صرف محبت اور عزت چاہیے


ہر حکومت نے چند سرداروں کو پورا بلوچستان سمجھ کر ہمیشہ ان سے معاملات طے کرنے کی کوشش کی

منصور مہدی

صرف محبت اور عزت چاہیے

صرف محبت اور عزت چاہیے

بلوچستان جانے کا پہلی بار مجھے موقع 2004میں ملا۔ اس وقت میں ایک قومی اخبار میں رپورٹر کے طور پر کام کرتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ 4مئی 2004کو جب میں دفتر پہنچا تو ہمارے چیف ایڈیٹر نے مجھے بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر جانے کو کہا ۔ اس روز کے اخبارات میں شہ سرخیوں کے ساتھ ایک خبر شائع ہوئی تھی کہ گوادر پورٹ کی تعمیر میں مصروف چینی انجینئرز پر بم حملہ ، جس کے نتیجے میں 3چینی انجینئرز ہلاک اور 11زخمی ہو گئے۔
قارئین کو یاد ہوگا کہ مئی2001 میں چین کے وزیر اعظم پاکستان تشریف لائے تھے اور متعدد معاہدوں پر دستخط کیے تھے جن میں ایک گوادر میں بندرگاہ کی تعمیر سے متعلق تھا۔اس معاہدے کی جب خبریں اخبارات میں شائع ہوئی تو قومی اور بین الاقوامی اخبارات میں تبصروں میں کہا گیا کہ چین نے بحرہند میں امریکی نیوی کے مقابلے میں اپنی موجودگی کو یقینی بنانے کے لیے یہ معاہدہ کیا ہے۔ انہی دنوں نے چین نے نہ صرف سری لنکا، بنگلہ دیش ، برما، تھائی لینڈ اور کمبوڈیا میں بھی بندرگاہیں تعمیر کرنے کے معاہدے کیے تھے بلکہ جنوبی چین سے ملحقہ سمندر میں بھی بندرگاہ کی تعمیر شروع کر دی تھی۔ مغربی تبصرہ نگاروں کے نزدیک اہم تجارتی سمندری راستوں پر چین کی طرف سے بندرگاہوں کی تعمیر ان سمندری راستوں پر امریکی اجارہ داری کو چیلنج کرنے کے مترادف تھی۔
چینی وزیر اعظم کے معاہدہ کرنے کے ٹھیک چار ماہ بعد امریکہ نے اکتوبر 2001میں افغانستان پر حملہ کر دیا اور بلوچستان میں اپنے اڈے قائم کر لیے۔ لیکن مارچ 2002میں پاکستان نے تقریباً 400چینی انجینئرز کی مدد سے بندرگاہ کی تعمیر شروع کردی جس کا افتتاح چینی وزیراعظم نے کیا ۔ تعمیر شروع ہونے کے ٹھیک 2سال اور2ماہ بعد یعنی 3مئی2004کو گوادر میں یہ واقع پیش آگیا کہ کاربم دھماکے میں چینی انجینئرز مارے گئے۔ اس وقت تک کسی بھی گروپ نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی تھی اگرچہ بعد میں بعض اخبارات میں بلوچستان لبریشن آرمی کی طرف سے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کرنے کی بابت خبریں شائع ہوئی تھی۔
جب میں گوادر پہنچا تو وہاںپر میں نہ صرف مقامی لیڈوروں ، ضلعی انتظامیہ ، پورٹ انتظامیہ اور سیکیورٹی پر مامور اداروں کے سربراہوںسے ملا بلکہ کوئٹہ جا کر بلوچستان کی بڑی جماعتوں کے لیڈروں سے بھی ملاقات کی اور بڑی تفصیل سے بلوچستان کے مسئلے پر بات چیت ہوئی۔ان حضرات سے میری گفتگوجو رہی اس کا لب لباب یہ تھا کہ حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے بلوچستان کے حالات خراب ہیں۔ ان غلط پالیسیوں میں سب سے اہم یہ تھی کہ پاکستان بننے کے بعد سے لیکر اب تک ہر حکومت نے چند سرداروں کو پورا بلوچستان سمجھ کر ہمیشہ ان سے معاملات طے کرنے کی کوشش کی۔جس کے نتیجے میں سردار امیر سے امیر تر اور طاقتور سے طاقتور تر ہوتے چلے گئے جبکہ عام بلوچ شہری غریب سے غریب تر اور محروم سے محروم تر ہوتاچلا گیا۔
بلوچستان میں اس وقت تک (یعنی 2004میں)ترقیاتی کاموں کا یہ عالم ہے کہ ایک سڑک فائلوں میں تین چار بار بن چکی تھی مگر حقیقت یہ تھی کہ وہ سڑک ایک بار بھی نہیں بنی تھی اور اس کی تعمیر کا سارا فنڈ اس دور کے صوبائی اور ضلعی حکمرانوں اور ان کے پسندیدہ ٹھیکیداروں کی جیب میں چلا گیا تھا۔ اور ایسا معاملہ صرف سڑکوں کی تعمیر کی حد تک ہی نہیں تھا بلکہ سکولوں کی تعمیر، صحت کے مراکز اور دیگر شہری سہولتوںکے فنڈز کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا تھا بلکہ ہو رہا ہے۔
چنانچہ جب عام بلوچ شہری دوسرے صوبوں کے شہروں کے ترقیاتی کاموں اور وہاں بسنے والے شہریوں کی آسائشوں کو دیکھتا ہے تو وہ احساس محرومی کا شکار ہو جاتا ہے۔ وہ شہری اپنے بلوچ قبائل کے رسم ورواج اور روایات کی وجہ سے اپنے سرداروں کے خلاف تو کچھ نہیں بولتا مگر جب ان میں سے کوئی ہمت کر کے سوال پوچھ ہی لیتا تھا تو وہ صوبائی حکمران تمام ملبہ وفاق اور دوسرے صوبوں پر دال دیتے تھے۔ اس طرح بلوچ شہری آہستہ آہستہ وفاق اور دوسرے صوبوں کے خلاف ہوتے چلے گئے۔
اس میں کوئی شک نہیں اور کوئی دو باتیں نہیں کہ وفاق بھی بلوچستان کے احساس محرومی میں برابر کا قصور وار ہے ۔ بلوچستان کے وسائل کو استعمال کرنے کے عوض وفاق نے ساری رائلٹی ، نوکریاں ، تنخواہیں اور دیگر ساری سہولتیں عوام کے بجائے چند سرداروں تک محدود کیے رکھیں۔ لہذا جب بھی وفاق کے ان سرداروں سے معاملات خراب ہوئے تو انہوں نے بغاوت کردی۔ بلوچ عوام تو پہلے ہی قبائلی نظام میں جکڑی ہوئی تھی جو سردار کہتا رعایا کو بھی وہی کچھ کہنا پڑتا۔
اگرچہ آج 8 سال بعد(2004کے بعد) بلوچستان کے حالات یقینا مزید خراب ہوئے ہیں۔ چینی انجیبئروں کی ہلاکت سے شروع ہونے والی غیر ملکی مداخلت 8سالوں میں بلوچستان کو یہاں تک لے آئی کہ بلوچ مزاحمتی لیڈروں کے بیانوں میں مشرقی پاکستان کے لیڈروں کے بیانات کا عکس، آپریشن کے ہاتھوں مرتے بلوچ نوجوانوں میں بنگالی نوجوانوں کی آہ و بکا، قومی اور صوبائی سیاستدانوں کی عدم دلچسپی میں 1971 والی سرد مہری اور مقامی آبادی میں بنگالی اور غیربنگالی کی طرح بلوچ غیربلوچ کی مماثلت بڑھ چکی ہے۔ لوگوں میں خوف و ہراس اور کاروبار زندگی ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔ سوچنے کا امر ہے کہ کس کی ذمہ داری ہے کہ بلوچستان کے حالات ٹھیک کرنے کے لئے وہ اپنا کلیدی کردار ادا کرے۔
اگرچہ معاشرے کے ہر ہر طبقہ فکر کی ذمہ داری ہے کہ بلوچستان کے بگڑتے ہوئے حالات کو نارمل حالات میں لانے کے لئے اپنا اپنا کردار ادا کرے لیکن سب سے بڑھ کر یہ ذمہ داری جس طبقے پر عائد ہوتی ہے وہ سیاستدان ہیں صوبہ بلوچستان کی سیاسی وجمہوری حکومت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس وقت تک چین سے نہ بیٹھے جب تک حالات سدھر نہیں جاتے۔ بلوچستان کے حالات ٹھیک کرنے کے لئے صرف حکومتی پارٹی کے اراکین ہی نہیں اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنا اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے حالات میں بہتری لائیں۔
لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک کی سیاست کے چلن بھی عجیب ہیں اب جوں جوں موجودہ جمہوری حکومت کا وقت ختم ہونے کی طرف جارہا ہے۔ سیاست کے محاذ پر گرمی شروع ہو چکی ہے۔ اپوزیشن جماعتیں حکومت کو گرانے اور خود حکومت میںآنے کے لئے سرگرم ہوگئی ہیں لیکن ان میں سے کوئی پارٹی بھی صوبہ بلوچستان کے حالات کے لئے سنجیدگی کے ساتھ فکر مند دکھائی نہیں دیتا۔
جو سیاستدان ان دنوں بلوچستان کا دورہ کرتا ہے تو وہ وہاں پر حالات کی بہتری کے لیے نہیں جا رہا بلکہ اپنی سیاسی جماعت کی بہتری کے لیے دورے کر رہا ہے۔
چھ ماہ کے اخبارات اٹھا کر دیکھ لیجیے کہ بلوچستان کے دورے پر گئے ہوئے سیاستدانوں نے آئندہ الیکشن کے لئے موثر اور تجربہ کار امیدوار تلاش کرنے اور جوڑ توڑ کے لئے وہاں وقت صرف کیا۔ بلوچستان کی سالمیت ٹارگٹ کلنگ کے خاتمے’ دہشت گردی کی کارروائیوں کے قلمع قمع اور بلوچستان کے بے روزگار نوجوانوں کے لئے ملازمتوں کی فراہمی کے لئے صرف سیاسی بیانات دیے جبکہ عملاً انہوں نے اپنا وہ کردار ادا نہیں کیا جس کا صوبہ بلوچستان متقاضی تھا۔
ہر قومی اور صوبائی جماعتوں نے ان دنوں ملک کے بڑے بڑے شہروں میں بڑے بڑے جلسے کیے لیکن ایک بھی جماعت نہیں جو یہ دعویٰ کرسکے کہ اس نے بلوچستان کے مسئلے کے حل کے لئے کسی جلسے کا انعقاد کیا ہو۔ کیا ایسا جلسہ نہیں ہوسکتا جس میں تمام اپوزیشن رہنما اکٹھے ہو کر بلوچستان کے مسئلے کے حل کے لئے عملی اقدامات کا تعین کریں۔ کیا اپنے آپ کو بڑے بڑے سیاستدان کہنے والے یہ بتا سکتے ہیں کہ گزشتہ ایک سال میں انھوں نے کتنی مرتبہ بلوچستان کا دورہ کیا اور اگر کیا تو بلوچستان کے حالات سدھارنے کے لیے انھوں نے کیا کیا۔
ایسے حالات میں کہ جب امریکہ جیسی سپر پاور کی نظریں بلوچستان کے ذخائر اور گوادر پورٹ جیسی اہم پورٹ پر جمی ہوئی ہوں اور بھارت جیسا دشمن بلوچستان میں تخریب کاری کے لئے ایک جال بچھانے میںمصروف ہو۔ ان حالات میں ہر طبقہ فکر اور بالخصوص سیاسی رہنماﺅں کی ذمہ داریاں بہت اہمیت اختیار کر جاتی ہیں۔
بلوچستان کے معاملے میں شروع سے ہی اور سب سے ہی ( عوام کو نکال کر) بے شمار غلطیاں اور کوتاہیاں ہوئیں ہیں۔ اس میں جہاں ایوب خان شامل تھا وہیں ذوالفقار علی بھٹو بھی شامل تھے۔جنرل مشرف تھا یا موجودہ حکومت، حزب اقتدار ہے یا حزب اختلاف سب اس بات کے ذمہ دار ہیں کہ بلوچوںکو پہاڑوں پر جانے پر مجبور کیا۔ بلوچوں کی محرومیوں میں ہماری جمہوری اور غیرجمہوری حکومتیں ، منتخب اور غیرمنتخب حکمران اور خود بلوچستان کے سردار شامل ہیں لیکن آج کل یہ فیشن بن چکا ہے کہ ہر خرابی کا ملبہ، ہر کوتائی کا نتیجہ خفیہ اداروں اور ایجنسیوں پر ڈال دیا جائے اور اپنی جان بچا لی جائے۔
میں ذکر کر رہا تھا 2004میں بلوچستان جانے کا، تو اس وقت بھی حالات اچھے نہیں تھے ۔ گوادر میں ایک روز شام کے وقت مقامی دوستوں کے ساتھ سمندر کے کنارے ہم بیٹھے تھے۔مختلف طبقہ فکر کے لوگ موجود تھے ۔ ان میں ایک ماہی گیر جس کانام مجھے اب یاد نہیں کہنے لگا کہ بلوچستان کے حالات اگر ٹھیک کرنے ہیں تو وفاق کو چاہیے کہ وہ سرداروں کی بجائے عوام اعتماد کرکے تو دیکھے لیکن ہمیشہ سرداروں کو ہی نوازا گیا۔ اگر عوام پر اعتماد کیاجاتا تو ایسے حالات نہ ہوتے۔ دوسرے اس مچھیرے نے کہا کہ دوسرے کسی طرح قانون کی حکمرانی قائمکر دی جائے ۔ یہ نہ ہو کہ سردار کے لیے قانون اور مچھیرے کے لیے قانون اور ہو۔
بوڑھا مچھیراکہنے لگا کہ آج ہم بلوچستان کی ہر محرومی کی ذمہ داری ایجنسیوںپر ڈال رہے ہیںلیکن کیا کبھی آج تک عدلیہ اور پارلیمان نے بلوچستان پر اپنا کردار ادا کیا ہے؟ خود قوم پرست بلوچ لیڈروں نے بلوچستان کیلئے کیا کارنامے سرانجام دئیے ہیں؟ ایوب خان کے دورمیں جب بلوچ ناراض سرداروں کو دھوکے سے بلا کر قتل کردیا گیا تو کتنے سیاستدانوں نے ایوب خان کے خلاف آواز بلند کی، کتنے ججوں نے اس معاملے کا نوٹس لیا، بلکہ بلوچ سرادر ہی گورنر بنا دیے گئے اور انہی کے حکم سے سب کچھ ہوا۔ بھٹو صاحب کے جمہوری دور میں مینگل سرکار کے خاتمے کے بعد اکبر بگٹی مرحوم کو گورنر بنا کر آپریشن کیا۔ یعنی ہمارے ہی سردار نے ہم پر ظلم شروع کر دیا۔ تب بھی سیاستدانوں کی اکثریت خاموش رہی۔ مچھیرا کہنے لگا کہ ہمیں صرف محبت اور عزت کی ضرورت ہے ۔ یہ محبت اور عزت پہلے اپنوں سے یعنی اپنے سرداروں سے ، اپنے صوبائی حکمرانوں سے جب ہمارے اپنے ہمارا خیال رکھنے لگے گے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ سندھی ہمیں محبت نہ دیں یا پنجابی ہم سے نفرت کرے یا کوئی پشتون کسی بلوچ کو للکارے۔ ہمیں صرف محبت اور عزت کی ضرورت ہے ۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s