پاکستان کا ایٹمی پروگرام


منصور مہدی

یوم تکبیر یعنی 28مئی پاکستان کی تاریخ میں وہ دن ہے کہ جب پاکستان نے بلوچستان کے مقام چاغی میں ایٹمی دھماکے کر کے دنیا کے ایٹمی کلب میں شمولیت حاصل کی ۔ اس سے پہلے امریکہ ، چین ، روس ، برطانیہ اور فرانس ایٹمی کلب کے ممبر تھے ۔جبکہ بھارت نے 11مئی1998 کوراجستان کے مقام پوکھران میں 15.47بجے زیر زمین200میٹر گہرائی میں شکتی ون کے نام سے ایٹم بم کے5دھماکے کر کے کلب میں شامل ہواجس کے جواب میں پاکستان نے28مئی 1998کو ضلع چاغی کے سلسلہ راس کوہ میں 1000میٹر گہرائی میں10.16بجے چاغی ون کے نام سے 7ایٹمی دھماکے کئے۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام دراصل1954میں ہی شروع ہو گیا تھا جب پاکستان کے وزیر اعظم محمد علی بوگرہ نے وائٹ ہاوس میں امریکی صدر آیزن ہاور سے ملاقات کی تھی اور پاکستان نے امریکہ کے ایٹم برائے امن (ایٹم فار پیس) کے منصوبہ میں شمولیت کے ساتھ ایٹمی توانائی کے شعبہ میں تحقیق اور ترقی کے لئے ایٹمی توانائی کے کمیشن کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ یہ آغاز تھا پاکستان کے جوہری پروگرام کا اور پاکستان کی طرف سے پیمان تھا کہ وہ جوہری توانائی کو اسلحہ کی تیاری کے لئے استعمال نہیں کرے گا۔ امریکی صدر آیزن ہاور کا ایٹم برائے امن کے منصوبہ کا اصل مقصد امریکہ کے علاوہ دنیا کے دوسرے تمام ملکوں کو جوہری اسلحہ کی صلاحیت سے محروم رکھنا اور ان پر قدغن لگا کر انہیں جوہری اسلحہ کی تیاری سے روکنا تھا۔ بالکل اسی طرح جس طرح آج کل جوہری اسلحہ کے پھیلاو کو روکنے کے لئے معاہدہ سی ٹی بی ٹی کو استعمال کیا جا رہا ہے۔
پاکستان کی طرف سے آیزن ہاور کے اس منصوبہ کو تسلیم کرنے پر پاکستان میں بہت سے لوگوں نے اسے تنقید کا نشانہ بنایاکیونکہ اس میں پاکستان سراسر گھاٹے میں تھا۔اس کے فورا بعد امریکہ اور پاکستان کے درمیان فوجی ، سیاسی اور اقتصادی شعبوں میں ہمہ گیر قربت اور تعاون کا دور شروع ہوا۔ پاکستان امریکہ کے دو فوجی معاہدوں ”سینٹو” اور ”سیٹو” میں شامل ہوا اور امریکہ نے بھاری فوجی اور اقتصادی امداد کے عوض پاکستان کی سرزمین پر فوجی اڈے قائم کئے تھے اور اپنے فوجی مشیر پاکستان بھیجے تھے اور اسی کے ساتھ پاکستان کے پانچ سالہ اقتصادی منصوبہ کی تیاری کے لئے امریکہ نے اپنے ماہر پاکستان کے منصوبہ بندی کمیشن میں تعینات کئے تھے۔ یوں امریکہ نے پاکستان کو مکمل طور پر اپنے حصار میں لے لیا تھا۔اس انداز سے پاکستان پر امریکہ کے اثر کی مکمل گرفت کا نتیجہ یہ رہا کہ اس زمانہ میں پاکستان کی قیادت نے ایک لمحہ کے لئے بھی جوہری اسلحہ کی تیاری کے بارے میں نہیں سوچا۔ عام طور پر اس وقت امریکہ کے دفاعی معاہدے جارحیت کے تدارک کا ذریعہ سمجھے جاتے تھے۔
دوسری طرف 1947سے ہی پاکستان کے معرض وجود مین آنے کے بعد بھارت پاکستان کا دشمن بن گیا اور پاکستان کو ہر قیمت پر ختم کرنے کے درپے ہو گیا۔
1960کے عشرے میںیہ خبریں آنی شروع ہوگئی تھیں کہ ہندوستان بڑی تیزی سے جوہری تجربات کی سمت بڑھ رہا ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان کی قیادت نے جوہری اسلحہ کے میدان میں قدم رکھنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔حالانکہ1963میں ہی ذولفقار علی بھٹونے جو ایوب خان کی کابینہ میں شامل تھے اور ان کی نظریں بھارت کے ایٹمی پروگرام پر بھی تھیں انھوں نے کابینہ میں یہ تجویز پیش کی تھی کہ پاکستان کو جوہری اسلحہ کی تیاری کے لئے پروگرام شروع کرنا چاہئے۔ لیکن صدر ایوب خان اور ان کے امریکہ نواز وزیر خزانہ محمد شعیب اور دوسرے وزیروں نے ان کی یہ تجویز یکسر مسترد کر دی اور واضح فیصلہ کیا کہ پاکستان جوہری اسلحہ کرنے کی صلاحیت حاصل نہیں کرے گا۔
1963 میںہی جب صدر ایوب خان فرانس کے دورے پر گئے تھے تو وہاں پر فرانسیسی صدر چارلس ڈی گال نے پاکستان میں جوہری ری پراسسنگ پلانٹ کی تعمیر کی پیش کش کی لیکن ایوب خان نے یہ پیشکش ٹھکرا دی۔ یہ پیشکش ٹھکرانے کا مشورہ انہیں ان کے چیف آف اسٹاف جنرل یحیی خان ، صدر ایوب کے اعلیٰ سائنسی مشیر ڈاکٹر عبدالسلام اور منصوبہ بندی کمیشن کے نائب سربراہ ایم ایم احمد نے دیا تھا جن کے سروں پر امریکہ کا ہاتھ تھا۔
اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ یہ ذوالفقار علی بھٹو ہی تھے، جو1971 میں بنگلہ دیش کی جنگ کے نتیجہ میں پاکستان کے دو لخت ہونے کے بعد بر سر اقتدار آئے اور پاکستان کو جوہری قوت بنانے کا منصوبہ شروع کیا۔ صدر کے عہدہ پر فائز ہونے کے فوراً بعد بھٹو نے ایران، ترکی، مرکش، الجزائر ، تیونس، لیبیا ، مصر اور شام کا طوفانی دورہ کیا ۔ اس دورہ کے دو اہم مقاصد تھے۔ ایک مقصد مسلم ممالک سے تجدید تعلقات تھا اور دوسرا پاکستان کے جوہری پروگرام کے لئے مسلم ملکوں کی مالی اعانت حاصل کرنا تھا۔ دمشق میں اپنے دورہ کے اس سلسلہ کے اختتام پر انہوں نے شام کے صدر حافظ الاسد سے کہا تھا کہ ان کا یہ دورہ نشاتہ ثانیہ کے سفر کا آغاز تھا اور پاکستان کی مہارت اور مسلم ممالک کی دولت سے عالم اسلام جوہری قوت حاصل کر سکتا ہے۔ اس دورہ کے فورا بعد انہوں نے1973 میں پاکستان کے جوہری اسلحہ کی صلاحیت حاصل کرنے کے پروگرام کا باقاعدہ آغاز کیا اور اس سلسلہ میں انہوں نے جوہری توانائی کمیشن کے سربراہ کو تبدیل کیا اور اعلی سائنسی مشیر ڈاکٹر عبدالسلام کو برطرف کر کے ہالینڈ سے ڈاکٹر عبد القدیر خان کو پاکستان بلا بھیجا۔ اور دوسری طرف پاکستان کے جوہری پروگرام کے لئے انہوں نے فرانسیسی حکومت کو جوہری ری پراسسنگ پلانٹ کی تعمیر کی پرانی پیشکش کی تجدید کے لئے آمادہ کیا۔ بھٹو جوہری پروگرام میں جس تیزی سے آگے بڑھ رہے تھے اسے امریکہ نے قطعی پسند نہیں کیا جبکہ 1974میں لاہور میں اسلامی سربراہ کانفرنس بھی کامیابی سے منعقد ہوئی جس میں اسلامی ممالک نے ذولفقار علی بھٹو کی باتوں سے اتفاق کیا تو ایسے میں امریکہ نے 1976میں اس وقت کے اپنے وزیر خارجہ ہنری کیسنجر کو پاکستان بھیجا جس نے لاہور کے شاہی قلعے میں ایک تقریب کے دوران ذوالفقار علی بھٹو کو کھلم کھلا دھمکی دی کہ اگر بھٹو نے ایٹمی ری پراسسنگ پلانٹ اور ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کے منصوبہ پرکام جاری رکھا تو انھیںعبرت کی مثال بنا دیا جائے گا۔ ذولفقار علی بھٹو نے اس دھمکی کو کوئی اہمیت نہ تھی اور ایٹمی پروگرام کو جاری رکھا کیونکہ ان کے نزدیک ملک اور قوم کی سلامتی زیادہ اہم تھی جو بھارتی ایٹمی پروگرام کی وجہ سے خطرے میں پڑتی جا رہی تھی کیونکہ پاکستان کے دولخت ہونے کے بعد بھارت اور دیگر طاقتیں مغربی پاکستان کو بھی ختم کرنے کے درپے تھیں۔ آخر کارایک سازش کے تحت 1977میں ہی بھٹو کو اقتدار سے معزول کردیا گیا اور1979میں انھیں سولی پر چڑھا دیا گیا۔اس طرح امریکی وزیر خارجہ کی دھمکی پوری ہو گئی مگر بھٹو کے ایٹمی صلاحیت کے حصول کے پروگرام کا لگایا ہوا پودا ان کے خون کی آبیاری سے مزید تناور ہوتا چلا گیا۔اور اس پر تحقیقی کام جاری رہا۔ اور پاکستان کے سائنس دانوں نے کہوٹہ کی تجربہ گاہ میں جہاں پر 1976میں ہی یورینیم کی افزودگی کا کام شروع ہوچکا تھا پہلی بار اس میں 1978میں کامیابی حاصل کر لی اور1982 تک وہ نوے فی صد افزودگی کے قابل ہو گئے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے مطابق پاکستان کے جوہری سائنس دانوں نے 1984 میں ہی جوہری بم تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی تھی اور انہوں نے جنرل ضیاالحق سے کہا تھا کہ وہ کھلم کھلا پاکستان کی طرف سے جوہری بم کی تیاری کے عزم کا اعلان کریں لیکن ان کے امریکی نواز وزیر خارجہ اور دوسرے وزیروں نے سخت مخالفت کی۔ آخر کار11 مئی1998 میں جب ہندوستان نے جوہری تجربات کئے تو پاکستان کے لئے کوئی چارہ کار نہیں رہا کہ وہ بھی جوہری تجربات کرے اور یوں پاکستان بھی جوہری طاقتوں کی صف میں شامل ہوگیا۔
1998 میں پہلے بھارت اور پھر پاکستان کے ایٹمی دھماکے کرنے سے بر صغیر میں اسلحے کی ایک نئی دوڑ شروع ہوگئی۔ لیکن کیونکہ دونوں ہی ملک ایٹمی اسلحے کے پھیلاو¿ اور کنٹرول سے متعلق کسی بین الاقوامی معاہدے کے پابند نہیں ہیں اس لئے ان کی ایٹمی صلاحیت اور ہتھیاروں کی تعداد کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا- دفاعی جریدے ’جینز‘ کے مطابق پاکستان کے پاس قریباً ایک سو پچاس اوربھارت کے پاس دو سو سے ڈھائی سو تک ایٹمی ہتھیار ہو سکتے ہیں جبکہ ایک بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم کے مطابق 1998تک پاکستان 10 سے 30 ایٹمی ہتھیار تیار کر چکا تھا اور بھارت 65 سے 90 تک ایٹمی ہتھیار رکھتا تھا۔ ایک اندازہ یہ بھی ہے کہ زیادہ تر ہتھیار بم کی شکل میں ہیں نا کہ میزائیل کی شکل میں- تاہم بم کے مقابلے میں میزائیل کی واضع افادیت کے پیش نظر دونوں ملک برسوں سے ایسے میزائیل بنانے کی کوشش میں ہیں جو دور مار ہوں اور جنہیں ایٹمی اسلحے سے لیس کیا جا سکے- پاکستان اور بھارت مزید ایٹمی دھماکے نہ کرنے کے وعدے پر تو قائم ہیں لیکن میزائیلوں کے تجربے تواتر سے کرتے آ رہے ہیں۔
بھارت ڈھائی ہزار کلومیٹر تک مار کرنے والے اگنی دوم نامی میزائیل کا کامیاب تجربہ کر چکا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی زد میں نہ صرف پورا پاکستان ہے بلکہ چین کے کچھ علاقے بھی اس کی رینج میں آتے ہیں۔ اگنی سوم ابھی تیاری کے مراحل میں ہے اور اس کی پہنچ ساڑھے تین ہزار کلومیٹر بتائی جاتی ہے جو چین کے دارالحکومت بیجنگ کو نشانہ بنانے کے لئے کافی ہے-
پاکستان اب تک شاہین، غوری ، ابدالی اور غوری دوئم نامی میزائیل بنا چکا ہے جن میں سے ابدالی اور شاہین کی پہنچ ڈھائی ہزار کلومیٹر ہے- غوری سوم پر ابھی کام ہو رہا ہے اور اس کی مار تین ہزار کلومیٹر بتائی جاتی ہے-جبکہ ٹیپو چار ہزار کلو میٹر تک مار کرتا ہے۔لیکن پاک بھارت سرحد جہاں دو ہزار کلومیٹر سے زیادہ طویل ہے وہاں پاکستان کی کم چوڑائی کی وجہ سے بھارت کے لئے یہ ممکن ہے کہ وہ قریب مار میزائیل سے ہی پاکستان کے بیشتر بڑے شہروں کو نشانہ بنا سکے- بھارتی فوج کے زیراستعمال پرتھوی میزائیل ایک سو پچاس کلومیٹر تک مار کر سکتا ہے اور یوں لاہور اور کراچی سمیت کئی اہم شہروں کو نشانہ بنا سکتا ہے-پاکستان کے پاس بھی قریب اور درمیانے فاصلے پر مار کرنے والے کئی میزائیل ہیں جن میں سے حطف سوم چھ سو سے آٹھ سو کلومیٹر مار کرتا ہے جبکہ چینی ساخت کا ایم گیارہ تین سو کلومیٹر سے کچھ کم- یہ دونوں میزائیل پاکستانی فوج کے استعمال میں ہیں اور ان کی مدد سے بھارتی زیر انتظام کشمیر کے علاوہ راجستھان اور پنجاب کی ریاستوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے ۔دونوں ملکوں کے قریب مار میزائیلوں میں بڑا فرق یہ ہے کہ بھارتی پرتھوی مائع ایندھن استعمال کرتا ہے جو نسبتاً فرسودہ تکنیک ہے جبکہ پاکستان کے حطف اور ایم گیارہ جدید طرز کے اور ٹھوس ایندھن استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں مقابلتاً کم وقت میں پرواز کے لئے تیار کیا جا سکتا ہے۔اسلحے کی اس علاقائی دوڑ میں چین بھی ایک اہم کردار ہے- اس کے پاس تین سو سے چھ سو تک جوہری ہتھیار ہیں اور بھارت کی ایٹمی پالیسی کی بنیاد بھی چین کے ساتھ فوجی رقابت پر ہی رکھی گئی تھی-1998 کے دھماکوں کے بعد بین الاقوامی دباو¿ کے باوجود پاکستان اور بھارت دونوں نے ایٹمی دھماکوں پر پابندی کے معاہدے سی ٹی بی ٹی اور ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاو¿ کو روکنے کے معاہدے این پی ٹی پر دستخط کرنے سے مسلسل انکار کیا ہے۔ بھارت میں بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ ایشیا میں اسلحے کی دوڑ کو روکنا چاہتا ہے تو پہلے اسے چین کو نئے ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکنا ہو گا جبکہ بعض حلقوں کا یہ اصرار ہے کہ دنیا میں ایٹمی دوڑ کو ختم کرنے کیلئے سب سے پہلے اسے خود اپنے ہتھیار تلف کرنا ہونگے وگرنہ یہ ایٹمی دوڑ جاری رہے گی جیسا کہ اب شمالی کوریا نے بھی 9اکتوبر2006کو اپنا پہلا اٹیمی تجربہ کر کے آٹھواں ملک بن گیا۔
2000 ءمیں بھارت کے دفاعی اخراجات میں اٹھائیس فیصد اضافہ ہوا جو ملک کی تاریخ میں سب سے بڑا اضافہ ہے- دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ اضافی بجٹ سے بھارت اپنی جوہری صلاحیت کو مزید بڑھانا چاہتا ہے- بھارت پہلے ہی دعویٰ کر چکا ہے کہ وہ ہائیڈروجن اور نیوٹران بم بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ادھر پاکستان میں ایک اعلیٰ اختیاراتی نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے قیام سے ملک کے جوہری پروگرام کی سلامتی اور کنٹرول کے بارے میں بین الاقوامی شکوک کم ہوئے ہیں لیکن اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان بھی اپنی جوہری صلاحیت بڑھانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف یہ کہہ چکے ہیں کہ پاکستان ضبط اور تحمل کی پالیسی پر کاربند رہے گا لیکن ساتھ ہی وہ یہ دھمکی بھی دے چکے ہیں کہ اگر ملک کی سلامتی خطرے میں پڑی تو ایٹمی ہتھیاروں کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔میزائیلوں کے موصوع پر انہوں نے ایک موقع پر کہا تھا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ اسلحے کی دوڑ میں شامل نہیں ہو گا تاہم وہ اتنی صلاحیت کے میزائیل ضرور رکھے گا جن سے بھارت کے کسی بھی حصے کو نشانہ بنایا جا سکے اور اگر ضرورت پڑے تو دوچار شہروں کو تباہ کیا جا سکے۔2001 کے آخر میں جب دونوں طرف فوجی کشیدگی عروج پر تھی تو روائتی ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ بیلیسٹک میزائیلوں کا رخ بھی ایک دوسرے کی طرف کر دیا گیا تھا جس کی وجہ سے دونوں ملک ایٹمی جنگ کے دہانے پر آ کھڑے ہوئے۔
1972 سے لے کرمالی سال 2004-2003 تک پاکستان حکومت نے اپنے ایٹمی پروگرام پر 184 ارب 53 کروڑ روپے خرچ کئے ہیں۔ یہ بات ایک موقع پر اسٹریٹیجک پلاننگ ڈویژن کے سینئر فوجی افسر نے ایک بریفنگ میں بتائی تھی۔انہوں نے کہا تھا کہ قوم کا پیسہ تو لگا ہے لیکن اس کے بدلے میں قوم کو ناقابل تسخیر دفاع بھی ملا ہے اور جو کچھ حاصل کیا گیا ہے یہ رقم اس لحاظ سے کچھ بھی نہیں ہے۔حکام کا کہنا تھا کہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے جو گذشتہ 32 برس سے کام کر رہا ہے، 62 ارب 15 کروڑ 60 لاکھ روپے جبکہ 28 برس سے کام کرنے والی خان ریسرچ لیبارٹری نے 43 ارب 80 کروڑ 60 لاکھ روپے خرچ کئے اور مطلوبہ ایٹی مواد حاصل کیا۔ جبکہ باقی رقم دیگر اداروں نے اس ضمن میں خرچ کی۔
جب سے پاکستان اور بھارت نے جوہری دھماکے کیے ہیں پوری دنیا میں یہ تشویش بڑھ گئی ہے کہ یہ روایتی دشمن پڑوسی ملک حالت جنگ میں کہیں جوہری ہتھیاروں کا استعمال نہ کر بیٹھیں۔ جب بھارتی پارلیمان پر خود کش حملے کے بعد دونوں ملکوں میں کشیدگی اس حد تک بڑھ گئی کہ دونوں نے اپنی بیشتر فوجیں سرحدوں پر تعینات کر دیں اور لائن آف کنٹرول پرگولہ باری میں تیزی آ گئی تو پوری دنیا کی توجہ ایک بار پھر پاکستان اور بھارت کے جوہری ہتھیاروں کی طرف مرکوز ہو گئی۔پاکستان اور بھارت کے متعلق ایسی کیا بات ہے کہ ذرا سا بھی تناو¿ دنیا کو پاک ہند جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے خطرے کی طرف لے جاتا ہے۔ شاید اس پیچیدہ سوال کا ایک جواب دونوں ملکوں کے جوہری ہتھیاروں کے نظریے یعنی نیوکلیئر ڈاکٹرین میں تلاش کیا جا سکتا ہے۔گو کہ پاکستان اور بھارت کے جوہری نظریات میں زمین آسمان کا فرق ہے لیکن بنیادی تضاد استعمال سے متعلق دو پہلوو¿ں میں ہے۔ پاکستان جوہری ہتھیاروں کے فرسٹ یوز یعنی استعمال میں پہل کرنے کی بات کرتا ہے اور بھارت نو فرسٹ یوز یعنی دشمن کے حملے کے بعد ان ہتھیاروں کے استعمال کا کہتا ہے۔جنوبی ایشیا میں اسلحے پر کنٹرول اور تخفیفِ اسلحہ کی ماہر فرح زہرا جو پاکستان میں امور خارجہ کے تربیتی ادارے میں پڑھاتی ہیں کہتی ہیں کہ ایسا کہنا بھی سو فیصد درست نہیں کہ پاکستان کا کوئی جوہری نظریہ نہیں بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ ان کے دستاویز نے ابھی اعلانیہ پالیسی کی شکل اختیار نہیں کی۔ مس فرح کے مطابق پاکستان حکومت نے اس بات پر کافی غوروفکر کیا کہ آیا ان کو اس دستاویز کو باقاعدہ نظریے کی شکل میں شائع کر دینا چاہیے یا نہیں لیکن ابھی تک ان کا یہی فیصلہ رہا ہے کہ اسے شائع نہ کیا جائے۔ ماہرین کے مطابق جوہری نظریہ بنانے کے بعد آپ کو کافی چیزوں کے متعلق بتانا پڑتا ہے جیسا کہ آپ کو کس حد تک مجبور کیا جائے تو آپ جوہری ہتھیار استعمال کریں گے۔ آپ کی حد کیا ہے؟ مس فرح کے مطابق اگر ان سوالوں کے جواب نہ دیے جائیں تو ان سے دو فائدے ہوتے ہیں۔ ایک تو ان میں دھمکی شامل رہتی ہے اور دوسرا اس میں آپ لچک بھی قائم رکھتے ہیں۔ پاکستان یہ بھی خیال کرتا ہے کہ اگر اس نے اپنا نظریہ باقاعدہ شائع کر دیا تو کافی جگہوں سے اسے تنقید کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے مثلاً یہ سخت ہے یا نرم ہے اور یہ ایسے کیوں ہے اور ایسے کیوں نہیں؟ ایسے ہزاروں سوال اٹھائے جاتے ہیں اور پاکستان شاید ان سے بچنا بہتر سمجھتا ہے۔ دوسری طرف بھارت کے نظریے کے مسودے پر ہی کافی بحث ہو چکی ہے اور نقاد یا تو اسے ایک جارحانہ نظریہ کہہ رہے ہیں یا عسکری حکمت عملی کے حوالے سے ایک کمزور نظریہ۔
بھارت میں سینٹر فار پالیسی اینڈ ریسرچ (سی پی آر) میں سکیورٹی کے پروفیسر برھما چیلانی جو کہ اس ٹیم کے رکن تھے جس نے بھارت کا جوہری نظریہ ترتیب دیا کہتے ہیں کہ جب آپ کی مجموعی کیفیت یا ہئیت نو فرسٹ یوز یعنی پہلے حملہ کرنے کی نہیں ہے تو بقا کا مسئلہ اور زیادہ ضروری بن جاتا ہے۔ اسکا مطلب یہ ہوا کہ آپ کے پاس اتنی گنجائش ہونی چاہیے کہ دشمن کے پہلے حملے کو برداشت کر سکیں۔ جواباً حملہ اس وقت ہی ہو سکتا ہے جب آپ پہلے حملے کو برداشت کر سکیں اور چونکہ بھارت رقبے کے لحاظ سے ایک بڑا ملک ہے اور اسکے ہتھیار مختلف جگہوں پہ پھیلے ہوے ہیں اس لیے اس کی برداشت کرنے کی صلاحیت زیادہ ہے۔ اس لیے، بقول پروفیسر چیلانی کے بھارت کے لیے بقا اور تحفط کا مسئلہ جوہری نظریے میں زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔بھارت نے اپنے تحفظ کی اس صلاحیت کو کریڈیبل مینیمم ڈیٹرنس یعنی قابل اعتبار کم سے کم مانع جنگ کہا ہے۔ اس کی تعریف اس طرح کی جا سکتی ہے کہ بچائے جانے والے جوہری ہتھیاروں کی ایک چھوٹی تعداد جو کہ دشمن کو کسی ایسے فوجی ایکشن سے روکے جس سے ملک کی اہم تنصیبات اور تحفضات کو خطرہ ہو۔فرح زہرا کہتی ہیں کہ جب کم سے کم کی بات کی جاتی ہے تو بھارت کے لیے یہ تعین کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ یہ کم سے کم چین کے لیے ہے یا پاکستان کے لیے۔ اس لیے یہ سب باتیں اعداد کی شکل میں یا حتمی شکل میں بتانا مشکل ہو جاتا ہے۔ تاہم پاکستان ہر انٹرنیشنل فورم میں اس بات پر زور دیتا ہے کہ بھارت کا چین کو خطرہ کہنا غلط ہے کیونکہ نہ تو ان دونوں ملکوں میں کوئی تناو¿ ہے اور نہ ہی کافی عرصے سے ان میں جنگ ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات بھی بالکل ٹھیک ہیں۔ پاکستان کے بقول بھارت خطے میں جوہری برتری چاہتا ہے اور چین کا صرف ایک بہانا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ ایک مضبوط بحری فوج بنا رہا ہے۔پروفیسر چیلانی کہتے ہیں کہ بقا اور تحفظ کے لیے سب سے ضروری چیز سمندر ہے اور سمندر میں حرکت کرنے والی چیزوں کو ڈھونڈنا اور تباہ کرنا مشکل ہوتا ہے جس میں چاہے سمندر کے اوپر چلنے والا جہاز ہو یا نیچے چلنے والی آبدوز اس لیے اس پر رکھے ہوئے جوہری ہتھیار محفوظ سمجھے جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ بھارت سمندر میں برتری کو بہت اہمیت دیتا ہے۔جبکہ پاکستان بھی اپنی نیوی کو دیگر دوست ممالک کی مدد سے مضبوط کر رہا ہے اور اب نہ صرف نیوی کے دیگرجدیدہتھیار بلکہ آبدوزیں اور میزائیل بردار جہازبھی خود تیار کرنا شروع کر دیے ہیں۔پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری یہ اسلحے کی دوڑ آخر کہاں جا کر رکھے گی اور اس کا کیا نتیجہ برآمد ہوگا اس کا فیصلہ تو وقت ہی کرے گا مگر موجودہ پاکستان اور بھارت کی دونوں حکومتوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ آنے والی نسلوں کیلئے جنگ و جدل کے بادلوںکی بجائے امن و آشتی کی روشنی پھیلانے کی کوشش کو جاری رکھیں تاکہ آنے والی نسلیں موجودہ نسل کو خودغرض اور مفاد پرست نہ کہیں۔

پاکستان کا ایٹمی پروگرام” پر 3 خیالات

  1. پنگ بیک: دنیا کی کہانی میری زبانی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s