4 قدرتی وسائل


قدرتی وسائل سے مالا مال علاقے غیروں کی نظر میں کھٹک رہے ہیں

منصور مہدی
قارئین جیسا آپ جانتے ہیں کہ آجکل ہر کوئی بلوچستان کے حوالے سے جاننے کے لیے کوشاں ہے۔ اخبار پڑھو، ریڈیو سنو یا ٹی وی دیکھو تو ہر طرف بلوچستان کے بارے میں ہی گفتگو ہو رہی ہے۔ اس بحث کی بنیاد امریکی گانگرس میں بلوچستان کے حوالے سے پیش کی جانے والی قرارداد ہے ۔
نئی بات میگزین گذشتہ کئی ہفتوں سے بلوچستان کے حوالے سے تحریریں شائع کر رہا ہے جس کا مقصد قارئین کو بلوچستان ایشو کے حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کرنا ہے کہ بلوچستان کے حالات اس نہج پر کیوں پہنچے کہ وہاں پر اب دوسرے ملکوں نے کھلم کھلا مداخلت کرنا شروع کر دی۔پہلی قسط امریکی ایوان نمائندگان کی خارجہ کمیٹی میں پیش ہونے والی قرارداد اور واشنگٹن میں ہونی والی عوامی سماعت سے متعلق تھی، دوسری میں بلوچ قوم کی تاریخ کو بیان کیا گیا تھا جبکہ تیسری میں بلوچوں کی ثقافت اور رسم ورواج پر روشنی ڈالی گئی۔ اس بار ہم بلوچستان کی سڑیٹیجک اہمیت اور وہاں پائی جانے والی قدرتی معدنیات اور دیگر اہم وسائل پر گفتگو کریں گے اور ساتھ یہ دیکھیں گے کہ بلوچستان میںکہ غیر ملکیوں کے کیا اہداف ہیں۔
بلوچستان جنوبی ایشیاءکے اس خطے میں واقع ہے کہ جس کے ایک جانب ایران اور دوسری جانب افغانستان ہے اور تیسری جانب800 کلومیٹر طویل بحیرہ عرب کی ساحلی پٹی موجود ہیں ۔ بلوچستان کی ڈیپ پورٹ گوادر سے صرف 45ناٹیکل میل کی دوری پر عمان کی ریاست واقع ہے جبکہ 150 ناٹیکل میل کی دوری پر آبنائے ہرمز ہے کہ جو دنیا کی مصروف ترین بحری تجارتی گزر گاہ ہے کہ جہاں سے صرف تیل کی دنیا کو سپلائی ایک تہائی سے زیادہ ہوتی ہے۔
بلوچستان کی ڈیپ بندرگاہ گوادر جلد ہی ایک بین الاقوامی شہر کی حیثیت اختیار کرنے والا ہے۔ یہاں سے چین، افغانستان اور سنٹرل ایشیاءکے ممالک تاجکستان، قازقستان، آذربائیجان، ازبکستان ،ترکمانستان اور دیگر روسی ریاستوں تک جانے کے لیے سڑکیں تعمیر کی جا رہی ہیں۔گوارد کی بندر گاہ خلیج فارس ،بحیرہ عرب ،بحر ہند ،خلیج بنگال اور اسی سمندری بیلٹ میں واقع تمام بندرگاہوں سے زیادہ گہری بندر گاہ ہے کہ جس میں 50ہزار ٹنسے لیکر ڈھائی لاکھ ٹن وزنی جہاز لنگر انداز ہو سکیں گے۔
بلوچستان پاکستان کا وہ واحد صوبہ ہے کہ جہاں پر معدنیات بھی دیگر صوبوں سے زیادہ پائی جاتی ہیں۔پاکستان کے ممتازایٹمی سائنسدان اور پلاننگ کمیشن کے رکن سائنس و ٹیکنالوجی ڈاکٹر ثمر مبارک کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے علاقے ریکوڈک کی سونے و تانبے کی کانوں کے ایک چھوٹے سے حصے ای ایل 5- میں ہی 270 ارب روپے ڈالر مالیت کے ذخائر موجود ہیں اور اسی بیلٹ میں بہت سے بڑے ذخائر بھی موجود ہیں جن سے ملک کومزید کئی ارب ڈالر کی آمدن ہوسکتی ہے۔ ڈاکٹر ثمر مبارک مند کا کہنا ہے کہ باقی کے حصے میں ایک ہزار ارب ڈالر سے زائد کی معدنیات موجود ہو سکتی ہیں۔ڈاکٹر ثمر کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں معدنیات کی اہمیت محتاج بیان نہیں۔ جن کے پاس معدنی ذخائر کی کثرت ہے وہاں کی معیشت بھی کافی مستحکم ہے۔ صنعتی ترقی کا انحصار بڑی حد تک معدنی وسائل کی موجودگی پر ہی ہے۔ بلاشبہ امریکا اور یورپی ممالک کی صنعتی ترقی میں وہاں کے معدنی وسائل نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
صنعتی شعبہ میں کوئلہ کو اساسی حیثیت حاصل ہے۔ یہ ایندھن کا کام بھی دیتا ہے اور طاقت کا سرچشمہ بھی ہے۔ پاکستان کے دیگر علاقوں کے علاوہ بلوچستان میں ڈیگاری، شریگ اور سوئر کے مقام پر اس کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔
پٹرول کو ذرائع نقل و حرکت میں نمایاں اہمیت حاصل ہے۔ جبکہ پٹرول سے متعدد پٹرولیم مصنوعات بھی تیار کی جاتی ہیں۔ پاکستان میں پٹرول کی پیداوار بہت کم ہے۔ تاہم پاکستان کچھ علاقوں سے ابھی بھی تیل نکالا جا رہا ہے جبکہ بلوچستان میں 1952میں پہلی مرتبہ تیل دریافت ہوا۔ مزید تیل کی تلاش کا سلسلہ جاری ہے، جس میں حوصلہ افزاءنتائج برآمد ہو رہے ہیں۔
جدید مشینی دور میں کوئلہ اور پٹرول کی طرح لوہے کو بھی بہت اہمیت حاصل ہے۔ ہمارے ملک میں لوہے کی پیداوار اگرچہ بہت کم ہے۔ 1965-66ءکے درمیانی عرصہ میں اس کی پیداوار26ہزار597ٹن سالانہ تھی۔ ظاہر ہے کہ یہ تعداد ملکی صنعتوں کی ضروریات کے مقابلہ میں بہت کم ہے۔ پنجاب کے علاوہ بلوچستان میں کوئٹہ کے پاس لوہے کے ذخائر موجود ہیں مگر پاکستانی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے پہاڑی سلسلے میں لوہے کے وسیع ذخائر ہو سکتے ہیں۔ جن کی تلاش کا کام جاری ہے۔
کیمیائی صنعت میں گندھک بہت کار آمد ہے۔ پاکستان میں گندھک کی زیادہ مقدار بلوچستان میں ہی پائی جاتی ہے اور اسے صاف کرنے کے کارخانے کراچی اور کوئٹہ میں تعمیر کیے گئے ہیں۔ بلوچستان کے علاوہ گندھک قلات، خیر پور، مردان اور جیکب آباد میں بھی پائی جاتی ہے۔ واضح ہو کہ گندھک سوئی گیس سے بھی حاصل کی جاتی ہے۔
کرومائیٹ ایک ایسی دھات ہے جو متعدد دوسری دھاتوں کی تیاری میں کام آتی ہے اور اس کا صنعت میں بہت استعمال ہوتا ہے۔ علاوہ بریں یہ اسلحہ سازی اور چمڑا رنگنے کے بھی کام آتی ہے۔ بلوچستان کے ضلع چاغی میں کرومائیٹ کی ایک بہت بڑی تعداد موجود ہے۔
جپسم ایک ایسی قسم کا پتھر ہے جو پلاسٹر آف پیرس اور رنگ و روغن وغیرہ کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ سیمنٹ بنانے میں بھی جپسم استعمال ہوتا ہے۔ پاکستان میں جپسم ملکی ضروریات کے لیے کافی مقدار میں دستیاب ہے اور یہ پنجاب کے علاوہ بلوچستان اور قلات کے علاقوں میں وسیع تعداد میں ملتا ہے۔
جبکہ قدرتی گیس سے تو بلوچستان ایک مالامال علاقہ ہے۔1952ءمیں بلوچستان میں سوئی کے مقام پر تیل کے کنووں کی تلاش کے دوران ہی قدرتی گیس کا بہت بڑا ذخیرہ دریافت ہوا تھا۔ جس کی مقدار تقریباً 60 کھرب مکعب فٹ بتائی جاتی ہے۔پاکستان کی گھریلو ضروریات کے علاوہ صنعتوں کی ایک بڑی تعداد اسی گیس پر انحصار کرتی ہے۔
ابھی حال ہی میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویزکیانی کی ہدایت پر انسپکٹرجنرل فرنٹیئرکوربلوچستان میجرجنرل عبیداللہ کی نگرانی میںمائیز، منرل ڈیپاٹمنٹ اورجیولاجیکل سروے آف پاکستان کے تعاون سے بلوچستان کے وسیع علاقے کاسروے کرایاگیا اور بلوچستان مین پائی جانے والی ان معدنیات اور دیگر قدرتی وسائل کو بروئے کار لانے کے لیے منصوبہ ترتیب دیا گیا ہے ۔جس کا جلد ہی افتتاح متوقع ہے۔ سروے سے جو نتائج اخذ کیے گئے ہیں ان کے مطابق بلوچستان میں بہت سی قیمتی معدنیات پائی جاتی ہیں جن میں سونا بھی شامل ہے۔بلوچستان کی اس خطے میں اہمیت اس وجہ سے بھی ہے کہ بلوچستان سنٹرل ایشین معدنی ذخائر کی ترسیل کا واحد پوائنٹ ہے جس کی وجہ سے غیر ملکی طاقتیںاس علاقے پر اپنا تسلط قائم کرنا چاہتی ہیں۔
امریکہ کی اس علاقے میں دلچسپی کی ایک اور اہم وجہ یہ ہے کہ مستقبل میں اس کا حریف ملک چین گوادر کی تعمیر میں عملی حصہ لے رہا ہے۔ جو چین ، روس کے علاوہ بین الاقوامی بحری راستے کی ایک اہم بندرگاہ ہے۔ اس پورٹ کے ذریعے یورپ ، مشرق وسطیٰ، چین اور روسی ریاستوں کی باہم تجارت آسان ہو گئی ہے۔ امریکہ اس پورٹ پر قبضہ کرنا چاہتا ہے لیکن اس کا انتظام و انصرام پاکستان نے چین کو دے دیا۔ یہی بات امریکہ کیلئے سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔ گوادر ڈیپ سی پورٹ کی تعمیر اور پاکستان کی معیشت پر اس کے گہرے مثبت اثرات کے ساتھ وسط ایشیاءسے اقتصادی تعلقات شاندار مستقبل اور ایشیائی خطے کی سیاست میں پاکستان کو جس مقام پر لے جائیں گے وہ امریکہ کے ساتھ ساتھ بھارت کو بھی قبول نہیں۔ بھارت کی پریشانی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں بلکہ بھارت کی بحری فوج کے سربراہ کابیان ریکارڈ پر ہے کہ بھارت کو گوادر میں چین کی موجودگی پر سخت تشویش لاحق ہے۔ انہی تمام منصوبہ جات کی تکمیل کیلئے امریکہ نے کوئٹہ میں قونصل خانہ کھولنے کی اجازت طلب کی تھی جس کو وزرات دفاع اور خارجہ نے مستر د کر دیا تھا۔
مریکہ گوادر میں چین کی موجودگی کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے جبکہ ہمسائے میں ایران بھی ہے ۔ بلوچستان کے حالات خراب کرنے میں سی آئی اے کا ہاتھ ہے۔بلوچستان میں دھماکوں اور چینی انجینئروں کی ہلاکت کے تانے بانے بھی امریکہ سے جا ملتے ہیں۔ امریکہ محسوس کر رہا ہے کہ بلوچستان میں ترقیاتی کام چینی انجینئروں کی نگرانی میںہو رہے ہیں اور مستقبل میں گوادر کی بندر گاہ اور بلوچستان چین کیلئے گرم پانیوں تک رسائی کا باعث بن سکتے ہیں۔ دوسری طرف امریکہ کو بلوچستان میں معدنیات گیس، تیل اور قیمتی ہیرے جواہرات کے خزانے نظر آرہے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ پاکستان مستقبل میں ان خزانوں سے استفادہ کرسکے۔ یہود و نصاریٰ اور ہنود ایک ایسا اتحاد ثلاثہ ہے جو بلوچستان کو پاکستان سے علیحدہ کر کے افغانستان اور ایران کے بعض علاقے اس کے ساتھ ملا کر گرم پانیوں کے ساحل کو گریٹر بلوچستان کے نام پر اپنی زیر تسلط ریاست بنانا چاہتا ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s