پاکستان میں بجلی کا بحران


پاکستان میں بجلی کا بحران
کچھ افراد اور ادارے ملک کو اندھیرے ہی میں ڈوبا رکھنا چاہتے ہیں ؟

منصور مہدی

ملک میں بجلی کا بحران زور و شور سے جاری ہے اورشارٹ فال بڑھنے کے بعد لوڈشیڈنگ کا دورانیہ مزیدزیادہ کر دیا گیاہے۔پیپکو حکام کے مطابق رواں ہفتہ کے شروع میںبجلی کی طلب اور پیداوار میں فرق5200 میگاواٹ رہا تاہم بعض ذمہ دار ذرائع کے مطابق یہ فرق6800 کی ریکارڈ سطح تک پہنچ چکا ہے جس کے نتیجے میں ملک بھرکے شہر اور دیہات بدترین غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی زدمیں ہیں۔ملک میں بجلی کی کمی تو ایک عرصے سے جاری ہے مگر مسلسل لوڈ شیڈنگ کو 4سال کا عرصہ گزر چکا ہے مگر یہ بحران ختم ہونے میں نہیں آرہا بلکہ مزید بڑھتا جا رہا ہے۔ پنجاب، سرحد، اور سندھ میں ہر گھنٹے کے بعد لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔ جبکہ بلوچستان میں تو20گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ بجلی جتنی کم ہوتی جا رہی ہے اتنی ہی زیادہ مہنگی بھی ہوتی جا رہی ہے۔ حکومت اس سلسلے میں بڑے بڑے دعوے تو کرتی تو لیکن عملی طور پر ابھی کچھ بھی نہیں کر سکی۔رواں سال کے پہلے مہینے میں وزیر پانی و بجلی نے کابینہ کو بتایا تھاکہ بجلی کی156میگا واٹ پیداوار کے 8منصوبوں پر فوری کام شروع کر دیا جائے گا جن سے بجلی کی قیمت میں6.1فیصد اضافہ ہو جائے گا اور جب1,994میگا واٹ کے 14منصوبے مکمل ہو جائیں گے تو بجلی کی قیمت میں9.9فیصد مزیداضافہ ہو جائے گا۔
حالانکہ سستی بجلی پیدا کرنے کے ذرائع بھی ہیں مگر ان کی طرف توجہ نہیں دی جا رہی۔ پاکستان میں متبادل توانائی بورڈ2003میں قائم کیا گیا تھامگر 7سال گزرنے کے بعد بھی ایسا کوئی پراجیکٹ نہیں لگایا جا سکا کہ جس سے بجلی کی پیداوار بڑھ سکے اور قیمت کم کی جا سکے ۔ ماہرین کے مطابق متبادل توانائی پر توجہ دیئے بغیر پاکستان توانائی کے بحران سے نہیں نکل سکتا۔ ملک کے بیشتر علاقے ”ہوائی چکیوں“ سے بجلی پیدا کرنے کی بہترین صلاحیت رکھتے ہیں ۔ ہوا کی کم از کم 13کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کو ونڈ انرجی کے لئے موزوں سمجھا جاتا ہے جو خوش قسمتی سے کراچی، ٹھٹھہ ، کوئٹہ ، جیوانی، حیدرآباد، بلوچستان کی ساحلی پٹی، صوبہ سرحد کی چند شمالی وادیوں اور آزاد کشمیر کے علاقوں میں ہوا کے ذریعے تقریباً تین ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔ اس وقت جرمنی ہواسے 18ہزار میگا واٹ ، اسپین 8ہزار میگاواٹ اور امریکہ 7ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کررہا ہے۔ ہوا سے توانائی پیدا کرنے کواہمیت اس لئے بھی حاصل ہے کہ اس سے بجلی پیدا کرنے کے عمل کے دوران کسی بھی قسم کی ماحولیاتی آلودگی پیدا نہیں ہوتی۔ جبکہ ملک بھر میں پورے سال سورج چمکتا ہے جس سے شمسی توانائی حاصل کرکے پورے پاکستان کی توانائی کی ضروریات کو آسانی سے پورا کیا جا سکتا ہے۔شمسی توانائی بجلی پیدا کرنے کا ایک سستا اور اہم ذریعہ ہے۔ سائنسدانوں کے بقول سورج سے ایک گھنٹے میں حاصل ہو نے والی توانائی پوری دنیا کی کل سالانہ پیدا کردہ مجموعی توانائی سے زیادہ ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کے صحراوں کا اگر صرف آدھا فیصد بھی شمسی توانائی حاصل کرنے کے لئے استعمال کیا جائے تو اس سے دنیا میں توانائی کی طلب پوری کی جاسکتی ہے لیکن ہم نے اس اہم ذریعے پر ابھی تک کوئی سنجیدہ توجہ نہیں دی۔ پاکستان میں شمسی توانائی پیدا کرنے کا کافی پوٹینشل موجود ہے کیونکہ پاکستان سال بھر میں فی مربع میٹر 19میگا جول(Joule)سے زیادہ شمسی توانائی میسرہے جس سے پاکستان کے تقریباً 50ہزار دیہاتوں میں رہنے والی 90% آبادی کو شمسی توانائی سے بجلی فراہم کرکے بجلی کی موجودہ لوڈشیڈنگ سے نجات دلائی جاسکتی ہے۔جبکہ ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود ملک میں ایٹمی بجلی گھر لگانے کی طرف توجہ نہیں دیجارہی۔ اس وقت پاکستان صرف 462میگا واٹ بجلی ایٹمی توانائی سے حاصل کی جا رہی ہے جو ملکی پیداوار کا صرف2فیصد ہے۔ پاکستان کے مقابلے میں دنیا کے31ممالک میں426ایٹمی بجلی گھروں سے 326،370میگا واٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے اور اگلے10برسوں میں ایٹمی توانائی سے پیدا کی جانے والی بجلی کی پیداوار دگنی ہو جائے گی۔دنیا میں کوئلے کے کل ذخائر تقریباً 929 ارب ٹن ہیں جن سے اس وقت اوسطاً 40% بجلی پیدا کی جارہی ہے۔ جبکہ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں دنیا کے تیسرے بڑے یعنی185ارب ٹن کوئلے کے ذخائر موجود ہیں جو تیل کے کم از کم 400ارب بیرل کے برابر ہیں۔باالفاظ دیگر ہمارے کوئلے کے ذخائر سعودی عرب اور ایران کے مجموعی تیل کے ذخائر کے برابر ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق 50ڈالر فی بیرل تیل کی قیمت کے حساب سے بھی ہمارے مذکورہ کوئلے کے ذخائر کی مالیت 30 ٹریلین ڈالر ہے جو پاکستان کی موجودہ جی ڈی پی سے 187گنا سے بھی زائد ہے۔ کوئلہ پاکستان کے چاروں صوبوں میں موجود ہے تاہم تھر کے کوئلے کا شمار دنیا کے سب سے بڑے ذخائر میں ہوتا ہے۔حال ہی میں حکومت سندھ نے ایک ملٹی نیشنل کمپنی کے ساتھ معاہدہ کیا ہے جس کے تحت کوئلے کے ذریعے 1000 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی جائے گی ۔پاکستان کوئلے سے صرف 200میگاواٹ بجلی پیدا کررہا ہے جو کل ملکی توانائی کا تقریباً 7%ہے جبکہ ہماری توانائی کی پیداوار میں کوئلے سے پیدا کی جانیوالی توانائی کا حصہ کم از کم 25%ہونا چاہئے۔
پانی سے بننے والی بجلی سب سے زیادہ سستی ہوتی ہے مگر ایک تو ویسے ہی ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے پاکستان میں بارشیں کم ہو رہی ہیں دوسرے بیشتر دریاو ¾ں کا پانی پاکستان کو دستیاب نہیں اور ان پانیوں سے بھارت فائدہ اٹھا رہا ہے مگر جو پانی پاکستان کو میسر ہے اس سے ہم فائدہ نہیں اٹھا رہے بلکہ اسے ہم نے سیاست کی نظر کردیا ہے۔پانی کی کمی کے باعث تربیلا بجلی گھر کے 11پیداواری یونٹ بند ہو چکے ہیں اورصرف تین یونٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں جن سے ایک سو پچاس میگا واٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے۔کچھ یہی حال منگلا کا ہے۔
ان سب باتوں کے باوجود ملک میں بجلی کی کمی ایک اور وجہ سے ہے جس کی طرف کبھی بھی کوئی توجہ نہیں دی گئی اور وہ ملک میں بجلی ترسیل کے این ٹی ڈی سی نظام میں ٹرانسمیشن کا ضیاع ہے ۔نیپر کی ایک ا رپورٹ کے مطابق بجلی ترسیل کیلئے این ٹی ڈی سی کے ٹرانسمیشن نظام میں سال 2003-04 میں4.77 فیصد بجلی ضائع ہوتی تھی اور سال2007-08 میں یہ شرح کم ہوکر3.49فیصد ہوگئی۔ کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کے تقسیم کار و ترسیل نظام میں سال2003-04میں37.84 فیصد بجلی ضائع ہوتی تھی اور یہ شرح 2007-08 میں کم ہوکر34.11 فیصد ہوگئی ہے۔جبکہ ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے نقصانات کے اعتبار سے پشاور، کوئٹہ اور حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے نقصانات سب سے زیادہ ہیں۔ مگر دیگر ذرائع کا کہنا ہے کہ ضائع ہونے والی بجلی کی مقدار نیپرا کی رپورٹ سے کہیں زیادہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بجلی کی ترسیل کے اس خستہ حال ڈ ھانچے کی وجہ سے تقریباً35 فیصد بجلی کا ضیاع ہوجاتا ہے۔ غیر قانونی کنکشن‘ میٹروں کے ساتھ ہیراپھیری اور دوسرے طریقوں سے سالانہ پچیس ارب روپے کی بجلی چوری ہوتی ہے۔ماہرین کے مطابق بجلی کا اس نقصان کی جہاں دیگر وجوہات ہیں وہاں سب سے زیادہ وجہ کم موصل تاروں کی خریداری اور ان کی تنصیب ہے۔ دوسرے حد سے زیادہ غیر پیداواری اخراجات ہیں جن پر کنٹرول کیے بغیر یہ نقصانات کم نہیں ہو سکتے۔
واپڈا اور اس کے ذیلی اداروں میں ہر سال اربوں روپے کی خریداری کی جاتی ہے مگر اس کیلئے جو طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے اس سے خریداری کی رقم اصل رقم سے کہیں زیادہ خرچ کی جاتی ہے۔ کھلی مارکیٹ سے جو چیز ایک سو روپے کی عام ملتی ہے واپڈا اور اس کے ذیلی ادارے وہی چیز پانچ سو روپے سے زیادہ کی خریدتے ہیں جن سے اخراجات بڑھ جاتے ہیں اور پھربجٹ کم پڑ جانے پر غیر معیاری اور کم موصل تاریں خریدی جاتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض اوقات ایسے اخراجات کیے جاتے ہیں کہ جن کی اصل میں کوئی ضرورت ہی نہیں ہوتی جیسے لیسکو نے تین چار سال پہلے کروڑوں روپے مالیت کے موبائل گرڈ سٹیشن خریدے کہ جن کے کھڑے کرنے کی بھی لیسکو کے پاس جگہ نہیں تھی۔ حالانکہ ان گرڈ سٹیشنوں کی خریداری کے اسباب بیان کرتے ہوئے لیسکو حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی وقت لاہور کے کسی گرڈ سٹیشن میں خرابی کی صورت میں ان مابائل سٹیشنوں کا استعمال کیا جائے گا مگر لاہور کے بیشتر گرڈ سٹیشن شہری آبادی اور چھوٹی سڑکوں پر واقع ہونے کی وجہ سے موبائل گرڈ سٹیشن وہاں جا ہی نہیں سکتے مگر لیسکو حکام نے کروڑوں روپے اسی مد میں خرچ کر ڈالے ۔ ایسے ہی اور دیگر مثالیں موجود ہیں ۔ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے کہ جہاں وٹہ ڈی استعمال کی جاتی ہے۔ سڑکوں اور گلیوں میں بجلی کے پولوں پر نصب ٹرانسفارمرز کی ڈی کے ساتھ ایک اینٹ یا اس کا ٹکڑا بندھا دیکھا جا سکتا ہے جسے واپڈا اہلکار وٹہ ڈی کا نام دیتے ہیں۔ ماہرین کا اس بارے کہنا ہے کہ وٹہ ڈی سے ملازمین کو تو فاہدہ ہوجاتا ہے کہ مگر اس کے نقصانات بہت ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے ان اداروں میں تطہیر کی بہت ضرورت ہے کیونکہ وٹہ ڈی استعمال کرنے والوں سے کوئی انقلابی تبدیلی اور انفراسٹرکچر بدلنے کی توقع نہیں رکھی جا سکتی ۔ اگرچہ واپڈا حکام کے مطابق آئندہ بیس برسوں میں قابل تجدید ذرائع سے9700 میگا واٹ بجلی پیدا کی جائے گی۔نیپرا کی سالانہ رپورٹ کے مطابق ملک میں 2015 تک 1350 میگاواٹ اور سال 2020 تک 3500 میگاواٹ بجلی پیدا کی جائے گی۔2025تک قابل تجدید توانائی ذرائع سے6050 میگاواٹ اور 2030 تک9700 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
بجلی چوری بھی مہنگی بجلی کا ایک اہم سبب ہے ۔ واپڈا کے ایک ملازم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس ملک میں ایسے ایسے ادارے ہیں کہ اگر وہاں پر بجلی کی چوری کو روک دیا جائے تو ملک بھر کے گھریلو صارفین کو مفت بجلی مہیا کی جا سکتی ہے۔ چھوٹی سطح پر بجلی چوری کے خلاف جاری مہم میںجنوری تا مارچ 2010 میں52 ہزار بجلی چور پکڑے گئے جن پر4ارب روپے کے واجبات تھے۔واپڈا حکام کے مطابق بجلی چوری سے نجی ادارے اورفیکٹریاں سب سے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں۔
توانائی کے بحران نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے اورملک کے طول وارض میں روشنیاں گل ہورہی ہیں۔صنعتی پیداوار‘ گھریلو زندگی اور سماجی ، معاشی اور دفتری معمولات درہم برہم ہورہے ہیں۔ معاشی ترقی کی سست روی‘ بے روزگاری میں اضافہ اور غربت کے پھیلاﺅ میں بھی بجلی کی کمی اور اس کی قیمت میں اضافہ ایک اہم عنصر ہے۔ ملک کا شاید ہی کوئی ایسا شعبہ ہو جو اس بجلی کی قلت سے متاثر نہ ہو۔لاہور ایوان صنعت و تجارت کے ایک سابق صدر کے مطابق لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے دس لاکھ ڈیلی ویجز بیروزگار ہو گئے ہیں اور ملکی معیشت کو روزانہ دو ارب روپے کا پیداواری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ پہلے ہی ایک تو پاکستان کی چالیس فیصد آبادی کے پاس بجلی کے کنکشن موجود نہیں ہیں اور جس ساٹھ فیصد کے پاس کنکشن موجود ہیں انھیں ان کی ضروریات کے مطابق نہیں مل رہی ۔ پاکستان کے دوست ممالک پاکستان کے اس توانائی کے بحران میں مدد کرنے کو تیار ہیں مگر نامعلوم وجوہات کی بنا پر ان پیشکشوں سے فاہدہ نہیں اٹھایا جا رہا ۔ ایران کے سفیر ماشااللہ شاکری نے کہا ہے کہ ایران پاکستان کی مدد کے لئے تیار ہے اور دو ہزار میگاواٹ تک 6 سے 7 سینٹ فی یونٹ کے حساب سے بجلی دینے کو تیار ہے۔ پھر ایران کوئلے سے بھی بجلی پیدا کررہا ہے اور پاکستان کو تیکنیکی معاونت فراہم کرنے کی پیشکش کرچکا ہے۔ چین اس وقت اپنی تقریباً 75% بجلی کوئلے سے پیدا کررہا ہے اورکوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے سلسلے میں تعاون کے لئے تیار ہے۔ مگر ہم ان سے فاہدہ اٹھانے کو تیار نہیں اگرچہ ہمیں اپنے ان پڑوسی ممالک کے تعاون کی پیشکش سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ مگر بیوروکریسی میں موجود چند افراد ملک کو اندھیرے سے نکالنا نہیں چاہتے ۔ حالانکہ ملک میں موجود کوئلے کے بڑے ذخائر پر سرمایہ کاری کرکے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے ہم اپنے ملک کی ضرورت سے زیادہ بجلی پیدا کرسکتے ہیں لیکن ملٹی نیشنل آئل کمپنیوں نے اپنی مضبوط لابی کی وجہ سے گزشتہ کئی دھائیوں سے پاکستان میں ہوا اور کوئلے کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کی تمام تجاویز اور منصوبہ بندیوں کو عملی جامہ نہیں پہنانے دیا اور یہ تمام منصوبے فائلوں تک ہی محدود رہے۔ وزیراعلیٰ سندھ کے مشیربرائے منصوبہ بندی و ترقی ڈاکٹرقیصر بنگالی نے تو یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان میں کالا باغ ڈیم کی حامی لابی نے تمام توانائی کے پروگراموں سبوتاژ کر رہی ہے کیونکہ متبادل توانائی سے بحران حل ہوگیا تو کالا باغ کا ایشو کمزور پڑ جائے گا۔ لیکن موجودہ حکومت نے کوئلے اور ہوا کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے اور اس سلسلے میں انہیں بیرونی سرمایہ کاروں کی طرف سے اچھا ردعمل ملا ہے۔دیکھتے ہیں پیپلز پارٹی کی حکومت عوام کو بجلی ضرورت کے مطابق دے پائے گی یا نہیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s