لاہور میں تجاوزات


منصور مہدی

بڑھتی آبادی کیساتھ روزگار کے مسائل ،جدید مشینری کی عدم دستیابی ،مالی مسائل کی کمی اور پولیس کے عدم تعاون کی وجہ سے لاہورشہر سے تجاوزات کا خاتمہ نہ ہو سکا ۔فٹ پاتھوں پر قائم دکانوں اور سڑکوں پر پارکنگ نے نہ صرف ٹریفک کو جام کرنا شروع کر دیابلکہ پیدل چلنا بھی دوبھر ہو گیاجبکہ ضلعی انتظامیہ اپنے متعدد دعوﺅںکے برعکس شہر سے تجاوزات کا ختم کرنے میں ناکام ہو گئی۔ لاہور کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی سے جہاں روز گار کے مسائل بڑھے ہیں وہاں سڑکوں پر ٹریفک کے مسائل بھی دو چند ہو گئے اور لاہور کی کوئی اہم سڑک نہیں کہ جہاں پر تجاوزات موجود نہ ہوں اور ان کی وجہ سے ٹریفک کے بہاﺅ میں رکاوٹ نہ ہو بلکہ متعدد جگہو پر جیسے سرمکر روڈ، جی ٹی روڈ ، لوئر مال سیکر یٹریٹ فیروز پور روڈ، لٹن روڈ، ٹمپل روڈ، ہال روڈ ،بیڈن روڈ، منٹگمری روڈ ،میکلوڈ روڈ ، ہسپتال روڈ، ملتان روڈ اور ایسے دیگر علاقوں میں ٹریفک دن میں کئی کئی بار جام ہو جاتی ہے جبکہ بڑی مارکیٹوں اور بازاروں میں صورتحال اس سے بھی زیادہ ابتر ہے۔انارکلی ،کرشن نگر ،ریگل چوک ،ساندہ ،اچھرہ بازار ، ٹاﺅن شپ مارکیٹ ،مون مارکیٹ ،گرین ٹاﺅن ، باغبانپورہ ، مغل پورہ ، سلامت پورہ ، اندرون شہر کی مارکیٹیں ،شاہ عالم مارکیٹ ،رنگ محل ،مزنگ بازار ، نیو مزنگ مارکیٹ ، سمن آباد موڑ ،یتیم خانہ چوک اور دیگر بازاروں اور مارکیٹوں میں ریڑھیوں ،ہاکروں اور موٹر سائیکل کار سٹیندوں کی وجہ سے پیدل چلنا بھی دشوار ہو چکا ہے ۔شہر کی متعدد سڑکوں اور بازاروں میں نہ صرف دکانداروں نے اپنی دکانیں کئی کئی فٹ آگے تک بڑھائی ہوتی ہیں بلکہ جگہ جگہ سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر متعدد لوگوں نے مستقل اڈے قائم کر کے مختلف نوعیت کے سٹال اور دکانیں بنائی ہوئی ہیں جس وجہ سے ان راستوں سے پیدل گزرنا مشکل ہو گیا اور لوگ سڑکوں پر چلنے پر مجبور ہو گئے ۔اگرچہ برھتی ہوئی آبادی کے روزگار کے مسائل حل کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے مگر روزگار کمانے کیلئے از خود سڑکوں اور راستوں پر قبضہ کر لینے روش کا تدارک کرنابھی حکومت کے فرائض میں شامل ہے جبکہ ویسے بھی بطور انسان کسی راہ گزر پر قبضہ کر کے دوسرے کو تکلیف اور پریشانی پہچانا بھی درست بات نہیں۔ٹریفک کی جابجا بندش اور بہاﺅ میں روکاوٹ کی وجہ سے ایک گھنٹہ کا سفر دو گھنٹے کا بن جاتا ہے اور اس دوران سٹارٹ گاڑیوں سے سی این جی ،پٹرول اور ڈیزل کا دوھواں فضائی آلودگی کا باعث بنتا ہے ۔اگرچہ ضلعی حکومت نے تجاوزات کو ختم کرنے کے کئی بار اعلان بھی کیے کچھ علاقوں میں تجاوزات کا خاتمہ بھی کیا مگر چند روز بعد ہی یہ تجاوزات متعلقہ اداروں کے کرپٹ اہلکاروں کی ملی بگھت سے دوبارہ قائم ہو جاتی ہیں اور اس سلسلے میں ضلعی حکومت کو متعدد بار عدالتوں اور دیگر اداروں سے تجاوزات کے خاتمے کیلئے ہدایات بھی مل چکی ہے مگر ضلعی حکومت تجاوزات کے مکمل خاتمے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔لاہور کے چھ ٹاﺅنز میں تقسیم ک بعد تجاوزات سے متلق مسائل مزید گھمبیر ہو گئے کیونکہ ضلعی حکومت نے لاہور کی 32ہم سڑکوں کو اپنے پاس رکھنے کے بعد شہر بھر کی ذمہ داری ٹاﺅنز پر ڈال دی جبکہ یہ نوزائیدہ ٹاﺅنز اتنے ذرائع آمدن اور وسائل نہیں رکھتے تھے کہ وہ متعقلہ مشینری خریدسکیں چنانچہ وہ تجاوزات کے خاتمے میں کوئی اہم رول ادا نہیں کر سکتے اور ضلعی حکومت سے ہی توقع رکھتے ہیں کہ وہ مل کرہمارا ہاتھ بٹائے مگر ضلعی انتطامیہ اپنے ذمہ 32سڑکوں پر سے تجاوزات ختم نہیں کر پائی تو وہ دوسرے ٹاﺅنز کی تجاوزات کے خاتمے میں کیا مدد کرے گی۔
نائب ضلعی ناظم فاروق امجد میر کے ترجمان راﺅ خالد احمد خان نے بتایا کہ لاہور میں جتنی تجاوزات ہم نے ختم کی ہیں اتنا تو کام گذشتہ دس سالوں میں بھی نہیں ہوا اور ضلعی انتظامیہ کی 32سڑکوں کے علاوہ شہر کی دیگر سڑکوں ،بازاروں اور مارکیٹوں سے تجاوزات کا خاتمہ کرنا ٹاﺅن انتطامیہ کی ذمہ داری ہے کیونکہ یہ معاملات ٹاﺅن کے تحت ہیں ۔انھوں نے کہا کہ لوگوں کی یہ بات غلط ہے کہ انتظامیہ سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر دکانیں اور ریڑھیاں لگوانے پر ٹیکس لیتی ہے۔انھوں نے کہا کہ شہر سے مکمل تجاوازت کا خاتمہ کرنے کیلئے ایک جامع پروگرام بنایا جا رہا ہے کہ شہر سے ریڑھیاں اور سٹال ختم کرنے سے پہلے ان لوگوں کو متبادل جگہ فراہم کی جائے تاکہ وہ بے روزگار نہ ہو سکیں۔جبکہ داتا گنج بخش ٹاﺅن انتطامیہ کا کہنا ہے کہ ہمارا علاقہ چونکہ گنجان آباد ہے اس لئے یہاں سے تجاوزات کا مکمل خاتمہ روزانہ کی بنیاد پر تبھی ممکن ہے کہ جب ہمارے پاس مین پاور ،جدید مشینری ہواور پولیس کی مسلسل مدد حاصل رہے جبکہ نشتر ٹاﺅن کی 25یونین کونسلوں میں سے 10یونین کونسل کیونکہ دیہی علاقوں پر مشتمل ہے جہاں سے زیادہ ریونیو اکھٹا نہیں ہوتا جس وجہ سے تجاوزات کے خاتمے کیلئے مشینری نہیں خرید ی جا سکتی۔لہذا ضلعی انتظامیہ ہماری مدد کرے شالیمار ٹاﺅن انتطامیہ کے مطابق جی ٹی روڈ سے تجاوزات کاخاتمہ پولیس کی مسلسل مدد کے بغیر نہیں ہو سکتا کیونکہ جب انتطامیہ کے افراد اکیلے یہ کام کرتے ہیں تو لوگ ان سے جھگڑا کرتے ہیں۔ہم نے کئی بار ان انہیں ہٹایا بھی مگر چند روز بعد یہ پھر بیٹھ جاتے ہیں ۔انھوں نے کہا کہ سب تبھی ممکن ہے کہ جب ان لوگوں کےلئے متبادل انتظام نہ ہو۔
شائستہ قیصر ایڈووکیٹ نے بتایا کہ ایک رٹ پٹیشن میںلاہور ہائی کورٹ کے جسٹس جاوید بٹر نے تین ماہ کے اندر شہر بھر سے تجاوزات کا خاتمہ کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ اس وجہ سے شہر کی ٹریفک کا بگڑتا ہوتا نطام درست ہو سکے۔انھوں نے بتایا کہ صدر اور ماڈل ٹاﺅن سرکل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ٹریفک نے عدالت میں کہا تھا کہ وہ سڑکوں پر ٹریفک کی روانی قائم رکھنے کیلئے بے حد کوششیں کرتے ہیں مگرسڑکوں کے دونوں اطراف قائم تجاوزات ٹریفک کے بہاﺅ میں بار بار رکاوٹ کا باعث بنتی ہے

لاہور میں تجاوزات” پر 0 خیالات

  1. پنگ بیک: My Stories » Blog Archive »

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s