”موت کا کھیل“ ون ویلنگ


منصور مہدی
موٹر سائیکل پر ون ویلنگ کرنے کا شوق کتنی تیزی سے نوجوانوں میں پھیل رہا ہے اس کا مجھے اندازہ اس وقت ہوا جب میں ون ویلنگ کے حوالے سے سٹوری کے لیے معلومات لینے ایس ایس پی آفس گیا۔ جہاں سے اگرچہ مجھے پورے شہر کے مکمل اعداد و شمار تو نہ مل سکے کہ ماہانہ یا سالانہ اوسط ً کتنے نوجوان اس کھیل کی بھینٹ چڑھ کر جان کی بازی ہار جاتے ہیں(پولیس کا کہنا ہے کہ ایسے اعداد وشمار ہم اکٹھے نہیں کرتے تاہم اگر کبھی اوپر سے کوئی حکم آئے تو فوری طور پر شہر کے تھانوں سے فون پر معلومات لے لی جاتی ہیں) مگردفتر مذکور سے کچھ ایسی معلومات ملی کہ جس سے اس بات کا اندازہ ہو سکتا ہے کہ یہ کھیل نہ صرف نوجوان بلکہ چھوٹی عمر کے لڑکوں کہ جنہیں بچے ہی کہا جا سکتا ہے میں کتنی تیزی سے پھیل رہا ہے۔
اس شوق کی خاطر یہ معصوم کیا کیا جتن کرتے ہیں حتیٰ کہ جرم کی حد تک چلے جاتے ہیں۔12سالہ سلمان جو آٹھویں جماعت کا طالب علم ہے اور کمپری ہینسو ہائی سکول گجر پورہ چوک میں پڑھتا ہے اس کا دوست 13سالہ جمشید نویں جماعت کا طالب علم ہے اور اسلامیہ ہائی سکول مصری شاہ میں پڑھتا ہے۔ دونوں دوست جب اپنے محلے کے کچھ لڑکوں کو ون ویلنگ کرتے دیکھتے تو ان کے دل میں بھی ایسا کرنے کا شوق پیدا ہوتا۔ مگر ایک تو ان کے والدین بوجہ حالات انھیں موٹر سائیکل نہیں دلوا سکتے تھے اور دوسرے نہ ہی ان کی ابھی اتنی عمر تھی کہ وہ قانونی طور پر موٹر سائیکل چلانے کے مجاز ہوتے ۔
مگر اس کے باوجود دن بدن ون ویلنگ کا جنون ان میں بڑھتا گیا۔ جس پر انھوں نے اپنے شوق کو پورا کرنے کے لیے اپنے دیگر دوستوں کی مدد سے نہ صرف موٹر سائیکل چلانی سیکھی بلکہ ون ویلنگ بھی کرنے لگے۔ لیکن اپنی موٹر سائیکل نہ ہونے کی وجہ سے ان کا ون ویلنگ کا لطف ادھورا رہتا۔ چنانچہ دونوں دوستوں نے موٹر سائیکل چوری کرکے اپنا شوق پورا کرنے کا فیصلہ کیا۔
آخر ایک دن اپنے جنون کے ہاتھوں مجبور ہو کر انھوں نے پہلی موٹر سائیکل چورائی اور اس پر خوب ون ویلنگ کی اور جب اس کی ٹنکی کا پٹرول ختم ہو گیا تو انھوں نے وہ موٹر سائیکل وہی کھڑی کر دی اور گھر واپس آگئے۔ اگلے دن سکول کی چھٹی کے بعد جب دونوں ملے تو پھر ایک اور موٹر سائیکل چرانے کا پروگرام بنالیا۔اس مقصد کے لیے انھوں نے ماسٹر کی بھی تیار کر لی۔
اب یہ دونوں دوست اکثر و بیشتر موٹر سائیکل چوری کرتے اور جب تک پٹرول نہ ختم ہوتا خوب مزے کرتے ، ون ویلنگ کرتے ،موٹر سائیکل پر کرتب کرتے اور بعد میں موٹر سائیکل پھینک دیتے۔ لیکن کہتے ہیں کہ جرم آخر جرم ہوتا ہے اور مجرم ایک دن قانون کے ہاتھوں پکڑا جاتا ہے۔3اپریل کا واقعہ ہے کہ سلمان اور جمشید نے تھانہ گجرپورہ کی حدود سے ایک موٹر سائیکل چرایا اور اسے سٹارٹ کرکے بھاگ ہی رہے تھے کہ موٹر سائیکل کے مالک کی نظر پڑگئی جس پر اس نے شور مچایا تو تھانہ گجر پورہ کی پولیس وین اتفاق سے گزر رہی تھی ، جنہوں نے سلمان اور جمشید کا پیچھا کیا اور دونوں کو پکڑ لیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں اب تک 15سے زائد موٹر سائیکلیں چوری کر چکے ہیں۔اب دونوں کے خلاف تھانہ گجر پورہ میںچار عد دمقدمات نمبری 267/11,268/11,269/11,270/11 درج ہیں ۔
لاہور میں روزانہ رات کو شہر کی مختلف سڑکوں جیسے گلبرگ مین بلیوارڈ، کینال روڈ، رنگ روڈ اور ایسی ہی شہر کی چوڑی سڑکوں پر ٹولیوں کی صورت میں ٹریفک کے درمیان موٹرسائیکلوں پر نوجوان ون ویلنگ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اکیلے یا ایک دوست کو گود میں اور ایک کو پیچھے بٹھائے انتہائی برق رفتاری سے موٹرسائیکل کا اگلا پہیہ اُٹھائے کرتب دکھاتے اور اٹکھیلیاں کرتے گزرتے ہیں تو بڑے بڑوں کا پتا پانی ہو جاتا ہے ۔جبکہ ہفتے کی شب ان کی مخصوص ہوتی ہے کیونکہ اتوار کو سکولوں ، کالجوں اور دیگر اداروں کی چھٹی ہوتی ہے چنانچہ یہ ساری رات موٹر سائیکلوں پر ہی گھومتے پھرتے رہتے ہیں، ون ویلنگ کرتے ہیں اور ایسی ہی خطرناک حرکتیں کرتے ہیں کہ دیکھنے والا کا کلیجہ منہ کو آ جاتا ہے۔
شہر کی پولیس ان ون ویلنگ کرنے والوں کو اکثر پکڑتی ہے چالان بھی کرتی ہے ، ان میں سے کئی لڑکے مر جاتے ہیں جبکہ کئی ساری عمر کے لیے معذور ہوجاتے ہیں مگر روز بروز ون ویلنگ کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ نہ صرف لاہور بلکہ ملک کا اب ملک کا کوئی ایسا شہر یا قصبہ نہیں کہ جہاں موٹر سائیکل موجود ہو اور ون ویلنگ نہ ہوتی ہو۔
ون ویلنگ کرنے والوں میں کئی طرح کے لڑکے شامل ہوتے ہیں۔ ایک تو وہ لڑکے ہوتے ہیں کہ جو صرف اور صرف ون ویلنگ کرتے ہیں اور ان کا کسی جرم سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ جبکہ دوسری قسم میں ون ویلنگ کرنے والے نوجوان نہ صرف ہلڑ بازی کرتے ہیں بلکہ موٹرسائیکلوں کے سائلنسر نکال کر شور کرتے ہیں اورفیملیز کو تنگ کرتے ہیں۔ تیسرے ان میں جرائم پیشہ ہوتے ہیں اور ون ویلنگ کی آڑ میں رات کو سڑکوں پر پھرتے رہتے ہیں اور جب موقع ملتا ہے تو شہریوں کو لوٹ بھی لیتے ہیں۔
آپ کو یہ سن کر یقینا حیرت ہو گی کہ اب لاہور میں لڑکے ہی نہیں لڑکیا ں بھی ون ویلنگ کرتی ہیں۔ون ویلنگ دو طرح کی ہوتی ہے۔ ایک میں ایک ہی لڑکا موٹر سائیکل چلاتا ہے اور ون ویلنگ کرتا ہے جبکہ دوسری میں ایک موٹر سائیکل پر دو لڑکے ہوتے ہیں جن میں سے ایک موٹر سائیکل کے بیلنس کو کنٹرول کرتا ہے جبکہ دوسرا اسے چلاتے ہوئے مختلف نوعیت کے کرتب دکھاتا ہے۔ شہر میں اب تک دو ایسے جوڑے دیکھنے میں آئے ہیں کہ جو ون ویلنگ کرتے ہیں۔ان میں ایک جوڑا تو ممی ڈیڈی گروپ سے تعلق رکھتا ہیں ، دونوں نے جین کی پینٹس اور ٹی شرٹس پہنی ہوتی ہیں جبکہ دوسرے جوڑے میں لڑکی برقعہ میں ملبوس ہوتی ہے تا ہم چہرے پر نقاب ہوتی ہے۔
مغربی ممالک نے کار، موٹرسائیکل اور سائیکل کے کرتب دکھانے کو باضابطہ کھیل کا درجہ دے رکھا ہے۔جیسا کہ لاہور کا سلطان گولڈن کار جمپ لگانے میں دنیا بھر میں شہرت رکھتا تھا۔ اکثر سپورٹس چینلز پر موٹرسائیکل اور سائیکل سوار انتہائی اُونچائی، گہرائی ڈھلوان، پھسلن اور خلا میں جمپ لگاتے، قلابازیاں کھاتے اور ہاتھ چھوڑ کر طرح طرح کے خطرناک کرتب کرتے نظر آتے ہیں مگر یہ سب کرنے کے لےے ہر کھلاڑی ہیلمٹ اور کٹ پہن کر کھیل میں شریک ہوتا ہے۔ ہر کھلاڑی کے لےے خصوصی گراﺅنڈ اور کورٹس انتہائی محنت سے تیار کےے جاتے ہیں اور کھلاڑی کو چوٹ لگنے سے بچانے کی تدابیر اختیار کر کے ان کھیلوں کو وضع کردہ اصول وضوابط کے مطابق کھیلنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ کھیلوں کی یہی سرگرمیاں جب ہمارے ملک کے نوجوان دیکھتے ہیں تو ان کا خون بھی جوش مارتا ہے مگر ہمارے پاس نہ تو روایتی وجدید کھیلوں کے لےے میدان اور کورٹس دستیاب ہیں اور نہ ہی سہولیات وسرپرستی کی نعمت۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے باصلاحیت نوجوان اپنی مثبت خوبیوں کا اظہار ون ویلنگ کے ذریعے کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا یہ تھرل انھیں نچلا نہیں بیٹھنے دیتا اور خودنمائی ورونمائی پر اُکساتا ہے۔
فیصل ٹاﺅن کمرشل مارکیٹ کے علاقے میں ون ویلنگ کے ماہر 25 سالہ کاموں ٹائیگر کا کہنا ہے کہ ون ویلنگ کا مجھے شوق ہے۔ دوستوں کی دیکھا دیکھی اور ان سے آگے نکلنے کی دُھن میں ون ویلنگ کا جنون پیدا ہوا۔22 سالہ اکرم کا کہنا ہے کہ ون ویلنگ ایک صحت مند سرگرمی ہے۔ اس میں خطرات کا مقابلہ کیا جاتا ہے۔ اس نوجوان کا کہنا ہے جو ڈر گیا وہ مر گیا۔
ان نوجوانوں سے گفتگو کے دوران ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک جنون ہے، اک سودا ہے جو ان کے سر میں سمایا ہوا ہے۔ ایسے میں کوئی اچھی بات، کوئی نصیحت اسے موت کے کھیل سے نہیں روک سکتی۔ ماں بے چاری کو پتا ہی نہیں کہ اس کا لخت جگر کن راہوں کا مسافر ہے۔ پتا اس وقت چلے گا جب گھر میں خبر آئے گی۔ اگر اسی نوجوان کو ون ویلنگ کا نمائندہ سمجھ لیا جائے تو ون ویلنگ اختیار کرنے کے پیچھے والدین کی عدم توجہ، گھریلو ماحول، غربت، جہالت، بے روزگاری، بے راہ روی اور بُری صحبت جیسے عوامل کارفرما نظر آتے ہیں۔
ماہر نفسیات ڈاکٹر انور زیدی کا کہنا ہے کہ ” ہمارے سماجی ومعاشرتی مسائل کی بنا پر گھٹن اس قدر بڑھ گیا ہے کہ گھر کی چار دیواری میں مرد وزن کا دم گھٹنے لگتا ہے۔ اپنی اپنی جگہ والدین اور بچوں کے صبرو برداشت کے پیمانے لبریز ہوتے جا رہے ہیں۔ میاں بیوی، بہن بھائی اور بچے ایک دوسرے کو برداشت نہیں کر پا رہے۔ یہی وجہ ہے خاندانوں کی اکائی کمزور ہو کر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ فرد اپنے آپ میں تنہا اور عدم تحفظ کا شکار ہو رہا ہے۔ خاص طور پر نوجوان بے روزگاری کی وجہ سے بے راہ روی کا شکار ہیں۔ وہ ہر طرف لڑائی اور مار کٹائی دیکھ کر متشدد رویوں کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ زیادہ تر نوجوان والدین کی عدم توجہی کی بنا پر نفسیاتی دباﺅ میں ون ویلنگ اور دیگر منفی سرگرمیوں کے ذریعے دوسروں کی توجہ حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔
اس ضمن میں دانشوروں کا مو¿قف تھوڑا مختلف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لڑکپن اور جوانی کی عمر کا تقاضا ہے کہ اس عمر میں انسان کوئی نہ کوئی اچھوتا یا نیا کام کرنے کی کوشش کرتا ہے جو دوسرے نہ کر سکتے ہوں۔ ون ویلنگ محض ایڈونچر ہے اور کچھ نہیں۔ جیسے پچھلی جنریشن کے افراد اپنے بچپن میں غلیل سے شکار کرتے، پتنگیں اُڑاتے تھے، درختوں پر چڑھ کر پھل توڑتے تھے تو ان کا تھرل اور ایڈونچر ہی تھا۔ اب ہم کمپیوٹر ایج سے گزر رہے ہیں چنانچہ نوجوان تھرلنگ کا شوق ون ویلنگ کے ذریعے پورا کر رہے ہیں تو حکومت کو چاہےے کہ وہ نوجوانوں میں کھیلوں کی صحت مند سرگرمیوں کے فروغ کے لےے پالیسی بنائے۔ یورپ کی طرح ون ویلنگ اور ایسے جدید کھیلوں کے لےے کم از کم ملک کے تمام بڑے شہروں میں جدید سہولتوں سے مزین میدان اور کورٹس تیار کرائے تاکہ نوجوان ون ویلنگ جیسے شوق سڑکوں پر پورا کرنے پر مجبور نہ ہوں اور نہ ہی کسی بڑے حادثے کا شکار ہوں۔
دورِ جدید کے کھیلوں اور صحت مند سرگرمیوں کے فروغ کے لےے بنیادی سہولتیں مہیا کرنا حکومت کا کام ہے۔ ان کھیلوں کے فروغ کے لےے انفراسٹرکچر موجود ہے، ادارے قائم ہیں لیکن افسران اور عملہ تنخواہیں لے رہا ہے مگر منصوبہ بندی سرپرستی اور چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کی وجہ سے کام نہیں ہو رہا اور مثبت نتائج سامنے نہیں آ رہے اور نوجوانوں تک اس کا ابلاغ نہیں۔ اسلام آباد میں اتنا بڑا جدید سپورٹس کمپلیکس ہے۔ اس میں کھیلوں کے لےے سہولتیں موجود ہیں۔ سپورٹس کمپلیکس میں دو سوئمنگ پولز ہیں جن کی ماہانہ فیس ہزاروں میں ہے، جن تک خواص کی رسائی تو ہے مگر عوام کی پہنچ سے بہت دور ہیں۔ انصاف کا تقاضا تو یہ ہے کہ ملک کے ہر چھوٹے بڑے شہروں میں عوام کے لےے سوئمنگ پولز بنائے جائیں۔ راولپنڈی واسلام آباد کے جڑواں شہروں میں سرکاری سرپرستی میں صرف دو عوامی سوئمنگ پولز بنا دئے جائیں اور فی گھنٹہ 150 فیس مقرر کر دی جائے تو یہ بات دعویٰ سے کہی جا سکتی ہے کہ اس صحت مند سرگرمی کی بدولت راولپنڈی اور اسلام آباد میں ون ویلنگ کے موجودہ خطرات میں خاطر خواہ کمی لائی جا سکتی ہے۔ موجودہ سپورٹس کمپلیکس، راول جھیل، کیلوری گراﺅنڈ اور لیک ویو پارک میں اتنی گنجائش موجود ہے کہ اس کی چار دیواری کے اندر جدید کھیلوں کی تربیت اور مظاہرے کے لےے میدان اور کورٹس تعمیر کےے جا سکتے ہیں ، اسی طرح لاہور میں راوی کے کنارے ایسے کئی میدان بنائے جا سکتے ہیں اور یوں سڑکوں پر ون ویلنگ کے مظاہرے میں حادثات کا شکار ہونے والے نوجوانوں کی شکل میں مستقبل کے قیمتی اثاثے کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s