5 پارلیمانی تاریخ


منصور مہدی
اس وقت بلوچستان کی سیاست تین مختلف سو چ رکھنے والے گروپس میں تقسیم ہے۔ایک گروپ خود کو قوم دوست کہلاتا۔ یہ پاکستان کے آئین وقوانین کے تحت سیاست کرتا ہے۔ اس گروپ کی نمائندہ جماعتیں نیشنل پارٹی اور بی این پی (عوامی ) ہیں۔نیشنل پارٹی میں بلوچ سرداروں کے علاوہ عام لوگوں کی بھی اکثریت ہے۔ یہ بلوچستان کے متوسط طقبے کی واحد سیاسی جماعت ہے۔
دوسرا گروپ ایسی جماعتوں کا ہے جو وفاقی سیاست کے حامی ہیں۔ اس گروپ کی سب سے بڑی جماعت جمعیت علماء اسلام ہے اس کے علاوہ جماعت اسلامی ، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ( ن ) کے بھی دفاترموجود ہیں۔
تیسر اگروپ علیحدگی پسندوں کا ہے جو بلوچستان کو پاکستان کا حصہ ماننے سے انکاری ہیں ان کا موقف ہے کہ بلوچستان ایک آزاد ریاست تھی جس پر مارچ 1948کو پاکستان نے بزور طاقت قبضہ کر لیا۔اس گروپ میں بی این ایم ، بی آرپی اور بی ایس او( آزاد ) ہیں۔
ان جماعتوں میں سے بیشتر جماعتیں قیام پاکستان کے وقت سے ہی قائم ہیں تاہم بلوچستان کی پارلیمانی تاریخ کا آغاز 1972سے شروع ہوتا ہے۔ کہ جب بلوچستان کی صوبائی اسمبلی ایک صدارتی حکم کے تحت وجود میں آئی۔ اسمبلی کا پہلا اور باقاعدہ اجلاس 2 مئی 1972 کو منعقد ہوا جس میں 21 ممبران (ایک خاتون اور 20 مرد حضرات) نے شرکت کی۔ بلوچستان میں اب تک 9بار انتخابات ہو چکے ہیں۔
بلوچستان صوبائی اسمبلی کے پہلے انتخابات17دسمبر1970ءکو منعقد ہوئے۔ ان انتخابات کے نتیجے میں نیشنل پارٹی عوامی نے اکثریت حاصل کی اور جمعیت علمائے اسلام مفتی گروپ کے ساتھ ملکر صوبے میں اپریل 1972کو سردارعطاءاللہ مینگل کی قیادت میں مخلوط حکومت تشکیل دی۔ اس وقت اسمبلی ممبران کی کل تعداد21تھی۔ جس میں 20مرد اور خواتین کے لئے ایک نشست مخصوص کی کی گئی تھی۔چونکہ اس وقت اسمبلی کے لئے کوئی باقاعدہ عمارت نہیں تھی اس لئے اسمبلی کا دفتر موجودہ ٹاﺅن ہال میں قائم کیا گیا۔ پہلی اسمبلی کا افتتاحی اجلاس اس وقت کے گورنر جناب غوث بخش بزنجو نے2مئی1972 کو طلب کیا جس کی صدارت عبدالصمد خان اچکزئی نے کی۔ محمد خان باروزئی اور مولوی سید محدم شمس الدین بالترتیب بلا مقابلہ اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوئے۔اس اسمبلی کے پہلے قائدایوان سردار عطااللہ مینگل تھے جبکہ قائدحزب اختلاف غوث نجش رئیسائی تھے۔ عطاءاللہ مینگل کی سربراہی میں بننے والی یہ مخلوط حکومت کو 13 فروری 1973 کو برطرف کردیا گیا اور نواب اکبر بگٹی مرحوم کو بزنجو کی جگہ پر صوبے کا گورنر مقرر کردیا گیا۔ مینگل حکومت پر غیر ملکی اسلحہ کی مدد سے بلوچستان کوآزاد کرانے کی سازش کا الزام تھا۔ یوں مینگل حکومت صرف نو ماہ ہی چلی۔
دوسری اسمبلی 1977
10 مارچ 1977 کو دوسری اسمبلی وجود میںآئی جو کہ 4 جولائی 1977 تک چلی۔ یہ سب سے کم عرصہ رہنے والی اسمبلی تھی۔ اس اسمبلی میں ممبران کی تعداد 43 تھی۔ جس میں 40 عام ، 2 خواتین اور ایک اقلیتی ممبر تھے۔ 5 اپریل 1977 کے اجلاس میں میر جام غلام قادر اور محمد رحیم کاکڑ باالترتیب اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوئے جبکہ سردار محمد خان باروزئی قائد ایوان منتخب ہوئے۔ 4 جولائی 1977 کو اسمبلیاںتوڑ کر جنرل ضیا الحق نے ملک میں مارشل لاءنافذ کر دیا۔
تیسری اسمبلی 1985
طویل عرصہ تک مارشل لاءکے نفاذ کے بعد غیر جماعتی بنیادوں پر منتخب ہونے والی تیسری اسمبلی 12 مارچ 1985 کو وجود میں آئی۔ اس اسمبلی میں ممبران کی تعداد 45تھی۔ جس میں40 عام ، 2 خواتین اور 3 اقلیتی ممبران شامل تھے۔ ملک محمد سرور خان کاکڑ و آغا عبدالظاہر احمد زئی باالترتیب اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوئے۔ جبکہ جام میر غلام قادر قائد ایوان منتخب ہوئے۔ اسی دوران بلوچستان اسمبلی نئی تعمیر شدہ عمارت میں منتقل ہوئی۔ غیر جماعتی بنیادوں پر وجود میں آنے والی تیسری بلوچستان اسمبلی بھی اپنی مدت پوری نہیںکرسکی ، اسمبلی کو اس وقت کے صدر ضیا الحق نے 29 مئی 1988 کو توڑ کر نئے انتخابات کا اعلان کیا۔
چوتھی اسمبلی 1988
26 نومبر 1988 تا 7 اگست 1990 تک رہنے والی چوتھی اسمبلی کے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر باالترتیب سردار محمد خان باروزئی اور میر عبدالمجید بزنجو منتخب ہوئے جبکہ میر ظفر اللہ خان جمالی قائد ایوان منتخب ہوئے۔ میر ظفر اللہ جمالی کی قیادت میں بننے والی یہ اسمبلی تقریبا22 دن چلنے کے بعد اپنی اکثریت ثابت نہ کرنے کی بنا پر ٹوٹ گئی۔ عدالتی حکم پر دوبارہ بحال ہونے والی اس اسمبلی نے نواب محمد اکبر خان بگٹی کی قیادت میں میر محمد اکرم بلوچ اور عنایت اللہ بلوچ کو اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر منتخب کیا۔ 15 ماہ تک خدمات انجام دے کر میر محمد اکرم خان بلوچ بحیثیت اسپیکر مستعفی ہوئے جس کے بعد اس عہدہ پر میر ظہور حسین خان کھوسہ منتخب ہوئے۔ تقریبآ 20 ماہ تک رہنے والی اس اسمبلی کو اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے توڑ کر نئے عام انتخابات کا اعلان کیا۔
پانچویںاسمبلی 1990
پانچویں بلوچستان اسمبلی2 نومبر 1990 تا 19 جولائی 1993 تک رہی۔ ممبران کی تعداد 43 تھی۔ جس میں 40 عام اور تین اقلیتی ممبران تھے جبکہ مذکورہ اسمبلی میںخواتین کے لئے کوئی نشست مختص نہیں کی گئی۔ ملک سکندر خان ایڈووکیٹ اور عبدالمجید بزنجو باالترتیب اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوئے۔ تقریبآ دو سال تک ڈپٹی اسپیکر رہنے کے بعد میر عبدالمجید بزنجو مستعفی ہوکر کابینہ میں شامل ہوئے جس کے بعد عبدالقہار خان ودان کو ڈپٹی اسپیکر منتخب کیا گیا۔ اڑھائی سال قائد ایوان رہنے کے بعد میر تاج محمد جمالی اپنے عہدے سے مستعفی ہوئے جس کے بعد نواب ذوالفقارعلی خان ان کی جگہ منتخب ہوئے۔ تقریبآ 29 ماہ تک رہنے والی اس اسمبلی کو اس وقت کے صدر نے توڑ دیا اور نئے عام انتخابات کا اعلان کیا۔
چھٹی اسمبلی 1993
اکتوبر 1993 تا 1996 تک رہنے والی چھٹی بلوچستان اسمبلی کے قائد ایوان نواب ذوالفقار خان مگسی منتخب ہوئے جبکہ اسپیکر عبدالوحید بلوچ اور ڈپٹی اسپیکر بشیر مسیح منتخب ہوئے۔ جمعیت علمائے اسلام کے مولانا عبدالواسع قائد حزب اختلاف نامزد کئے گئے۔ تقریبآ چھ ماہ تک ڈپٹی اسپیکر رہنے ک ےبعد بشیر مسیح وفات پا گئے۔ ان کی جگہ ارجن داس بگٹی ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوئے۔ اسمبلی ممبران کی تعداد43تھی۔ تقریبا تین سال رہنے والی اس اسمبلی کو اس وقت کے صدر نے توڑ کر نئے انتخابات کا اعلان کیا۔
ساتویں اسمبلی 1997
فروری 1997 تا اکتوبر 1999 تک رہنے والی بلوچستان اسمبلی کے پہلے قائد ایوان سردار اختر مینگل جبکہ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر باالترتیب میر عبدالجبار خان اور مولوی نصیب اللہ منتخب ہوئے۔ تقریبا اٹھارہ ماہ تک قائد ایوان رہنے کے بعد سردار اختر مینگل اکثریت کا اعتماد کھو دینے کی بنا پر مستعفی ہوئے۔ اس کے بعد ایوان نے میر جان محمد جمالی کو اپنا نیا قائد ایوان منتخب کیا۔ اس اسمبلی کو 14 اکتوبر 1999 کو ایمر جنسی کے نفاذ کے ساتھ ہی غیر معینہ مدت کے لئے تحلیل کردیا گیا۔
آٹھویںاسمبلی 2002
اکتوبر2002 کو منتخب ہونے والی آٹھویں بلوچستان اسمبلی میں ممبران کی تعداد 43 سے بڑھا کر 65 کردی گئی جن میں 51 عام ، 11 خواتین اور 3 نشستیں اقلیتوں کے لئے مختص کی گئیں۔ یہ صوبے کی پہلی گریجویٹ اسمبلی رہی یعنی ممبران کے لئے کم از کم تعلیمی قابلیت کی شرط بی۔ اے رکھی گئی۔مسلم لیگ ق اور متحدہ مجلس عمل نے مخلوط حکومت تشکیل دی۔ قائد ایوان مسلم لیگ ق کے جام محمد یوسف منتخب ہوئے جن کے والد جام غلام قادر بھی ماضی میں بلوچستان کے وزیراعلیٰ اور اسپیکر کے عہدے پر فائز رہے۔ اسمبلی کے قائد حزب اختلاف نیشنل پارٹی کے کچکول علی ایڈووکیٹ نامزد کئے گئے۔ جبکہ اسپیکر جمال شاہ کاکڑ اور ڈپٹی اسپیکر محمد اسلم بھوتانی منتخب ہوئے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ صوبائی اسمبلی کی تاریخ میںپہلی مرتبہ مسز نسرین رحمان کھیتران لورالائی سے عام نشست پر براہ راست عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوکر ایوان میں آئیں۔ اس اسمبلی کو نومبر 2008 میں صدر پرویز مشرف نے اپنی مدت پورے ہونے کے بعد تحلیل کردیا۔ یوں یہ اپنی مدت پوری کرنےوالی بلوچستان کی پہلی اسمبلی رہی۔
نویں اور موجودہ اسمبلی 2008
موجودہ اسمبلی کا پہلا اجلاس 7اپریل2008کو ہوا۔ اس اسمبلی میں بھی ممبران کی تعداد 65ہے۔ موجودہ ایوان کے اسپیکر محمد اسلم بھوتانی (مسلم لیگ ہم خیال)،ڈپٹی اسپیکر سید مطیع اللہ آغا (جمعیت علمائے اسلام ) اور قائدایوان نواب محمد اسلم خان رئیسانی (پاکستان پیپلز پارٹی )ہیں۔ یہ اسمبلی بھی اپنی مدت پوری کرنے والی دوسری اسمبلی ہوگی۔

بلوچستان میں پاکستان پیپلز پارٹی کی تین بار حکومت قائم ہوئی۔ پہلی بار 27اپریل 1973سے 31دسمبر1974تک جبکہ وزیر اعلیٰ جام غلام قادر خان تھے، دوسری بار 7دسمبر1976سے 4اپریل1977تک، اس بار وزیر اعلیٰ سردار محمد خان باروزئی تھے۔ تیسری بار 9اپریل2008سے اب تک جس میں وزیر اعلیٰ اسلم رئیسانی ہیں۔ دو بار بلوچستان نیشنل پارٹی نے حکومت کی۔ پہلی بار 5فروری1989سے 7اگست1990تک، جس کے وزیر اعلیٰ اکبر خان بگٹی تھے اور دوسری بار 22فروری1997سے15جون1998تک، اس بار وزیر اعلیٰ کے فرائض اختر مینگل سرانجام دیتے رہے۔ یکم مئی1972سے13فروری 1973تک نیشنل عوامی پارٹی برسراقتدار رہی اور وزارت اعلیٰ پر عطا اللہ مینگل فائز رہے۔ دو مرتبہ اسلامی جمہوری اتحاد برسر اقتدار رہا ۔ پہلی مرتبہ24جون سے 1988سے 24دسمبر1988تک وزارت اعلیٰ پر ظفر اللہ جمالی فائز رہے اور دوسری بار 17نومبر1990سے20مئی1993تک تاج محمد جمالی وزارت اعلیٰ پر فائز رہے۔ایک بار پاکستان مسلم لیگ ق یکم دسمبر 2002سے 19نومبر2007تک برسراقتدار رہی جبکہ وزارت اعلیٰ پر جام محمد یوسف فائز رہے۔ 13فروری1973سے 27اپریل1973تک اور31دسمبر1974سے7دسمبر1976تک، 12اکتوبر 1999سے یکم دسمبر 2002تک بلوچستان میں گورنر راج رہا۔ جبکہ 4اپریل1977سے6اپریل 1985تک مارشل لاءکا نفاذ رہا۔
مجموعی طور پر بلوچستان میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت تین بار رہی اور سب سے زیادہ عرصہ بھی اسی نے حکومت کی جبکہ اسلامی جمہوری اتحاد اور بلوچستان نیشنل پارٹی بھی دو دو بار برسراقتدار رہی۔

‚ž¢ˆ’„  œ¤ ƒŽž¤Ÿ ¤ „Ž¤Š

Ÿ ”¢Ž Ÿ¦‹¤
’ ¢›„ ‚ž¢ˆ’„  œ¤ ’¤’„ „¤  ŸŠ„žš ’¢ ˆ Žœ§ ¥ ¢ž¥ Ž¢ƒ’ Ÿ¤¡ „›’¤Ÿ ¦¥ó¤œ Ž¢ƒ Š¢‹ œ¢ ›¢Ÿ ‹¢’„ œ¦ž„ó ¤¦ ƒœ’„  œ¥ ³£¤  ¢›¢ ¤  œ¥ „‰„ ’¤’„ œŽ„ ¦¥ó ’ Ž¢ƒ œ¤  Ÿ£ ‹¦ ‡Ÿ˜„¤¡  ¤“ ž ƒŽ…¤ ¢Ž ‚¤ ¤  ƒ¤ ☢Ÿ¤ á ¦¤¡ó ¤“ ž ƒŽ…¤ Ÿ¤¡ ‚ž¢ˆ ’Ž‹Ž¢¡ œ¥ ˜ž¢¦ ˜Ÿ ž¢¢¡ œ¤ ‚§¤ œ†Ž¤„ ¦¥ó ¤¦ ‚ž¢ˆ’„  œ¥ Ÿ„¢’– –›‚¥ œ¤ ¢‰‹ ’¤’¤ ‡Ÿ˜„ ¦¥ó
‹¢’Ž Ž¢ƒ ¤’¤ ‡Ÿ˜„¢¡ œ ¦¥ ‡¢ ¢š›¤ ’¤’„ œ¥ ‰Ÿ¤ ¦¤¡ó ’ Ž¢ƒ œ¤ ’‚ ’¥ ‚¤ ‡Ÿ˜„ ‡Ÿ˜¤„ ˜žŸ£  ’žŸ ¦¥ ’ œ¥ ˜ž¢¦ ‡Ÿ˜„ ’žŸ¤ í ƒ¤ƒž ƒŽ…¤ ¢Ž Ÿ’žŸ ž¤ â   á œ¥ ‚§¤ ‹š„ŽŸ¢‡¢‹ ¦¤¡ó
 „¤’Ž Ž¢ƒ ˜ž¤‰‹¤ ƒ’ ‹¢¡ œ ¦¥ ‡¢ ‚ž¢ˆ’„  œ¢ ƒœ’„  œ ‰”¦ Ÿ  ¥ ’¥  œŽ¤ ¦¤¡   œ Ÿ¢›š ¦¥ œ¦ ‚ž¢ˆ’„  ¤œ ³‹ Ž¤’„ „§¤ ‡’ ƒŽ ŸŽˆ 1948œ¢ ƒœ’„   ¥ ‚¢Ž –›„ ›‚•¦ œŽ ž¤ó’ Ž¢ƒ Ÿ¤¡ ‚¤ ¤  ¤Ÿ í ‚¤ ³Žƒ¤ ¢Ž ‚¤ ¤’ ¢â ³‹ á ¦¤¡ó
  ‡Ÿ˜„¢¡ Ÿ¤¡ ’¥ ‚¤“„Ž ‡Ÿ˜„¤¡ ›¤Ÿ ƒœ’„  œ¥ ¢›„ ’¥ ¦¤ ›£Ÿ ¦¤¡ „¦Ÿ ‚ž¢ˆ’„  œ¤ ƒŽž¤Ÿ ¤ „Ž¤Š œ ³™ 1972’¥ “Ž¢˜ ¦¢„ ¦¥ó œ¦ ‡‚ ‚ž¢ˆ’„  œ¤ ”¢‚£¤ ’Ÿ‚ž¤ ¤œ ”‹Ž„¤ ‰œŸ œ¥ „‰„ ¢‡¢‹ Ÿ¤¡ ³£¤ó ’Ÿ‚ž¤ œ ƒ¦ž ¢Ž ‚›˜‹¦ ‡ž’ 2 Ÿ£¤ 1972 œ¢ Ÿ ˜›‹ ¦¢ ‡’ Ÿ¤¡ 21 ŸŸ‚Ž  ⁤œ Š„¢  ¢Ž 20 ŸŽ‹ ‰•Ž„á  ¥ “Žœ„ œ¤ó ‚ž¢ˆ’„  Ÿ¤¡ ‚ „œ 9‚Ž  „Š‚„ ¦¢ ˆœ¥ ¦¤¡ó
‚ž¢ˆ’„  ”¢‚£¤ ’Ÿ‚ž¤ œ¥ ƒ¦ž¥  „Š‚„17‹’Ÿ‚Ž1970£ œ¢ Ÿ ˜›‹ ¦¢£¥ó    „Š‚„ œ¥  „¤‡¥ Ÿ¤¡  ¤“ ž ƒŽ…¤ ˜¢Ÿ¤  ¥ œ†Ž¤„ ‰”ž œ¤ ¢Ž ‡Ÿ˜¤„ ˜žŸ£¥ ’žŸ Ÿš„¤ Ž¢ƒ œ¥ ’„§ ŸžœŽ ”¢‚¥ Ÿ¤¡ ƒŽ¤ž 1972œ¢ ’Ž‹Ž˜–£ žž¦ Ÿ¤ ž œ¤ ›¤‹„ Ÿ¤¡ ŸŠž¢– ‰œ¢Ÿ„ „“œ¤ž ‹¤ó ’ ¢›„ ’Ÿ‚ž¤ ŸŸ‚Ž  œ¤ œž „˜‹‹21„§¤ó ‡’ Ÿ¤¡ 20ŸŽ‹ ¢Ž Š¢„¤  œ¥ ž£¥ ¤œ  “’„ ŸŠ”¢” œ¤ œ¤ £¤ „§¤óˆ¢ œ¦ ’ ¢›„ ’Ÿ‚ž¤ œ¥ ž£¥ œ¢£¤ ‚›˜‹¦ ˜ŸŽ„  ¦¤¡ „§¤ ’ ž£¥ ’Ÿ‚ž¤ œ ‹š„Ž Ÿ¢‡¢‹¦  …£¢  ¦ž  Ÿ¤¡ ›£Ÿ œ¤ ¤ó ƒ¦ž¤ ’Ÿ‚ž¤ œ š„„‰¤ ‡ž’ ’ ¢›„ œ¥ ¢Ž Ž ‡ ‚ ™¢† ‚Š“ ‚ ‡¢  ¥2Ÿ£¤1972 œ¢ –ž‚ œ¤ ‡’ œ¤ ”‹Ž„ ˜‚‹ž”Ÿ‹ Š  ˆœ£¤  ¥ œ¤ó Ÿ‰Ÿ‹ Š  ‚Ž¢£¤ ¢Ž Ÿ¢ž¢¤ ’¤‹ Ÿ‰‹Ÿ “Ÿ’ ž‹¤  ‚ž„Ž„¤‚ ‚ž Ÿ›‚ž¦ ’ƒ¤œŽ ¢ Œƒ…¤ ’ƒ¤œŽ Ÿ „Š‚ ¦¢£¥ó’ ’Ÿ‚ž¤ œ¥ ƒ¦ž¥ ›£‹¤¢  ’Ž‹Ž ˜–žž¦ Ÿ¤ ž „§¥ ‡‚œ¦ ›£‹‰‚ Š„žš ™¢†  ‡“ Ž£¤’£¤ „§¥ó ˜–£ žž¦ Ÿ¤ ž œ¤ ’Ž‚Ž¦¤ Ÿ¤¡ ‚  ¥ ¢ž¤ ¤¦ ŸŠž¢– ‰œ¢Ÿ„ œ¢ 13 šŽ¢Ž¤ 1973 œ¢ ‚Ž–Žš œŽ‹¤ ¤ ¢Ž  ¢‚ œ‚Ž ‚…¤ ŸŽ‰¢Ÿ œ¢ ‚ ‡¢ œ¤ ‡¦ ƒŽ ”¢‚¥ œ ¢Ž Ž Ÿ›ŽŽ œŽ‹¤ ¤ó Ÿ¤ ž ‰œ¢Ÿ„ ƒŽ ™¤Ž Ÿžœ¤ ’ž‰¦ œ¤ Ÿ‹‹ ’¥ ‚ž¢ˆ’„  œ¢³‹ œŽ ¥ œ¤ ’“ œ žŸ „§ó ¤¢¡ Ÿ¤ ž ‰œ¢Ÿ„ ”Žš  ¢ Ÿ¦ ¦¤ ˆž¤ó
‹¢’Ž¤ ’Ÿ‚ž¤ 1977
10 ŸŽˆ 1977 œ¢ ‹¢’Ž¤ ’Ÿ‚ž¤ ¢‡¢‹ Ÿ¤¡³£¤ ‡¢ œ¦ 4 ‡¢ž£¤ 1977 „œ ˆž¤ó ¤¦ ’‚ ’¥ œŸ ˜Ž”¦ Ž¦ ¥ ¢ž¤ ’Ÿ‚ž¤ „§¤ó ’ ’Ÿ‚ž¤ Ÿ¤¡ ŸŸ‚Ž  œ¤ „˜‹‹ 43 „§¤ó ‡’ Ÿ¤¡ 40 ˜Ÿ í 2 Š¢„¤  ¢Ž ¤œ ›ž¤„¤ ŸŸ‚Ž „§¥ó 5 ƒŽ¤ž 1977 œ¥ ‡ž’ Ÿ¤¡ Ÿ¤Ž ‡Ÿ ™žŸ ›‹Ž ¢Ž Ÿ‰Ÿ‹ Ž‰¤Ÿ œœ ‚ž„Ž„¤‚ ’ƒ¤œŽ ¢ Œƒ…¤ ’ƒ¤œŽ Ÿ „Š‚ ¦¢£¥ ‡‚œ¦ ’Ž‹Ž Ÿ‰Ÿ‹ Š  ‚Ž¢£¤ ›£‹ ¤¢  Ÿ „Š‚ ¦¢£¥ó 4 ‡¢ž£¤ 1977 œ¢ ’Ÿ‚ž¤¡„¢ œŽ ‡ Žž •¤ ž‰›  ¥ Ÿžœ Ÿ¤¡ ŸŽ“ž ž£  š œŽ ‹¤ó
„¤’Ž¤ ’Ÿ‚ž¤ 1985
–¢¤ž ˜Ž”¦ „œ ŸŽ“ž ž£ œ¥  š œ¥ ‚˜‹ ™¤Ž ‡Ÿ˜„¤ ‚ ¤‹¢¡ ƒŽ Ÿ „Š‚ ¦¢ ¥ ¢ž¤ „¤’Ž¤ ’Ÿ‚ž¤ 12 ŸŽˆ 1985 œ¢ ¢‡¢‹ Ÿ¤¡ ³£¤ó ’ ’Ÿ‚ž¤ Ÿ¤¡ ŸŸ‚Ž  œ¤ „˜‹‹ 45„§¤ó ‡’ Ÿ¤¡40 ˜Ÿ í 2 Š¢„¤  ¢Ž 3 ›ž¤„¤ ŸŸ‚Ž  “Ÿž „§¥ó Ÿžœ Ÿ‰Ÿ‹ ’Ž¢Ž Š  œœ ¢ ³™ ˜‚‹ž—¦Ž ‰Ÿ‹ £¤ ‚ž„Ž„¤‚ ’ƒ¤œŽ ¢ Œƒ…¤ ’ƒ¤œŽ Ÿ „Š‚ ¦¢£¥ó ‡‚œ¦ ‡Ÿ Ÿ¤Ž ™žŸ ›‹Ž ›£‹ ¤¢  Ÿ „Š‚ ¦¢£¥ó ’¤ ‹¢Ž  ‚ž¢ˆ’„  ’Ÿ‚ž¤  £¤ „˜Ÿ¤Ž “‹¦ ˜ŸŽ„ Ÿ¤¡ Ÿ „›ž ¦¢£¤ó ™¤Ž ‡Ÿ˜„¤ ‚ ¤‹¢¡ ƒŽ ¢‡¢‹ Ÿ¤¡ ³ ¥ ¢ž¤ „¤’Ž¤ ‚ž¢ˆ’„  ’Ÿ‚ž¤ ‚§¤ ƒ ¤ Ÿ‹„ ƒ¢Ž¤  ¦¤¡œŽ’œ¤ í ’Ÿ‚ž¤ œ¢ ’ ¢›„ œ¥ ”‹Ž  •¤ ž‰›  ¥ 29 Ÿ£¤ 1988 œ¢ „¢ œŽ  £¥  „Š‚„ œ ˜ž  œ¤ó
ˆ¢„§¤ ’Ÿ‚ž¤ 1988
26  ¢Ÿ‚Ž 1988 „ 7 ’„ 1990  „œ Ž¦ ¥ ¢ž¤ ˆ¢„§¤ ’Ÿ‚ž¤ œ¥ ’ƒ¤œŽ ¢Ž Œƒ…¤ ’ƒ¤œŽ ‚ž„Ž„¤‚ ’Ž‹Ž Ÿ‰Ÿ‹ Š  ‚Ž¢£¤ ¢Ž Ÿ¤Ž ˜‚‹žŸ‡¤‹ ‚ ‡¢ Ÿ „Š‚ ¦¢£¥ ‡‚œ¦ Ÿ¤Ž —šŽ žž¦ Š  ‡Ÿž¤ ›£‹ ¤¢  Ÿ „Š‚ ¦¢£¥ó Ÿ¤Ž —šŽ žž¦ ‡Ÿž¤ œ¤ ›¤‹„ Ÿ¤¡ ‚  ¥ ¢ž¤ ¤¦ ’Ÿ‚ž¤ „›Ž¤‚22 ‹  ˆž ¥ œ¥ ‚˜‹ ƒ ¤ œ†Ž¤„ †‚„  ¦ œŽ ¥ œ¤ ‚   ƒŽ …¢… £¤ó ˜‹ž„¤ ‰œŸ ƒŽ ‹¢‚Ž¦ ‚‰ž ¦¢ ¥ ¢ž¤ ’ ’Ÿ‚ž¤  ¥  ¢‚ Ÿ‰Ÿ‹ œ‚Ž Š  ‚…¤ œ¤ ›¤‹„ Ÿ¤¡ Ÿ¤Ž Ÿ‰Ÿ‹ œŽŸ ‚ž¢ˆ ¢Ž ˜ ¤„ žž¦ ‚ž¢ˆ œ¢ ’ƒ¤œŽ ¢ Œƒ…¤ ’ƒ¤œŽ Ÿ „Š‚ œ¤ó 15 Ÿ¦ „œ Š‹Ÿ„  ‡Ÿ ‹¥ œŽ Ÿ¤Ž Ÿ‰Ÿ‹ œŽŸ Š  ‚ž¢ˆ ‚‰¤†¤„ ’ƒ¤œŽ Ÿ’„˜š¤ ¦¢£¥ ‡’ œ¥ ‚˜‹ ’ ˜¦‹¦ ƒŽ Ÿ¤Ž —¦¢Ž ‰’¤  Š  œ§¢’¦ Ÿ „Š‚ ¦¢£¥ó „›Ž¤‚³ 20 Ÿ¦ „œ Ž¦ ¥ ¢ž¤ ’ ’Ÿ‚ž¤ œ¢ ’ ¢›„ œ¥ ”‹Ž ™žŸ ’‰› Š   ¥ „¢ œŽ  £¥ ˜Ÿ  „Š‚„ œ ˜ž  œ¤ó
ƒ ˆ¢¤¡’Ÿ‚ž¤ 1990
ƒ ˆ¢¤¡ ‚ž¢ˆ’„  ’Ÿ‚ž¤2  ¢Ÿ‚Ž 1990 „ 19 ‡¢ž£¤ 1993 „œ Ž¦¤ó ŸŸ‚Ž  œ¤ „˜‹‹ 43 „§¤ó ‡’ Ÿ¤¡ 40 ˜Ÿ ¢Ž „¤  ›ž¤„¤ ŸŸ‚Ž  „§¥ ‡‚œ¦ Ÿœ¢Ž¦ ’Ÿ‚ž¤ Ÿ¤¡Š¢„¤  œ¥ ž£¥ œ¢£¤  “’„ ŸŠ„”  ¦¤¡ œ¤ £¤ó Ÿžœ ’œ ‹Ž Š  ¤Œ¢¢œ¤… ¢Ž ˜‚‹žŸ‡¤‹ ‚ ‡¢ ‚ž„Ž„¤‚ ’ƒ¤œŽ ¢ Œƒ…¤ ’ƒ¤œŽ Ÿ „Š‚ ¦¢£¥ó „›Ž¤‚³ ‹¢ ’ž „œ Œƒ…¤ ’ƒ¤œŽ Ž¦ ¥ œ¥ ‚˜‹ Ÿ¤Ž ˜‚‹žŸ‡¤‹ ‚ ‡¢ Ÿ’„˜š¤ ¦¢œŽ œ‚¤ ¦ Ÿ¤¡ “Ÿž ¦¢£¥ ‡’ œ¥ ‚˜‹ ˜‚‹ž›¦Ž Š  ¢‹  œ¢ Œƒ…¤ ’ƒ¤œŽ Ÿ „Š‚ œ¤ ¤ó §£¤ ’ž ›£‹ ¤¢  Ž¦ ¥ œ¥ ‚˜‹ Ÿ¤Ž „‡ Ÿ‰Ÿ‹ ‡Ÿž¤ ƒ ¥ ˜¦‹¥ ’¥ Ÿ’„˜š¤ ¦¢£¥ ‡’ œ¥ ‚˜‹  ¢‚ ¢žš›Ž˜ž¤ Š    œ¤ ‡¦ Ÿ „Š‚ ¦¢£¥ó „›Ž¤‚³ 29 Ÿ¦ „œ Ž¦ ¥ ¢ž¤ ’ ’Ÿ‚ž¤ œ¢ ’ ¢›„ œ¥ ”‹Ž  ¥ „¢ ‹¤ ¢Ž  £¥ ˜Ÿ  „Š‚„ œ ˜ž  œ¤ó
ˆ§…¤ ’Ÿ‚ž¤ 1993
œ„¢‚Ž 1993 „ 1996 „œ Ž¦ ¥ ¢ž¤ ˆ§…¤ ‚ž¢ˆ’„  ’Ÿ‚ž¤ œ¥ ›£‹ ¤¢   ¢‚ ¢žš›Ž Š  Ÿ’¤ Ÿ „Š‚ ¦¢£¥ ‡‚œ¦ ’ƒ¤œŽ ˜‚‹ž¢‰¤‹ ‚ž¢ˆ ¢Ž Œƒ…¤ ’ƒ¤œŽ ‚“¤Ž Ÿ’¤‰ Ÿ „Š‚ ¦¢£¥ó ‡Ÿ˜¤„ ˜žŸ£¥ ’žŸ œ¥ Ÿ¢ž  ˜‚‹ž¢’˜ ›£‹ ‰‚ Š„žš  Ÿ‹ œ£¥ £¥ó „›Ž¤‚³ ˆ§ Ÿ¦ „œ Œƒ…¤ ’ƒ¤œŽ Ž¦ ¥ œ ¥‚˜‹ ‚“¤Ž Ÿ’¤‰ ¢š„ ƒ £¥ó   œ¤ ‡¦ Ž‡  ‹’ ‚…¤ Œƒ…¤ ’ƒ¤œŽ Ÿ „Š‚ ¦¢£¥ó ’Ÿ‚ž¤ ŸŸ‚Ž  œ¤ „˜‹‹43„§¤ó „›Ž¤‚ „¤  ’ž Ž¦ ¥ ¢ž¤ ’ ’Ÿ‚ž¤ œ¢ ’ ¢›„ œ¥ ”‹Ž  ¥ „¢ œŽ  £¥  „Š‚„ œ ˜ž  œ¤ó
’„¢¤¡ ’Ÿ‚ž¤ 1997
šŽ¢Ž¤ 1997 „ œ„¢‚Ž 1999 „œ Ž¦ ¥ ¢ž¤ ‚ž¢ˆ’„  ’Ÿ‚ž¤ œ¥ ƒ¦ž¥ ›£‹ ¤¢  ’Ž‹Ž Š„Ž Ÿ¤ ž ‡‚œ¦ ’ƒ¤œŽ ¢Ž Œƒ…¤ ’ƒ¤œŽ ‚ž„Ž„¤‚ Ÿ¤Ž ˜‚‹ž‡‚Ž Š  ¢Ž Ÿ¢ž¢¤  ”¤‚ žž¦ Ÿ „Š‚ ¦¢£¥ó „›Ž¤‚ …§Ž¦ Ÿ¦ „œ ›£‹ ¤¢  Ž¦ ¥ œ¥ ‚˜‹ ’Ž‹Ž Š„Ž Ÿ¤ ž œ†Ž¤„ œ ˜„Ÿ‹ œ§¢ ‹¤ ¥ œ¤ ‚   ƒŽ Ÿ’„˜š¤ ¦¢£¥ó ’ œ¥ ‚˜‹ ¤¢   ¥ Ÿ¤Ž ‡  Ÿ‰Ÿ‹ ‡Ÿž¤ œ¢ ƒ   ¤ ›£‹ ¤¢  Ÿ „Š‚ œ¤ó ’ ’Ÿ‚ž¤ œ¢ 14 œ„¢‚Ž 1999 œ¢ ¤ŸŽ ‡ ’¤ œ¥  š œ¥ ’„§ ¦¤ ™¤Ž Ÿ˜¤ ¦ Ÿ‹„ œ¥ ž£¥ „‰ž¤ž œŽ‹¤ ¤ó
³…§¢¤¡’Ÿ‚ž¤ 2002
œ„¢‚Ž2002 œ¢ Ÿ „Š‚ ¦¢ ¥ ¢ž¤ ³…§¢¤¡ ‚ž¢ˆ’„  ’Ÿ‚ž¤ Ÿ¤¡ ŸŸ‚Ž  œ¤ „˜‹‹ 43 ’¥ ‚§ œŽ 65 œŽ‹¤ £¤ ‡  Ÿ¤¡ 51 ˜Ÿ í 11 Š¢„¤  ¢Ž 3  “’„¤¡ ›ž¤„¢¡ œ¥ ž£¥ ŸŠ„” œ¤ £¤¡ó ¤¦ ”¢‚¥ œ¤ ƒ¦ž¤ Ž¤‡¢¤… ’Ÿ‚ž¤ Ž¦¤ ¤˜ ¤ ŸŸ‚Ž  œ¥ ž£¥ œŸ  œŸ „˜ž¤Ÿ¤ ›‚ž¤„ œ¤ “Ž– ‚¤ó ¥ Žœ§¤ £¤óŸ’žŸ ž¤ › ¢Ž Ÿ„‰‹¦ Ÿ‡ž’ ˜Ÿž  ¥ ŸŠž¢– ‰œ¢Ÿ„ „“œ¤ž ‹¤ó ›£‹ ¤¢  Ÿ’žŸ ž¤ › œ¥ ‡Ÿ Ÿ‰Ÿ‹ ¤¢’š Ÿ „Š‚ ¦¢£¥ ‡  œ¥ ¢ž‹ ‡Ÿ ™žŸ ›‹Ž ‚§¤ Ÿ•¤ Ÿ¤¡ ‚ž¢ˆ’„  œ¥ ¢¤Ž˜ž¤½ ¢Ž ’ƒ¤œŽ œ¥ ˜¦‹¥ ƒŽ š£ Ž¦¥ó ’Ÿ‚ž¤ œ¥ ›£‹ ‰‚ Š„žš  ¤“ ž ƒŽ…¤ œ¥ œˆœ¢ž ˜ž¤ ¤Œ¢¢œ¤…  Ÿ‹ œ£¥ £¥ó ‡‚œ¦ ’ƒ¤œŽ ‡Ÿž “¦ œœ ¢Ž Œƒ…¤ ’ƒ¤œŽ Ÿ‰Ÿ‹ ’žŸ ‚§¢„ ¤ Ÿ „Š‚ ¦¢£¥ó¤¦¡ ¤¦ ‚„ ›‚ž œŽ ¦¥ œ¦ ”¢‚£¤ ’Ÿ‚ž¤ œ¤ „Ž¤Š Ÿ¤¡ƒ¦ž¤ ŸŽ„‚¦ Ÿ’  ’Ž¤  Ž‰Ÿ  œ§¤„Ž  ž¢Žž£¤ ’¥ ˜Ÿ  “’„ ƒŽ ‚Ž¦ Ž’„ ˜¢Ÿ œ¥ ¢¢…¢¡ ’¥ Ÿ „Š‚ ¦¢œŽ ¤¢  Ÿ¤¡ ³£¤¡ó ’ ’Ÿ‚ž¤ œ¢  ¢Ÿ‚Ž 2008  Ÿ¤¡ ”‹Ž ƒŽ¢¤ Ÿ“Žš  ¥ ƒ ¤ Ÿ‹„ ƒ¢Ž¥ ¦¢ ¥ œ¥ ‚˜‹ „‰ž¤ž œŽ‹¤ó ¤¢¡ ¤¦ ƒ ¤ Ÿ‹„ ƒ¢Ž¤ œŽ ¥¢ž¤ ‚ž¢ˆ’„  œ¤ ƒ¦ž¤ ’Ÿ‚ž¤ Ž¦¤ó
 ¢¤¡ ¢Ž Ÿ¢‡¢‹¦ ’Ÿ‚ž¤ 2008
Ÿ¢‡¢‹¦ ’Ÿ‚ž¤ œ ƒ¦ž ‡ž’ 7ƒŽ¤ž2008œ¢ ¦¢ó ’ ’Ÿ‚ž¤ Ÿ¤¡ ‚§¤ ŸŸ‚Ž  œ¤ „˜‹‹ 65¦¥ó Ÿ¢‡¢‹¦ ¤¢  œ¥ ’ƒ¤œŽ Ÿ‰Ÿ‹ ’žŸ ‚§¢„ ¤ ⟒žŸ ž¤ ¦Ÿ Š¤žá팃…¤ ’ƒ¤œŽ ’¤‹ Ÿ–¤˜ žž¦ ³™ ⇟˜¤„ ˜žŸ£¥ ’žŸ á ¢Ž ›£‹¤¢   ¢‚ Ÿ‰Ÿ‹ ’žŸ Š  Ž£¤’ ¤ ⃁œ’„  ƒ¤ƒž ƒŽ…¤ ᦤ¡ó ¤¦ ’Ÿ‚ž¤ ‚§¤ ƒ ¤ Ÿ‹„ ƒ¢Ž¤ œŽ ¥ ¢ž¤ ‹¢’Ž¤ ’Ÿ‚ž¤ ¦¢¤ó

‚ž¢ˆ’„  Ÿ¤¡ ƒœ’„  ƒ¤ƒž ƒŽ…¤ œ¤ „¤  ‚Ž ‰œ¢Ÿ„ ›£Ÿ ¦¢£¤ó ƒ¦ž¤ ‚Ž 27ƒŽ¤ž 1973’¥ 31‹’Ÿ‚Ž1974„œ ‡‚œ¦ ¢¤Ž ˜ž¤½ ‡Ÿ ™žŸ ›‹Ž Š  „§¥í ‹¢’Ž¤ ‚Ž 7‹’Ÿ‚Ž1976’¥ 4ƒŽ¤ž1977„œí ’ ‚Ž ¢¤Ž ˜ž¤½ ’Ž‹Ž Ÿ‰Ÿ‹ Š  ‚Ž¢£¤ „§¥ó „¤’Ž¤ ‚Ž 9ƒŽ¤ž2008’¥ ‚ „œ ‡’ Ÿ¤¡ ¢¤Ž ˜ž¤½ ’žŸ Ž£¤’ ¤ ¦¤¡ó ‹¢ ‚Ž ‚ž¢ˆ’„   ¤“ ž ƒŽ…¤  ¥ ‰œ¢Ÿ„ œ¤ó ƒ¦ž¤ ‚Ž 5šŽ¢Ž¤1989’¥ 7’„1990„œí ‡’ œ¥ ¢¤Ž ˜ž¤½ œ‚Ž Š  ‚…¤ „§¥ ¢Ž ‹¢’Ž¤ ‚Ž 22šŽ¢Ž¤1997’¥15‡¢ 1998„œí ’ ‚Ž ¢¤Ž ˜ž¤½ œ¥ šŽ£• Š„Ž Ÿ¤ ž ’Ž ‡Ÿ ‹¤„¥ Ž¦¥ó ¤œŸ Ÿ£¤1972’¥13šŽ¢Ž¤ 1973„œ  ¤“ ž ˜¢Ÿ¤ ƒŽ…¤ ‚Ž’Ž›„‹Ž Ž¦¤ ¢Ž ¢Ž„ ˜ž¤½ ƒŽ ˜– žž¦ Ÿ¤ ž š£ Ž¦¥ó  ‹¢ ŸŽ„‚¦ ’žŸ¤ ‡Ÿ¦¢Ž¤ „‰‹ ‚Ž’Ž ›„‹Ž Ž¦ ó ƒ¦ž¤ ŸŽ„‚¦24‡¢  ’¥ 1988’¥ 24‹’Ÿ‚Ž1988„œ  ¢Ž„ ˜ž¤½ ƒŽ —šŽ žž¦ ‡Ÿž¤ š£ Ž¦¥ ¢Ž ‹¢’Ž¤ ‚Ž 17 ¢Ÿ‚Ž1990’¥20Ÿ£¤1993„œ „‡ Ÿ‰Ÿ‹ ‡Ÿž¤ ¢Ž„ ˜ž¤½ ƒŽ š£ Ž¦¥ó¤œ ‚Ž ƒœ’„  Ÿ’žŸ ž¤ ›  ¤œŸ ‹’Ÿ‚Ž 2002’¥ 19 ¢Ÿ‚Ž2007„œ ‚Ž’Ž›„‹Ž Ž¦¤ ‡‚œ¦ ¢Ž„ ˜ž¤½ ƒŽ ‡Ÿ Ÿ‰Ÿ‹ ¤¢’š š£ Ž¦¥ó 13šŽ¢Ž¤1973’¥ 27ƒŽ¤ž1973„œ ¢Ž31‹’Ÿ‚Ž1974’¥7‹’Ÿ‚Ž1976„œí 12œ„¢‚Ž 1999’¥ ¤œŸ ‹’Ÿ‚Ž 2002„œ ‚ž¢ˆ’„  Ÿ¤¡ ¢Ž Ž Ž‡ Ž¦ó ‡‚œ¦ 4ƒŽ¤ž1977’¥6ƒŽ¤ž 1985„œ ŸŽ“ž ž£ œ  š Ž¦ó
Ÿ‡Ÿ¢˜¤ –¢Ž ƒŽ ‚ž¢ˆ’„  Ÿ¤¡ ƒœ’„  ƒ¤ƒž ƒŽ…¤ œ¤ ‰œ¢Ÿ„ „¤  ‚Ž Ž¦¤ ¢Ž ’‚ ’¥ ¤‹¦ ˜Ž”¦ ‚§¤ ’¤  ¥ ‰œ¢Ÿ„ œ¤ ‡‚œ¦ ’žŸ¤ ‡Ÿ¦¢Ž¤ „‰‹ ¢Ž ‚ž¢ˆ’„   ¤“ ž ƒŽ…¤ ‚§¤ ‹¢ ‹¢ ‚Ž ‚Ž’Ž›„‹Ž Ž¦¤ó   

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s