مرغی اور مرغیاں


منصور مہدی

شالامار ٹاﺅن کی انتظامیہ نے بیمار اور لاغر مرغیوں کا مضر صحت گوشت فروخت کرنے والے دوکانداروں کے خلاف گرینڈ آپریشن کر تے ہوئے ان کا سامان ضبط کر کے ان کے چالان کر دیے اور دوکانداروں کو گوشت کی فروخت سے سختی سے روک دیا ۔برڈ فلو کے بعد شہر بھر کے مختلف علاقوں میں بیمار اور لاغر مرغیوں کے گوشت کی سستے داموں فروخت کا دھندا عروج پر ہے ۔معلوم ہوا کہ باغبانپورہ سنگھ پورہ کے مقام پر مختلف دوکاندار بیمار اور لاغر مرغیوں کا گوشت سستے داموں فروخت کر رہے ہیں جو کہ مختلف بیماریوں کا سبب بن رہا ہے جس پر ٹاﺅن میونسپل آفیسرچوہدری شفیق کو آگاہ کیا گیا تو انھوں نے فوراً ٹاﺅن آفیسر ریگولیشن ملک مظفر اعوان کو مرغیوں کامضر صحت گوشت فروخت کرنے والے دوکانداران کے خلاف سخت ایکشن کر نے کی ہدائت کی جس پر ملک مظفر اعوان اور ضلعی حکومت کے فوڈ انسپکٹر طارق قریشی اور دیگر عملہ کے ہمراہ سنگھ پورہ پر قائم مرغیوں کے گوشت کی دوکانوں پر پہنچے تو دوکانداران اس وقت بیمار اور لاغر مرغیاں ذبح کرنے کے بعد ایک گندے پلاسٹک کے ڈرم میں پھینک رہے تھے جبکہ پہلے سے ہی ذبح شدہ بیمار مرغیوں کا گوشت مختلف گندے برتنوں میں چھپا رکھا تھا اور کھلی سڑک پر پھٹے لگا کر ان پر بھی گوشت کھلا رکھ کر فروخت کر رہے تھے جبکہ گوشت پر سیکڑوں مکھیاں بیٹھی تھیں اور گرد و غبار بھی پڑ رہا تھا جس پ انتظامیہ نے چھاپہ مار کر دوکانداروں کا سامان ضبط کر لیا اور ان چالان کر دئیے علاوہ ازیں خبریں ٹیم کے ہمراہ ٹاﺅن انتظامیہ نے شمالی لاہور کے مختلف علاقوں ہربنس پورہ، محمود بوٹی، مغل پورہ ، لال پل، ویٹ مین روڈ ، رام گڑھ اور دیگر جگہوں پر چھاپے مار کر متعدد دوکانداروں کو مرغیوں کے گوشت کی فروخت کے سلسلہ میں صفائی اور حفظان صحت کے اصولوں کی پابندی کی تنبیہ کی ۔
ٹاﺅن میونسپل آفیسر شالامار ٹاﺅن چوہدری شفیق احمد نے بتایاکہ ٹاﺅن میں ناجائز تجاوزات کے خلاف آپریشن مسلسل جاری ہے جبکہ میٹ اور بیف کو بھی مسلسل چیک کیا جا رہا ہے اور اس سلسلسلہ میں کئی قصابوں کے خلاف پرچے بھی درج کروائے جا چکے ہیں ۔انھوں نے کہا کہ مرغیوں اور انکے گوشت کو چیک کرنے کے حوالے سے کئی قباحتیں درپیش ہیں کیونکہ مرغیوں کی صحت کے حوالے سے لائیو سٹاک آفیسروں کے نمائیندوں کو چیک کرنا چائیے کہ مرغیوں کو کوئی بیماری ہے یا وہ مارکیٹ میں تندرست آ رہی ہیں۔ البتہ انھوں نے کہا کہ مرغی کے گوشت کی قیمتوں اور صفائی کے حوالے سے اگر کچھ شکایات ہوں تو پھر ہم دوکانداران کے خلاف کرتے ہیں۔
شالامار ٹاﺅن میں تعینات وٹرنری ڈاکٹر شکیل انجم نے موقع پر جاکر مضر صحت مرغیوں کا گوشت فروخت کرنے والے دوکانداروں کے خلاف کاروائی کے مطالبہ پر معذوری ظاہر کر دی اور کہا کہ میں مٹن اور بیف ہی زیادہ تر چیک کرتا ہوں میں چکن بھی چیک کرسکتا ہوں لیکن میرے پاس ابھی وقت نہیں ہے اس موقع پر انکشاف ہوا کہ ٹاﺅنوں مین تعینات ڈاکٹرزہفتے میں تین چھٹیاں کرتے ہیں منگل اور بدھ کے روز گوشتک کا ناغہ ہونے کے باعث وہ دفتروںمیں نہیں آتے اور اس دوران شہر بھر میںبیمار مرغی اور مچھلی کے مضر صحت گوشت کی فروخت جاری کرتی ہے
معلومات کے مطابق پاکستان میں گذشتہ دنوں مرغیوں میں پھیلنے والی وبا برڈ فلو کی وجہ سے مرغیوں کی صنعت انحطاط کا شکار ہوئی ہے۔ بیماری کے ابتدائی دنوں میں صرف کراچی میں 40لاکھ سے زائد مرغیاں مر گئی تھیں۔ اس بیماری کا وائرس H7اورH9مرغیوں کے لئے ایک جان لیوا مرض ہے اگرچہ یہ وائرس انسانی زندگی کے لئے مضر نہیں ہے۔1963 سے قبل پاکستان میں دیسی مرغیاں ہی پائی جاتی تھیں اور اس سے پہلے ولائتی مرغی کا کوئی تصور نہیں تھا۔1963 میں پہلی مرتبہ ولائتی مرغی متعارف ہوئی۔جب ملک میں گوشت اور انڈے کی کمی محسوس ہوئی تو پہلی مرتبہ پاکستان ائر لائن (پی آئی اے)نے کینیڈا کے ادارے شیور پولڑی فارم کے تعاون سے کراچی میں پہلی ہیچری قائم کی اور اسی سال رحیم یار خان میں لیور برادرز نے پولڑی فیڈ کا پہلا کارخانہ نصب کیا۔جبکہ1965-66میں یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد کے ڈیپارٹمنٹ آف پولڑی اینڈ ہسبنڈری نے لائلپور سلور بلیک کے نام سے پہلی ولائتی مرغی کی قسم متعارف کرائی تھی۔ دیسی مرغی ایک سال میں 73کے قریب انڈے دیتی ہے جبکہ ولائتی مرغی150سے زائد انڈے دیتی ہے۔پولڑی کی صنعت کی ترقی کے لئے حکومت پاکستان نے1965 سے 1975تک وقتاً فوقتاً مختلف پالیسیوں کا اعلان کیا اور اس صنعت کو متعدد رعائتیں دیں۔ حکومت کی طرف سے کئے گئے اقدامات میں سے چند درج ذیل ہیں۔پولڑی فارم سے ہونی والی آمدن پر ٹیکس کی چھوٹ،انکوبیٹرز اور فلاک کی فری لسٹ کے تحت درآمد کی اجازت،پولڑی فارموں کی تعمیر کے لئے سرکاری جگہوں کی لیز پر فراہمی اور قرضہ کی سہولت،کراچی اور راولپنڈی میں اقوام متحدہ کے ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن کے تعاون سے پولڑی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا قیام خصوصاً مرغیوں کی بیماریوں پر کنٹرول کے حوالے سے ریسرچ،مرغیوں کے گوشت کی کھپت کے لئے منگل اور بدھ کو گوشت کا ناغہ۔دیگر معلومات کے مطابق مرغیوں میں 20 سے زائد بیماریاں پائی جاتی ہیں جن میں سے متعدد بیماریاں مرغیوں کے لئے جان لیوا ہیں جبکہ کئی امراض قابل علاج ہیں۔ان بیماریوں کی وجہ سے ہر سال لاکھوں کی تعداد میں مرغیاں مر جاتی ہیں جبکہ بعض بدیانت اور ناجائز منافع خور ان بیمار اور مردہ مرغیوں کو کم قیمت پرمارکیٹ میں فروخت کے لئے بھیج دیتے ہیں جہاں پر کم قیمت ہونے کی وجہ سے غریب اور متوسط طبقہ کے لوگ اور ہوٹلوں والے خرید لیتے ہیں جن کے کھانے سے شہری متعدد بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔لاہور متعد علاقوں کے علاوہ سنگھ پورہ باغبانپورہ کی مرغی مارکیٹ میں سب سے زیادہ فروخت ہوتا ہے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s