3 بلوچ ثقافت


بلوچ ثقافت میں عربی کے علاوہ براہوئی اور پشتون ثقافت بھی شامل ہے

منصور مہدی
قارئین جیسا آپ جانتے ہیں کہ آجکل ہر کوئی بلوچستان کے حوالے سے جاننے کے لیے کوشاں ہے۔ اخبار پڑھو، ریڈیو سنو یا ٹی وی دیکھو تو ہر طرف بلوچستان کے بارے میں ہی گفتگو ہو رہی ہے۔ اس بحث کی بنیاد امریکی گانگرس میں بلوچستان کے حوالے سے پیش کی جانے والی قرارداد ہے ۔
نئی بات میگزین نے اپنے قارئین کو بلوچستان ایشو سے باخبر رکھنے کے لیے گذشتہ سے پیوستہ شمارے میں اس قرارداد اور واشنگٹن میں ہونی والی عوامی سماعت کی رودادبیان کی تھی جبکہ گذشتہ شمارے میں بلوچ قوم کی تاریخ پر مضمون رقم کیا گیا ۔ اس بار ہم بلوچستان کی ثقافت کے حوالے سے اپنے قارئین کو بتلانا چاہتے ہیں۔کہ بلوچستان کے باسی کسی طبعیت کے مالک ہیں اور ان کے کیا کیا رسم و رواج ہیں۔ یہ تفصیل اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس سے بلوچ قوم کے مزاج کو سمجھنے میں مدد ملے گی اور مسئلے کے حل کی راہ متعین ہو سکے گی۔
جیسا کہ قارئین کے علم میں ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی پہچان کے لیے اسے قوموں اور قبیلوں میں پیدا کیا ہے جو اپنے اپنے اوصاف رکھتے ہیں۔
ثقافت کسی قوم یامعاشرے میں موجود ان رسم و رواج اور اقدار کو کہا جاتا ہے جن پر اسکے تمام افراد مشترکہ طور پر عمل کرتے ہوں۔ماہر عمرانیات کا بھی اس بات پر اتفاق ہے کہ تہذیب وثقافت قوموں کے تشخص کا اصلی سرچشمہ ہوتے ہے یا دوسرے الفاظ میںثقافت ایک معاشرے کی زبان‘ تربیت‘ روایات‘ صنعت اور فن جیسے جذبات سے معرضِ وجود میں آتی ہے۔بلوچستان کی ثقافت جاننے سے پہلے وہاں پر آباد قبائل کے بارے میں جاننا ضروری ہے ۔ جیسا کہ گذشتہ قسط میں بیان کیا تھا بلوچ خود کو حضرت امیر حمزہ کی اولاد میں سے کہتے ہیں جو عرب میں ایک بہادر اور جری شخص کے طور پر جانے جاتے تھے جبکہ ان کا خاندان بھی ایک عرب کے دیگر تمام قبائل سے ایک ممتاز حیثیت رکھتا تھا۔ عربی النسل ہونے کے ناطے بلوچوں میں بہادری اور شجاعت کا عنصر ہونے کے ساتھ ساتھ عربوں کے رسم و رواج بھی موجود ہیں۔
وادی حلب سے چلنے والی یہ قوم جب سیستان سے ہوتی ہوئی یہاں وارد ہوئی تو وقت کے ساتھ ساتھ یہاں کے ماحول اور علاقائی صورتحال میں یہ دو شاخوں میں تقسیم ہو گئی ۔ جن میں سے ایک سلیمانی اور دوسرے مکرانی کہلاتے ہیں۔ جبکہ اس علاقے میں بسنے والے براہوی وسطی بلوچستان کے باسی ہیں۔ اب بلوچوں کے 18قبیلے جن میں بگٹی اور مری بھی شامل ہیں یہ سلیمانی ہیں۔سندھ کے تالپور بھی خود کو سلیمانی بلوچ کہلواتے ہیں۔
بلوچستان میںتین بڑی قومیں بلوچ، پشتون اور براہوی آباد ہیں۔ بلوچی زبان بولنے والے بڑے قبائل میں رند، لاشار، مری، جموٹ، احمدزئی، بگٹی، ڈومکی، مگسی، خوسہ، پاک ہاشانی، دشتی، عمرانی، نوشیروانی، گچکی، بولیدی، سنجرانی اور خیدائی شامل ہیں۔ جبکہ یہ قبائل مزید چھوٹے قبیلوں میں بھی تقسیم ہیں۔
براہوی زبان بولنے والے بلوچوں میں راہسانی، شاہوانی، سومولانی، بنگلزائی، محمد شاہی، لہری، بزنجو، محمد حسنی، زارکزئی یا زہری، مینگل اور لینگو قبائل شامل ہیں۔ یہ قبائل اگرچہ براہوی زبان بولتے ہیں مگر ان میں بیشتر بیک وقت بلوچی اور براہوی بولتے ہیں۔
پشتو زبان بولنے والے بلوچوں میں کاکڑ، گلزائی، ترین ، مندوخیل، شیرانی، لیونی اور اچک زئی بڑے قبائل ہیں۔
ہر بلوچ کم از کم دو زبانیں بولتے ہیں جبکہ اکثریت کو اردو سمیت تین زبانوں پر عبور حاصل ہے۔ جبکہ کھچی اور سبی اضلاع میں سرائیکی اور سندھی بھی بولی جاتی ہے۔ قلات میں آباد بعض قبائل فارسی بولتے ہیں۔ بڑے قبیلے کا ہیڈ سردار کہلاتا ہے جبکہ چھوٹے قبیلے کا ہیڈ ملک ، ٹکاری یا میر کہلاتا ہے۔
بلوچ قوم بھی پشتوں کی طرح اپنے تصفیے اور لڑائی جھگڑوں کے خاتمہ کے لیے اپنا عدالتی نظام رکھتی ہے جسے جرگہ کہتے ہیں۔ سردار اور ملک ضلعی جرگہ کے ممبر بھی ہوتے ہیں۔
یہ جرگے قدیم دور سے ہی افراد کے درمیان وصیت ، طلاق ، منگنی ، قتل ، لڑائی، شدید زخمی کرنا اور قبیلہ میںدیگر فتنہ و فساد کے مقدمات کے فیصلے صادر کرتے تھے۔ اس طرح بلوچوں کا ہر قبیلہ عدلی لحاظ سے آزاد تھا۔
انگریز دور آنے کے بعد انگریزوں نے یہاں پر اپنا قانون متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ ان کے معاملات سلجھانے کے لیے نہ صرف مقامی جرگے کے وسیع استعمال پر زور دیا بلکہ اضلاع ، قبائل اور صوبوں کے لیے جرگے مزید منظم کیے۔ اضلاع میں قبائل کے باہمی جھگڑوں کے لیے شاہی جرگہ ، گرمی میں کوئٹہ اور سردی میں سبی میں منعقد ہوتا تھا۔ اس کے علاوہ فورٹ منرو میں سالانہ جرگہ ہوتا تھا جو پنجاب اور بلوچستان کے سرحدی مقدمات سنتا تھا۔
جرگے کا کوئی تحریری دستور یا قانون نہ تھا بلکہ اس حوالے سے ان کی اپنی روایات تھی اور ہر قسم کے تنازعے کے لیے روایتی سزائیں مقرر تھیں۔ جو اہل جرگہ حالات کے مطابق دیتے تھے۔ مثلا مکران میں معتبر بلوچ کا خون بہا تین ہزار روپیہ تھا ، ایک عام بلوچ کا دور ہزار روپیہ ، ملاح کا پانچ سو روپیہ اور ملازم کا دو سو روپیہ۔ اس میں سے ایک تہائی نقد، ایک تہائی آلات اور ایک تہائی جائیداد کی صورت میں ادا کرنا پڑتا تھا۔
اکثر امور شرعی قانون کے مطابق حل ہوتے تھے۔ لیکن بعض امور میں مقامی رسم ورواج کو ترجیح دی جاتی تھی۔ قیام پاکستان کے بعد بھی بلوچستان میں یہ نظام عدل قائم رہا۔ 1970 میں چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر جنرل یحییٰ خان نے اسے منسوخ کر دیا ۔ اگرچہ اس منسوخی کے بعد بھی بلوچ قبائل میں تقریباً نوے فیصد فیصلے اسی جرگہ نظام کے تحت ہوتے رہے۔ لیکن اس نظام کی منسوخی کا حکم حکومت اور بلوچوں کے درمیان جاری تنازعوں میں ایک مزید تنازعے کا سبب بن گیا۔
بلوچوں کے نزدیک نئے قانون( ٰ یعنی موجودہ رائج الوقت قوانین )کے تحت قائم عدالتوں میں ایک فیصلہ کرنے میں لوگوں کی نسلیں ختم ہوجاتی ہیں اور جرگہ سسٹم میں وہی فیصلہ چند دنوں میں ہوجاتا ہے۔
بلوچ مفکر سلطان محمد صابر بلوچستان کی ثقافت کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ بلوچ ثقافت ایسی ثقافت ہے جس میں عربی کے علاوہ براہوئی اور پشتون ثقافت بھی شامل ہے۔ بلوچ اور پشتون ثقافت میں فطری طور پر آزادی، حساسیت اور عسکری او صاف شامل ہیں۔ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے سلطان محمد صابر نے لکھا ہے کہ چونکہ یہ ایک ہی علاقے کے رہنے والے ہیں اس لیے ان دونوںقوموں کی ثقافت میں قرابت داری ہے۔
ان کے لباس، خوراک اور رسومات میں یکسانیت بہت زیادہ پائی جاتی ہے۔ جیسے پشتو ن میں شادی بیاہ کے چار مراحل ہیں ہوکڑہ‘ ولور‘ کوزدہ‘ وادہ۔ یعنی بات پکی کرنا۔ شادی کے اخراجات‘ منگنی‘ اور شادی۔ بلوچی میں ہبر بندی‘ لب‘ سانگ اور سیر بھی چار ہی رسومات پر مشتمل ہیں یعنی یعنی بات پکی کرنا۔ شادی کے اخراجات‘ منگنی‘ اور شادی ۔
بلوچ اورپشتون دونوں ہی بیٹی کی پیدائش کے مقابلے میں بیٹے کی پیدائش پر اظہار مسرت کرتے ہیں۔ دونوں قوموں میں مرد عموماً سفید لباس پہنتے ہیں اور عورتیں پردہ کرتی ہیں یہ اور با ت ہے کہ معاشرتی مجبوریوں کے تابع خواتین دیہات میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی ہیں یہ بھی ثقافت ہی کی ایک جھلک ہے۔
جبکہ براہوئی ثقافت بلوچی ثقافت ہی کی ایک شکل ہے بلوچستان کے جن علاقوں میں بلوچ براہوئی پاس پاس رہتے ہیں ان کی ثقافت میں کسی طرح کا امتیاز نظر نہیں آتا۔ بلوچ محقق نور محمد براہوئی ثقافت پر اظہار خیال کرتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ” یہ امر بطور خاص ملحوظ خاطر رہے کہ ان تہذیبوں کے وہی عناصر اور اجزاءتہذیب یا ثقافت کے جزو سمجھے جائیں گے جو عام ”قومی روح“ کے ساتھ اس طرح جذب ہو جائیںکہ ہر جماعت قبیلہ یا قبائل انہیں اپنا ورثہ یا تہذیبی اثاثہ سمجھنے لگے مثال کے طو رپر اس وقت براہوئی اور بلوچ قبائل چند ایک تہذیبی اصولوں کو مشترکہ طور پر اپنانے سے کچھ اس طرح سے یکجان و دو قالب ہو چکے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک کا بظاہر اپنا کوئی الگ قطعی وجود باقی نہیں رہ سکا اور ”ملکی یا قومی روح“ نے اپنا اثر دکھا کر ایک مشترکہ ثقافتی مقصد پیدا کر دیا ہے ، تاہم زبان و ادب کے حوالے سے براہوئی زبان کی قدامت ایک علیحدہ اور عمیق مطالعے کا متقاضی موضوع ہے “ ۔
بلوچ براہوئی مشترکہ ثقافت میں پوشاک‘ رہن سہن‘ معاش و معیشت کے علاوہ کچھ قابل فخر رسومات ہیں جو اس ترقی پذیر دور میں بھی ختم نہیں ہو سکیں ۔ان رسومات پر یہ قومیں فخر کرتی ہیں ان میں زبان‘ رقص و موسیقی‘ کھیل اور عقائد وغیرہ میں یکسانیت ملتی ہے۔
’حال احوال“ کی روایت آج بھی دور افتادہ علاقوں میں حال بلوچ قوم کے لئے اخبار ریڈیو پرنٹ میڈیااور الیکٹرک میڈیا کا کردار ادا کرتی ہے۔ دو اجنبی بھی اگر دوران سفر کہیں مل جائیں تو علیک سلیک کے بعد حال لینے اور حال دینے میں ہرگز بھی عذر معذرت نہیں کرتے جو جس نے دیکھا جس پرجو بیتی بلا کم و کاست اظہار کرتا ہے۔ اس طرح ایک معمولی واقعے سے پورا علاقہ باخبر ہو جاتا ہے اورمہمان نوازی تو بلوچ کی گھٹی میں پڑی ہے۔ بلوچ کتنا بھی خستہ و خوار ہو غربت زدہ اور نادار ہو وہ اپنی استطاعت سے بڑھ کر مہمان کی خاطر تواضع کرتا ہے۔ یہ بلوچی مہمان نوازی کی شان ہے کہ مرد اگر گھر پر موجود نہ ہو خاتون خانہ کی ذمہ داری ہے کہ مہمان کے قیام و طعام کا انتظام کرے ۔بلوچوں کی معاشرتی زندگی میں وعدہ خلافی کے علاوہ جھوٹ بولنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔
عورت کا مقام اور احترام بلوچ کی سرشت میں شامل ہے دو فریقوں کے درمیان کوئی جھگڑا خون ریزی کی حد کو پہنچ جائے تو ایک عورت کا صلح کے لئے بیچ میں پڑنے سے خونخوار جنگیں صلح میں بدل جاتی ہیں۔
بلوچوں کے روایتی ہیروز میںمیر چاکر رند کا نام شامل ہے جسے چاکر اعظم بھی کہا جاتا ہے۔ میر چاکر رند صرف ایک نام یا ایک شخصیت نہیں بلکہ بلوچوں کی تہذیب و ثقافت، تاریخ و تمدن، معیشت و معاشرت، اخلاق و عادات، بہادری و جوانمردی، جوش و جذبہ، گفتار و کردار، ایثار م قربانی، ایفائے عہد اور انتقام کا نام ہے۔ سردار میر چاکر رند خود بھی بہادر تھے اور بہادر دوستوں ہی کی نہیں بلکہ دشمنوں کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتا تھا اور بقول میر چاکر “بہادروں کا انتقام بھی مجھے پیارا ہے جو میرے اونچے قلعوں پر حملہ کرنے کی ہمت رکھتے ہیں” میر چاکر خان مکران کے قیام کے دوران اپنی ابھرتی جوانی میں ہی قوم میں مقبول ہوگیا تھا قلات پر حملے کے دوران بہادری کے وہ جوہر دکھائے کہ لوگ انگشت بدنداں رہ گئے۔ میر شہک کے انتقال کے بعد پورے رند علاقوں کا حکمران انکا بیٹا میر چاکر تھا اور یہ رندوں کی تاریخ کا سنہری دور تھا۔
لیکن اس دور کا اختتام اتنا تاریک اور عبرت انگیز ہے کہ میر چاکر کے آخری دور میں نہ صرف رند بلکہ پوری بلوچ قوم اس طرح منتشر ہوئی کہ آج تک دوبارہ اکھٹی نہ ہو سکی۔ میر چاکر کا دور بلوچوں کا عروج اور خوشحالی کا دور تھا اور آج بھی بلوچ قوم میں میر چاکر رند کا نام عزت و احترام سے لیا جاتا ہے۔
بقول میر چاکر “مرد کا قول اسکے سر کے ساتھ بندھا ہے” اور میرچاکر اپنے قول کا دھنی تھا اپنے قول کے مطابق ایک مالدار عورت “گوھر” کو امان دی اور اس کی حفاظت کے لیے جان کی بازی لگا دی اور اپنے ہی بھائیوں لاشاریوں سے جنگ کی جو تیس سالہ کشت و خون میں بدل گئی اور یہی جنگ کئی نامور رند اور لاشاریوں کو خاک و خون میں نہلا گئی۔
یہی وجہ ہے کہ بلوچستان کے موجودہ خلفشار میں شدت بھی ایک عورت کی وجہ سے آئی جب 2005میںبلوچستان کے علاقے سوئی میں مبینہ طور پر بلوچ خاتون ڈاکٹر شازیہ کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ کیس پاکستانی حکومت، فوج اور بلوچ قوم پرستوں کے درمیان ہونے والے تنازعے کا ایک اہم نقطہ آغاز بنا جس میں کئی افراد ہلاک بھی ہوئے۔
’حال احوال“ کی روایت آج بھی دور افتادہ علاقوں میں حال بلوچ قوم کے لئے اخبار ریڈیو پرنٹ میڈیااور الیکٹرک میڈیا کا کردار ادا کرتی ہے۔ دو اجنبی بھی اگر دوران سفر کہیں مل جائیں تو علیک سلیک کے بعد حال لینے اور حال دینے میں ہرگز بھی عذر معذرت نہیں کرتے جو جس نے دیکھا جس پرجو بیتی بلا کم و کاست اظہار کرتا ہے۔ اس طرح ایک معمولی واقعے سے پورا علاقہ باخبر ہو جاتا ہے

3 بلوچ ثقافت” پر ایک خیال

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s