افراط زر اور مہنگائی


افراط زر اور مہنگائی، لازم و ملزوم

تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی کا سبب کاغذی کرنسی چھاپ کر حکومتی اخراجات پورے کرنا ہے

منصور مہدی

حکومت نے امیر اور مراعات یافتہ طبقے سے ٹیکس وصولی میں ناکامی کے بعد نئے مالی سال 2011-12 میںاپنے اخراجات پورا کرنے کیلئے 3کھرب 73ارب روپے کے نئے کرنسی نوٹ چھاپنے کا پروگرام بنا لیاجبکہ گزشتہ مالی سال کے دوران بھی 2کھرب63 ارب اور2009-10 میںایک کھرب53ارب روپے چھاپے تھے۔ ذرائع آمدن بڑھانے کی بجائے نوٹ چھاپ کر حکومتی خرچے پورے کرنے کی وجہ سے ا فراط زر میں اضافہ ہو گیااور 2011 کی پہلی سہہ ماہی کے اختتام پر ملک میں زیر گردش نوٹوںکی مقدار 12کھرب95ارب38کروڑ 50لاکھ روپے سے بڑھ گئی۔جس کے نتیجے میں روپے کی قدر گر گئی اور اشیاءضروریہ میں اضافہ ہوا۔

مالیاتی امور کے ماہر شکیل احمد کہتے ہیں کہ پاکستان میں نوٹ چھاپ کر حکومتی اخراجات پورے کر نے کی روایت میں تیزی90کی دہائی سے آئی۔ یہاں کی ہر سیاسی و فوجی حکومت نے حد سے زیادہ بڑ ھے ہوئے اخراجات کو پورا کرنے کیلئے زیادہ نوٹ چھاپنے کی روایت کو برقرار رکھا۔ انھوں نے بتایا کہ نئے مالی سال2011-12 کے بجٹ کا مجموعی مالی خسارہ 8 کھرب 50 ارب روپے ہے جبکہ 2010-11میں مالی خسارہ 6کھرب85ارب اور2009-10 میں 7کھرب22ارب روپے تھا ۔ ان اخراجات کو پورا کرنے کے لئے حکومت بیرونی اداروں سے قرضے لیتی رہی اور افراط زر کے نقصان سے بے بہرہ ہو کر نوٹ چھاپتی رہی۔انھوں نے بتایا کہ بد قسمتی سے حکومتی بجٹ 1961سے مسلسل خسارے میں چلاآ رہا ہے اور ہر سال اس میںتیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد سے اب تک 1948 سے 2011 کے دوران 64 وفاقی بجٹ پیش ہو چکے ہیں جن میں سے صرف 12 بجٹ سرپلس تھے۔ یہ سرپلس بجٹ 1948 سے 1960 کے دوران پیش ہوئے۔ اس طرح60 کی دہائی سے ہی حکومتی اخراجات پورے کرنے کیلئے بیرونی قرضے لینے اور کرنسی نوٹ چھاپنے کی ریت پڑ گئی۔ پاکستان کا پہلا بجٹ 28 فروری 1948 کو پیش ہوا تھا۔

حال ہی میں سینیٹ کے اجلاس میں مہنگائی اور نوٹوں کی چھپائی کے تعلق کے حوالے سے سینیٹر ایس ایم ظفر کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے ایوان کو بتایا تھاکہ مالی سال2010-11 کے پہلے8 ماہ کے دوران 2کھرب سے زائد مالیت کے کرنسی نوٹ چھاپے گئے جو گزشتہ مالی سال میں چھاپے گئے 153.8ارب روپے سے 19فیصد زیادہ ہیں۔ اس طرح زیر گردش نوٹوں کی زیادہ مقدار کے باعث فروری 2011میں کرنسی ٹو ڈپازٹ ریشو 33فیصد ہوگیا جس سے پتہ چلتا ہے کہ ہر سو روپوں میں سے صرف 33روپے بینکوں میں تھے باقی سب گردش میں،جبکہ جون 2010میں یہ ریشو 29فیصد تھا ، اس ریشو کے زیادہ ہونے کی وجہ بتاتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ بجٹ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے حکومت نے اسٹیٹ بینک سے بہت زیادہ قرضے لیے اور ظاہر ہے کہ حکومت کو حد سے زیادہ قرض دینے کے لیے مرکزی بینک کو نوٹ بھی مقررہ حد سے زیادہ چھاپنے پڑے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے ذرائع کا کہنا ہے کہ نیٹ ٹیکس کا دائرہ بڑھانے کیلئے نہ صرف مزید7 لاکھ سے زائد دولتمند افراد کو اس دائرے میںشامل کیاجا رہا ہے بلکہ ابتدائی طور پر30ہزار سے زائد افراد کو نوٹس بھی بھیجے گئے۔ اس کے ساتھ پہلی مرتبہ12ہزار سے زائد افغان مہاجر تاجروں کو نیٹ ٹیکس میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ جن تاجروں یا امیر افراد کو نوٹس بھیجے گئے ان کی طرف سے کوئی خاص کامیابی نہیں ہو سکی۔ انھوں نے بتایا کہ جب ملک کا امیر اور دولتمند طبقہ ہی ٹیکس ادا نہیں کرے گا تو حکومتی اخراجات پورے کرنے کیلئے لامحالہ یا تو بیرونی اداروں اور ملکوں سے قرضہ لیا جائے گا یا اندروں ملک مرکزی بنک سے قرضہ لیا جاتا ہے۔ اور مرکزی بنک نے ظاہرہے کاغذ کے نوٹ چھاپ کر ہی دینے ہیں کیونکہ اس کے پاس ان کے عوض کوئی ذخائر تو موجود نہیں۔

بنکر عبدالعزیزنے بتایا کہ دنیا کے باقی ممالک کی طرح پاکستان کی کرنسی پر لکھا ہوتا ہے کہ”بنک دولت پاکستان ایک سو روپیہ( ہر نوٹ پر اس کی مالیت کے مطابق) حامل ٰہذا کو مطالبے پر ادا کرے گا ، حکومت پاکستان کی ضمانت سے جاری کردہ "۔بنک نوٹ پر لکھی اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ اسٹیٹ بنک کاغذ کی اس رسید یا نوٹ کے بدلے اتنے ہی روپے کی چاندی یا سونا ادا کرے گا۔ کیونکہ پہلے چاندی اور سونے کے سکے چلتے تھے ۔ جب کاغذی کرنسی آئی تو کاغذی کرنسی حکومت کے پاس موجود سونے چاندی کی مالیت کے برابر مقدار میں چھاپی جاتی تھی لیکن اب کرنسی کنٹرول کرنے والے ادارے اور حکومتیں اپنی آمدنی بڑھانے کے لیئے سونے اور چاندی کے محفوظ ذخائر سے زیادہ مقدار میں کرنسی چھاپنے کے خواہشمند ہوتے ہیں۔ لیکن اگر کرنسی زیادہ چھاپی جائے تو افراط زر کی وجہ سے اس کی قدر لامحالہ کم ہو جاتی ہے یعنی اس کی قوت خرید کم ہو جاتی ہے ۔اس طرح لوگوں کا اور باقی دنیا کا اعتبار اس کرنسی پر کم ہونے لگتا ہے۔ جو کرنسی چھاپنے والے ادارے یا حکومت کے لیئے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے لوگ پھر دوسری کرنسیوں کی طرف رجوع کرنے لگتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ کاغذی کرنسی کا کمال یہ ہے کہ کسی کو اپنی بڑھتی ہوئی غربت کا احساس نہیں ہوتا۔ اگر کسی مزدور کی تنخواہ پانچ فیصد کم کر دی جائے تو اسے شدید اعتراض ہوتا ہے۔ لیکن جب افراط زر کی وجہ سے اسکی تنخواہ کی قوت خرید دس فیصد کم ہو جاتی ہے تو وہ اتنا اعتراض نہیں کرتا۔ جتنے سالوں میں کسی کی تنخواہ دوگنی ہوتی ہے اتنی ہی مدت میں سونے کی قیمت ( اور مہنگائی ) تین گنی ہو چکی ہوتی ہے۔

اسٹیٹ بنک سے ریٹائرڈ آفیسر عبد الغنی نے بتایا کہ جب میں1990میں ریٹائرڈ ہوا تو اس وقت کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ 1990 میں اسٹیٹ بینک میں سونے کا ذخیرہ صرف پندرہ ارب روپے کا تھالیکن اس وقت ایک کھرب سترہ ارب روپے کے نوٹ چھاپ دیئے گئے تھے یعنی آٹھ گنا زیادہ۔ اسٹیٹ بینک میں ایک روپے کے نوٹ کے بدلے میں سو پیسے کا نہیں بلکہ صرف بارہ پیسے کا سونا تھا۔ ایک روپے کے بدلے میں صرف بارہ پیسے کا سونا اسٹیٹ بینک میں رہ جانا اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ فالتو نوٹ چھاپتے رہنے کا مذموم کام پہلی بار مارچ 1990 میں نہیں کیا گیا۔ وہ کئی برس پہلے سے تدریجا کیا جا رہا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ فالتو نوٹ صرف پاکستان میں نہیں، بہت سے ملکوں میں چھاپے جا رہے ہیں۔ ان میں امریکہ بھی شامل ہے۔ وہاں وجہ اس کی خواہ یہ ہو کہ افغانستان اور عراق کی جنگوں کے مصارف کے لیے اسے بڑے پیمانے پر فالتو نوٹ چھاپنے پڑ رہے ہوں یا کچھ اور ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ سونے کی قیمت ڈالر میں بہت تیزی سے بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ فالتو نوٹ جہاں جہاں چھپ رہے ہیں، وہاں وہاں ان کی قیمت گر رہی ہے جبکہ سونے کی قیمت بڑھ رہی ہے۔ افراط نوٹ کی وجہ سے سونے کی قیمت میں اضافہ لازم و ملزوم ہے اس لیے سونے کی قیمت میں اضافے کو روکنا ہے تو نوٹوں کی چھپائی میں کمی لانی پڑے گی۔

بنکر شکیل احمدنے بتایا کہ معیشت کے اصولوں سے ہٹ کرکاغذی کرنسی کی زائد چھپائی سے ملکی معیشت کی جو گھمبیر صورتحال ہو چکی ہے وہ کسی بڑے طوفان کا پیش رو بن سکتی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ گذشتہ تین چار سالوں میں حکومت نے جو 5کھرب مالیت تک کے جو نوٹ چھاپے ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تقریباً 17 کروڑ عوام پر ان کا اوسط تین ہزار اور کچھ روپے بنتا ہے۔ گویا ہر شخص کی جیب سے اتنی، اتنی رقمیں نکال لی گئی ہیں۔ ان عوام میں فٹ پاتھوں پر بیٹھ کے ہاتھ پھیلانے والے سوالی بھی ہیں، فاقہ زدگان بھی ہیں، قرض دار بھی ہیں، بیمار بھی ہیں، دو وقت کی روٹی کے محتاج ایک تہائی عوام بھی ہیں۔ محفوظ ذخائر سے بڑھ کر نوٹ چھاپنے سے نقصان شہریوں کو پہنچتا ہے۔ کرنسی نوٹ پر حکومت کی طرف سے یہ ضمانت لکھی ہوتی ہے کہ نوٹ اگر سو کا ہے تو پورے سو کا سونا حکومت کے خزانے میں موجود ہے۔ گاہک کی جب مرضی ہو نوٹ واپس کرے اور سونا لے جائے مگر حقیقت میں یہ ضمانت اکثر ملکوں میں جعلی ہوتی ہے۔ اتنے کا سونا ملکی خزانے میں موجود ہی نہیں ہوتا، کچھ کم مقدار میں ہوتا ہے۔ گویا حکومت نے سونے کی اتنی مقدار کی ڈنڈی مار دی ہوتی ہے۔ اگلے برس جب نوٹ پھر چھپتے ہیں تو سونے کی مقدار اور بھی کم کی جا چکی ہوتی ہے۔ یہ کمی سال بہ سال جمع ہوتی ہوتی اتنی کم رہ جاتی ہے کہ سونا اپنے مطلوبہ وزن کا صرف چند فیصد رہ جاتا ہے۔ یہ کمی در کمی ایسی ہی ہے جیسے برف کے ڈلے کا ہر آن پگھلتے رہنا، جو آخرکار پوری کی پوری برف کو پگھلا کے ختم کر دیتا ہے۔ خریدار کو نقصان یہ پہنچتا ہے کہ جو کرنسی نوٹ وہ اپنی جیب میں لیے پھر رہا ہوتا ہے اس کی قوت خرید کم ہوتی جا رہی ہوتی ہے۔ اسی کا نام مہنگائی ہے۔ یعنی نوٹ زیادہ ، سونا کم۔ انھوں نے بتایا کہ فالتو کرنسی نوٹوں کی چھپائی جعلی سکے ڈھالنے سے بھی زیادہ مجرمانہ فعل ہے کیونکہ جعلی سکے ڈھالتے وقت اس میں سستے دھات کی ملاوٹ اتنی مقدار میں کم کی جاتی ہے کہ سکے کی اصلی رنگت بدلنے نہ پائے مگر فالتو نوٹ چھاپنے والوں کے آگے ایسی کوئی قید نہیں ہے، جتنے فالتو نوٹ چاہیں، چھاپیں۔

وفاقی ادارہ شماریات کے سیکرٹری آصف باجوہ کا کہنا ہے کہ مالی سال 2010-11 کے دوران افراط زر کی شرح14 فیصد کی سطح پر پہنچ گئی ہے جبکہ ہول سیل انڈکس میں افراط زر کی شرح23 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے جس سے آئندہ آنے والے دنوں میں افراط زر کی شرح پر دباو بڑھ جائے گا ۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال مئی کی نسبت رواں سال مئی کے دوران افراط زر کی شرح میں 13.23 فیصد،حساس اعشاریوں میں افراط زر کی شرح میں 16.67 فیصد اور ہول سیل انڈکس میں یہ شرح 22.90 فیصد کی سطح پر ریکارڈ کی گئی۔انہوں نے مزید کہا کہ اس عرصے کے دوران غذائی اجناس اور مشروبات کی قیمتوں میں 16 فیصد، خراب نہ ہونے والی غذائی اجناس کی قیمتوں میں 22 فیصد ،پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں میں 18 فیصد، ٹیکسٹائل مصنوعات کی قیمتوں میں 14 فیصد، ہاو¿س رینٹ میں ساڑھے 7 فیصد ،ایندھن کے اخراجات میں 12 فیصد، تعلیمی اخراجات میں 5 فیصد،ذاتی لباس ،آرائش میں 17 فیصد کا طبی اشیاءکی قیمتوں میں 18 فیصد اضافہ ہوا۔جس کے نتیجے میں مہنگائی بڑھی۔

عالمی بنک کی رپورٹ کے مطابق جنوب مشرقی ایشیائی ممالک میں افراط زر میں اضافے کے حوالے سے ایران اور پاکستان سرفہرست ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ افراط زر کی شرح ایران میں 25.4 فیصد اور پاکستان میں 19.1 فیصد جبکہ افراط زر کی سب سے کم شرح تھائی لینڈ میں 0.2 فیصد رہی۔ رپورٹ کے مطابق افراط زر کی شرح بھارت میں 0.3 فیصد،سری لنکا میں 5.3 فیصد، ویت نام میں 11.3 فیصد، فلپائن میں 6.4 فیصد اور انڈونیشیا میں 7.9 فیصد کے قریب ہے۔

سکوں اور کاغذی کرنسی کی تاریخ ویسے تو بہت قدیم ہے ۔ مئی 1275 میں جب مارکو پولو پہلی دفعہ چین پہنچا تو چار چیزیں دیکھ کر بہت حیران ہوا۔ یہ چیزیں تھیں جلنے والا پتھر( کوئلہ)، نہ جلنے والے کپڑے کا دسترخوان (ایسبسٹوس asbestos) ،کاغذی کرنسی اور شاہی ڈاک کا نظام۔ لیکن چین سے بھی پہلے کاغذی کرنسی جاپان میں رائج ہوئی۔ برصغیر پاک و ہند میںروپے کی تاریخ بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ روپیہ کے نام کا ایک روپے کا چاندی کا سکہ پہلی بار شیر شاہ سوری (1486-1545 )نے بنوایا۔ سکوں کے نظام سے دنیا کا روزمرہ کا کاروبار نہایت کامیابی سے چل رہا تھا مگر اس میں یہ خرابی تھی کہ بہت زیادہ مقدار میں سکوں کی نقل و حمل مشکل ہو جاتی تھی۔ وزنی اور ضخیم ہونے کی وجہ سے بڑی رقوم چور ڈاکووں کی نظر میں آ جاتی تھیں اور سرمایہ داروں کی مشکلات کا سبب بنتی تھیں۔ اسکا قابل قبول حل یہ نکالا گیا کہ سکوں کی شکل میں یہ رقم کسی ایسے قابل اعتماد شخص کی تحویل میں دے دی جائے جو قابل بھروسہ بھی ہو اور اس رقم کی حفاظت بھی کر سکے۔ اس شخص سے اس جمع شدہ رقم کی حاصل کردہ رسید کی نقل و حمل آسان بھی ہوتی تھی اور مخفی بھی۔ اگر ایسا شخص بہت ہی معتبر ہوتا تھا تو اسکی جاری کردہ رسید کو علاقے کے بہت سے لوگ سکوں کے عوض قبول کر لیتے تھے اور ضرورت پڑنے پر وہی رسید دکھا کر اس شخص سے اپنے سکے وصول کر لیتے تھے۔ اس طرح رسید کے طور پر کاغذی کرنسی اورمعتبر ادارے کے طور پر بنکوں کا قیام عمل میں آیااور سرکاری سطح پر بھی ایسے اداروں کا قیام عمل میں آیا۔چنانچہ برصغیر میں پہلی بار 1770میں بنک آف ہندوستان نے کاغذ کا ایک روپیہ کا نوٹ چھاپا۔ 1947 میں جب ہندوستان کی تقسیم ہوئی اور پاکستان بنا تو پاکستانی کرنسی کا وجود نہ تھا چنانچہ ہندوستانی روپیہ پر پاکستان کی مہر لگا کر استعمال کیا گیا۔ 1948 میں پاکستان نے اپنی کرنسی چھاپی اور سکے بھی جاری کیے۔

جبکہ عالمی تجارت میں1450 سے 1530 تک پرتگال کا سکہ چھایا رہا۔1530 سے 1640 تک اسپین، 1640 سے 1720 تک ولندیزی (ڈچ) ، 1720 سے 1815 تک فرانس ، 1815 سے 1920 تک برطانوی پاونڈ حکمرانی کرتا رہا۔1920 سے اب تک امریکی ڈالر نے راج کیا لیکن اب اسکی مقبولیت تیزی سے گرتی جا رہی ہے۔اس کے مقابلے میں یورو اور دیگر ممالک کی کرنسیاں مظبوط ہو رہی ہیں۔ لیکن ماضی کی کرنسیوں کے برخلاف یہ چاندی کی نہیں بلکہ یہ کاغذی کرنسی ہے۔

Advertisements

افراط زر اور مہنگائی” پر ایک خیال

  1. پاکستان کے کسی بازار میں چلے جائیں 90 فیصد اشیاء میڈ ان چین ھیں ۔ یعنی چائنا کی بنی ھوئی ۔
    پاکستان کی ماکیٹ پر چائنا حاوی ھے اور اس کا مال بکتا ھے ھماری انڈسٹری بند اور روزگار ختم
    مگر سب سے خوف ناک بات یہ کہ چائنا پے منٹ صرف ڈالر میں لیتا ھے اس طرح پاکستانی سے اتنے سالوں سے ھر ماہ کروڑوں ڈالر شفٹ ھو جاتا ھے ۔ جس کی وجہ سے پاکستان ھر سال عالمی بنک سے نئے قرضے لیتا ھے
    اس لیے پاکستانی کرنسی کا ریٹ دن با دن گرتا جارھا ھے
    ——————————————————–

    کروز میزائل ٹیکنالوجی پاکستان نے چائنا کو دی ۔ اسامہ ریڈ میں گرنے والا ھیلی کاپٹر سٹ لیتھہ تیکنالوجی پاکستان نے چائنا کو دی اور ڈالر تو ھم دے ھی رھے ھیں ۔چھوٹے قد والے چائنا اور جاپان کے لوگ بیوقوف نہیں کہ پاکستان کو دوست بنا لیا بلکہ ایشاء خاص کر پاکستان سے ڈالر کے ذخیرے ایکسپورٹ کے ذریعے چین لے گیے
    ——————————————————————————————
    “پاک چین دوستی وانگ سوئے ٗ یہ نعرہ میں نے ٹی وی پر جنرل ضیاالحق کے دور میں چین کے صدر
    کے دورہ پاکستان کے موقع پر سنا ۔ مگر سنو پاکستان کی معاشی تباھی کا کیا ھوگا ۔ صرف میزائل ٹیکنالوجی اور مل کر طیارے بنانے میں عوام کا پیٹ کیسے بھرے گا ۔ ڈالر کا انخلاء کیسے رکے گا
    ————————-۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کوئی ھے حکمران — ایسا جو چین سے اس کا حساب لے سکے کہ وہ تو امریکہ کو ڈالر قرض دے رھا ھے اور ھمیں
    غریب سے غریب تر ملک بنا دیا ھے اور اگر اس اشو کو میڈیا نے نہ اٹھایا تو حالات مزید بدتر ھوں گے
    ———————————————————–
    خدارا خدارا میڈیا کے لوگوں سے گزارش ھے کہ اس مسلئہ کا اٹھائیں ۔ دوستی آڑ میں جو ھمیں لوٹا جا رھا ھے اس سے بچائیں
    —————————————-
    بچپن سے لیکر آج تک مجھے پاک چین دوستی پر فخر رھا آج بھی ھے ۔ لیکن
    چین سپر پاور بن گیا اور پاکستان رل گیا
    ارے بھائی پاکستان کیسے رل گیا اور اس میں چین کا کیا قصور ھے؟
    ————————————————————-
    90 فیصد سامان پاکستان کی مارکیٹ میں چائنا کا ھے اور اور چائنا پے منٹ صرف ڈالر میں قبول کرتا ھے

    میری گھڑی ماوس لیپ ٹاپ پرنٹر ڈورلاک کراکری چائنا کی ھے یا اللہ میں کیا کروں
    سوری بھائیو میں بھول گیا معافی چاھتا ھوں
    موبائل ۔نیٹری چارجر۔ ٹیبلٹ ۔موٹر سائیکل ۔ بچے کے کھلونے میڈیسن ۔ ایل سی ڈی ۔ ایمرجنسی لائٹ ۔ جوسر ۔ پلاس ۔ نیل کٹر ۔ وغیرہ سب چین کے بنے ھیں
    یا اللہ میں کیا کروں ان چیزوں سے کیسے بچوں ملک سے ڈالر تیزی سے ان اشیاء کے بدلے چین جا رھا ھے اور میں ان اشیاء کا عادی ھو چکا ھوں یہ سب سہولت نہیں ھماری ضرورت بن گئی ھیں ۔
    —————————————————————–
    90 فیصد سامان پاکستان کی مارکیٹ میں چائنا کا ھے اور اور چائنا پے منٹ صرف ڈالر میں قبول کرتا ھے۔
    —————————————————————–
    پاکستان میں سامان آئے تو سامان کے بدلے یا مال کے بدلے پاکستانی روپے میں پے منٹ ھو ۔
    حکیم ارشد ملک
    http://www.sayhat.net

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s