1 بلوچستان پر قرارداد


منصور مہدی
امریکہ کے ایوانِ نمائندگان میں 17فروری 2012 بروز جمعہ کو ایک قرارداد جمع کروائی گئی ہے جس میں کہا گیا کہ بلوچستان کے عوام کو اپنے لیے ایک آزاد ملک حاصل کرنے کا حق حاصل ہے۔اس قرارداد کے مطابق بلوچستان کے عوام کو تاریخی طور پر حقِ خود ارادیت حاصل ہے اور بلوچستان اس وقت پاکستان، ایران اور افغانستان میں بٹا ہوا ہے چنانچہ بلوچی عوام کو وہ حقوق حاصل نہیں ہیں جو ان کا حق ہے۔یہ قرارداد ریپبلکن پارٹی کے ممبر اور خارجہ امور کی ذیلی کمیٹی کے چیئرمین ڈینا روباکر نے جمع کراوئی ہے۔
اس سے قبل ڈینا روباکر9 فروری کو امریکی امورِ خارجہ کی کمیٹی میں بلوچستان کے معاملے پر عوامی سماعت بھی کروائی تھی ۔جس میں واشنگٹن ڈی سی کی جارج ٹاون یونیورسٹی کی اسسٹنٹ پروفیسر کرسٹین فیئر، امریکی فوجی تجزیہ نگار اور مصنف رالف پیٹرز اور انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے پاکستان کے لیے ڈائریکٹر علی دایان حسن کے علاوہ دیگر افراد بھی شامل تھے۔
عوامی سماعت میں اگرچہ پروفیسر کرسٹین فیئر نے یہ بھی کہا تھا کہ بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے جہاں حکومت پاکستان فوج کے استعمال کا راستہ ترک کرے وہاں علیحدگی پسندگروہوں کو بھی ہتھیار پھینک دینے چاہیے کیونکہ وہ سمجھتی ہیں کہ یہ علیحدگی پسند گروہبھی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہیں۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ بلوچ قوم پرستوں پر زور دے کہ وہ شہریوں پر حملے روک دیں، خاص طور پر ان افراد کے خلاف جو بلوچ نہیں ہیں اور صوبے میں مقیم ہیں۔اساتذہ، پروفیسروں، سکولوں اور تعلیم سے وابستہ افراد پر حملے روک دیے جائیں۔انھوں نے بلوچ تنظیموں سے کہا کہ اپنے ان تمام ارکان کے خلاف کارروائی کریں جو شہریوں پر حملے کرنے کا حکم دیتے ہیں یا ان میں ملوث ہوتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان کے موجودہ نظام کے تحت اگرچہ بلوچستان کو وہ حکومتی توجہ ملنے کا امکان نہیں جس کا وہ حقدار ہے۔ تاہم انہوں نے بلوچستان کو پاکستان کا اندرونی معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسا کچھ نہیں ہے جو پاکستان کے موجودہ ملکی ڈھانچے کا حصہ رہتے ہوئے حل نہ کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے نسلی تنوع، پیچیدہ تاریخ اور موجودہ جغرافیائی صورتحال کو مدِنظر رکھتے ہوئے وہ اس وقت آزاد بلوچستان کے خیال کی حمایت نہیں کر سکتیں۔تاہم پاکستان پر تمام ذرائع استعمال کرتے ہوئے زور دیا جانا چاہیے کہ اس اہم صوبے میں حالات معمول پر لائے اور عشروں سے جاری بدانتظامی اور سرکاری حمایت یافتہ تشدد کا سلسلہ ختم کرے۔
پروفیسر کرسٹین فیئرکے برعکس دفاعی امور کے ماہر رالف پیٹرز کا کہنا تھا کہ امریکہ کو پاکستان سے پوچھنا چاہیے کہ بلوچوں کو آزادی کا حق کیوں نہیں دیا جا سکتا۔انھوں نے عوامی سماعت کے دوران یہ بھی مطالبہ کیا کہ پاکستان میں بلوچ عوام پر تشدد کیا جا رہا ہے اور وہاں ماورائے عدالت ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔بلوچیوں کو حقِ خود ارادیت اور آزاد ملک حاصل کرنے کا حق حاصل ہے اور ان کو موقع ملنا چاہیے کہ وہ اپنا فیصلہ کرسکیں۔ کیونکہ ایک عرصے سے سیاسی اور لسانی طور پر بلوچ عوام کو کچلا جا رہا ہے جو کہ افسوسناک ہے۔انھوں نے امریکی حکومت سے بھی گلہ کیا کہ امریکہ انھیں اسلحہ فروخت کر رہا ہے جو بلوچیوں پر ظلم کر رہے ہیں۔ انھوں نے حکومت امریکہ سے مطالبہ کیا کہ پاکستان پر دباو ڈالا جائے کہ وہ اس شورش زدہ صوبے کے حالات معمول پر لانے کے لیے مناسب اقدامات کرے۔
ہیومن رائٹس واچ کے نمائندے علی دایان حسن نے سماعت کے دوران اپنے بیان میں کہا کہ ہیومن رائٹس واچ بلوچستان کی آزادی کے معاملے پر کوئی موقف اختیار نہیں کرنا چاہتی اور سجھتی ہے کہ بلوچستان پاکستان کا حصہ ہے اور اسے پاکستانی حکومت سے توقع ہے کہ وہ حقوقِ انسانی کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات کرے گی۔ علی دایان نے کہا کہ حکومت پاکستان پر دباو ڈالا جائے کہ وہ بلوچستان میں اغواء کے واقعات، ماورائے عدالت قتل اور غیر قانونی گرفتاریوں کو روکنے کے لیے اقدامات کرے اور ان جرائم میں ملوث افراد کے خلاف بغیر کسی تحفظات کے مکمل تحقیقات اور کارروائی کی جائے۔
انھوں نے کہا کہ امریکہ جبری گمشدگیوں اور دیگر خلاف ورزیوں میں ملوث اداروں سے جن میں فوج، آئی ایس آئی، آئی بی، ایف سی اور پولیس شامل ہیں،براہِ راست رابطہ کر کے ان اقدامات کے خاتمے کا مطالبہ کرے اور یہ واضح کر دیا جائے کہ اغواءکے واقعات نہ رکنے کی صورت میں ان ایجنسیوں کو پابندیوں یا تعلقات کے خاتمے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں تعینات ایف سی، پولیس اور پاکستانی فوج کے ساتھ امداد و تعاون کے پروگراموں کو اس وقت تک معطل کر دیا جائے جب تک فوجی اور سرکاری حکام گمشدگیوں اور دیگر الزامات کی مکمل تحقیقات کر کے مناسب کارروائی نہیں کرتے۔انھوں نے کہا کہ بلوچستان ایک ایسا تنازع ہے جس کے کئی پہلو ہیں اور یہاں کئی فریق تشدد میں شریک ہیں لیکن صوبے میں حقوقِ انسانی کی خلاف ورزیوں کا سرخیل بلاشبہ پاکستانی فوج، نیم فوجی اور خفیہ ادارے ہیں۔
علی دایان حسن کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج بلوچستان میں قابض فوج کا سا کردار ادا کر رہی ہے لیکن بلوچ قوم پرست مزاحمت کار بھی شعبہ تعلیم سے وابستہ افراد اور غیر بلوچ آبادکاروں کے خلاف کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ان کے مطابق بلوچستان میں رہنے والے وہ افراد جو پنجابی اور اردو بولتے ہیں، بلوچ قوم پرست مزاحمت کاروں کے حملوں کے خوف کا شکار ہیں۔
دوسری جانب پاکستان کے دفتر خارجہ نے اس قرارداد پر تنقید کی ہے۔ پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان عبدالباسط کا کہنا ہے کہ ’یہ قرارداد اپنے مخصوص مقاصد کے لیے پیش کی گئی ہے جو کہ جہالت اور لاعلمی پر مبنی ہے‘۔ پاکستانی د فترخار جہ کے مطابق اسلام آباد کو بلوچستان پر بحث کرانے پر واشنگٹن سے سخت تشویش ہے۔ اس حوالے سے پاکستان کے دفتر خارجہ نے امریکی سفیر کو بھی طلب کیا اور پاکستان کا احتجاج ریکارڈ کرایا اور کہا کہ امریکی ایوانِ نمائندگان میں پیش کی جانے والی قرار داد دونوں ملکوں کے دوستانہ تعلقات کے منافی ہے۔پاکستانی حکومت نے امریکی سفیر کو بتایا گیا کہ یہ قرارداد اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
پاکستان کی قومی اسمبلی نے بھی اتفاق رائے سے امریکی کانگریس میں بلوچستان کے بارے میں عوامی سماعت کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔یہ قرارداد اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان نے پیش کی جس کی تمام جماعتوں نے حمایت کی۔البتہ بعض اراکین قومی اسمبلی نے اس کی منظوری سے قبل مخالفت کی اور کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بہت پیچیدہ ہے اور مشرقی پاکستان جیسی صورتحال ہے جبکہ حکومت اس حوالے سے کچھ نہیں کر رہی۔
اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ آرمی چیف نے بلوچستان میں فوجی آپریشن کی تردید کی ہے اور آئی جی ایف سی نے بھی وہاں لاپتہ افراد سے لاتعلقی ظاہر کی ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ اچھے بیانات ہیں لیکن حکومت یہ بتائے کہ بلوچستان میں بار بار الزام لگتا ہے کہ ایجنسیاں اٹھا کر لے گئی ہیں تواس میں کون ملوث ہے؟انہوں نے کہا کہ کشمیر ہو یا افغانستان یا پھر پاکستان کے قبائلی علاقے وہاں جو انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، ان کا نوٹس کیوں نہیں لیا جاتا۔
پیپلز پارٹی کے ہمایوں عزیز کرد کا کہنا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ بہت پیچیدہ ہے اور اس قرارداد کی وجہ سے بلوچستان کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ سازش کے تحت بلوچ اور پنجاب کے عوام میں نفرت پھیلائی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق بلوچستان میں ایجنسیوں کا کردار ایک سوالیہ نشان ہے۔چوہدری نثار علی خان کے برعکس انھوں نے کہا کہ آرمی چیف اور آئی جی ایف سی کے بیانات درست نہیں۔انھوںنے کہا کہ بلوچستان میں جوحالات خراب ہوئے ہیںوہ ایک فوجی آمریت کے دور میں ہوئے ہیں۔
عوامی نیشنل پارٹی کی بشریٰ گوہر نے کہا کہ کہ بلوچستان میں بیرونی مداخلت کی مخالفت تو ٹھیک ہے لیکن بلوچستان کے جو حالات ہیں اس پر حکومت بھی تو کچھ نہیں کر رہی۔ وہاں گھر گھر سے لاشیں مل رہی ہیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی محض مذمت کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس ایوان نے بلوچستان کے لیے کچھ نہیں کیا اور جتنی دیر کریں گے اتنا ہی یہ بڑا مسئلہ بنتا جائے گا۔
بلوچستان پر امریکی کانگرس میں قرارداد کے حوالے سے اگرچہ ابھی تک اوباما انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے مسائل پرامن سیاسی عمل کے ذریعے حل کیے جانے چاہئیں اور امریکہ بلوچستان کی خودمختاری کا حامی نہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ کانگریس بہت سے خارجی امور پر سماعت کا اہتمام کرتی رہتی ہے اور ایسی سماعتوں سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ امریکی حکومت کسی ایک موقف کی حامی ہے یا اس کی توثیق کرتی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان وِکٹوریہ نیولینڈ نے کہا کہ اِن کمیٹیوں کی رائے، امریکی حکومت کی پالیسی کی ترجمانی نہیں کرتی۔انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت بلوچستان کی تمام جماعتوں پر زور دیتی ہے کہ وہ پاکستان میں رہتے ہوئے اپنے اختلافات کا پرامن اور قابلِ قبول سیاسی طریقے سے حل نکالیں۔
قارئین جیسا آپ جانتے ہیں کہ آجکل ہر کوئی بلوچستان کے حوالے سے جاننے کے لیے کوشاں ہے۔ اخبار پڑھو، ریڈیو سنو یا ٹی وی دیکھو تو ہر طرف بلوچستان کے بارے میں ہی گفتگو ہو رہی ہے۔ بیشتر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بلوچستان بھی علیحدگی کی راہ پر چل پڑا ہے اور اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خدا نہ کرے پاکستانی عوام کو پھر وہ دن دیکھنا پڑے کہ جب مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا تھا۔
سقوط مشرقی پاکستان کا سانحہ ایک ایسا دردناک واقعہ ہے جس نے پاکستانی شہریوں کے دل و دماغ پر بڑے دوررس اثرات مرتب کیے۔ سیانوں کو کہنا ہے کہ ایسے واقعات جو قوموں کی تاریخ اور جغرافیہ تبدیل کر دیتے ہیں وہ یکدم یا اچانک نہیں ہوتے بلکہ ان کے پیچھے سالہا سال سے پکنے والا لاوا، دلوں میں پروان چڑھنے والی نفرت، احساس محرومی اور ناانصافیوں کی ایک طویل کہانی ہوتی ہے۔
ابتداءہی سے پاکستان کے دونوں حصوں میں ایسی بدگمانیاں پیدا ہو گئی تھیں جنہوں نے مشرقی اور مغربی پاکستان میں دوریوں کی بنیاد ڈالی۔ پھر بعد میں آنے والے حکمرانوں سے دانستہ و غیردانستہ ایسی غلطیاں ہوتی رہیں جنہوں نے ان بدگمانیوں کو زخموں میں بدل دیا اور پھر ان زخموں کو ناسور بنا دیا اور پھر ہم نے اس کا خوب خمیازہ بھگتا۔
آئیے اگلی قسط میں دیکھتے ہیں کہ کیا بلوچستان کے لوگوں میں بھی ایسی بدگمانیاں پیدا ہوچکی ہیں، کیا ان کے دلوں میں بھی پاکستان کے دیگر صوبوں سے نفرت کی ایسی آگ بھڑک اٹھی ہے جسے اب بجھانا ممکن نہیں رہا، کیا بلوچ عوام ایک ایسے احساس محرومی اور نا انصافی کا شکار ہو چکے ہیں کہ جن کے دل میں اب پاکستان کی محبت نہیں بس سکتی۔ کیابلوچستان کے حالات اس نہج ہر پہنچ چکے ہیں کہ جہاں سے مشرقی پاکستان نے بنگلہ دیش کی راہ اختیار کر لی تھی۔ ( جاری ہے)

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s