سے ایم اے کی ڈگری لینے کے بعد انہوں نے سرکاری ملازمت اختیار کرنے کا ارادہ کیا اور1979 میں وزارت تعلیم میں سترہ گریڈ کے افسر لگ گئے۔ یہاں سے ڈیپوٹیشن پر اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے اسلام آباد دفتر میں چلے گئے جہاں کئی سال خدمات انجام دیں۔
والد کے قتل نے عبدالرشید غازی کو بدل کر رکھ دیا۔ رفتہ رفتہ انہوں نے مسجد اور مدرسے کے معاملات میں دلچسپی لینا شروع کی اور چہرے پر داڑھی نمودار ہونا شروع ہو گئی۔ سرکاری ملازمت بہرحال چلتی رہی۔ بڑے بھائی نے ان کی بدلتی سوچ کی حوصلہ افزائی کی اور مدرسے اور مسجد میں اپنا نائب اور جانشین مقرر کر دیا۔
عبدالرشید غازی پہلی بار منظر عام پر سال2001 میں اس وقت آئے جب ملک کی مذہبی جماعتوں نے امریکی حملے کے خلاف افغانستان کے دفاع کے لیے ایک تنظیم کا اعلان کیا۔ عبدالرشید غازی، جو کہ اب اچانک، مطلوبہ مذہبی تعلیم اور ڈگری نہ ہونے کے باوجود مولانا ہوچکے تھے، مولویوں کے اس اتحاد کے مرکزی رہنما قرار پائے۔ اسلام آباد میں ہر روز ایک جلسہ ہوتا اور مولانا عبدالرشید غازی دیگر مذہبی رہنماو¿ں کے ساتھ کھڑے جذباتی انداز میں خطاب کرتے۔
حکومت کے ساتھ ان کے معاملات میں اصل خرابی اس وقت آئی جب سال 2004 میں قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن ہوا اور دیگر مذہبی عناصر کی طرح عبدالرشید غازی نے بھی ڈٹ کر اس کی مخالفت کی اور اس کیلئے لال مسجد کا پلیٹ فارم استعمال کیا۔ اس آپریشن میں جب دونوں طرف سے بھاری جانی نقصان کی اطلاعات آنا شروع ہوئیں تو لال مسجد سے ایک فتوی جاری ہوا کہ اس لڑائی میں مارے جانے والے فوجیوں کو ’ہلاک‘ جبکہ مقامی قبائلیوں اور طالبان کو ’شہید‘ کہا جائے۔ یہ تو گویا صدر جنرل مشرف اور ان کی افواج کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہوا ۔
2004میں عبدالرشید غازی اسلام آباد اور راولپنڈی میں یوم آزادی کے موقع پر متعدد اہم سرکاری عمارات پر بم دھماکوں کے منصوبے میں ملوث پائے گئے ہیں۔ اس فہرست میں ایوان صدر، پارلیمنٹ ہاو¿س اور جی ایچ کیو کی شمولیت نے معاملے کو سنگین بنا دیا۔جس کے بعد مولانا عبدالرشید زیر زمین چلے گئے اور حکومت نے ان کی ’بارود سے بھری گاڑی‘ میڈیا والوں کے سامنے پیش کر دی۔اس کے بعد درون پردہ کیا ہوا، معلوم نہیں لیکن ایک روز مذہبی امور کے وزیر اعجاز الحق نے اعلان کیا کہ موصوف اس سازش میں ملوث نہیں ہیں اور انھیں اس مقدمہ سے فارغ کر دیا گیا ۔
جبکہ دیگر ملزمان کے خلاف چالان عدالت میں پیش کر دیا گیا۔ان ملزمان میں قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے چند افراد کے علاوہ ایک دو ازبک جنگجوو¿ں کے نام بھی لیے جاتے رہے۔ جن کے بارے میں یہ تصدیق ہو چکی تھی کہ ان تمام افراد کا لال مسجد آنا جانا تھا۔ حکومت نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا تو پتہ چلا کہ عبدالرشید غازی کے وزیرستان میں بسنے والے جنگجوو¿ں سے قریبی روابط رہے ہیں۔مولانا عبدالرشید کی عسکری تربیت کا مظاہرہ اس وقت دیکھنے کو ملا کہ جب اسلام آباد میں ان پر ایک قاتلانہ حملہ ہوا تو انھوں نے اپنی کلاشنکوف سے جوابی فائرنگ کی جس پر حملہ آور بھاگ جانے پر مجبور ہو گئے۔مولانا کا ایک یہ بھی خاصہ رہا ہے کہ وہ ہر وقت مسلح رہتے ہیں ایک کلاشنکوف انکی گاڑی میں ایک ان کے دفتر کی میز پر اور ایک ان کے سونے کے کمرے میں رہتی تھی۔
لال مسجد ، جامعہ فریدیہ اور جامعہ حفضہ کا ذکرپھر ایک دیگر انداز میںفروری 2007میں اس وقت اخبارات میں آیا جب جامعہ حفضہ کی لٹھ بردار لڑکیوں نے جامعہ حفضہ سے ملحق چلڈرن لائبریری پر قبضہ کر لیا جس پر متعدد افراد اور جماعتوں نے اس کی مذمت کی مگر لال مسجد کی انتظامیہ نے یہ قبضہ آخری وقت تک نہ چھوڑا اور جب ان لوگوں نے ہتھیار ڈالنے شروع کیے تو حکومت نے یہ قبضہ واپس لیا ۔
لال مسجد انتظامیہ کی اس حرکت کواچھی نظروں سے نہیں دیکھاگیا اور شہری حلقوں کی طرف سے مذمت جاری تھی کہ اسی دوران لال مسجد کے لٹھ بردار لڑکوں نے اسلام آباد میں سی ڈی کی دکانوں کو زبردستی بند کروانا شروع کر دیا اور ان کے مال کو آگ لگانا شروع کر دی جس سے متعدد افراد کا کاروبار ٹھپ ہو گیا اور لوگ بے روزگار ہو گئے اور لوگوں میں خوف و ہراس پھیلنے لگا۔
اسی دوران لال مسجد کا قصہ ایک مرتبہ پھر اخبارات میں جب آیا جب ان کی لٹھ بردار لڑکیوں اور لڑکوں نے اسلام آباد میں ایک مکان میں گھس کر ایک آنٹی شمیم نامی عورت کو اس کی بیٹی ،بہو اور چھ ماہ کی بچی سمیت بدکاری کا اڈا چلانے کے الزام میں اغوا کر لیا اور انھیں مسجد میں محبوس کر لیا اس پر بھی تقریباً تمام سیاسی ،سماجی اور شہری حلقوں کی طرف سے احتجاج کیا گیا مگر لال مسجد والے اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے مگر بعد ازاں متعدد حلقوں کی طرف سے مذاکرات کے بعد انھیں رہا کر دیا گیا ۔
لال مسجد انتظامیہ نے مولانا عبدالعزیز کی زیر صدارت مسجد میںایک اجتماع منعقد کیا جس میں تقریر کرتے ہوئے انھوں اپنے زیر اثر علاقے یعنی لال مسجد اور اس کے گردونواح میں شرعی نظام نافذ کرنے کا اعلان بھی کیا اور ایک شرعی عدالت قائم کردی اور حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ بھی شرعی نظام نافذ کرے اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں اور ان کی سرگرمیوں پر کوئی قدغن لگانے کی صورت میں ملک بھر میں خودکش حملوں کی دھمکیاں بھی دیں اور مسلح جہاد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ہزاروں طالب علموں سے حکومت کے خلاف جہاد کرنے کا حلف بھی لیا۔
اسلام آباد کے گنجان آباد علاقے میں جاری ان مولانا برادران کی سرگرمیوں کو روکنے کے لئے حکومت نے سختی سے کام لینے کی بجائے متعدد حلقوں کی طرف سے ان بھائیوں کو سمجھانے کی کوشش کی جاتی رہی مگر ان دونوں نے کسی کی بات کو بھی تسلیم نہیں کیا۔حتیٰ کہ اپنے استاد اور پیر و مرشد مفتی تقی عثمانی کی نصیت اور باتوں کو بھی ماننے سے انکار کر دیا۔
اور اپنی غیر قانونی سرگرمیاں جاری رکھیں اور کچھ ہی عرصے کے بعد لال مسجد کے لٹھ بردار نوجوانوں نے پولیس کے اہلکاروں کو اغوا کر لیا اور مسجد میں محبوس کر لیا ۔اس پر حکومت سے سختی سے انہیں پیغام بھیجا مگر انھوں نے سرکاری اہلکاروں کو فوری طور پر رہا کرنے سے انکار کر دیامگر بعد ازاں تقریباً ایک ہفتے کے بعد مذاکرات کے ذریعے انھیں رہا کیا گیا۔
اسی دوران وفاقی وزیر سیاحت نیلو فر بختیار فرانس گئیں جہاں پر انھوں نے چھوٹے جہاز سے پیرا شوٹ کے ذریعے چھلانگ لگائی ۔جن کی تصاویر اخبارات میں شائع ہوئیں تو لال مسجد انتظامیہ کی شرعی عدالت نے ان کے خلاف کفر کا ایک فتویٰ دے دیا۔اس پر بھی کچھ حلقوں کی طرف سے اسے درست اور متعدد حلقوں کی طرف سے مذمت کی گئی مگر لال مسجد کا یہ ایشو اس وقت زیادہ منظر عام پر آیا کہ جب لال مسجد کے لٹھ بردار لڑکوں اور لڑکیوں نے برادر ملک دوست چین کی خواتین کو ایک مساج سنٹر سے گرفتار کر کے مسجد میں لے آئے۔
ان مولانا برادران کی ان حرکتوں سے جہاں پر اسلام آباد کے لوگ خوفزہ تھے وہاں پر ملک بھر کے سنجیدہ طبقے بھی ان واقعات کو تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے کہ پہلے تو ان لوگوں نے لوکل سطح پر ہی کاروائیاں کی تھیں اور لوکل سرکاری اور غیر سرکاری لوگوں کو اغوا کیا مگر اس بار ان لوگوں کے حوصلے اس قدر بڑھ گئے کہ انھوں نے غیر ملکی لوگوں کو بھی اغوا کرنا شروع کر دیا۔
دوسری طرف حکومت پر بھی ان لوگوں کے خلاف کاروائی کیلئے دباﺅ بڑھ رہا تھا مگر حکومت مدرسے میں موجود خواتین اور معصوم بچوں کی وجہ سے ان کے خلاف کوئی ایسی کاروائی کرنے سے ہچکچاتی رہی کہ جس کی وجہ سے وہاں پر اموات ہو اور سیاسی پارٹیوں کو ان لاشوں پر سیاست کرنے کا موقع ملے۔حکومت کی اس ہچکچاہت کی وجہ سے بعض افراد اور پارٹیوں کی طرف سے یہ بھی کہا جانے لگا کہ لال مسجد والے دراصل حکومت کی ہی بی ٹیم کے لوگ ہیں جو حکومت کے کہنے پر ایسا کر رہے ہیں اور کسی اہم ایشو جیسے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا کیس تھا ،کے اثرات کو ختم کرنے کے لیے حکومت لال مسجد کا ایشو شروع کر دیتی ہے۔
لیکن برادر ملک چین کی خواتین کے اغوا کے بعد آخر کار اسلام آباد کی لال مسجد کے اردگرد آگ کے شعلے، سائرن بجاتی ایمبولینسں گاڑیاں، فضا میں گولیوں کی ترتراہٹ اور دیواروں پر انسانی لہو کے وہ چھینٹے 3 جولائی کو نمودار ہوگئے جس کا خدشہ فروری سے نظر آ رہا تھا جب پہلی مرتبہ جامعہ حفصہ کی سیاہ برقعوں میںملبوس، جنگجوانہ انداز میں ایک ہی سائز کے ڈنڈے تھامے لڑکیوں نے بچوں کی ایک لائبریری پر قبضہ کیا تھا۔مگر لال مسجد کے ناسمجھ پالیسی دانوں نے پاکستانی قوم کو یہ دن بھی دکھا دیا کہ جب اسلام آباد کے بعض علاقوںمیں اسلام آباد کی تاریخ میں پہلا کرفیونافذ ہو گیا اور فوج بکتر بند گاڑیاں اور جدید اسلح سے لیس ہو کر اسلام آباد پہنچ گئی۔
3جولائی کو صبح تقریباً دس بجے کے قریب جب لال مسجد کے مسلح لڑکوں نے رینجرز اور پولیس کے بعض اہلکاروں سے اسلح کے زور پر ان کا اسلح چھینا اور انھیںاغوا کرنے کی کوشش کی جس پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انھیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل پھینکے جس کے جواب میں لال مسجد کے لڑکوںنے فائرنگ کی۔جس کے بعد دن بھر دونوں طرف سے وقفے کے ساتھ ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا۔ ان واقعات میں لال مسجد کے باہر رینجرز اور لال مسجد کے مسلح لڑکوںکے درمیان جاری جھڑپوں میں پہلے روز ہلاک ہونے افراد کی تعداد 12 ہوگئی۔ادھر حکومت کی جانب سے ممکنہ آپریشن کی تیاریوں کے حوالے سے مسجد کے اردگرد سکیورٹی اہلکاروں کی بھاری تعداد تعینات کر دی گئی ہے ۔ لال مسجد اور اس کے گردنواح میں فائرنگ سے ہلاک ہونے والوں میں پانچ طلبہ، ایک صحافی، دو رینجرز اہلکار اور ایک راہگیر اور دیگر افراد شامل ہیں جبکہ سو کے قریب لوگ زخمی ہوئے ۔ پولیس نے بتایا ہے کہ یہ تمام ہلاکتیں گولی لگنے سے واقع ہوئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اسلام آباد کے ہسپتال پولی کلینک میں پہلے روز پانچ بجے تک 58 زخمیوں کو لایا گیا ۔لال مسجد کے علاقے میں وقفے وقفے سے فائرنگ اور شیلنگ کا سلسلہ جاری رہا اور شام ہو گئی مسجد اور اس سے ملحق مدرسہ حفصہ اس وقت مکمل تاریکی میں ڈوب گیا اورمسجد کے گرد سڑکوں کو مزید خاردار تاریں لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔
جبکہ منگل کی رات کو صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف اور وزیر اعظم شوکت عزیز کی صدارت میں اہم اجلاس ہوئے جس میں لال مسجد والوں کے خلاف مختلف آپشن پر غور کیا گیا اور بحث و تمحیص کے بعد آپریشن کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا گیا۔اس فیصلے میں یہ طے پایا گیا کہ لال مسجد اور جامعہ حفضہ کو گھیرے میں لے کر ان پر پریشر بڑھایا جائے اور مدرسے سے باہر نکل آنے والے بچوں اور خواتین کو معاف کر دیا جائے تاکہ کم سے کم جانی نقصان ہو سکے۔جنرل مشرف جو خود بھی پاکستان آرمی کی سپیشل سروسز فورس کے کمانڈو رہ چکے ہیں کہ بہترین حکمت عملی کا یہ نتیجہ نکلا کہ لال مسجد پر بھرپور دباﺅ ڈالا گیا اور لال مسجد سے لڑکو ں اور لڑکیوں نے سرنڈر ہونا شروع کر دیا۔ادھر سیکریٹری داخلہ سید کمال شاہ بھی اپنا بھارت کا دورہ منسوخ کرکے واہگہ سے سڑک کے راستے واپس اسلام آباد پہنچ گئے۔ وزیرِ مملکت برائے داخلہ ظفر اقبال وڑائچ نے نو افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ۔ ظفر اقبال وڑائچ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں مدرسے کے چار طلبہ، رینجرز کے ایک اہلکار اور ایک صحافی شامل ہیں۔ ہلاک ہونے والے دیگر چار افراد عام شہری ہیں فائرنگ کی زد میں آکر ہلاک ہوئے۔ان ہلاک ہونے والوں میں صحافی جاوید خان، رینجرز کے لانس نائیک مبارک حسین اور آبپارہ کے تاجر امریز شامل ہیں۔ صحافی فوٹو گرافر جاوید خان کا تعلق برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں قائم ٹی وی چینل ڈی ایم ڈیجیٹل سے بتایا جاتا ہے۔ وہ مقامی اخبار ’مرکز‘ کے لیے بھی کام کرتے تھے۔ وہ دیگر کیمرہ مینوں کی طرح لال مسجد کے باہر فائرنگ کے تبادلے کی فلم بندی میں مصروف تھے جب گولی کا نشانہ بنے۔ انہیں پمز ہسپتال لایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔اس سے قبل اردو چینل ’جیو‘ کے بیورو چیف ابصار عالم بھی سر میں پتھر لگنے سے زخمی ہو گئے۔ انہیں مقامی ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے۔ٹی وی چینل ’سی این بی سی‘ کے کیمرہ مین اسرار بھی بازو میں گولی لگنے سے زخمی ہو گئے۔ انہیں بھی ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے۔ ہلاک ہونے والے دیگر افراد میں محمد اعجاز بھی شامل ہیں جو فائیو سٹار ہوٹل سیرینا کی چھت پر کام کر رہے تھے۔ ہلاک ہونے والے دیگر افراد میں باجوڑ سے تعلق رکھنے والے کرامت اللہ، عام شہری فیاض ملک اور بائیس سالہ طالب علم محمد رفیع شامل ہیں۔
ایسے میں لال مسجد کے نائب مہتمم عبدالرشید غازی نے الزام لگایا تھا کہ منگل کی صبح فائرنگ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شروع کی اور مدرسے کے طلباءنے صرف جوابی کارروائی کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انتظامیہ نے مسجد کا محاصرہ نہ کرنے کے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ جبکہ دیگرعینی شاہدین کے مطابق مسجد کے اطراف میں تعینات رینجرز اور مسجد کے احاطے اور اس سے ملحقہ سڑک پر مورچہ بند طلباءکے درمیان منگل کو کشیدگی شروع اس وقت شروع ہوئی تھی جب مسجدِ حفصہ کی درجنوں طالبات نے مسجد سے نکل کر سڑک پر مارچ شروع کر دیا۔ مشتعل طلباءو طالبات ’الجہاد الجہاد‘ اور ’اللہ اکبر اللہ اکبر‘ کے نعرے بلند کر رہے تھے۔طالبات کو منتشر کرنے کے لیے پولیس اور رینجرز نے آنسو گیس کا استعمال کیا جس کے بعد فائرنگ شروع ہو گئی۔مسجد کے باہر مسجد کے طلباءکے ہاتھوں میں ڈنڈے، پیٹرول بم اور مسجد کی چھت پر موجود طلباء کے پاس کلاشنکوف بھی تھیں۔ بیشتر طلباء نے منہ پر ڈھاٹے پہنے ہوئے تھے۔اس سے قبل اسلام آباد میں جامعہ فریدیہ سے ایک سو کے قریب ڈنڈا بردار طالب علموں کو لال مسجد پہنچنے کے لیے کہا گیا تھا۔فائرنگ سے وفاقی دارالحکومت کے وسط میں واقع مسجد کے اطراف میں سراسیمگی پھیل گئی اور لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد وہاں پہنچ گئی۔عینی شاہدین کے مطابق لال مسجد سے تعلق رکھنے والے طلبہ نے کورڈ مارکیٹ کے قریب واقع ایک سرکاری سکول پر قبضہ کر لیا اور وہاں توڑ پھوڑ کی۔ مشتعل طلبہ نے جامعہ حفصہ کے سامنے واقع سٹیٹ آفس اور اس سے متصل وزارتِ ماحولیات کی عمارت اور اس کے احاطے میں کھڑی گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی اور لگی آگ کو بجھانے کے لیے آنے والی فائر برگیڈ کی گاڑیوں کو بھی قریب نہ آنے دیا۔اس لڑائی میں رات تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد12تک پہنچ گئی۔جبکہ زخمی ہونے والوں کی تعداد150سے لیکر250تک پہنچ گئی۔جبکہ اگلے روز لال مسجد کے تقریباً 2000ہزار کے قریب لڑکوں اور لڑکیوں نے حکومت کے سامنے سرنڈر ہو گئے۔جبکہ دیگر بھی حکومت کے سامنے سرنڈر ہو گئے۔جب کہ اس دوران بیسیوںبچوں اور بچیوں کے والدین بھی پہنچ گئے اور اپنے بچوں اور بچیوں کو سکول سے نکالا ۔ان والدین نے بھی ان بھائیوں کے رویے کی مذمت کی۔
بدھ کے روز بھی لال مسجد کا محاصرہ رہا اور وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ بھی چلتا رہا جبکہ متعدد لڑکے اور لڑکیاں مدرسے سے باہر آتے رہے مگر شام تک صورت حال ایسی ہی رہی اور کوئی خاص بیک تھرو نہیں آیا مگر مولانا عبدالعزیز کی ڈرامائی گرفتاری سے محسوس ہوا کہ شاید اب کچھ ہی دیر میں لال مسجد کے باقی افراد بھی اپنی گرفتاری پیش کر دیں گے مگر بدھ کا دن بھی گزر گیا اور رات بھی گزر گئی مگر مولانا عبدالرشید نے گرفتاری نہیں دی۔جبکہ 2000کے قریب لڑکے اور لڑکیاں مدرسے سے باہر آئے۔
جمعرات کے دن بھی صورت حال ایسی ہی رہی اور دونوں طرف سے فائرنگ وقفے وقفے سے ہوتی رہی ۔ مدرسے کے لوگوں کے پاس جدید ترین ہتھیار تھے جن میں راکٹ لانچر بھی تھے اور یہ لوگ ان جدید ہتھیاروں سے حملے کرتے رہے جبکہ متعدد لڑکے سرنڈر کرتے ہوئے مدرسے سے باہر آئے جبکہ جمعرات کو 7سال سے12سال کی عمر کے متعدد بچے بھی مدرسے سے باہر آئے۔ مگر رات 10بجے کے قریب مسئلہ حل ہوتا ہوا اس وقت نظر آیا کہ جب مولانا عبدالرشید کی طرف سے غیر مشروط طور پر گرفتاری کا عندیہ پیش ہوا اور لال مسجد محکمہ اوقاف کو دینے اور مدرسہ وفاق المدارس کو دینے کی پیشکش بھی کی جس پر حکومتی حلقوں کی طرف سے بھی مثبت جواب آیا اور حکومت نے کہا کہ ٹھیک ہے وہ اپنی گرفتاری پیش کر دیں مگر 11بجے کے قریب مولانا عبدلرشید اپنی غیر مشروط گرفتاری پیش کرنے سے منکر ہو گئے اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ انھیں اور ان کے ساتھیوں کو محفوظ راستہ دیا جائے تاکہ وہ کسی بھی سمت نکل جائیں۔مگر ظاہر ہے حکومت نے یہ شرط قبول نہ کی ۔ جمعرات کی شام کو مدرسے سے بعض لڑکے دیواریں پھلانگ کر باہر آئے اور انھوں نے بتایا کہ اب مدرسے کے لوگوں نے سینکڑوں لڑکوں اور لڑکیوں کو روکا ہوا ہے اور باہر نہیں آنے دیا جارہا تاکہ بوقت ضرورت انھیں ڈھال کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔

آپریشن سائلنس تا حال جاری ہے

لال مسجد کی طرف سے اس شر انگیزی سے نمٹنے کے لیے حکومت ایک عرصے سے فکر مند تھی اور بہت سے حلقوں کی طرف سے حکومت پر انگلیاں بھی اٹھ رہی تھیں مگر وفاقی دارلحکومت کے گنجان آباد علاقے میں واقع ہونے کی وجہ سے کوئی قدم اٹھانے سے ہچکچاتی رہی آخر کار حکومت نے تقریباً تمام سرکاری ایجنسیوں کو کوئی مناسب آپریشن کرنے کے بارے میں کہا۔ جس پر تمام ایجنسیوں کی جانب سے اپنی اپنی رائے دی گئی جس میں محکمہ داخلہ کے سیکرٹری کمال شاہ نے بھی رپورٹ دی جس کو منظور کر لیا گیا اور ان کی بنائی ہوئی حکمت عملی پر عمل کرتے ہوئے اس کہانی کو منطقی انجام تک پہنچایا۔لال مسجد کے حوالے سے جاری اس آ پریشن کے دوران تمام پاکستانی قوم ایک ڈپریشن کا شکار رہی اور تمام گھروں میں خواتین ،مرد ، بوڑھے اور بچوں نے اپنا زیادہ تر وقت ٹی وی کے سامنے گزارا۔پاکستان کی تاریخ میںیہ ایک طویل ترین آپریشن تھا جس میں لمحہ بہ لمحہ حالات بدلتے رہے ، دلوں کی دھڑکن تیز اور کم ہوتی رہی۔
اعلی حکام کے مطابق جب اسلام آباد کی انتظامیہ نے شہر سے تجاوازت کے خاتمے کی مہم شروع کی تو شہر کی متعدد مساجد بھی تجاوزات کے زمرے میں آئیں جبکہ مولانا موصوف کو بھی مدرسہ کی بابت نوٹس دیا گیا جس پر ان دونوں بھائیوں نے اس مدرسے کی ناجائز قبضہ کی ہوئی جگہ کو بچانے کے لیے مساجد کا سہارا لیکر یہ انتہائی قدم اٹھایا۔ جبکہ دوسری طرف حکومت نے بھی بڑی حکمت عملی ، دور اندیشی اور سمجھ بوجھ سے معاملے کو حل کیا۔حکومت کی اس حکمت عملی کو شہریوں کی طرف سے بھی سراہا گیا وگرنہ حکومت اگر چاہتی تو پہلے ہی دن سختی سے کام لیتی اور چند گھنٹوں میں ہی ان لوگوں کا صفایا کر دیتی۔
اس تمام عرصے میں تقریباً حکومت کے تمام اہم وزیروں ،مشیروں علماءدین ، سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں ، سماجی تنظیموں اور مذہبی جماعتوں نے لال مسجد کی انتظامیہ جو مولانا عبدالعزیز اور مولانا عبدالرشید اور ام حسان پر مشتمل تھی کو سمجھانے کی کوشش کی مگر ان لوگوں نے ان افراد کی باتوں کو کوئی اہمیت نہ دی بلکہ اس کے جواب میں رعونت بھرے انداز میں ملک بھر میں خود کش حملوں کی دھمکیاں دی گئیں اور حکومت کے خلاف جہاد کرنے کا اعلان کیا جاتا رہا۔ان دونوں برادران کو ان کے مسلک کے علما نے بھی بہت سمجھایا مگر یہ باز نہ آئے بلکہ لڑنے مرنے پر تیار رہے آخر کار وفاق المدارس نے ان کے مدرسے جامعہ فریدیہ اور جامعہ حفضہ اور ان لوگوں سے لاتعلقی کا اعلان کردیا۔اسی طرح سیاسی پارٹیوں اور دیگر اہم افراد اور گروپوں نے بھی ان سے لاتعلقی ظاہر کردی مگریہ دونوں اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے۔اس تمام ڈرامے جس کا مرکزی کردار مولانا عبدالعزیز چیف کمانڈر تھا اور مولانا عبدالرشید نائب کمانڈر تھے جبکہ وفاقی وزیر اعجاز الحق کا کہنا ہے کہ حقیقت میں اس ڈرامے کا مرکزی برین مولانا عبدالعزیز کی بیوی ام حسان تھیں جو جامعہ حفضہ کی پرنسپل تھیں۔لال مسجد کا ڈرامہ ختم ہوچکا ،درجنوں افراد گرفتار ہوئے جن کے خلاف قانون کے مطابق اب مقدمہ چلے گا اور عدالتیں فیصلہ کریں گی مگر اس واقعے کی نہ صرف گونج ایک عرصہ تک سنائی دیتی رہے گی بلکہ اس واقعے نے حکام ،عوام اور سیاسی پارٹیوں کو بھی اپنے اپنے انداز میں ایک ایسا سبق دیا ہے کہ اگر اس پر عمل نہ کیا تو لال مسجد جیسے ڈرامے ہوتے رہے گے اور شاید اس بار تو زیادہ خون خرابہ نہیں ہوا مگر آئندہ ایسا خون بہے گا کہ جو ایک عرصے تک رستا رہے گا۔

لال مسجد” پر 7 خیالات

  1. شاید آپ جیسے مشیر ہوتے تو بے چارے حضرت حسین رِرضی اللہ عنہ کبحی شہید نہ ہوتے پتہ نہیں کیوں انہوں نے تقیہ کا سہارا نہ لیا اور کربلا کو خون پاک سے رنگ دیا

  2. پنگ بیک: دنیا کی کہانی میری زبانی

  3. عطااللہ صاحب
    حسین کو کسی مشیر کی ضرورت نہیں تھی،،،اور وہ برقعہ پہن کر فرار ہونے کیلئے نہیں بلکہ جام شہادت نوش کرنے کربلا گئے تھے۔ آپ اور آپ کے یہ عبدالعزیز صاحب تو حسین کی قربانی کو کو مانتے ہی نہیں،،، معلوم نہیں یزید کے پیرو کاروں کواب کیسے حسین یاد آگیا

  4. App ka Mazmoon badniyati per mabni hay app agar kisi or masluk ya mazhab se taluk rakhtay hoo tu es ka matlab ya nahi app jhoot or sach may farkh karna bhool jao gay.

    اسلام آباد( خبر نگار) سانحہ لال مسجد، جامعہ حفصہ ميں شہيد ہونيوالے افراد کی لاشوں کو ٹھکانے لگانے يا ان کو مارنے کيلئے فاسفورس کيميکل کے استعمال کا انکشاف ہوا ہے جس سے قبرستان ميں تابوتوں سے جلی اور گلی ہوئی لاشيں دیکھی گئی ہيں تابوتوں اور قبروں کے اندر بيٹھنے والی مکھيوں کو مرے ہوئے اور بيٹھنے پر مر جاتے ہوئے ديکھا گيا ہے حکومتی ذمہ داران کا موقف ہے کہ لاشوں کو محفوظ اور بدبو سے بچانے کيلئے جو کيميکل استعمال کيا گيا ہے اس سے مکھياں مری ہيں گزشتہ روز جب اسلام آباد انتظاميہ سانحہ لال مسجد، جامعہ حفصہ کے شکار طلباء ، افراد کی لاشيں H-11 قبرستان سے نکالی جا رہی تھیں تو لاشيں جلی ہوئی اور گلی ہوئی تھیں ان تابوتوں کے اندر اور قبروں ميں ہزاروں مکھياں مری ہوئی تھیں لاشوں کے ورثاء نے موجود ميڈيا کو يہ صورتحال دکھائی اور حکومت پر الزام لگايا کہ اس نے لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے اندر فاسفورس بم استعمال کئے ہيں۔ انہوں نے بتايا کہ جو مکھياں اب بھی ادھر بيٹھ رہی ہيں وہ تھوڑی دير بعد مر جاتی ہيں ان کا الزام تھا کہ پھر لاشوں کو ناقابل شناخت بنانے اور گوشت کو گلنے کيلئے کوئی کيميکل استعمال کيا گيا ہے ورثاء نے چيف جسٹس آف پاکستان سے اس کا نوٹس لينے کی اپيل کی۔ جب موقع پر موجود حکومتی ذمہ داران سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ان کا اندازہ ہے کہ لاشوں کو بدبو اور محفوظ کرنے کيلئے کوئی کيميکل استعمال کيا گيا ہو گا جس سے مکھياں مر رہی ہيں۔ جب ميڈيا نے خود قبروں کے اندر تہہ ميں ديکھا تو وہاں مکھيوں کے مرنے کی تہہ ديکھی جا سکتی تھی۔ دريں اثناء اسلام آباد انتظاميہ نے سانحہ لال مسجد و جامعہ حفصہ ميں شہيد ہونيوالے سات افراد کی لاشيں ان کے ورثاء کے حوالے کر دی ہيں جو وہ اپنے اپنے علاقوں ميں لے گئے ہيں يا انہوں نے H-11 قبرستان ميں ہی قبر ميں رہنے دينے کو ترجيح دی ہے گزشتہ روز رحمن علی ايبٹ آباد، عبداللہ شہزاد چارسدہ، عبدالرحمن راولپنڈی، مصباح اللہ چارسدہ، امين اللہ صوابی کی لاشيں ان کے ورثاء کے حوالے کر دی گئی ہيں ان کے ورثاء نے متذکرہ بالا لاشيں وصول کر لی ہيں ان ميں يار بادشاہ اور جمیل بادشاہ جن کا تعلق مہمند ايجنسی سے ہے بھی شامل ہيں۔ ايبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے محمد زاہد کی قبر کو اس کے ورثاء نے نہيں کھلوايا بلکہ قبر پر اکتفا کرکے اسے ادھر ہی رہنے دیا ہے جبکہ متذکرہ بالا باقی لاشوں کے ورثاء نے ناقابل شناخت لاشوں کو حکومتی يقين دہانی کہ انہی کے پياروں کی لاشيں ہيں پر وصول کر ليا ہے۔ جبکہ لال مسجد کے معزول خطيب مولانا عبدالعزيز کے عزيزوں مولانا انعام اللہ اور عطاء محمد کی ميتيں ناقابل شناخت اور گوشت کے لوتھڑوں کی وجہ سے ان کے ورثاء نے لاشيں وصول کرنے سے انکار کر دیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت کے ڈی اين اے رپورٹ پر انہيں اعتماد نہيں آزادانہ ڈی اين اے ٹيسٹ کيلئے وہ سپريم کورٹ سے رجوع کريں گے۔ مولانا عبدالعزيز اور علامہ عبدالرشيد غازی کے ماموں زاد عطاء محمد اور پھوپھی زاد مولانا انعام اللہ کی قبريں کھودی گئیں تو ان کے عزيزوں عثمان مزاری اور ديگر موجود تھے مولانا انعام اللہ کی مبينہ قبر ميں تابوت ميں گوشت کے تين ٹکڑے الگ الگ پڑے تھے تابوت ميں کم از کم تين انچ تک پانی کھڑا تھا جس ميں خون بھی ملا ہوا نظر آرہا تھا چہرے يا کسی جگہ سے اس کی شناخت ممکن نہ تھی اس پر ورثاء نے کہا کہ يہ ان کے عزيز کی لاش نہيں ہے ان کی اطلاع کے مطابق وہ زندہ گرفتار ہوئے تھے ان کو غلط لاش دے کر خاموش کروایا جا رہا ہے اس لئے ہم يہ لاش نہيں ليں گے اسی طرح عطاء محمد کی قبر کھودی گئی تو اس تابوت ميں ايک سر، ايک بازو اور گوشت کے کچھ ٹکڑے تھے وہ لاش ورثاء نے وصول کرنے سے انکار کر ديا۔ اس کے بعد دونوں لاشيں انہی قبروں ميں دفن کر دی گئیں۔

  5. سانحہ لال مسجد

    کس سنگدلی سے تم گفتگو کے نام پر
    نوکِ ذباں سے لفظوں کے تیر برسا رہے ہو
    اپنے ہی ہاتھوں خانماں بربادوں کے
    زخم زخم چہروں سے کھرنڈ اتار رہے ہو
    سب جانتے ہوئےبھی، سب دیکھتے ہوئے بھی
    حق کے علمبردارو !
    خوب حقِ فرض شناسی نبھا رہے ہو
    جانے والے راہ حق کے مسافر تھے
    یا راستہ بھولے ہوئے راہی
    تم کہاں کے منصف ہو جو فیصلے سنا رہے ہو؟
    کیوں مان نہیں لیتے۔۔
    مقدر میں یوں ہی رقم تھا
    تقدیر کا وار اٹل تھا
    ہونی کوکون ٹال سکا تھا
    کیوں تم رسوائیووں کی داستاں لکھتے جارہے ہو
    آؤ !
    ہم اس وقت کا انتظار کرتے ہیں
    جب روزِ حشر مردوں کو جگایا جائے گا
    جب نامہ اعمال ہاتھوں میں تھمایا جائے گا
    تب بہت سے ننھے ننھے خون آلود ہاتھ
    خود اس ظلم و بربریت کی گواہی دیں گے
    کالے برقعوں میں لپٹے وجود
    لال مسجد کے بے رنگ منظر کو اپنے خون کی سیاہی دیں گے
    کوئی ذی روح ظالم کو رہائی نہیں دے گا
    روئے ذمین کا ذرہ ذرہ ظلم کی دہائی دے گا
    پھر کیوں تم جزا و سزا کی جلدی مچا رہے ہو؟
    اب چھوڑ دو حسابِ سود وزیاں
    مانگو تو فقط۔۔
    جینے والوں کے لیے صبر مانگو
    جانے والوں کے لیے اجر مانگو
    کیا تم دعا کے لیے ہاتھ اٹھا رہے ہو۔۔؟

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s