میں ہوںپاکستان


منصور مہدی

میرا نام پاکستان ہے ۔یہ نام 1933میں ہی رکھ دیا گیا تھا اگرچہ میری پیدائش 14اگست1947کو ہوئی ۔ لیکن اب آئین1973کے مطابق مجھے اسلامی جمہوریہ پاکستان کہا جاتا ہے۔ میں جنوبی ایشیاءکا ایک اہم ملک ہوں ۔ میرے مشرق میں بھارت، شمال میں چین ، مغرب میں افغانستان اور ایران اور جنوب میں بحیرہ عرب واقع ہے۔
1947 سے پہلے بھارت ، بنگلہ دیش اور میں برطانوی کالونی کا حصہ تھے اور برصغیر کے نام سے جانے جاتے تھے۔ برصغیر کی آزادی کی تحریک کے دوران یہاں کے مسلمانوں نے اپنے لیے ایک علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا۔ اس تحریک کی قیادت محمد علی جناح نے کی۔ تقسیم برصغیر پاک و ہند میں انگریزوں نے کچھ ایسے سقم چھوڑے جو میرے اور بھارت کے درمیان دشمنی کا سبب بن گئے حالانکہ اس سے پہلے یہاں کی سب قومیں مل جل کر رہ رہی تھیں۔چنانچہ یہ دشمنی اتنی بڑھی کہ ہمارے درمیاں جنگیں بھی ہوئیں اورہم نے ایک دوسرے کے علاقوں اور وسائل پر قبضے بھی کیے۔ اب ہم 64برس کے ہو گئے ہیں مگر ہماری لڑائیاں ابھی بھی جاری ہیں۔
ابھی میری عمر 13ماہ بھی نہیں ہوئی تھی کہ مجھے دنیا کے نقشے پر لانے والا چل بسا اور میں لاوارث ہو گیا۔ جس کے بعد مجھے مصیبتوں نے گھیر لیااور آج تک میں ان سے چھٹکارا حاصل نہیں کر پایا جبکہ ان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ غیروں نے تو لوٹا مگر اپنوں نے بھی کوئی کسر نہ چھوڑی۔
حالانکہ میں کمزور نہیں ہوں جب میں خود پر غور اور اپنے وجود پر نظر ڈالتا ہوں تو میرا رقبہ 796,095مربع کلو میٹر ہے ۔ رقبے کے لحاظ سے میں دنیا کا 36واں بڑا ملک ہوں۔ 770,875 مربع کلومیٹر خشکی اور 25,220 مربع کلومیٹر پانی ہے۔ دارلخلافہ اسلام آباد ہے مگر بڑا شہر کراچی ہے۔ لاہور ، کوئٹہ، پشاور ، کراچی اور گلگت میرے پانچ صوبوں کے دارالحکومت ہیں۔ جن کے نام پنجاب، سندھ ، خیبر پختون خواہ ، بلوچستان اور گلگت بلتستان ہیں۔ میرے ایک علاقے کا نام فاٹا بھی ہے مگر وہاں میری عملداری ختم ہو جاتی ہے۔
میری سرحدوں کی کل لمبائی 6774کلو میٹر ہے جن میں سے 2430کلومیٹر افغانستان سے، 523کلو میٹر چین سے، 2912کلو میٹر بھارت سے اور909کلو میٹر ایران سے ملتی ہیں جبکہ اس کے علاوہ 1046کلو میٹر سمندرکے ساتھ رہتا ہوں۔
میرا مزاج اگرچہ گرم ہے مگر شمال کے بعض علاقوںمیں گرمی کے موسم میں بھی برف باری ہو جاتی ہے۔ صحرا کے علاوہ ہموار ، نیم ہموار علاقے اور پہاڑی علاقے بھی ہیں۔ جن کا شمار دنیا کے بلند ترین مقامات میں ہوتا ہے۔ میرا ایک پہاڑسطح سمندر سے 8,611 میٹر بلند ہے جس کا نام کے ٹو ہے۔
مجھے قدرت نے متعدوسائل بھی عطا کیے ہیں اگرچہ میں ان سے کلی طور پر افادہ حاصل نہیں کرتا۔ میں کل رقبے میں سے صرف 198,700 مربع کلومیڑ پر کاشت کرتا ہوں۔ قدرتی گیس، تیل، کوئلہ، لوہا، تانبہ،نمک اور لائم سٹون کے علاوہ دیگر معدنیات کا بھی خزانہ موجود ہے۔ مگر ان میں سے بیشتر ضائع ہو چکا ہے ۔ صرف 233.8 کیوسک کلو میٹر پانی کے ذخائر ہیں۔
میری آبادی 18کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ 1998کی مردم شماری کے مطابق مجھ میں 132352279 لوگ آباد تھے۔ ان میں لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے۔ میں آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہوںجبکہ زیادہ بچے پیدا کرنے میں62ویں نمبر پر ہوں۔میری آبادی میں 96 فیصد مسلمان ہیں جن میں سے تقریباً 24 فیصد اہل تشیع 72 فیصد اہل سنت اور4 فیصد دیگر مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں۔جن میںہندو اور عیسائی کے علاوہ کراچی میں پارسی، پنجاب و خیبر پختون خواہ میں سکھ اور شمالی علاقوں میں قبائلی مذاہب کے پیرو کار بھی موجود ہیں۔
میری آبادی کے 37فیصد افراد شہروں جبکہ 63فیصددیہاتوں میں رہتے ہیں۔جبکہ3.1فیصد سالانہ سے سے میری آبادی شہروں میں منتقل ہو رہی ہے۔ مجموعی طور پر ہر مربع کلومیٹر میں185افراد رہتے ہیں۔ 14سال کی عمر تک کے 35.4فیصد ، 15سے64سال تک کے60.4 فیصد اور65سال سے بڑی عمر کے4.2فیصد لوگ ہیں۔
میری قومی زبان اردو ہے۔ لیکن زیادہ تر دفتری کام انگریزی میں کیے جاتے ہیں۔ میری آبادی کے خاص لوگ بنیادی طور پر انگریزی کا استعمال کرتے ہیں۔ تمام تر اعلیٰ تعلیم بھی انگریزی میں ہی دی جاتی ہے۔ اردو کے علاوہ میرے یہاں اور زبانیں بھی بولی جاتی ہیں، ان میں پنجابی، سرائکی، سندھی، گجراتی، بلوچی، براہوی، پشتو اور ہندکو قابلِ ذکر ہیں۔
پاکستان میں مختلف قوموں سے تعلّق رکھنے والے لوگ آباد ہیں، ان میں زیادہ نمایاں پنجابی، سندھی، پٹھان، بلوچی اور مہاجر ہیں۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان کے درمیان فرق کم ہوتا جا رہا ہے
تعلیم کے معاملے میں مجھے خاصی تشویش ہے کیونکہ صرف49فیصدلوگ پڑھے لکھوں میں شمار ہوتے ہیں۔ مردوں میں63فیصد اور عورتوں میں صرف36فیصد ہی پڑھی لکھی ہیں۔ تعلیم میں ایسی حالت کیوں نہ ہو کیونکہ میں کل آمدن کا صرف2.7فیصد ہی اس پر خرچ کرتا ہوں۔ باقی کا کھا پی جاتا ہوں۔
میری کل آمدن سالانہ464.9بلین ڈالر ہے اوردنیا کے کل227ممالک میں سے28ویں نمبر پر ہوں ۔ جبکہ اس میں ترقی کی شرح4.8فیصد سالانہ ہے۔ اس طرح 2500ڈالر فی کس سالانہ آمدن بنتی ہے۔ اس آمدن میں21.8فیصد حصہ میری زراعت، 23.6فیصد میری صنعت اور54.6فیصد دوسرے شعبوں کا ہے۔
لیبر فورس بھی میرے پاس بہت ہے ۔ 55.77ملین لیبر فورس کے ساتھ میرا شمار دنیامیں 10ویں نمبر پر ہے۔جن میں سے43فیصد زراعت، 20.3فیصد صنعت اور36.6فیصد دیگر شعبوں میں کام کرتی ہے۔ بے روزگاروں کی تعداد بھی بہت ہے۔15فیصد بے روزگاروں کے ساتھدنیا بھر میں 152نمبر پر ہوں۔
اتنے زیادہ وسائل اور اتنی آمدن کے باوجود غریبوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ 24فیصد غربت کی لائن سے نیچے کے افراد ہے۔یعنی جن کی روزانہ آمدن 1.25ڈالر سے کم ہے۔ اس کی وجہ میں یہاں کے حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کو قرار دیتا ہوں۔ جیسا کہ گزشتہ مالی سال میں حکومت کو 25.33بلین ڈالر کی آمدن ہوئی مگر36.24بلین ڈالر خرچ کر ڈالے۔
میری زراعت اور اس سے متعلقہ اشیاءمیں کپاس، گندم، چاول، گنا، پھل، سبزیاں، دودھ، گوشت ، انڈے اور دیگر اشیاءشامل ہیں جبکہ صنعت میں ٹیکسٹائل اور اس سے متعلقہ پیداوار، فوڈ پراسسنگ، ادویات، تعمیراتی سامان، کاغذ اور کاغذ سے متعلقہ اشیائ، کھاد اور دیگر نوعیت کے کارخانے شامل ہیں۔ میری صنعت میں4.9فیصد سالانہ کے حساب سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس حساب سے میں دنیا میں71واں ملک ہوں۔ 59140 بیرل روزانہ تیل کی پیداور کے لحاظ سے دنیا میں59نمبر پر ہوں۔ جبکہ 373000بیرل تیل روزانہ خرچ کر کے دنیا میں35ویں نمبر پر ہوں۔ تیل کی کمی کو پورا کرنے کیلئے 319500 بیرل تیل روزانہ کے حساب سے دوسرے ممالک سے خریدتا ہوں حالانکہ30090بیرل تیل روزانہ کے حساب سے دوسرے ممالک کو فروخت بھی کرتا ہوں۔ لیکن میرے پاس صرف436.2ملین بیرل تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے۔
میں دوسرے ممالک کو صرف 20.29بلین ڈالر سالانہ کی اشیاءبرآمد کرتا ہوں جبکہ32.71بلین ڈالر کی اشیاءخریدتا ہوں۔ میرے پاس غیر ملکی کرنسی اور سونے کے ذخائر 31دسمبر2010کو صرف16.1 بلین ڈالر مالیت کے تھے۔
ذرائع ترسیل میں میں نے خوب ترقی کی ہے۔ 4.058ملین ٹیلی فون کے دنیا بھر میں39نمبراور103ملین موبائل فون کے استعمال کے ساتھ9ویں نمبر پر ہوں۔ جبکہ20.431ملین افراد انٹر نیٹ بھی استعمال کرتے ہیں۔ اس میں میرا دنیا میں20واں نمبر ہے۔
میں148ہوائی اڈوں کے ساتھ دنیا میں37ویں نمبر ہوں۔ جن میں سے101ہوئی اڈوں کی پختہ رن وے ہے جبکہ47ہوائی اڈوں کچی رن وے ہے۔ ان کے علاوہ20ہیلی پورٹس بھی ہیں۔ 10514 کلو میٹر لمبی گیس پائپلائن کے ساتھ 2013کلو میٹر تیل کی پائپ لائن بھی ہے۔ جبکہ صاف تیل کی787کلو میٹر لمبی پائپ لائن بھی ہے۔ 7791کلو میٹر ریلوے لائن کے علاوہ260760 کلومیٹر سڑکیں جن میں سے 180910کلو میٹر ہائی وےز اور79850کلومیٹر ابھی کچی اور ناپختہ ہیں۔ کراچی اور بن قاسم نام کی دو بڑی بندرگاہوں کے علاوہ گوادر میں ایک بڑی بندرگاہ تعمیر ہو رہی ہے جبکہ چھوٹی بندرگاہیں بھی موجود ہیں۔
میری بہت ہی قدیم اور رنگارنگ کی تہذیب ہے۔ میرا موجودہ علاقہ ماضی میں دراوڑ، آریا، ہن، ایرانی، یونانی، عرب، ترک اور منگول لوگوں کی ریاستوں میں شامل رہا ہے۔ ان تمام تہذیبوں نے میری موجودہ تہذیب پر بہت گہرا اثر چھوڑا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ میرے مختلف صوبوں میں لباس، کھانے، زبان اور تمدن کا فرق پایا جاتا ہے۔ اس میں اس علاقوں کی تاریخی علیحدگی کے ساتھ ساتھ موسم اور آب و ہوا کا بھی بہت اثر ہے۔ میرے ہاں مختلف قسم کی موسیقی ملتی ہے۔ کلاسیکی موسیقی، نیم کلاسیکی موسیقی، لوک موسیقی اور اس کے ساتھ ساتھ جدید پاپولر میوزک سب ہی کے بلند پایہ موسیقار موجود ہیں۔میرا شمار دنیا بھر میں قوالی کے مرکز کے طور پر ہوتا ہے۔اب میری تہذیب پر مغرب کی چھاپ لگتی جا رہی ہے ۔یہ امراء اور بڑے شہروں میں زیادہ نمایاں ہے کیونکہ مغربی اشیاء، میڈیا اور تہذیب تک ان کی زیادہ رسائی ہے۔
میرا پسندیدہ کھیل کرکٹ ہے۔ میری کرکٹ ٹیم دنیا کی اچھی ٹیموں میں شمار ہوتی ہے۔ کرکٹ کے ساتھ ساتھ ہاکی بھی بہت شوق سے کھیلی جاتی ہے۔ ہاکی قومی یھیل بھی ہے۔ پولو میرے شمالی علاقہ جات میں کھیلی جاتی ہے۔
میرا جھنڈہ ہلالی پرچم ہے اور نغمہ "پاک سر زمین شاد باد "ہے پرندہ چکور اور جانور مارخور ہے۔ پھول یاسمین اور درخت دیودار ہے پھل آم اور کیلنڈر عیسوی ہے۔ قو می لباس شلوار قمیض، مشروب گنے کا رس،
میرا نظام اگرچہ پارلیمانی ہے مگر یہاں پر صداراتی اور مارشل نظام بھی کافی عرصہ رہا۔ مجھ پر چیف آف آرمی سٹاف کے علاوہ16وزیر اعظموں اور11صدور نے حکومت کی۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s