پاک بھارت تعلقات


منصور مہدی 

لاہور کے سرحدی علاقے واہگہ میں زمینوں کی قیمتوں میں اضافے اور اہم اداروں اور شخصیات کی طرف سے زمینیں خریدنے کے بڑھتے ہوئے رجحان سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جلد ہی دوستی اور بھائی چارے کی فضا پیدا ہونے والی ہے کہ جس کی وجہ سے سرحدوں پر آمد رفت بڑھ جائے گی اور مختلف کاروبار شروع ہو جائیں گے۔کیونکہ متعد سرکاری محکموں نے بھی بارڈر کے ساتھ پلاٹ خریدنے کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے ۔کچھ عرصہ پہلے تک ہزاروں میں ملنے والی زمین لاکھوں میں پہنچ گئی اور لاکھوں والی کروڑوں تک جا پہنچی تو اس کا مطلب ہے کہ دال میں ضرور کچھ کالا ہے ۔جبکہ ابھی پاکستان اور بھارت میں بہت سے تنازعات تصفیہ طلب پڑے ہیں۔اگر چہ ان مسائل پر دونوں قوموں کے درمیان کئی بار مذاکرات بھی ہو چکے ہیں مگر کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا ۔جون 1997 میں پاکستان اور بھارت کے اعلیٰ حکام نے اتفاق رائے سے جن آٹھ اہم مسائل کی نشاندہی کی تھی اور جن کو مشترکہ طور پر حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا اگر یہ مسائل حل ہو جائیں توپاک بھارت میں تعلقات ہمسائے جیسے ہو جائے گے ایک ایسا ہمسایہ جو دوسرے کو اپنے جیسا ہی سمجھتا ہو۔اگرچہ چھوٹے بڑے دیگر مسائل بھی ہیں مگر سب سے زیادہ اہمیت کے حامل اور حساس مسائل یہی آٹھ ہیں۔ پاکستان کا موقف یہ ہے کہ کشمیر سمیت تمام مسائل پر ایک ساتھ بات ہونی چاہیے۔ لیکن پاکستان کہتا ہے کہ دیگر تمام مسائل کی بنیاد کشمیر کا تنازعہ ہے اس لئے اس معاملے پر پہلے بات ہونی چاہئے کیونکہ اگر مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کرلیا جائے تو دیگر مسائل کا حل تلاش کرنے میں دیر نہیں لگے گی۔جبکہ بھارت کا کہنا ہے کہ کشمیر کے علاوہ دیگر مسائل پر بھی گفتگو ساتھ ساتھ ہونی چاہے اور دیگرامور پر پیش رفت کو کشمیر میں کشیدگی کی وجہ سے نہیں روکا جاسکتا۔سب سے اہم تنازعہ جو پاکستان اور بھارت کے درمیان ہے وہ کشمیر کا تنازعہ ہے۔تقسیم ہندکے معاہدے کے مطابق ہندوستان کے مسلم اکثریت والے علاقے پاکستان اور ہندواکثریت والے علاقے بھارت میںشامل ہو نگے جبکہ ملحقہ ریاستوں کو اختیار دیا گیا کہ وہ پاکستان یا بھارت کسی کے ساتھ مل جائیں چنانچہ کئی ایک ریاستیں پاکستان میں شامل ہو گئیں اور متعدد بھارت کا حصہ بن گئیں۔مگر بعض ایسی ریاستوں کیلئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا کہ وہ بھارت میں شامل ہوں یا پاکستان میں کہ جہاں پر عوام کی اکثریت مسلم اور حکمرانی غیر مسلموں کے پاس تھی یا وہ کہ جہاں پراکثریت یا اثر و رسوخ غیر مسلموں کے پاس تھا ایسی ہی ریاستوں میں ایک کشمیر بھی شامل ہے کہ جہاں پر مسلم اکثریت پاکستان میں اور وہاں کے سکھ حکمران بھارت میں شامل ہونا چاہتے تھے مگر تقسیم ہند کا قانون آڑے آیا کیونکہ مسلم اکثریت والے علاقے پاکستان میں شمار ہو نگے چاہئے وہ مشرقی ہندوستان میں واقع ہوں یا ایک ہزار میل دور مغربی ہندوستان میں ہوں کی شق کی مطابق مسلم اکثریت والا علاقہ کشمیر پاکستان کا حصہ بننا چاہیے تھا مگر حکمران تقسیم ہند کے قانون کی دوسری شق کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت سے الحاق کرنا چاہتے تھے جس پر مسلم اکثریت اور وہاں کے حکمرانوں کے درمیان ایک چپقلش کا آغاز ہوا ۔ عوام کا پاکستان میں شمولیت اختیار کرنے کا مطالبہ زور پکڑتا گیا مگر حکمران خاندان نے بھارت سے الحاق کرنے کا اعلان کر دیا۔اگر اسی وقت برطانیہ کشمیر جیسی ریاستوں کی تقسیم کا بھی طریقہ کار مقرر کر دیتا توکشمیر کا تنازعہ نہ پیدا ہوتا۔بھارت میں شمولیت کے ساتھ ہی کشمیر ی عوام اس فیصلے کے خلاف ہو گئے اور جلسے جلوس اور احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا جو آج تک جاری ہے بھارت کا اصرار ہے کہ ریاست کشمیر ہمارا حصہ ہے اور پاکستان کا اصرار ہے کہ کشمیر ہمارا حصہ ہے اس پر اب تک تین جنگیں ہو چکی ہیں ۔جبکہ وہاں کی عوام کی جدوجہد علیحدہ سے جاری ہے۔1948کے آغاز میں ہی یہ مسئلہ عالمی برادری کی نظر میں آچکا تھا چنانچہ اس وقت کے بھارت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے کشمیری عوام کی رائے جاننے کے لیے اقوام متحدہ میں کشمیر میں ریفرینڈم کرانے کا وعدہ کر لیا یعنی کہ اگر عوام کی اکثریت پاکستان میں شامل ہونا چاہے گی تو کشمیر پاکستان کا حصہ اور اگر عوام کی اکثریت نے بھارت میں شامل ہونے کیلئے ووٹ ڈالا تو کشمیر بھارت کا حصہ ہو گا ۔بھارت کے اس جمہوری طریقہ کار کے مطابق اور اخلاقی طور سے مناسب فیصلے کو ساری عالمی برادری نے سراہا مگر دوسری طرف بھارت نے ریفرینڈم کرانے کی بجائے کشمیر کو آئینی طور پر اپنا حصہ قرار دے دیا ۔اس کے بعد دونوں ریاستیں ایک دوسرے کی جانی دشمن بن گئی ۔جس کی وجہ سے دیگرتصفیہ طلب مسائل بھی پیدا ہوتے چلے گئے ۔مفاد پرست طاقتیں بھارت اور پاکستان میں مفاہمت کرانے کی بجائے مزید ہوا دیتی رہیں۔ چنانچہ اب تک پاکستان کہتا ہے کہ کشمیری عوام ہندوستان کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے جبکہ ہندوستان کا کہنا ہے کہ 1987 تک کشمیری ہندوستان کے آئین کے مطابق اس کے زیرانتظام علاقے میں ہونیوالے عام انتخابات میں حصہ لیتے رہے ہیں اور اب کشمیر بھارت کا حصہ ہے۔ 1987میں بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں ہونیوالے انتخابات میںاس وقت کی بھارتی حکومت کے ایما پر کافی بدعنوانیاں ہوئی جس کو ناانصافی سمجھتے ہوئے کشمیر کے عوام نے بھارت کے خلاف اپنے حق کے حصول کی خاطرجاری جنگ آزادی کو تیز کر دیاجس کو ہمیشہ کی طرح قابض حکمرانوں کی طرح حریت پسندوں کی آزادی کی جدوجہد کو بغاوت قرار دے دیا جیسا ہندوستان میں انگریز حکمرانوں سے آزادی کی جنگ لڑنے والے حریت پسندوں کو باغی بنایا تھا۔ اس بارے میں بھارت کا کہنا ہے کہ یہ شدت پسندی پاکستان کی شہ پر ہے جبکہ پاکستان کا کہنا ہے وہ کشمیریوں کی صرف سیاسی، اخلاقی اور سفارتی سطح پر حمایت کرتا ہے۔دوسرا مسئلہ پاکستان اور بھارت میںجونا گڑھ کا تنازعہ بھی موجود رہا ہے کہ جہاں کی سمندری حدود پر متعدد بار گفتگو ہو چکی ہے جبکہ تیسرے نمبر پر انتہائی اہمیت کے علاقے سر کریک کا مسئلہ بھی موجود ہے۔ہندوستانی ریاست گجرات اور پاکستانی صوبے سندھ کے علاقے میں ہندوستان اور پاکستان کے مابین بین الاقوامی سرحد کے تعین پر بھی اتفاق ہونا باقی ہے۔ یہ بھی 1947سے پینڈنگ چلا آرہا ہے ۔یہ علاقہ سر کریک کا علاقہ کہلاتاہے۔ ساٹھ سے سو کلومیٹر کے اس علاقے میں بہت سی کریک یعنی خلیج اور دریاو¿ں کے دہانے ہیں۔ اس علاقے کا تنازعہ 1960 کی دہائی میں سامنے آیا تھاجس پر 1968میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک ویسٹرن باو¿نڈری ٹرائیبیونل ایوارڈ قائم کیا گیا لیکن یہ طے نہیں ہوسکا کہ سر کریک کے علاقے میں بین الاقوامی سرحد کا تعین کس قانونی بنیاد پر کیا جائے۔ اس علاقے کا کچھ حصہ آبی ہے اور کچھ حصہ خشک۔ پاکستان اور بھارت کے مابین کئی دفعہ اس مسئلہ پر مذاکرات ہوچکے ہیں لیکن اس پر بھی کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا ہے۔بھارت کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں سرحد کے تعین کے لئے بین الاقوامی قانون کا وہ اصول استعمال کیا جائے جو سمندر کے اندر سرحد کے تعین کے لئے بنایا گیا ہے۔ جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ اصول صرف پانی والے علاقے پر عائد ہوتا ہے لیکن یہاں پانی اور خشکی دونوں موجود ہیں لہذا بھارت کی استدلال غلط ہے۔ دونوں ممالک کی اس علاقے میں دلچسپی یہاں پر ماہی گیری کی وسیع صنعت اور تیل کے وافر ذخائر ہے۔دونوں ملکوں کے درمیان اختلاف اس بات پر ہے کہ آخر سرحد کس جگہ ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ سرکریک کا پورا علاقہ اسکا اپنا ہے۔ لیکن ہندوستان اسے تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے۔ سرکریک کے علاقے میں سرحدی برجیاں لگانے کے لیے دونوں ممالک نے گزشتہ برس ایک مشترکہ سروے بھی کیا تھا جس کو مقررہ وقت سے پہلے ہی مکمل کر لیا گیا تھا مگر پھر بھی کوئی بات نہیں بنی۔چوتھا اہم مسئلہ وولر پروجیکٹ کا ہے جو بھارت دریائے جہلم پر کشمیر میں وولر پروجیکٹ کے نام سے ایک ڈیم بنا رہا ہے جس کی پاکستان شروع سے ہی مخالفت کرتا رہا ہے۔ بھارت کا یہ کہنا ہے کہ یہ پروجیکٹ پانی سے بجلی پیدا کرنے کے لئے تعمیر کررہا ہے اور اس کا پانی دیگر ذرائع کیلئے بھی استعمال کرنا چاہتا ہے۔ جبکہ پاکستان کو خدشہ ہے کہ گرمی کے موسم میں دریائے جہلم میں پانی کی کمی واقع ہوسکتی ہے۔جس کی وجہ سے اس کے ہاںپانی کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں کیونکہ پاکستان کو پہلے ہی پانی کی کمی کا سامنا ہےاور بہت سی مشکلات ہیں جبکہ اندرون ملک بھی پانی کے ذخائر بنانے پر اختلاف موجود ہیں۔ دریائے جہلم بھارت کے زیرانتظام کشمیر سے شروع ہوکر پاکستان میں ختم ہوتا ہے۔جبکہ بھارت وولر پراجیکٹ کی طرح ایک دوسرا پروجیکٹ دریائے چناب پر تعمیر کرنا چاہتا ہے۔ جسکو پانچواں مسئلہ کہا جا سکتا ہے ۔یہ دریا بھی ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر سے شروع ہوتا ہے اور پاکستان کے دریائے سندھ میں شامل ہوکر سمندر میں گرتا ہے۔ پاکستان کو خدشہ ہے کہ اس دریا پر ہندوستانی پروجیکٹ کی وجہ سے پاکستان میں پانی کی کمی ہوسکتی ہے۔ اسے سلال ڈیم کا نام بھی دیا گیا ہے۔ ان دونوں منصوبوں پر دونوں ملکوں کا اتفاق ہونا باقی ہے۔ پاکستان کو یہ بھی خطرہ ہے کہ ہندوستان ان منصوبوں کو مستقبل میں سفارتی سطح پر برتری حاصل کرنے کے لئے استعمال کرسکتا ہے۔پانی کے حوالے پاک بھارت میں مسائل بہت اہمیت کے حامل ہیں اگرچہ ان کی اہمیت بھارت کی نزدیک زیادہ نہ ہو مگر پاکستان کیلئے زندگی موت کا مسلئہ ہے کیونکہ پاکستان کو جن دریاﺅں سے پانی ملتا ہے ان میں سے اکثریت بھارت کی زیر انتظام کشمیر سے نکلتی ہے اور اگر بھارت ان پر ڈیم بنا لے جیسا کہ ستلج اور راوی پر بنائے ہوئے ہیں اور پاکستان ان دریاﺅں کے پانی سے محروم ہے تو دیگر دریاﺅں کے پانی سے بھی محروم ہونے کا خدشہ ہے جبکہ بھارت کے پاس دیگر دریا بھی ہیں۔چھٹا مسئلہ تجارتی تعلقات کا ہے۔ اب پاکستان اور بھارت ڈبلیو ٹی او کے ممبر ہیں جو ایک آزاد تجارتی معاہدہ ہے ۔عالمی تجارتی تنظیم یعنی ڈبلیو ٹی او کے قوانین کے تحت وقت کے ساتھ ساتھ اس تنظیم میں شامل تمام رکن ممالک کے لیے لازمی ہے کہ دنیا میں آزاد تجارت قائم کرنے کے لئے ایک دوسرے کو ایم ایف این یعنی خصوصی مراعات یافتہ قوم کا درجہ دیں۔ ایم ایف این کا درجہ جس ملک کو دیا جاتا ہے وہاں سے اشیاءکی درآمد اور برآمد میں تاجروں کے لئے آسان ہوجاتی ہے۔چنانچہ اس بارے میں بات چیت تو جاری رہتی ہے مگر ابھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی۔ایک ساتواں دیگر مسئلہ جو ابھی چند سال سے ہی پیدا ہوا ہے وہ ہے گیس پائپ لائن منصوبہ ۔پاکستان اور ایران نے 1995 میں ایک معاہدے پر دستخط کئے تھے جس کے تحت ایران سے کراچی تک ایک گیس پائپ لائن بچھانے کا فیصلہ کیا گیا تھا تا کہ پاکستان کو ایران کی قدرتی گیس ترسیل کی جاسکے۔ بعد میں ایران نے یہ مشورہ دیا کہ اس گیس پائپ لائن کو بھارت تک لے جایا جائے تاکہ ایران سے بھارت کو بھی گیس فراہم کی جاسکے۔ پاکستان اور بھارت اصولی طور پر اس گیس پائپ لائن کے منصوبے پر متفق ہیں لیکن دیگر مسائل کی طرح سیاسی کشیدگی کی وجہ سے اب تک اس معاملے پر بھی معاہدہ نہیں ہوسکا۔ چونکہ یہ گیس پائپ لائن پاکستان سے گذرے گی اس لئے بھارت کو عدم تحفظ کا خطرہ لاحق رہے گا۔ ایک اندازے کے مطابق یہ گیس پائپ لائن بچھالی جائے تو پاکستان کو اپنی سرزمین سے گیس کی ترسیل کے لئے تقریبا 70 کروڑ ڈالر کا سالانہ محصول ملے گا۔ آٹھویں نمبر پرپاکستان کا بھارت کے درمیان ایک اور تنازعہ چل رہا ہے وہ سیاچین کا مسئلہ ہے۔یہ مسئلہ تنازعات کی فہرست میں 1984 میں شامل ہوا جب ہندوستان نے اپنی افواج کو ہمالیہ کی ان چوٹیوں پر یہ کہتے ہوئے بھیج دیا کہ پاکستان ان پر قبضہ کرنے والا ہے حالانکہ ایسا نہیں تھا ۔ 1947کے بعد سے اس علاقے میں کسی کی بھی کوئی فوج نہیں تھی کیونکہ یہ علاقہ انتہائی بلند ہونے کی وجہ سے ٹھنڈا علاقہ ہے کہ جہاں پر منفی سے بہت نیچے درجہ حرارت رہتا ہے اور عام حالات میں وہاں پر آبادی کرنا انسانی جسم کیلئے ممکن نہیں۔اس پر بھی دونوں ممالک میں جنگ ہو چکی ہے جو دنیا بھرمیں انتہائی بلندی پر لڑی جانے والی ایک مہنگی جنگ تھی کہ جہاں دونوں ملک اپنی افواج کو وہاں رکھنے کے لئے کروڑوں روپے روزانہ صرف کرتے ہیں۔ دونوں ملکوں کے مابین اس پر کئی بار مذاکرات ہوئے کہ اس علاقے سے اپنی اپنی افواج واپس بلا لی جائے۔مگر یہ ممالک کسی فیصلے تک نہ پہنچ سکے۔سیاچین گلیشیر اور سرکریک کے متنازعہ معاملات پر بات چیت کے لیے بھارت کا وفد پچیس مئی کی شب پاکستان پہنچا تھا۔مگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچ سکی۔سیاچن گلیشیئر سے فوجیں ہٹانے کے معاملے پر بھارت اور پاکستان کے درمیان دہلی میں دوروزہ بات چیت بھی بے نتیجہ ختم ہوگئی ہے۔ بھارت کا کہنا ہے کہ سیاچن مسئلے پر بات چیت میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔بھارت کے وزیر دفاع پرنب مکھرجی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’بات چیت میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے اور ہم نے آئندہ بھی بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے‘۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چونکہ اس بار کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہے اس لیئے یہ کہنا مشکل ہوگا کہ آئندہ کی بات چیت کس نوعیت کی ہوگی۔ بھارت کا موقف ہے کہ سیاچن گلیشیئر پر فی الوقت جہاں فوج موجود ہے اگر اس پوزیشن کو تسلیم کرلیا جائے تو فوجیں ہٹائی جا سکتی ہیں۔ لیکن پاکستان صرف 1984 سے قبل کی صورتحال ماننے کو تیار ہے جب سیاچن گلیشیئرز بھارتی فوج سے پوری طرح خالی تھیں۔بھارت کے سابق ایڈمرل رام داس کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت میں امن کی تحریک کو اس وقت کئی چیلنج درپیش ہیں۔ ان میں دونوں ملکوں میں شدید غربت، مذہبی بنیاد پرستی، ملٹری کارپوریٹ کلچر، نیوکلیئر ، طرز فکر اور تعصبات اور بیرون ممالک خاص طور پر امریکہ کا اثر و نفوذ شامل ہیں۔ رام داس نے تجویز دی کہ امن کے عمل میں نوجوانوں کو شامل کیا جائے اور اس تحریک کا جائزہ لینے کے لیے سال میں ایک مرتبہ دونوں طرف کے لوگ مل بیٹھیں۔جبکہ بھارت کے وزیراعظم منموہن سنگھ سنگھ کا بھی کہنا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ دنیا کے سب سے بلند محاذ جنگ، سیاچن گلیشئر کو ’امن کی پہاڑیوں‘ میں تبدیل کر دیا جائے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ من موہن سنگھ کا یہ بھی زور دیکر کہنا ہے کہ امن کے لیے سرحدوں کی از سرنوحدبندی نہیں کی جائیگی۔منموہن سنگھ بھارت کے پہلے وزیراعظم ہیں جنہوں نے سیاچن کا دورہ کیا ہے۔وہاں پر تعینات ہندوستانی فوجوں کو خطاب کرتے ہوئے مسٹر سنگھ نے کہا ’سیاچن کو دنیا کا سب سے اونچا محاذ جنگ کہا جاتا ہے جہاں زندگی گزارنا بڑا مشکل ہے۔ اب وقت آپہونچا ہے کہ اس محاذ جنگ کو پر امن پاڑیوں میں تبدیل کردیا جائے۔اب جبکہ پاکستان اور بھارت تین جنگوں کی دشمنی رکھتے ہیں اور اسی دشمنی کی کیفیت نے انھیں ایٹمی قوتیں بھی بنا دیا ہے لہذا نہ تو پاکستان کی قیادت اور عوام اتنے بےوقوف ہیں اور نہ ہی بھارت کے عوام اور قیادت اتنی بے وقوف ہیں کہ وہ ایک دوسرے ملک پر ایٹم بموں سے حملہ کر کے اسے صفحہ ہستی سے مٹا دیں کیونکہ ایسی صورت میں دونوں کی ہی تباہی ہے تو پھر اب وہ وقت اب آ جانا چاہیے کہ جب دونوں قومیں اور حکومتیں غیروں کی باتوں میں آئے بغیر اپنے تما م ترمسائل افہام و تفہیم سے طے کر لیں کیونکہ اس خطے میں ان کی ہی نسلیں آباد رہے گی۔کہتے ہیں کہ حکمرانوں کے وقت پر کیے ہوئے درست فیصلے قوموں کو عروج پر پہنچا دیتے ہیں جبکہ بعض اوقات ذرا سے غلطیاں قوموں کیلئے صدیوں کی سزائیں بن جاتی ہیں۔آج دنیا ایک گلوبل ویلیج کی حیثیت اختیار کر چکی ہے تو پاکستان اور بھارت بھی ایسا ہی کر سکتے ہیں۔جب یہ سب مسائل حل ہو جائیں گے تو واہگہ واقعی ایک بڑی مارکیٹ بن جائے گا اور یہاں راتیں بھی جاگا کرے گی۔

پاک بھارت تعلقات” پر ایک خیال

  1. پنگ بیک: My Stories » Blog Archive »

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s